جمعرات، 19 فروری، 2026

حرمین شریفین اوربیس رکعات تراویح (چندحقائق اور وجوہات)

 

حرمین شریفین  اوربیس رکعات تراویح (چندحقائق اور وجوہات)

عبد العلیم بن عبدالحفیظ سلفی/ سعودی عرب

         حرمین شریفین وہ مقدس مقامات ہیں  جو مہبط وحی  اوراسلام کا مرکزاساسی ہیں ،  ان کی اہمیت وفضیلت کا بیان کتاب وسنت میں  بکھرے پڑے ہیں ، اسی وجہ سے ان مقامات مقدسہ سے مسلمانوں کا لگاؤ فطری ہے ، جب بھی مسلمانوں میں کسی مسئلہ کو لے کر کو‏ئی بحث ہوتی ہے تو لوگ  ان مقامات کی طرف بھی دیکھتے ہیں کہ وہاں کا عمل کیسا رہا ہے ، اور اب کیسا ہے ؟ حالانکہ لوگ مانتے وہی ہیں جو ان کے مسلک میں ہے ، البتہ  ان کے دیکھنے کی وجہ صرف اور صرف یہ ہوتی ہے کہ اپنے مسلک کے اثبات کے لئے ان میں کوئی دلیل مل جائے ، اور مدمقابل پر غلبہ پانے کا کوئی وسیلہ پالیں ، حالانکہ بہت سارے لوگ حقیقت کی معرفت بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس ذریعہ سے دین کے امور کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ انہیں مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ تراویح کی رکعتوں کا ہے جو کئی صدیوں سے لوگو ں میں معرکۃ الآراء بنا ہواہے ، کچھ لو‏گ  بڑھ چڑھ کر اس بات کو دلیل بناتے ہیں کہ وہاں صرف بیس رکعتیں ہی پڑھی جاتی ہیں اور ماضی میں بھی پڑھی جاتی رہی ہیں ، یہاں تک کہ  اس معاملے میں اجماع تسلسل کا بھی دعوی کرتے ہیں کہ وہاں بیس کے علاوہ  کبھی کچھ پڑھی ہی نہیں گئی ، ذیل کی سطور میں ہم اسی نقطے کی مختصر وضاحت کریں گے تاکہ حقیقت کی معرفت ہوسکے۔ واضح رہے کہ اس تحریرکا مقصد صرف  حرمین میں بیس رکعات تراویح پر تسلسل اور اجماع کے دعوی کا بطلان ہے  :

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت :

تراویح  ،تہجد یا قیام اللیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ  گھر میں پڑھتے صرف تین راتیں آپ نے جماعت سے پڑھائی ،جیساکہ  صحیحین وغیرہ کی عائشہ رضی اللہ عنہاکی مشہورروایت میں ہے ،فرماتی ہیں : "كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فِي حُجْرَتِهِ وَجِدَارُ الْحُجْرَةِ قَصِيرٌ، فَرَأَى النَّاسُ شَخْصَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ فَأَصْبَحُوا فَتَحَدَّثُوا بِذَلِكَ، فَقَامَ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ فَقَامَ مَعَهُ أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، صَنَعُوا ذَلِكَ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَخْرُجْ"۔ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں اپنے حجرہ کے اندر (تہجد کی) نماز پڑھتے تھے۔ حجرے کی دیواریں پست تھیں اس لیے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ صبح کے وقت لوگوں نے اس کا ذکر دوسروں سے کیا۔ پھر جب دوسری رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اس رات بھی کھڑے ہو گئے۔ یہ صورت دو یا تین رات تک رہی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ رہے اور نماز کے مقام پر تشریف نہیں لائے۔ (صحیح البخاری/729،924 وصحیح مسلم/761)۔  

تین دنوں کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ کرام کو تراویح کی جماعت نہ کرانے کی وجہ کے بارےمیں جب صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا  تو آپ نے فرمایا:" إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُكْتَبَ عَلَيْكُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ"۔" میں ڈرا کہ کہیں رات کی نماز (تہجد) تم پر فرض نہ ہو جائے"۔

اوربعض الفاظ میں ہے :" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ لَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا" آپ نے کلمہ شہادت پڑھی پھر فرمایا :" أمابعد: مجھے تمہاری اس حاضری سے کوئی ڈر نہیں لیکن میں اس بات سے ڈرا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے، پھر تم سے یہ ادا نہ ہو سکے"۔

 مذکورہ روایتوں سے  کئی باتیں واضح ہوتی ہیں :

- تراویح باجماعت سنت سے ثابت ہے۔

-گھرمیں بھی تراویح اداکی جاسکتی ہے ۔

- آپ نے تین دنوں کے بعدجماعت اس لئے نہیں کرائی کہ  :آپ کو امت پر تراویح فرض ہونے کا خدشہ تھا۔ تو جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات ہو گئی تو یہ خدشہ بھی ختم ہو گیا؛ کیونکہ شریعت مکمل ہو چکی ہے۔

- یہ بات بھی مدنظررہےکہ مختلف روایات میں تراویح باجماعت پڑھنے کی فضیلت  بھی واردہے جیساکہ ابوذررضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نےارشادفرمایا: " إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ "۔"جس نے امام کے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام لکھا جائے گا" ( سنن ابی داود/1375،سنن الترمذی/806 ، سنن ابن ماجۃ/1327، سنن النسائی /1365علامہ البانی نے اس روایت کو صحیح قراردیاہے،دیکھئے: صحيح سنن ابن ماجۃ/1327) ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رکعتوں کی تعداد:

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کتنی رکعتیں پڑھتے تھےاس کی وضاحت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے کہ جب ان سے  پوچھا گیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( تراویح یا تہجد کی نماز ) رمضان میں کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے بتلایا کہ: مَا كَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلاَ فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا ، فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاَثًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ قَالَ : ( تَنَامُ عَيْنِي وَلاَ يَنَامُ قَلْبِي ) . رمضان ہو یا کوئی اور مہینہ آپ گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت پڑھتے، تم ان کے حسن و خوبی اور طول کا حال نہ پوچھو، پھر چار رکعت پڑھتے، ان کے بھی حسن و خوبی اور طول کا حال نہ پوچھو، آخر میں تین رکعت ( وتر ) پڑھتے تھے۔ میں نے ایک بار پوچھا، یا رسول اللہ ! آپ  وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔(صحیح بخاری/3569 ، صحیح مسلم /738  

صحابہ کرام کا ذوق و جذبہ :

تراویح کے سلسلے میں صحابہ کرام کے ذوق وجذبہ کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتاہے کہ جب ان کو خبر لگی کہ اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں قیام فرمارہےہیں تو تعداد اتنی بڑھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترک کردیا کہ مبادہ یہ نماز ان پر فرض ہوجائے ۔چنانچہ صحابہ کرام اسی طرح تنہا تنہا پڑھتے رہے یہاں تک کہ ان کے ذوق وجذبہ اور مسجد نبوی میں ان کی بڑھتی تعداد اور انتشار کو دیکھتےہوئے  عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک امام کے پیچھے جمع کردیا۔

عمر رضی اللہ عنہ کا طریقۂکاراور ایک جماعت پر اکٹھاکرنا :

صحیح بخاری وغیرہ کی مشہورروایت ہے جس کے اندر ہے کہ عبدالرحمن بن عبدالقاری کہتےہیں کہ :خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عُمَرُ:إِنِّي أَرَى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ، ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ، قَالَ عُمَرُ: نِعْمَ الْبِدْعَةُ هَذِهِ، وَالَّتِي يَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي يَقُومُونَ يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ، وَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ"۔(صحیح البخاری/2010)۔ " میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رمضان کی ایک رات کو مسجد میں گیا۔ سب لوگ متفرق اور منتشر تھے، کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا، اور کچھ کسی کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میرا خیال ہے کہ اگر میں تمام لوگوں کو ایک قاری کے پیچھے جمع کر دوں تو زیادہ اچھا ہو گا، چنانچہ آپ نے اسی عزم کے ساتھ  ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ان کا امام بنا دیا۔ پھر ایک رات  میں ان کے ساتھ نکلا تو دیکھا کہ لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز (تراویح) پڑھ رہے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، یہ نیا طریقہ بہتر اور مناسب ہے اور (رات کا) وہ حصہ جس میں یہ لوگ سو جاتے ہیں اس حصہ سے بہتر اور افضل ہے جس میں یہ نماز پڑھتے ہیں۔ آپ کی مراد رات کے آخری حصہ (کی فضیلت) سے تھی کیونکہ لوگ یہ نماز رات کے شروع ہی میں پڑھ لیتے تھے"۔

یہ عمر رضی اللہ عنہ کا ایک دانشمندانہ اقدام تھا جس کی مثال اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ رسلم کے عمل میں موجودتھی، اس وجہ سے جو لوگ اسے عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایجاد کردہ  بدعت کہتے ہیں وہ سراسر دین کے رموز ومسائل سے ناواقف ہیں ، اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ  یہ خلفاء راشدین میں سے ایک کی سنت ہے جس کی اتباع کا حکم حدیث میں دیاگیاہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ"".تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقہ کار کو لازم پکڑنا، تم اس سے چمٹ جانا، اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا" ۔

مسجدنبوی میں تراویح کی رکعات مختلف ادوارمیں

ذیل میں ہم نہایت ہی اختصارکےساتھ بیان کریں گے کہ ابتداء اسلام سے لے بعدکی صدیوں میں حرمین خاص طور سے مسجد نبوی میں تراویح میں کتنی رکعتوں کا التزام کیاجاتارہا ہے تاکہ اس پر اجماع اور تسلسل کے دعووں کی حقیقت  واضح ہوسکے:

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ کے عہد اور ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کے عہدمیں : 

عائشہ  رضی اللہ عنہا کی مذکورہ روایت میں واضح طور پر بیان  کردیاگیاہےکہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اورغیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ، آپ نے تین دنوں تک ہی تراویح پڑھائی اور پھر نہیں پڑھایا پھر  لوگ  تنہا تنہا اور متفرق  پڑھتے تھے اور ظاہر سی بات ہے کہ اتنی رکعتیں ہی پڑھتے تھے جتنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت تھا ، بعض روایتوں میں بیس کا ذکر ہے لیکن وہ حد درجہ ضعیف اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی صحیح ترین روایت کے خلاف ہے ۔

عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں :

موطا کی صحیح روایت کے مطابق عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ  نے ابی بن کعب اور تمیم داری کو گیارہ رکعتیں پڑھانے کا حکم دیاتھا البتہ کچھ روایتیں جو بیس کی ملتی ہیں وہ  سب کی سب اپنے ضعف اور انقطاع کی وجہ سے مرجوح ہیں ۔ سائب بن یزید سے مروی ہےکہ :"أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَتَمِيمًا الدَّارِيَّ رضي الله عنهم أَنْ يَقُومَا لِلنَّاسِ بِإِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَ: وَقَدْ كَانَ الْقَارِئُ يَقْرَأُ بِالْمِئِينَ حَتَّى كُنَّا نَعْتَمِدُ عَلَى الْعِصِيِّ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، وَمَا كُنَّا نَنْصَرِفُ إِلَّا فِي فُرُوعِ الْفَجْرِ"۔  سائب بن یزید کہتے ہیں کہ عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب  اور تمیم داری کو حکم دیاکہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعتیں پڑھایا کریں ، وہ کہتے ہیں کہ قاری سویا اس سے زیادہ آیتوں والی سورتیں پڑھاتا یہاں تک کہ ہم لوگ لمبا قیام کی وجہ سے لاٹھیوں پر ٹیک لگاتے ، اورفجرکی ابتداء میں ہی واپس ہوتے " ( مؤطا :1/115 علامہ مبارکپوری نے تحفۃ الاحوذی (3/528) اور علامہ البانی نے صلاۃ التراویح (ص 45)کے اندر اس کی سند کو صحیح قراردیاہے

سائب بن یزیدکی ایک روایت میں  ہےکہ وہ لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تیرہ رکعتیں  پڑھا کرتے تھے جیساکہ حافظ بن حجر اور ابن نصرالمروزي نے روایت کیاہے۔(دیکھئے:مختصرقیام اللیل للمروزي/ 220، فتح الباری :4/220) ۔ لیکن  یہ گیارہ رکعت والی روایت کے مخالف نہیں ہے۔ کہ بعض لوگ تنہا دو رکعت بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔

  امام  محمد بن نصرمروزی نے  تمیم داری کی جگہ پر  سلیمان بن ابی حثمہ کا ذکرکیاہے ۔اسی طرح بعض روایتوں میں عثمان بن سلیمان  بن ابی حثمہ سے مروی ہےکہ : "عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو گیارہ رکعتوں پر جمع کیا ، چنانچہ سلیمان چار رکعتیں پڑھاتے"۔ (دیکھئے: التاریخ الکبیر /1772 ،   تاریخ دمشق :22/217

عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں:

 اس سلسلے میں کوئی واضح روایت مجھے نہیں مل سکی  البتہ  ظاہر یہی ہے کہ عمررضی اللہ کے زمانہ میں جو تھا وہی جاری  رہا ہوگا۔

علی  رضی اللہ عنہ کے عہد میں:

 علی رضی اللہ عنہ کے عہد میں تعداد رکعت کے سلسلےمیں کئی روایتیں ملتی  ہیں  جن میں  بیس رکعتیں   اور اسی طرح  انتالیس رکعتیں  وترکے ساتھ کا ذکرہے۔

امام مالک رحمہ اللہ کے زمانے میں :

  امام مالک کے زمانے میں مدینہ میں انتالیس رکعتیں  مع الوتر کے پڑھی جاتی تھیں   جن میں اڑتیس (38)رکعتیں تراویح کی اور  پھر ایک رکعت وترکی  ،  یہاں تک روایت ہے کہ امام مالک نے اس سے کم کرنے کو منع کیاتھا۔بعض روایات سے یہ بھی پتہ چلتاہے کہ فی نفس الوقت مکہ میں بیس رکعتیں پڑھی جاتی تھیں۔

بعدکے ادوارمیں :

بعد کے ادوار میں تینتالیس(43)   کا بھی ثبوت  ملتاہے۔ تیسری صدی میں اکتالیس (41) مع الوتر تھا جیسا کہ امام ترمذی نے  اسحاق بن راھویۃ کا اختیار کردہ  مسلک کے طورپرذکرکیاہے۔(سنن الترمذی /806

چوتھی ،پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں بیس (20)  رکعتیں ۔

آٹھویں اور نوویں صدی میں  چھتیس (36)  رکعتیں بیس  (20) شروع رات میں اور باقی سولہ(16) رکعتیں  آخری حصے میں۔

دسویں صدی میں بھی چھتیس(36) رکعتیں اور پھرتین وتر۔

 چودہویں صدی تک حال یہی رہا کہ بیس (20) عشاء کے بعد اور سولہ(16)  آخرمیں جسے ستۃ عشریہ کہاجاتاتھا۔

جب حجاز پر سعودی حکومت  قائم ہوئی  اس وقت متعدد ائمہ مختلف جماعتوں کے ساتھ بیس پڑھتے تھے اور ان میں سے مالکیہ پھر آخری پہرمیں آکر سولہ  (16)  رکعتیں   پڑھتے۔

پھر جب سعودی حکومت کواستقرار مل گیا تو تراویح کے ساتھ ساتھ پنجوقتہ نمازوں کو بھی ایک امام پر متحد کردیا  گیااور ائمہ ثلاثہ کے مذہب کی بنیاد پر بیس رکعتیں اور تین وتر پڑھی جانے لگیں  البتہ آخری عشرے میں دس قیام اللیل اور تین وتر کے ساتھ پڑھی جاتیں ، اس طرح پوری 36 رکعتیں پڑھی جاتیں ۔ (التراویح اکثرمن الف عام فی مسجد النبی علیہ السلام /تالیف : شیخ عطیہ محمد سالم / باختصاروتصرف بسیط)۔

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ بیس رکعتیں صرف حرمین شریفین میں پڑھائی جاتی ہیں ، ان کے علاوہ مکہ اور مدینہ اور سعودی عرب کی دیگر تمام مساجد میں  گیارہ  رکعتیں ہی پڑھائی جاتی ہیں جن میں عشر اواخر میں چار عشاء کےبعد اور سات مع الوتر آخری پہر میں ۔

اس سے یہ پتہ چلا کہ بیس رکعات   پر اجماع کا دعوی صحیح نہیں ہے، کیونکہ لوگ مختلف عہد میں کبھی آٹھ ، کبھی بیس کبھی چھتیس ، اور کبھی اکتالیس پڑھتے رہے ہیں  ۔

اسی طرح چودہ سو سالوں تک مسلسل حرمین میں بیس رکعتوں کا دعوی نہ یہ کہ جھوٹ ہے بلکہ اس کے ذریعہ لوگوں کو یہ کہہ کر  گمراہ کیاجاتاہے، کہ کچھ لو‏گ حرمین کے متواتر اور مستقل عمل کے خلاف عمل کرتےہیں ۔

سعودی علماءکارجحان: 

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہےکہ سعودی عرب کے اکثر بڑے علماء کا رجحان یہ ہے کہ چونکہ تراویح نفلی نمازہے اس لئے اس کی رکعات میں گنجائش ہے کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے سوال کےجواب میں  فرمایا  :" صلاةُ الليلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فإذا خشِي أحدُكم الصُّبحَ، صلَّى ركعةً واحدةً تُوتِرُ له ما قدْ صلَّى " (صحیح بخاری/3939 ، صحیح مسلم/749)۔  " رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں ، اگر تم میں سے کوئی صبح ہونے سے ڈرے تو ایک رکعت پڑھ لے جو باقی نمازوں کو وتر بنا دیگی"۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے اس سلسلے میں  پوچھاگیا تو آپ کا جواب تھا :اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلےمیں   رکعات کی عدم تحدید اور توسع ثابت ہے  پھر انہوں نے صلاۃ اللیل مثنی مثنی والی روایت سے استدلال کیاہے ۔

اسی طرح دیگر علماء نے بھی اس کے اندر توسع کی بات لکھی ہے ،علامہ ابن العثیمین  رحمہ اللہ نے لکھاہے:" تراویح کی رکعتوں کی تعداد کے اندر وسعت ہے ،اس کے اندر کوئی عدد واجب نہیں ہے نہ بیس نہ گیارہ  نہ تیرہ  اور نہ ہی انتالیس رکعتیں  بلکہ اس کے اندر وسعت ہے جو تئیس رکعتیں پڑھے اس  پرنکیر نہیں کیاجائےگا ، جو گیارہ پڑھے اس پر نکیر نہیں کیاجائے گا ،جو تیرہ پڑھے اس نکیر نہیں کیاجائےگا، جو سترہ  پڑھے اس پر نکیر نہیں کیاجائے گا اورنہ ہی اس پر نکیرکیاجائےگا جواس سے زیادہ پڑھے"۔ (مجموع فتاوى ورسائل ابن  العثيمين :14/ 197)۔

واضح رہے کہ ابن العثیمین  رحمہ اللہ کے نزدیک گیارہ یا تیرہ رکعتیں افضل اور راجح  ہے (مجموع فتاوى ورسائل ابن  العثيمين :14/ 192)،  اس کے باوجودانہوں نے اس کے اندر وسعت کو بیان کیاہے ۔

لہذا اگر حرمین میں گیارہ سے زیادہ پڑھی جاتی ہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔ اور نہ ہی  اس سے  بیس  رکعتیں پڑھنے کو متعین  اور محدود مانا جاسکتاہے ۔

 یہاں یہ بھی  واضح رہے کہ ہردورمیں جس مکتبۂ فکرکا غلبہ رہا وہ اپنے اعتبار سے تراویح کےاندر عدد ، کیفیت ، وقت ، اور قرءت وغیرہ میں تبدیلی کرتے رہے ۔

کیا حرمین کے اعمال دلیل شرعی ہیں  ؟ : ہمارے لئے دلیل کتاب وسنت ہے کسی دور کا کوئی عمل اس وقت قابل عمل وقبول ہے جب اس کی تائید کتاب وسنت سے ہوتی ہو،چنانچہ سادہ الفاظ میں کہیں تو جب کسی مسئلےمیں اختلاف ہوتو کتاب وسنت اور صحابہ کے تعامل کی طرف ہی رجوع کیاجائےگا، اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: "فإنه من يعِشْ منكم بعدي فسيرى اختلافًا كثيرًا، فعليكم بسنتي وسنةِ الخلفاءِ المهديّين الراشدين تمسّكوا بها، وعَضّوا عليها بالنواجذِ،وإياكم ومحدثاتِ الأمورِفإنَّ كلَّ محدثةٍ بدعةٌ،وكلَّ بدعةٍ ضلالةٌ"۔ (رواه أبوداود/4607، الترمذی /2676، ابن ماجة 44، احمد :4/126،الدارمی/ 96۔ وصحه الإمام الألباني في صحيح  سنن أبي داود/4607) ۔" میرے بعد تم میں سے جو زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقہ کار کو لازم پکڑنا، تم اس سے چمٹ جانا، اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا، اور دین میں نکالی گئی نئی باتوں سے بچتے رہنا، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے

    افسوس تواس بات کا ہے کہ بعض حضرات رمضان میں حرمین کے ائمہ اوروہاں کے عمل کو اس قدر اہمیت دیتے ہیں کہ اسے مسلمہ دلیل کے زمرہ میں شمار کرتے ہیں،  جبکہ دلائل شرعیہ معروف ہیں خود ان کے یہاں  دلائل کی صرف چار قسمیں  ہیں ، قرآن ، سنت ، اجماع اور قیاس ۔

لہذا حرمین کے کسی عمل کو دلیل شرعی ماننا دلائل شرعیہ میں مزید ایک دلیل کا اضافہ ہے ۔

کتاب وسنت میں کہیں بھی اس بات کی ضمانت نہیں دی گئی ہے کہ حرمین میں جو عمل بھی ہوگا وہ حجت و دلیل قرار پائے گا ،بلکہ ایک وقت تھا کہ خود خانہ کعبہ میں بتوں کی پوجا ہوتی تھی ، لیکن یہ قطعا اس بات کی دلیل نہیں بن سکتی کہ  بتوں کی پوجا بھی جائز ہے ۔  ماضی میں ایک ایسا  دور  بھی گزرا ہے کہ حرم میں چار مصلوں کی بدعت رائج تھی ، اسے بھی حرم کی وجہ سے سند نہ مل سکی بلکہ ایک وقت آیا کہ اس بدعت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا  فللہ الحمد ۔

تعجب کی بات ہے کہ  یہ حرمین میں تراویح کو دلیل ماننے والے غیر رمضان میں حرمین کے ائمہ کے عمل کو دلیل جاننا تو درکنار انہیں مسلمان بھی ماننا گوارا نہیں کرتے بلکہ سرعام فتوی دیتے ہیں کہ ان کے پیچھے سرے سے نماز ہی جائز نہیں ، آخر یہ کیسی روش ہے  کہ رمضان میں ایک عمل  جو  سنت ہے اس میں ان ائمہ کا عمل دلیل و حجت قرار پائے اور غیر رمضان میں سنت تو درکنار ان کی طرف سے فرض نماز کی بھی کوئی حیثیت نہ رہے اور ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا بھی ناجائز ٹھہرے ۔

حرمین میں پورے ماہ صرف بیس رکعات ہی نہیں پڑھی جاتی بلکہ آخری عشرہ میں مزید رکعات کا اضافہ بھی  ہوتا ہے جب کہ احناف اسے دلیل نہیں بناتے ۔

حرمین میں اوربہت سے اعمال ہوتے ہیں لیکن احناف انہیں دلیل نہیں جانتے بلکہ حرمین کی عین تراویح  میں ہی  احناف صرف اس کی رکعات کے لئےان  کا حوالہ دیتے ہیں لیکن حرمین کی تراویح میں جو رکعات کے علاوہ دیگر اوصاف ہیں ان کو یہ حضرات دلیل نہیں بناتے، مثلا: حرمین کی تراویح میں رفع الیدین ، آمین بالجہر وغیرہ کا عمل ۔سوال یہ ہے کہ اگر رکعات کی تعداد حرمین کی تراویح کا حصہ ہیں تو کیا یہ اوصاف حرمین کی تراویح کا حصہ نہیں ہیں؟

حرمین میں اور بھی بہت سے اعمال ہیں جو احناف کے خلاف ہیں لیکن احناف کبھی بھی اپنے خلاف حرمین کے ان اعمال کو دلیل نہیں شمار کرتے ، آمین بالجہرسے لے کررفع الیدین اور ان جیسے بیسیوں مسائل پیش کئے جا سکتے ہیں ۔

 مسلک کے نام پربےجا واویلا :

 فکری غلو  اور تقلیدی تجمد ہر دور اور ہر مذہب میں ایک خطرناک اور متعدی  بیماری رہا ہے، جس کا اثر ہردور میں دیکھنے کو ملےگا ، یہی وجہ ہے کہ جب  جب انبیاء کرام اور مصلحین کسی قوم کو  صحیح دعوت دیتے  نہ یہ کہ ان کی مخالفت کی جاتی بلکہ بسا اوقات ان کو ہر طرح سے زدوکوب کیاجاتا۔ اسلام میں  فرقوں نے جنم لیا  توتقلیدی تجمدکی وجہ سے اتباع سنت کا جذبہ کمزور ہوتاچلاگیا جس کی وجہ سے فرق درفرق اور گروہ در گروہ افکار نے متضاد اور متنوع رنگ اختیارکرنا شروع کردیا ،جس کا نتجہ ہمارے سامنے ہے ،گزرتے وقت کے ساتھ نہ کہ ان فرقوں کے عقائدعوام میں راسخ ہوتےچلےگئےبلکہ نت نئے فرقے اب بھی وجود میں آرہےہیں ،اور جب بھی لوگوں کو عقائد صحیحہ اور اورسنت ثابتہ کی دعوت دی جاتی ہے ، پرزور طریقےسے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتاہے ،یہی نہیں ایسی صورت میں غیرمقلدیت اور کفروزندقہ تک کے الزامات سے واسطہ پڑتاہے ، کبھی ایسا ہوتاہے کہ کسی فقہی مسئلہ میں ہلکا سا اختلاف شروع ہوتاہے ،اور پھر  گزرتےوقت کے ساتھ وہ اختلاف بھیانک صورت اختیار کرلیتاہے ، اگر اسے سمجھنا ہو تو آمین بالجہر رفع الیدین ،طلاق ثلاثہ اور قرءۃ الفاتحہ جیسے مسائل  کو دیکھ لیں جن  کی وجہ سے مسجدوں سے نکالا جانا ، انہیں دھلوانا ، ان کی وجہ سے زدوکوب کیاجانااورشادی بیاہ میں  بےجاپریشانیوں کا سامنا کرنا وغیرہ  جیسے  واقعات ہوچکے ہیں اور بعض مقامات پر اب بھی ہورہےہیں یہاں تک کہ ان کی وجہ سے قتل وخونریزی جیسے واقعات بھی ہوچکے ہیں ۔تراویح کی رکعتوں کا مسئلہ بھی  کچھ کم اختلاف کا شکار نہیں ہواہے ، لوگوں نے اسے اپنی انا  کا مسئلہ بنا  رکھاہے یہی وجہ ہے کہ جب کہیں ایسا عمل دیکھتےہیں جو ان کے موقف کے خلاف ہے تو بےجاتاویل اور بے وجہ کا واویلا کرنے لگتے ہیں ، اور یہ واویلا صرف رکعات تراویح کے سلسلےمیں نہیں ہے ،بلکہ ہر وہ عمل جو ان کے موقف کے خلاف ہو  اس پر چیخم دھاڑشروع ہوجاتی ہے ۔جب کوویڈ 19 نے پوری دنیا کو اپنے لپیٹےمیں لے لیا عام معاشرتی زندگی کے ساتھ ساتھ عبادات ومعاملات  پر بھی اس کا بہت زیادہ اثردیکھنے کو ملا، نماز ،جماعت ،مسجد ،عیدین یہاں تک کہ  صدقات وخیرات  کی ادئیگی پر بھی اس کا بہت زیادہ اثر دیکھنے کو ملا ،چنانچہ کورونا  جیسی وبائی بیماری  سے بچاؤ کے لئے  اس سال کےماہِ رمضان میں مسجد نبوی ومسجد حرام کے متعلق چند تبدیلیاں کی گئیں جن میں تراویح کی رکعتوں میں تخفیف تھی جو سعودی حکومت کی گائیڈلائن کے مطابق  کچھ اس طرح تھی : دس رکعت نماز تراویح اور تین رکعت وتر ادا کئے جائیں گے، پہلے امام تراویح کی چھ رکعت اور دوسرے امام چار رکعت اور تین وتر ادا کریں گے، وتر کی تیسری رکعت میں قنوت یعنی دعاء مختصر ہوگی۔ البتہ رمضان کے آخری عشرہ یعنی اکیسویں شب سے آدھی رات کے بعد تہجد کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جائے گی۔ اور ختم قرآن تراویح اور تہجد میں ملاکرانتیسویں  شب کی نماز تہجد میں ہوگا۔

ایسے موقع سے فکری جمودکے شکارلوگوں  کے پیٹ میں درد ہونا لازمی تھا ، کیونکہ حرمین کی بیس رکعتوں والی  ایک ٹوٹی پھوٹی دلیل بھی ان کے ہاتھ سےجاتی رہی ۔ ان کا واویلا بھی فطری تھا ، کیونکہ بزعم خویش بس یہی صحیح ہیں باقی سب گمراہ ، انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ جب فرض نمازوں میں حالات وظروف مثلا سفر اور حالت جہاد میں تخفیف کی جاسکتی ہے تو  وباء کی نوعیت اور اس کی خطرناکی کے مد نظر تراویح جیسی نفلی نماز میں تخفیف کیوں نہیں کی جاسکتی ، خاص طور سے جبکہ رات کی نماز  سے متعلق ایسی روایتیں موجود ہوں  جن میں عدد کا اعتبار نہ کیاگیاہو۔      

آخری بات :

 تراویح اٹھ مع وتر گیارہ ہی سنت ہے البتہ اگر کوئی نفل سمجھ کر اس سے زیادہ بیس ، چھتیس ، انتالیس یا اکتالیس پڑھتاہے تو ائمہ کرام کے رجحان کے مطابق ہے جو نوافل میں عدد کا اعتبار نہیں کرتے تھے ، لیکن یہ خیال رہے کہ عدد کی زیادتی کے ساتھ نماز کا مقصد اللہ کے لئے نوافل میں  اضافہ کرنا ہے نہ کہ موجودہ دور میں برصغیرمیں جس انداز میں صرف رسمی تراویح کی ادائیگی ہوتی ہے  ۔

 روایتوں میں اسلاف کے آٹھ سے زیادہ اداکرنے کی جو بات آئی ہے ان میں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ بسا اوقات نمازمیں تخفیف ہوجاتی تھی تو وہ او رزیادہ پڑھتے تھےتاکہ رات کا زیادہ سے زیادہ حصہ وہ نوافل میں گزار سکیں  ۔

ہم یہاں یہ کہنا  برمحل  سمجھتے ہیں کہ جو لوگ اپنا پورا زور  بیس رکعات کے اثبات پرلگاتے  ہیں  ، اس کا   دسواں حصہ بھی  لوگوں کو کتاب وسنت کے مطابق اس عظیم عبادت  کی ادائیگی  کی تعلیم پر لگائیں تو شاید آٹھ اور بیس کی بحث صرف اہل علم تک رہ جائے۔

آپ صرف ایک سال تراویح کو رسم سے نکال کرخشوع وخضوع والی عبادت کی طرح ادا کرنے کے لئے ساری مساجد میں عوام اور ائمہ کو مکلف کرکے دیکھیں ، شاید اگلے سال تک آٹھ اور بیس کا جھگڑا دیکھنے کو نہ ملے اور اگر ملے گا بھی تو اس میں کم ازکم اسی فیصد کی کمی آچکی ہوگی ۔

اللہ رب العزت ہمیں صحیح دین پرچلنے کی توفیق عطافرمائے اور ہرقسم کے اختلاف وانتشار سے ہماری  حفاظت فرمائے – وصلى الله  على خيرخلقه وسلم                                    

G G G

 

منگل، 17 فروری، 2026

بعض طبی ضروریات اورروزہ پر اس کے اثرات

 

  بعض طبی ضروریات اورروزہ پر اس کے اثرات

عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی

           ماہ رمضان کا روزہ اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے، جس کی ادائیگی اپنی شرائط کے ساتھ ہر مسلمان عاقل وبالغ  مرد وعورت پر فرض ہے، جس کا انکارکرنےوالا اور جان بوجھ کر چھوڑنے والا اسلام سے خارج ہوجاتاہے ۔اوردیگر تمام عبادتوں کی طرح ایک مسلمان کےلئے روزہ  رکھنے میں بھی اللہ تعالی کی بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں ،اسی طرح  اس کے اندرانسانی طاقت وقوت کا نہایت ہی حکیمانہ اعتبار وحل  موجودہے، جس سے متعلق  احکام اورمسائل قرآن وسنت کے نصوص میں تفصیل کے ساتھ موجودہیں، اور انسانی قوت وطاقت اور بدلتے وقت  وحالات کے مطابق عبادات کی ادائیگی او راس کے اندرسہولت ومعافی کا اسلام میں  بہت زیادہ اور مناسب اعتبارکیاگیاہے ۔چنانچہ اس معاملےمیں  روزہ  سے متعلق بھی شریعت کے وہی احکام ہیں جو دیگر عبادتوں کے اندرہیں ،اور چونکہ روزہ کا  تعلق بلاواسطہ مواسم کے ساتھ ساتھ انسان کے جسم ودماغ کے ساتھ سب سے زیادہ ہے اس لئے اس کے اندر نت نئے مسائل کا پیداہونا بدیہی ہے ، اور خاص طور سے بدلتے ماحولیات اور خردونوش کے انقلابی تنوع نے انسان کے جسم ودماغ کو بہت زیادہ متأثرکیاہے ،جس کی وجہ سے روز نت نئی بیماریوں کا جنم ہورہاہے اور شریعت اسلامیہ میں یہ چیزمعروف ہے کہ بیماری کی حالت میں روزہ سے متعلق اللہ رب العزت کا خاص حکم موجود ہے ،اللہ تعالی فرماتاہے :( فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْعَلٰی سَفَرٍفَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ ؕ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ)۔(  تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وه اور دنوں میں گنتی کو پوری کر لے اور اس کی طاقت رکھنے والےفدیہ میں ایک مسکین کو کھانا  دیں، پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے وه اسی کے لئے بہتر ہےلیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے، اگر تم باعلم ہو)۔(البقرۃ/184)۔ اس آیت کریمہ کے اندر بیمار اور مسافر کو رخصت دے دی گئی ہے کہ بیماری یا سفر کی وجہ سے رمضان المبارک میں جتنے روزے نہ رکھ سکے ہوں بعد میں رکھ کر گنتی پوری کرلیں۔اسی طرح  آیۃ کریمہ کے اندر(يُطِيقُونَهُ) کا ترجمہ (يتَجَشَّمُونَهُ)(یعنی نہایت مشقت سے روزہ رکھ سکیں) کیا گیا ہے،یہ عبداللہ  ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، امام بخاری نے بھی اسے پسند کیا ہےیعنی جو شخص زیادہ بڑھاپے یا ایسی بیماری کی وجہ سےجس سے شفایابی کی امید نہ ہو یا روزہ رکھنے میں مشقت محسوس کرے وہ ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ دے دے، لیکن جمہور مفسرین نے اس کا ترجمہ (طاقت رکھتےہیں) ہی کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں روزے کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے طاقت رکھنے والوں کو بھی رخصت دے دی گئی تھی کہ اگر وہ روزہ نہ رکھیں تو اس کے بدلے ایک مسکین کو کھانا دے دیا کریں۔ لیکن بعد میں (فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ)کے ذریعے اسے منسوخ کرکے ہر صاحب طاقت کے لئے روزہ فرض کردیا گیا، تاہم زیادہ بوڑھے، دائمی مریض کے لئے اب بھی یہی حکم ہے کہ وہ فدیہ دے دیں اور ”حَامِلَةٌ“ (حمل والی) اور ”مُرْضِعَةٌ“ (دودھ پلانے والی) عورتیں اگر مشقت محسوس کریں تو وہ مریض کے حکم میں ہوں گی یعنی وہ روزہ نہ رکھیں اور بعد میں روزے کی قضا دیں۔(تفصیل کےلئے تحفۃ الاحوذی کا مراجعہ مفیدہے)۔

چنانچہ معلوم ہواکہ بیماری میں اصل روزہ توڑدیناہے مبادہ آدمی کو کسی خطرنا ک  صورت حال سے دوچار ہونا پڑجائے ۔ لیکن یہاں پر یہ بھی جان لینا ضروری ہے کہ بہت ساری بیماریاں ایسی ہیں جو اس قدر خظرنا ک بالکل نہیں ہوتیں جن سے انسان کے جان کو زیادہ خطرہ ہویا پھر اس قدر مشقت انگیزہوکہ  روزہ اور دیگر عبادات انسان کے بس سے باہر ہو ں ، بلکہ کچھ بیماریاں تو ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے ساتھ روزہ رکھ لینا ہی آدمی کےلئے آسانی والی بات ہوتی ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں ان ایام میں  جب وہ صحت مندہو  مشقت انگیز ہوجاتا ہے، خواص طور سے تجارت پیشہ ، نوکری پیشہ اور لگاتار سفرکرنے والوں کے لئے۔برسبیل تذکرہ  یہاں یہ بھی بتادیں کہ بہت سارے لوگ جو روزہ کو ایک بوجھ سمجھتےہیں یا  اسے عبادت کی نظرسے نہیں دیکھتے یا کسی  شرم اوردباؤ کی وجہ سے  رکھتے ہیں،  وہ ہمیشہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ  انہیں اسے چھوڑنےکا کوئی بہانہ مل  جائے۔ ایسی صورت میں ہلکی پھلکی بیماریاں بھی  اپنے لئے غنیمت سمجھتےہیں ۔ حالانکہ انہیں سمجھنا چاہئے کہ  یہ دین کے ان ارکان میں سے ہے جن کا جان بوجھ کر چھوڑنا کفرکے دائرے میں آتاہے اور اگر کسی مجبوری میں چھوٹ جائیں تو ان کی قضا لازم اور ضروری ہے ۔

 آمدم برسرمطلب ! موجودہ وقت میں کچھ بیماریاں  ایسی ہیں  جنہیں  بہترین طبی سہولیات کے  اختیار کے ساتھ آرام سے برداشت کیاجاسکتاہے او ران کے ساتھ روزہ رکھنا کچھ مشکل بھی نہیں ہوتاہے، بلکہ بعض حالات میں تو روزہ  علاج کا کام کرتاہے، جیسے بڑھتے وزن  ،   Obesity (چربی کا بہت زیادہ بڑھ جانا) اور  ذیابیطس (شوگر) وغیرہ کے بعض مریضوں کو دیکھاگیاہے کہ روزہ ان  کے لئے ایک بہترین علاج ہے، اس لئےکہ روزہ رکھنا  وزن کم کرنے، میٹابولزم   Metabolism  (کھائی ہوئی غذا اور پینے والی چیزوں کو توانائی  Energy  میں تبدیل کرنے کےعمل)کو بہتر بنانے اور چربی جلانے میں مدد دیتا ہے۔ اس سے کیلوری  (Calorie )  کی مقدار کم ہوتی ہے، انسولین کی حساسیت بڑھتی ہے، اور سوزش میں کمی آتی ہے، جو موٹاپے سے منسلک مسائل جیسے ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کو کم کر سکتی ہے۔لیکن وہی پر کچھ تحقیقات کے مطابق بعض حالات میں جیسے بسااوقات دل کی بیماریوں میں خطرناک بھی ہوتاہے ایسی صورت میں کسی بھی بیماری میں روزہ کے مناسب او ر غیرمناسب ہونے سے متعلق ماہر اطباء سے رجوع اور وقت پر ٹیسٹ اور بہترین نگرانی  اوراحتیاط ضروری ہے ،کیونکہ جان بوجھ کر کسی بھی نفس کو ہلاکت میں ڈالنا اللہ رب العزت کے حکم کی عدولی ہے ، اللہ تعالی فرماتاہے:( لَاتُلْقُوْابِاَیْدِیْكُمْ اِلَی التَّهْلُكَةِ)۔(خودکو ہلاکت میں مت ڈالو)۔(البقرہ/195)۔۔ چنانچہ ان جدید طبی سہولیات سے متعلق شرعی احکام کی معرفت ہر مسلمان کےلئے ضروری ہے کہ اگر ان کا استعمال کیاجائے تو روزہ پر اس کے کیااثرات ہوتے ہیں ایا ان کے استعمال سے روزہ فاسدہوجاتاہے یا پھر کسی  صورت میں  باقی رہتاہے ۔

واضح رہے کہ طبی علاج کے ذرائع کا استعمال کئی طریقوں سے کیاجاتاہے جن میں کچھ کا تعلق کھانے  اورپینے سے ہے تو کچھ کا تعلق کسی اور ذریعہ سے جسم  کے اندر اور نسوں تک پہنچانے سے ،  وہی  کچھ کا تعلق  آکسیجن اور اعضا ء کی جراحت او ر ان کی تبدیلی سے ہے۔موضوع کی مناسبت سے  ذیل میں ہم ان چند  معروف اور عمومی طبی  امور کا ذکر کررہےہیں جن کے  استعمال  و استخدام سے  روزہ پر مثبت یا منفی  اثرپڑتاہے :

 یہاں یہ بھی  واضح رہے کہ وہ دوائیں جو کھانے اور پینےکے حکم میں ہیں یا وہ انجکشن جو خوراک کے قائم مقام ہیں ان سے روزہ ٹوٹ جاتاہے، گرچہ افطار سے چند لمحے قبل ہی کیوں نہ ہو ،کیونکہ ایک شرعی ضابطہ ہے کہ کھانے پینے اور جو اشیاء اس کے حکم میں ہوں ،نیز منہ کے راستے سے لینے والی دوائیں  اور اسی طرح جماع کرنے سے روزہ فاسد ہوجاتاہے۔ لیکن وہی کچھ طبی ضروریات اور ٹیسٹ  ہیں جن سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ہےاورروزہ دار انہیں بغرض حاجت وضرورت افطار سے قبل لے سکتاہے۔  ان  میں  سے چند مندرجہ ذیل ہیں :

1  -  اینیما   Enema  :  اینیما ایک طبی طریقہ کار ہے جس میں rectum  /   ملاشی  (بڑی آنت )میں  سیال (پانی، ادویات، یا دیگر محلول) داخل کیا جاتا ہے تاکہ قبض کا علاج کیا جا سکے، انتڑیوں کو صاف کیا جا سکے، یا کسی ٹیسٹ  (جیسے بیریم اینیما  /   Barium Enema   )  سے پہلے فضلے کو خارج کیا جا سکے۔ یہ آنتوں کو متحرک کر کے رفع حاجت    bowel movements    میں مدد کرتا ہے۔ 

 2 - آنکھ میں قطرے ڈالنا  اور طرح  سرمہ  اور کاجل لگانا اوراسی طرح بوقت ضرورت اس کے اندر پانی کے چھینٹے مارنا ۔

3 - کان کی صفائی   اور اس کے اندردوا وغیرہ ڈالنا ۔

4 -  زخم کی  صفائی اور اس کی مرہم پٹی کرنا ۔

5-   ناک میں قطرے ڈالنا : بہت سارے علماء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ جب وہ قطرےمعدے  تک نہ پہنچیں تو روزہ فاسد نہیں ہوتا، جبکہ بہت سارے علماء  اس بات کی طرف گئے ہیں کہ ناک کے قطر وں سےروزہ فاسد ہوجاتاہے اور اس کی قضاء ضروری ہے، چںانچہ روزہ دار کےلئے مناسب ہے کہ وہ بحالت روزہ اس سے اجتناب کرے ۔( مجموع فتاوى ابن باز:15/261، مجموع  فتاوی ابن تیمیہ : 25/234)۔

6-  علاج کی گولیاں جو زبان کے نیچے انجائنا پیکٹوریس  Angina Pectoris  (دل کے پٹھوں میں خون کے ناکافی بہاؤ کی وجہ سے سینے میں درد ، دباؤ یاجکڑن)  اور دیگر چیزوں کے علاج کے لیے رکھی جاتی ہیں۔(بشرطیکہ گلے تک پہنچنے والی کسی بھی چیز کو نگلنے سے گریز کرے)۔

7 - شرمگاہ میں بغرض علاج یا  ٹیسٹ کوئی دوا یا  آلہ وغیرہ ڈالنا ۔

8-  عورت کی بچہ دانی میں بحالت اضطراریا ضرورت مانع حمل آلہ ڈالنا۔

9-  دانتوں سے متعلق امور جیسے:دانت کھودنا، دانت نکلوانا ، داڑھ نکالنا،دانتوں کی صفائی  یا مسواک 
یا  ٹوتھ برش سے دانت صاف کرنا وغیرہ۔ (لیکن کوئی ایسی چیز نگلنے سے گریز کرے جو گلے تک پہنچے)۔
10- کلی کرنا ،  منہ میں بغرض علاج اسپرے کرنا ، غرارے کرنا ، بھاپ لینا  اور دیگر ٹوپیکل 
ٹریٹمنٹ  (وقتی  علاج )۔ (لیکنکوئی ایسی چیز نگلنے سے گریز کرے جو گلے تک پہنچے)۔ 
11 - آکسیجن اور اینستھیزیا  : Anesthesia  کہتےہیں کسی عضوکووقتی طورپرسن 
کرنےوالا یا آدمی کو بیہوش کرنےوالا انجکشن ۔ (لیکن خیال رہے کہ ان کے ذریعہ غذائی اشیاءجسم میں نہ
پہنچائی جائے)۔
12- جسم  یا سر میں لگائی جانے والی کسی بھی طرح کی دوا ، مرہم ، تیل یا اسپرے وغیرہ۔
13- دل یا دیگر اعضاء کی شریانوں کی  اکسرے یا علاج کرنے کے لیے شریانوں میں کیتھیٹر  ڈالنا ۔
 (Catheter  ایک  باریک ، پتلی، لچکدار ٹیوب ہوتی ہے جسے طبی مقاصد کے لیے جسم
 کے اندر داخل کیا جاتا ہے۔یہ عام طورپر ربڑ ، پلاسٹک یا سلیکون سے بنی ہوتی ہے)۔
14 - پیٹ کے اندر  آنتوں  viscera  وغیرہ کے معائنہ یا سرجری  کے لئے  انڈواسکوپ  
endoscope  داخل کرنا۔
15 - جسم کے کسی بھی حصے سے ٹیسٹ کے لئے نمونہ لینا۔
16 - ہاضمہ کے اوپری حصے کے معائنہ کے لئےآلہ ڈالنا  ،اس شرط کے ساتھ کہ اس کے ساتھ 
کوئی سیال شیئ  نہ ہو۔
17 - دماغ یا ریڑھ کی ہڈی میں کسی بھی علاج کے لئے آلے یا مواد کا داخل کرنا۔
18- کسی بھی طرح کے ٹیسٹ کے لئے خون کا سیمپل لینا ۔(لیکن اگر زیادہ مقدار میں خون لیاجائے 
جیسے خون ڈونیٹ کرنے کے لئے تو روزہ فاسد ہوجاتاہے)۔
19 - دمہ کا انہیلر  Asthma inhaler   لینا۔
20- کسی بھی طرح کا  معالجاتی انجکشن لینا : یعنی پٹھوں یا جلد کے نیچے (انسولین، ویکسین اور درد کی 
دوا وغیرہ)  سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ واضح رہے کہ بعض معالجات میں آئی وی  فلوڈز     Intravenous fluids/
 IV Fluids (جیسےگلوکوز یا سلائن ڈرپ /  Saline Drip )
  براہِ راست رگوں کے ذریعے جسم کو ہائیڈریشن(پانی کی   کی وہ مقدار جو اسے صحیح 
طریقے سے کام کرنے کے لئے درکار ہوتی ہے )
  اور توانائی فراہم کرتے ہیں، اس لیے انہیں کھانے پینے کے حکم میں تصورکیاجاتاہے ۔
 اس لئے یہاں یہ  یقین ضروری ہے کہ وہ  
  انجکشن  صرف دوائی یا نمکیات ہوں غذائی نہ ہوں۔
21 – حجامہ   Cupping  کے ذریعہ خون نکالنےسے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔
(جبکہ علماء کا ایک گروہ اس سے روزہ فاسدنہیں سمجھتا)۔
22 - ڈائلاسس  dialysis    :  جس کے اندر گردے کی شدید خرابی کی وجہ سے خون کو جسم سے نکالا جاتا ہے، پھر مشین
 (ڈائلائزر) کے ذریعے اسے فلٹر کیا جاتا ہے، اور پھر جسم میں واپس لایا جاتا ہے۔واضح رہے کہ ڈائیلاسس کے دو اہم طریقے ہیں:
(پہلا) - ہیمو ڈائیلاسس   Hemodialysis   :  یہ سب سے عام ہے، اس کے اندرخون کو مشین   Dialyzer  کے 
ذریعہ  باہر نکال کر صاف کیا جاتا ہے اور واپس جسم میں ڈالا جاتا ہے ۔ بہت سارے علماء  اس بات کی طرف گئےہیں کہ اس 
سے روزہ نہیں ٹوٹتاہے، کیونکہ اس سےخون میں کوئی غذا یا پانی اندر نہیں جاتا جو معدے تک پہنچ کر غذائیت اورکھانے پینے
 جیسا اثر دے۔ یہ صرف صفائی کا عمل ہے، اور اس میں  معتاد راستہ (کھانے پینے کا راستہ)  بھی ا ستعمال نہیں ہوتا بس  خون کی 
رگ سے نکل کر واپس آتا ہے،اس لئے یہ  روزہ توڑنے والی  چیز (اکل ،شرب اور جماع ) میں سے نہیں ہے۔
(دوسرا) - پیری ٹونیل ڈائیلاسس    Peritoneal Dialysis    : اس میں پیٹ (پیٹ کی جھلی)
 کے ذریعے سیال اندر ڈالا جاتا ہے،جو جذب ہوتا ہے، اور نکالا جاتا ہے۔ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ،کیونکہ 
اس عمل سے سیال پیٹ میں داخل ہوتا ہے، جو کھانے پینے جیسا اثر رکھتا ہے۔
چنانچہ ایسی صورت میں ماہر معالج کی رائے اہمیت رکھتی ہے، اگر ڈاکٹر کہے کہ روزہ رکھنے سے صحت ک
و شدید نقصان ہوگا (جیسے شدید کمزوری، انفیکشن وغیرہ)، تو روزہ چھوڑ کر قضا کریں (یا شدید مستقل بیماری میں فدیہ دیں)۔
اللہ رب العزت ہمیں دین کے صحیح علم سے سرفرازکرے او رہمارے نیک اعمال کو قبول کرے ۔آمین  وصلی اللہ  علی نبیہ ورسولہ محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔
 
**************