بدھ، 2 ستمبر، 2026

حصولِ علم کی اہمیت اور اس کے آداب

حصولِ علم کی اہمیت اور اس کے آداب

زہراء بتول سنابلی بنت عبدالعلیم سلفی(بہوری ، بیرگنج ،  نیپال)

               علم  انسانی زندگی  میں ارتقاء وعروج  اوراس کے لئےتزئین  و زیبائش کی معراج ہے۔ علم ہی انسان کو صحیح اور غلط کی تمیز سکھاتا ہے۔ اطاعتِ الہی کے لیے علم کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ علم نورہے اور جہل تاریکی ہے ،شریعت اسلامیہ میں علم کی حیثیت کا پتہ اس سے چلتاہے کہ جو فرد ترویج و اشاعتِ علم کے لیے جدوجہد کرتا ہے اس کے لیے عظیم اجر و ثواب کا وعدہ کیاگیاہے، کیونکہ علم کی اشاعت ان تین أمور میں سے ایک ہے جن کا ثواب انسان کے مرنے کے بعد بھی اسے ملتارہتاہے۔(صحیح مسلم/1631)۔

 ذیل کی سطورمیں  ہم علم کی اہمیت اور  اس کےآداب سے متعلق  چند باتیں رکھنا چاہیں گے۔ اللہ تعالی ہمیں زیور علم سے آراستہ کرے۔

علم کی تعریف:

لغوی تعریف:  علم جہل  کی ضد ہے اور لغت میں  اس کےبہت سارے معانی ہیں ،جیسے: معرفت، فہم ، یقین ، علامت ،اثر،تمییزاور آگاہی وغیرہ ۔  درحقیقت علم  ایک ایسا صحیح  اوربنیادی مادہ ہے جو کسی چیز پر ایسے اثر اور علامت پر دلالت کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ دوسری چیزوں سے ممتاز ہو جاتی ہے۔

اصطلاحی تعریف : اصطلاح میں  علم  کی مختلف الفاظ میں تعریف کی گئی ہے ،جن کا مفاد ایک ہی ہے ، اور وہ ہے :" کسی چیز کو اس کی اصل حقیقت کے مطابق پختہ طور پر  جاننا"۔ (دیکھئے: المعجم الوسیط اور لغت اور أصول کی دیگر کتابیں)۔

شرعی تعریف:علم کی شرعی تعریف بھی علماء نے مختلف الفاظ میں کیاہے جن کا خلاصہ ہے :" شرعی علم سے مراد ا س ہدایت اور  واضح دلیلوں کی معرفت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائی ہیں۔ اور ایسا علم جو انسان کو نیک اعمال کی طرف راغب کرے"۔ چنانچہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور ہدایت کے راستے پر چلنا ہی اصل علم ہے اور اس پر عمل کرنا ہی بہتر طریقہ و عمل ہے۔(کتاب العلم لابن العثیمین/9)۔

علم حاصل کرنےکا حکم :

حیثیت اور نوعیت کے اعتبارسے علم کے حصول کے مختلف احکا م ہیں جن کو کئی زمروں میں تقسیم کیاجاسکتاہے ،جیسے : شرعی علوم ، عام دیناوی علوم ، جائزومباح علوم اور حرام  وناجائزعلوم  وغیرہ  جن کی بنیادی طور پر مندرجہ ذیل  تین قسمیں ہیں :

(1) -  شرعی علوم:اسلام میں شرعی علوم حاصل کرنا ہر مسلمان پردوطرح سے لازم ہے : اول: فرض عین  : وہ علوم جو دین کے عقائد اور اور نبیاد ی مسائل سے متعلق ہیں ،جیسے : اللہ تعالی کی معرفت ، رسول کی معرفت اور دین کی معرفت اور اسی طرح روزہ مرہ کی زندگی میں پیش آنے والے مسائل  کا علم ، جیسے نماز ،روزہ اور وضوء وغیرہ ۔ دوم فرض کفایۃ: جیسے : دین میں گہرا رسوخ اورمعرفت حاصل کرنا ، فقہ وفتاوی اور مسائل کی گہرائی کا علم  وغیرہ۔

 (2) -  دنیاوی علو م: دنیاوی علوم میں کچھ علوم جب دین ، قوم و ملت اور وطن کو ان کی ضرورت ہو فرض کفایہ کےحکم میں آتے ہیں ، جیسے: طب ، دفاعی ٹیکنالوجی اور معاشیات وغیرہ کا علم ،خاص طور سے دفاعی ٹیکنالوجی اور اس کی تیاری سے متعلق ۔ اور کچھ علوم مباح ہیں جیسے: زندگی میں کام آنے والے وہ تمام علوم جن کے حصول سے نہ کوئی خاص دینی فائدہ ہو اورنہ ہی دنیاوی فائدہ ۔ لیکن اگر ان مباح اورجائز علوم کو حاصل کرنے کا مقصد اپنے نفس کے ساتھ ساتھ اہل خانہ ، والدین ،اقرباء ، معاشرہ اور ملک وقوم کو کسی طرح کا مادی اور معنوی فائدہ پہونچانا ہو تو پھر ا سکی نیت او رقصدو ارادہ کے اعتبار سے  اس کا حکم  اور ثواب  بدل جاتاہے۔  واللہ اعلم۔

(3) -  حرام وناجائز علوم : کچھ ایسے علوم بھی ہیں جن کا حصول ایک مؤمن بندہ کےلئے حرام ہے،جیسے : جادو کا علم ، سود اور ربا سے متعلق نظام اور کاروبار کو فروغ دینے کے طریقے سیکھنا اور وہ تمام علوم جن کا مقصد حرام کمائی اور غلط راستوں کوچننے کا ہو اورجومعاشرے میں بگاڑ اورفسادکا سبب بنیں ۔

حصولِ علم کی اہمیت:

اسلام میں حصولِ علم کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ اگر ہم اس کی  اہمیت کا إحصاء کریں تو ایک مستقل کتاب تیا رہوجائےگی ،اس لئے ہم  اس سے متعلق چند نکات کا  ذکر مختصرا کردینا مناسب سمجھتےہیں:

 (1) -  علم کی بدولت ہی انسان میں  خیر، سعادت اور عزت پیدا ہوتی ہے۔

 (2) -  علم  انسان کو دیگر مخلوقات پر فضیلت اور وسعت عطا کرتا ہے۔

(3) -  علم حق و باطل  اور خیروسعادت کی پہچان کا  سب سے اہم اوربڑا ذریعہ ہے ، اور وہ انسان کو صحیح اور غلط، نیک اور بد، اور فائدہ اور نقصان کے درمیان فرق سکھاتا ہے۔

(4) -  اسلام میں پہلا حکم حصول علم کا تھا  قرآن مجید کی سب سے پہلی نازل ہونے والی آیت کا پہلا لفظ "اِقْرَأْ" (پڑھ!) ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام کی بنیاد علم پر ہے ۔اللہ تعالی فرماتاہے:﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ * خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ * اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ * الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ * عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ  ۔(پڑھ  اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، انسان کو جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھ اور تیرا رب نہایت کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا، انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا)۔(سورۃ العلق/:1-5)۔

 (5) -  علم شرعی کا حصول ایک مسلمان مرد ہوخواہ عورت سب کے لئے ایک فریضہ ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ"۔"علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے"۔(سنن ابن ماجۃ/224 ،علامہ البانی نے  طرق و شواہد کی بناء پراسے صحیح کہاہے)۔

(6) - حصول علم کی اہمیت کو واضح کرنے کےلئے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی کو اس میں زیادتی کی دعاء کاحکم دیا ہے ، فرماتاہے: ﴿وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾ ۔( اور کہو: اے میرے پروردگار! میرا علم بڑھا)۔(سورۃ طہ:114)۔

(7) -  انسانیت کو پہلا شرف اسی علم کی وجہ سے حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر جو فضیلت دی، وہ علم ہی کی بنیاد پر تھی (وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَٰؤُلَاءِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ * قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ * قَالَ يَا آدَمُ أَنبِئْهُم بِأَسْمَائِهِمْ ۖ فَلَمَّا أَنبَأَهُم بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ) ۔(اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام نام سکھا کر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا، اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ ان سب نے کہا اے اللہ! تیری ذات پاک ہے ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تونے ہمیں سکھا رکھا ہے، پورے علم وحکمت والا تو تو ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :اےآدم ! تم ان کے نام بتا دو۔ جب انہوں نے بتا دیئے تو فرمایا کہ: کیا میں نے تمہیں (پہلے ہی) نہ کہا تھا کہ زمین اور آسمانوں کا غیب میں ہی جانتا ہوں اور میرے علم میں ہے جو تم ظاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپاتے تھے)۔(سورۃ بقرۃ:31-33) ۔

 ان آیات سے واضح ہوتاہےکہ اللہ تعالیٰ نے ایک تو فرشتوں پر حکمت تخلیق آدم واضح کردی۔ دوسرے دنیا کا نظام چلانے کے لئے علم کی اہمیت وفضیلت بیان فرما دی، جب علم کی یہ حکمت ا وراہمیت فرشتوں پر واضح ہوئی، تو انہوں نے اپنے قصور علم و فہم کا اعتراف کرلیا۔ فرشتوں کے اس اعتراف سے یہ بھی واضح ہوا کہ عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے، اللہ کے برگزیدہ بندوں کو بھی اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرماتا ہے۔

(8) -  قرآن مجید میں علماء کا مقام واضح کرتےہوئے اللہ تعالی فرماتاہے:( هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ)۔( کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو علم نہیں رکھتے برابر ہو سکتے ہیں ؟یقینا نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل وسمجھ والےہیں)۔ (سورۃالزمر: 9)۔

(9) -  حصول علم سے جنت کا راستہ آسان ہوتاہے،رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:"مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ"۔"جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے"۔ (سنن ابی داود/3641، سنن ترمذی /2682، شواہد او رمتابعات کی بنا پر علامہ البانی نے اس روایت کو صحیح کہاہے)۔

(10) -  عالم کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ایک عام آدمی پر ہے،اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنی سوراخ میں اور مچھلیاں اس شخص کے لیے جو نیکی و بھلائی کی تعلیم دیتا ہے خیر و برکت کی دعائیں کرتی ہیں"۔(سنن الترمذی/2685، علامہ البانی نے اسے صحیح کہاہے)۔

(11) -  شخصیت کی تعمیر ، عزت وسربلندی کےحصول ، روزہ گار اوروسائل زندگی کےحصول ،برائیوں کے خاتمے اور صحت وتندرستی کے وسائل کی توفیرمیں علم کا بہت بڑا عمل ودخل ہے جس سے کوئی بھی صاحب عقل انکار نہیں کرسکتا۔

(12) -  علم وہ روشنی ہے جو نہ صرف  اپنے حاصل کرنے والےلئے اس کے راستوں کو منور کرتی ہے بلکہ پورا معاشرہ اس کی کرنوں  اور ضیاءپاشی سےمنورہوکراس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

(13) -  بغیر علم کے انسان کی مثال اس اندھے کی سی ہے جو تاریک راستے پر گامزن ہو،چنانچہ بغیرعلم کے انسان کو اپنی زندگی ادھوری اور اندھیر سی لگتی ہے۔ اور بارہا اس کےسامنے ایسے مواقع آتے ہیں جہاں علم کے بغیر اسے اپنی زندگی میں بہت بڑی کمی نظرآتی ہے اور وہ کئی بار اپنےآپ کو بے بس محسوس کرتاہے۔

(14) -  علم کی اہمیت کا پتہ اس سے بھی چلتاہے کہ عام حالات میں ایک مسلمان کےلئے کتا پالنا حرام ہے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی برتن میں منہ لگا دے تو اسے سات بار دھولنےکا حکم ہے ۔لیکن وہی پر الکلب المعلم(سکھایا اور سدھایا ہوا کتا) نہ یہ کہ اس کا رکھنا جائزہے بلکہ اس کا شکار بھی حلال  ہے،  یہاں تک کہ اگر آدمی بسم اللہ  پڑھ کر اسے شکار پرچھوڑتاہے اور اس نے شکارکرکے اسے مارڈالا پھربھی اس کا کھانا حلال ہے ۔ ہاں اگر اس نے خود بھی اس میں سے کھا لیا تو اسےنہیں کھایاجائےگا ،کیونکہ یہ شکار اس نے اپنے لیے پکڑا ہے۔(صحیح بخاری/5484، صحیح مسلم/1929)۔

حصولِ علم کے آداب:

علم ایک مقدس امانت اور نور ہے، اور اس نور سے وہی لوگ مکمل طور پر مستفید ہوتے ہیں جو اس کے آداب کا خیال رکھتے ہیں۔ علم حاصل کرنے کے اہم آداب درج ذیل ہیں:

(1)  -  علم کے حصول کےلئے نیت کی پاکیزگی (اخلاص)  بہت ضروری ہے ،علم صرف اللہ کی رضا،آخرت کی کامیابی ،جہالت کو دور کرنے، اور حق کو جاننے کے لیے حاصل کیا جائے، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"۔"تمام (اچھے) اعمال کا دارومدار نیت پر ہے"۔ (صحیح بخاری/1، صحیح مسلم/1907)۔ چنانچہ انسان جس نیت سے علم حاصل کرتاہے  اسی کے مطابق  اللہ تعالی اس کے ساتھ معاملہ کرتاہے۔

 (2)  -  شہرت ، فخر ومباہات ، یا محض دنیاوی مال و دولت کمانے کی نیت سے علم حاصل نہ کیا جائے۔ کیونکہ ریاء کاری اوردکھاوے کے لئے علم حاصل کرنے کا انجام قیامت کے دن بڑا بھیانک ہوگا ،جیساکہ حدیث میں ہے کہ :" قیامت کے دن جن تین افراد کے بارے  میں فیصلہ کیاجائےگا  ان میں سے ایک وہ شخص ہوگا جس نے علم حاصل کیا، دوسروں کو سکھایا اور قرآن پڑھا۔ اسے اللہ کے سامنے لایا جائے گا اور اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ ان کا اعتراف کرے گا۔ اللہ پوچھے گا:تو نے ان نعمتوں کے بدلے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا:میں نے تیرے لیے علم حاصل کیا، سکھایا اور قرآن پڑھا ۔اللہ فرمائے گا:تو نے جھوٹ کہا! تو نے تو علم اس لیے حاصل کیا تھا تاکہ تجھے 'عالم' کہا جائے اور قرآن اس لیے پڑھا تاکہ تجھے 'قاری' کہا جائے، سو وہ تو کہا جا چکا۔ پھر حکم دیا جائے گا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا"۔(صحیح مسلم/1905)۔

(3) -  طالب علم کےلئے ضروری ہے کہ وہ  تکبر اور غرور سے بچے، کیونکہ تکبر علم کی آفات میں سے ایک بڑی آفت ہے۔ جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے:

العلم حربٌ للفتى المتعالي  -    كالسيل حربٌ للمكان العالي

(علم مغرور اور تکبر کرنے والے جوان کا دشمن ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے سیلاب اونچی جگہ کا دشمن ہوتا ہے۔)

یعنی تکبر کرنے والا کبھی علم حاصل نہیں کر سکتا  جس طرح سیلاب کا پانی کبھی اونچی جگہ پر نہیں ٹھہرتا  اور دائیں بائیں ہوکر نیچے بہہ جاتا ہے  ویسے ہی علم کو تکبر وگھمنڈکے ساتھ استقرار حاصل نہیں ہوتا۔

(4)- استاد ومعلم کا احترام علم کی کامیابی کی پہلی شرط ہے۔استاد کی بات کو غور سے سننا، ان کی بات نہ کاٹنا، اور ان کے سامنے عاجزی اختیار کرنا ضروری ہے۔اور یہ بھی ضروری اور علم کے آداب میں سے ہےکہ اپنے اساتذہ اور معلمین کے لیے ہمیشہ خیر و برکت کی دعا کی جائے۔

(5) - طالبِ علم کےلئے  اپنے اندر عاجزی اور انکساری پیدا کرنا ضروری ہے جو اسے متواضع ، منکسر المزاج  اور صبر وثبات کا خوگر بناتا ہے۔

(6)  -  بوقت ضرورت لاعلمی کا اظہار بھی علم اورصاحب علم کے آداب میں سے ہے، چنانچہ اسےجو بات معلوم نہ ہو، اس پر بلا جھجھک "مجھے نہیں معلوم" کہنے کا حوصلہ رکھنا چاہئے۔

(7) - کتاب کی قدر وقیمت پہچاننا ایک طالب علم کےلئےضروری اور اہم ہےجیسے:کتاب کو ادب سے رکھنا، اس کا بے جا استعمال نہ کرنا ، اسے جب بھی موقع ملے مطالعہ اور مراجعہ میں لانا ۔

 (8) -  وقت کی قدر وقیمت پہچاننا ایک طالب علم کےلئےضروری ہے بلکہ حصول علم میں وقت کی ناقدری علم میں ناپختگی کا اہم سبب ہوتاہے۔ چنانچہ اپنے وقت کو فضول کاموں اور سستی اور لاپرواہی میں ضائع نہ کرنا  علم میں نکھار اور پختگی کا سبب ہے اس لئے ایک طالب علم کو زیادہ سے زیادہ وقت  نصوص کے حفظ ، مطالعہ اور تحقیق کو دینا چاہئے ۔

(9) -  حصول علم میں سوال کرنے کا سلیقہ صلاحیت کے لئے مہمیز اور علم کےتئیں  تحریص اور تحریک کا کام کرتاہے کیونکہ علم کی کنجی سوال ہے۔لیکن  ضروری ہے کہ سوال ہمیشہ سیکھنے اور سمجھنے کی نیت سے کیا جائے، استاد کو آزمانے یا نیچا دکھانے کے لیے نہیں۔ صحیح وقت پر اور با  ادب طریقے سے سوال پوچھا جائے۔

(10) - حصول علم کےلئےگناہوں سے پرہیزاور باطنی پاکیزگی ضروری ہے کیونکہ علم ایک نور ہے اور گناہ اندھیر ا اور نور اور اندھیرا ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ اپنے دل اور فکر کو بری باتوں، حسد، اور برے کاموں سے پاک رکھنا  علم کے اہم اورضروری آداب میں سے ہے ،امام شافعی رحمہ اللہ کا  مشہورشعرہے:

شَكَوتُ إِلى وَكِيعٍ سوءَ حِفظي    فَأرشَدني إِلى تَركِ المَعاصي

وأخبرني بِأنَّ العلمَ نورٌ              ونورُ اللّهِ لا يُهدى لِعاصي

(میں نے (اپنے استاد) وکیع سے اپنے حافظے کی کمزوری کی شکایت کی، تو انہوں نے مجھے گناہوں کو چھوڑ دینے کی ہدایت فرمائی۔

اور مجھے بتایا کہ بے شک علم  ایک نور ہے اور اللہ کا نور کسی گناہ گار ونافرمان کو تحفے میں نہیں دیا جاتا۔)

(11)  -  عمل بالعلم  یعنی  جو کچھ بھی  سیکھا ہے اس پر عمل کرنا علم کا نہایت  ہی  ضروری اور لازمی حصہ ہے کیونکہ علم کا اصل مقصد ہی اس پر عمل ہوتا ہے ، اس لئے جو کچھ سیکھا جائے اس پر خود عمل کرنا علم کا سب سے بڑا ادب اور اس کی حفاظت کی عملی تطبیق ہے۔ عمل کے بغیر علم اس درخت کی طرح ہے جس پر پھل نہ ہو یا وہ چراغ جس کےاندرتیل تو ہے لیکن اس کےاندرروشنی  پھیلانے کی صلاحیت نہیں ہے۔

(12)  -  علم کے حصول کے بعد اور آنے والی زندگی میں  خاص طور سےشرعی علوم کے تئیں یہ ضروری ہے کہ علم کے آداب اور اس کے حقو‍ق کی پاسداری کی جائے اور اس کی تطبیق وتعامل اور تعلیم ودعوت میں سلف کے منہج کی اتباع کی جائے ،کیونکہ پوری اسلامی تاریخ میں جن لوگوں نے سلف کے منہج سے ہٹ کر شرعی علوم کی تطبیق کی یا  اس کے افہام وتفہیم میں تعقل پسندی اور منطق وفلسفہ کی راہ اختیارکی وہ گمراہ ہوئے جس کے نتیجے میں  بےشمار باطل نظریات اورعقائد نے جنم لئے۔

اللہ تعالی ہمیں صحیح علم کے حصول کی توفیق عطافرمائے اورکتاب وسنت پر سلف صالحین کے فہم  کے مطابق عمل کی توفیق عطافرمائے۔ وصلی اللہ علی محمد وآلہ وسلم۔

********

 

 

 

 

جمعرات، 20 اگست، 2026

موجودہ خلیجی بحران اور ہماری شرعی اور اخلاقی ذمہ داریاں

 

موجودہ خلیجی  بحران  اور ہماری شرعی اور اخلاقی ذمہ داریاں

                                        عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی

        خلیجی ممالک  اور ایران  میں جاری موجودہ  بحران  اور اس سے پہلے بھی بہت سارےاحداث و مواقع جن کا تعلق براہ راست امت مسلمہ سے رہاہے ان کے اندرمثبت ومنفی  نتائج کے ساتھ  ایمان اور کفرونفاق کا پیمانہ واضح ہوکر سامنے آتارہا ہے ۔او ریہ حقیقت ہے کہ جب جب حق وباطل میں معرکہ آارائی ہوتی ہے کم ظرفوں  اور اسلام دشمن عناصرکی طرف سے  أصحاب حق اور اہل توحیدکی طرف انگشت نمائی  ضرور کی جاتی ہے، ان کے خلاف  الزامات اور تہمتوں کا کشکول لے کر اہل کفرو نفاق ناروا تشہیر ی اورتزویری صداؤں کے ساتھ فتنہ کے بازاروں اور گلیوں میں گھومتے نظرآتےہیں اور سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے دام فریب میں گرفتار کرکے حق وباطل کو معکوسی اندازمیں متصورکرانے کی کوشش کرتےہیں ۔ اوریہ  بالکل  عجیب نہیں ہے کہ ان کے یہاں جودن ہے اسے رات بنا  کر پیش کیاجائے اور جورات ہے اسے دن  بناکرپیش کیاجائے،"جوچاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے"، حالانکہ گزرتےاوربدلتے وقت کے ساتھ حقیقت طشت ازبام ہوجاتی ہے، لیکن اس وقت تک  بسا أوقات ہر طرح کے مشاعرواحساس ذکر  ویاد سے محو ہوچکےہوتےہیں ،لوگ  ماضی کو بھول چکے ہوتےہیں کہ ماضی میں کیاہواتھا اور اس کا انجام کیارہا  اورامت  پر اس کے کون سے اچھے برے اثرات  مرتب ہوئے؟  بلکہ نئے بحران اور نئے حادثات نئے رنگ اور نئے جو ش کے ساتھ عوام کے سامنے لائے جاتے ہیں اور پھر لوگ انہیں ہتھکنڈوں کے شکار ہوجاتےہیں جنہیں لگ بھگ بھول چکے ہوتےہیں ۔پھر جب معاملہ عالمی ہو او رخاص طورسے خلیج وعرب سے متعلق ہو تو پھر ا ن کے جوش  وخروش کےکیاکہنے ۔بعض عرب منافقین کا یہی رویہ رہا ہے جس کی وجہ سے کئی جنگوں کے بعد بھی بیت المقدس کا معاملہ اب تک ا دھر میں  لٹکا ہواہے ۔ اور کچھ منافق صفت حکمرانوں اور تنظیموں کا حال یہ ہےکہ معاملہ اگر خلیج عرب کا ہوتو سعودی عرب ضرور مجرم  بنا دیاجاتاہے او ر ایسا  باور کرایا جاتاہے جیسے یہ سارے فتنےاور فساد اسی کی وجہ سےبرپاہیں ،کبھی  اس کے "نام" کو لے کر ، کبھی اس کے "کام "کو لےکر ، کبھی اس کی  "سیاست" کو لے کر تو کبھی اس کی "قیادت "کو لے کر ۔ اور اگر معاملہ "منہج وعقیدہ "کا ہو تو پھر مت پوچھئے ،یہ انہیں ہرگز برداشت نہیں ہوتا،ایسی طوفان بد تمیزی برپاکی جاتی ہے کہ الأمان والحفیظ ۔جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ  ان معاملات کا اگر کسی بھی طرح کا تعلق سعودی عرب سے رہاہے تو اس نے ہمیشہ  ایک مضبوط اور منصفانہ رویہ  پیش کیاہے ، معاملہ عرب اسرائیل جنگ سے متعلق ہو ، عراق وایران قضیہ سے متعلق ہو ، کویت  وعراق کا سانحہ ہو ، داعش  والقاعدہ اورحوثی جیسی تنظیموں سے نمٹنےکا ہو اور خواہ صدام حسین کی  پھانسی سے متعلق ، ہر موڑ پر سعودی عرب کی قیادت اور اس کے علماء اور عوام نے اپنا دینی اور اخلاقی فریضہ بخوبی انجام دیاہے۔فجزاھم اللہ خیرا عن الإسلام والمسلمین۔

کویت  اور عراق معاملہ کی طرح موجودہ ایرانی بحران نے نفاق وکفرکی مکمل قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔عربوں اور خاص طور سےسنی مسلانوں کے خلاف سیاسی ، اقتصادی اور نظریاتی ہر اعتبار سے اندرونی اور بیرونی عداوتوں  نےجو چالیں چلی ہیں ، ان کے فریب کاشکار ہونا ان لوگوں کے لئے بہت آسان ہے، جو ہر معاملے میں سعودی عرب کو مجرم ٹھہرانے  کے عادی ہوچکے ہیں ۔تعجب  کی بات ہے کہ ایک ملک کہہ رہاہے کہ  ایران پر حملے سے اس کاکوئی تعلق نہیں ہے ،پھر بھی اسےمجرم باور کرایاجاتاہے ، اس کے لئے بہانے تلاش کئے جاتےہیں اورتمام  حادثات کے لئے بھی مورد الزام اسی کو ٹھہرایا جا تاہے ،جب کوئی بہانہ نہیں ملتاہے توخطےمیں امریکہ کی موجودگی کو دلیل بنایا جاتاہے،جبکہ امریکہ ان خطوں میں آج سے موجود ہے اور نہ صرف انہیں ممالک میں موجود ہے جن پر حملہ کیاجارہاہے ۔ اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ امریکہ کی خطے میں موجودگی  میں کہیں نہ کہیں خارجی پالیسیوں کا ہاتھ رہاہے،اور اہل بصیرت  وتجزیہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکہ کو کن حالات میں اور کن أسباب کی بناپر خطے میں جگہ دی گئی تھی اور اب تک کیوں موجود ہے ؟ ظاہر سی بات ہے کہ کسی بھی ملک کی سیاسی بصیرت اپنے مفاد کو پیش نظررکھ کر اور مناسب  وقت دیکھ کرہی کوئی  فیصلہ لیتی ہے ، یہ گلی کے غنڈے اورچھٹ بھیئےنیتا توہیں نہیں کہ آؤ  بہکاؤ،لفڑا کرو،مارو، لوٹو اور چلتے بنو۔

قابل تعریف ہیں اس ملک کے حکمراں جنہوں نے اپنی اسلامی بھائی چارگی کا ثبوت دیتے ہوئے کسی بھی معاملےمیں  ہمیشہ صبر وتحمل سے کام لیاہے اور کسی بھی  ایکشن سے پہلے اس کے مالہ اور ماعلیہ  کا اچھی  طرح  تجزیہ کیاہےاور خاطور سے موجودہ معاملے میں اب تک کسی بھی طرح کی جوابی کارروائی کرنے سے پرہیز کیاہے ۔ لیکن  خاص طور سے برصغیر کی تحریکیت اوررافضیت اپنی عداوت ونفاق  کی آگ بجھانے  کے لئے ہمہ دم موقع کی تلاش میں  رہتے ہیں کہ کیسے ان کے خلاف پرپگنڈہ کرکے او رانہیں مطعون کرکے اپنی نظریاتی اور فکری انارکی کو ان پر تھوپ دیں یا انہیں غیرمستحکم کردیں ،اوراہل بدعت وشرک تو ایسے مواقع کی تلاش میں رہتےہی ہیں ۔اور قابل افسو س ہیں وہ لوگ جو خود کو صاحب علم او رصاحب بصیرت کہتے ہیں لیکن یاتو سعودیہ دشمنی میں یا پھر رافضیت سے ہمنوائی کی بنا پر یا ان کے دام فریب میں آکر سعودی عرب پراول جلول الزامات عائدکرنےمیں پیش پیش رہتے ہیں ۔انہوں نے رافضیت اور صہیونیت کے تعلق کو یاتو سمجھا ہی نہیں ہے یا پھر بغض معاویہ میں اتنے ڈوب چکے ہیں کہ صحیح اور غلط کا إحساس کھوچکے ہیں ۔انہیں چاہئے تھا کہ وہ ہمیشہ حق کی طرفداری کرتے اور اپنی شرعی اور اخلاقی ذمہ داریو ں کوسمجھتے ہوئے کسی مناسب موقف کو اختیا رکرتے جس  کامثبت  اورایجابی  پہلوواضح ہوتااور اس سے قوم  وملت کسی بھی طرح کی ذہنی اور فکری انارکی کا شکار ہونے سے بچتی، لیکن انہوں نے اپنی  بےبصارتی کا ثبوت دیتےہوئے اپنی ذمہ داریوں کو صحیح راہ سے ہٹاکر معاملے کو منفی اور سلبی اندازمیں پیش کرنے کی پوری کوشش کی ہے ۔ کہیں ایسانہ ہو کہ جب  دنیا کے اوپر حقیقت  واشگاف ہو تو انہیں خود کی سوچ پر شرمندگی اٹھانی پڑے ، حالانکہ  ان میں بہت سارے کم ظرف اور کم حیاء قسم کے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو "بےحیاء  باش  چہ خواہی کن " کے مصداق ہوتے ہیں ۔

یہاں اس قسم کے لوگوں سے ہمیں یہ بات کہنے میں کوئی ہچک نہیں ہے کہ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ صہیونیت او ر رافضیت  دونوں  اسلام اور مسلمانوں کے لئے یکساں خطرنا ک ہیں ، ان کی ملی بھگت جگ ظاہر ہے ،بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ را‌فضیت نے ہمیشہ صہیونیت سے زیاد اسلا م ، مسلمان ، اسلامی عقائد اوفکار اور اسلامی  ممالک کو سیاسی ، سماجی ، اقتصادی اور دینی ہر اعتبار سے زک پہونچایاہے ۔ اللہ تعالی انہیں عقل سلیم دے اور اسلام اور مسلمانوں کو ہر طرح کے شروفساد سے محفوظ رکھے ۔آمین  وصلی اللہ علی خیرخلقہ وسلم ۔

########

زکوٰۃ: مال کی پاکیزگی کا بہترین ذریعہ

زکوٰۃ: مال کی پاکیزگی کا بہترین ذریعہ

عذراء بتول سنابلی  بنت عبدالعلیم سلفی  (نئی دہلی)

      شریعت اسلامیہ نے عبادات کے لئے نہایت ہی جامع أصول متعین فرما دیاہے چنانچہ نماز، زکوٰۃ ، روزہ اور حج کا وقت اور طریقۂ کار مشروع و متعین ہے اورہر مکلف  بندہ انہیں أصول اور طریقۂ کار کا پابند ہے جو قرآن وسنت سےبیان شدہ اور ثابت ہیں ، زکوٰۃ جو  عبادتوں میں سے ایک اہم عبادت ہے اس کے احکام ومسائل کا بیان اور طریقۂ کا ر بھی شریعت نے طے کر دیا ہے ، کتنے مال پر، کتنی مدت بعد، کن أموال پر، کن طریقوں سے اور زکوٰۃ کے مال کے مستحق کون ہیں ؟  ان سب امور کو شریعت نے تفصیل  کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ذیل کی سطورمیں ہم کوشش کریں گےکہ  زکوٰۃ سے متعلق  چند ضروری امورکا تذکرہ کردیاجائے:

زکوٰۃ کا لغوی معنی :

زکوٰۃ  زکا ،یزکو  ازک  سے مشتق ہے جس کی جمع "زکوات" ہے جس کا لغوی معنی ہے "چیز کا عمدہ حصہ" ۔ ( مصباح اللغات، مادہ: ز ک ی) ۔ اسی طرح زکوٰۃ کے کئی اور معانی ہیں جیسے: بڑھوتری ، زیادتی ، برکت ، پاکیزگی وطہارت ، مدح وتعریف اور صلاح ودرستگی وغیرہ۔(مقاييس اللغة :3/18، النهاية في غريب الحديث :2/307، لسان العرب:14/358) ۔

زکوٰۃ کا شرعی مفہوم:

خاص شرائط کے ساتھ، خاص لوگوں کے لئے، خاص وقت میں، خاص مال سے شرعاً واجب ہونے والا حق نکال کر اللہ کی عبادت بجا لانے کا نام زکوٰۃ ہے۔ (المبدع في شرح المقنع:2/291)۔

زکوٰۃ کی فرضیت اور فضیلت و اہمیت:

زکوٰۃ اسلام کےارکان میں سے تیسرا اور  بنیادی رکن ہے، جس کے بغیر کسی بھی شخص کا  اسلام اور ایمان ممکن نہیں ہوتا۔ زکوٰۃ، نماز، روزہ اور حج کی طرح ایک فرض عبادت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے: اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبودبرحق نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا"۔(صحیح بخاری/8، صحیح مسلم/16)۔چنانچہ زکوٰۃ  ہر صاحبِ استطاعت پر فرض ہے، اللہ تعالی نے قرآن مجیدکے اندر کئی مقامات پر:( وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ) ۔(اور زکوٰۃ دو)  فرماکر مسلمانوں کو زکاۃ کا مکلف کیاہے ، اسی طرح ایک  مقام پر فرماتاہے:( خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا )۔ (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! تم ان کے مالوں سے صدقہ (زکوٰۃ) لے کر انہیں گناہوں سے پاک اور صاف کرو)۔(التوبۃ/103) ۔ اور فرمایا: (كُلُوْامِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَاٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ ۪ وَلَا تُسْرِفُوْا ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ )۔( ان سب کے پھلوں میں سے کھاؤ جب وه نکل آئے اور اس میں جو حق واجب ہے وه اس کے کاٹنے کے دن دیا کرو۔ اور حد سے مت گزرو یقیناً وه حد سے گزرنے والوں کو ناپسند کرتا ہے)۔(الانعام/141)۔

زکوٰۃ فرض ہونے کی شرائط

کسی بھی مسلمان پر زکوٰۃ تب ہی فرض ہوتی ہے جب اس میں مندرجہ ذیل چند شرائط پائی جائیں:

1 -  مسلمان ہونا: غیر مسلم پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔

2 – حریت :چنانچہ غلام پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے ،کیونکہ اس کا مال  اس کے آقاکاہوتاہے۔

3-  عاقل اور بالغ ہونا: (کچھ فقہاء کے نزدیک نابالغ اور مجنون کے مال پر بھی زکوٰۃ ہے اگر وہ نصاب کو پہنچ جائے، جس کی ادائیگی ان کے سرپرست کریں گے)۔

4- مالکِ نصاب ہونا: یعنی  اس کے پاس اتنا مال ہو جو شرعی نصاب کو پہنچتا ہو۔

5 -   ملکیتِ تام  (مکمل ملکیت) ہونا:  مال پر مالِک کا پورا قبضہ ہو اور وہ اس میں تصرف کی مکمل صلاحیت رکھتا ہو۔

6 - حَولانِ حول( سال گزرنا ): نصاب کے مال پر پورا ایک قمری (ہجری) سال گزر چکا ہو۔ (فصلوں اور پھلوں پر سال گزرنا شرط نہیں، ان کی زکوٰۃ یعنی "عشر" کٹائی کے وقت ہی دیا جاتا ہے)۔

7-  مال کا حاجتِ اصلیہ سے زائد ہونا: یعنی وہ مال آپ کی بنیادی ضرورتوں (جیسے رہنے کا گھر، پہننے کے کپڑے، سواری وغیرہ) سے زائد ہو۔

وہ اموال جن میں زکوٰۃ فرض ہے:

اللہ تعالیٰ نے چار قسم کے ایسے اموال میں زکوٰۃ فرض کیا ہے جن پر انسانی زندگی کا دارومدار ہے:اول: چوپائے جیسے: اونٹ، گائے، بکری وغیرہ۔دوم :سونا چاندی اور نقدی وغیرہ۔سوم:ہر قسم کا تجارت کا سامان جس کی تجارت شرعاً جائز ہے۔اور چہارم: زمین سے حاصل ہونے والی چیزیں غلہ، پھل، سبزیاں، معدنیات اوردفینے وغیرہ۔

نصاب زکاۃ :

جن اشیاء پر زکوٰۃ واجب ہے، ان کا مختصر نصاب درج ذیل ہے:

سونا: کم از کم پچاسی ( 85 )گرام  ۔

چاندی: کم از کم  پانچ سوپچانوے( 595 )گرام ۔

نقد رقم یا بینک بیلنس: کسی کے  پاس اتنی رقم ہو جو 85 گرام سونے یا  595 گرام چاندی کی قیمت کے برابر پہنچ جائے تو

ان تمام اشیاء میں کل مالیت کا ڈھائی فیصد (یعنی چالسواں حصہ )  زکوٰۃ  بنتی ہے۔

ذاتی استعمال کی چیزوں پر زکوٰۃ نہیں ہے:

ذاتی اور گھریلو استعمال کی اشیاء پر زکاۃ فرض نہیں ہوتی۔ شریعت میں ایسی چیزیں جو روزمرہ ضروریات (ضرورتِ اصلیہ) میں شامل ہوں، جیسے ذاتی استعمال کے کپڑے، گاڑیاں، برتن، فرنیچر، اور مکان وغیرہ، ان کی مالیت پر کوئی زکوٰۃ نہیں لگتی، خواہ وہ کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہوں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:"مسلمان پر نہ اس کے غلام میں زکوٰۃ ہے اور نہ اس کے گھوڑے میں"۔(صحیح بخاری/1464، صحیح مسلم/982)

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ غلام اور گھوڑے میں زکوٰۃ نہیں ہے، یعنی جو غلام اپنی خدمت کے لیے اور جو گھوڑا اپنی سواری کے لیے مخصوص ہو ان پر کسی قسم کی زکاۃ نہیں ہے، البتہ اگر برائے تجارت ہوں تو ان پر زکوٰۃ ہو گی۔جمہور علماء اور اکثر فقہاء کا یہی موقف ہے۔  نیزاس سے یہ بھی پتاچلاکہ ذاتی مکان، یا مکان کی تعمیر کے لیے پلاٹ، کار، موٹر سائیکل، فرنیچر، فریج  اوردیگر گھریلو سامان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔

وقف شدہ اور پبلک پراپرٹی میں زکوٰۃ نہیں ہے:

 واضح رہے کہ  وقف شدہ اموال، بیت المال، ہسپتال وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جو فردواحد کی ملکیت نہیں ہوتیں بلکہ مجموعی طور پر یہ تمام مسلمانوں کے لیے وقف ہوتی ہیں، اس لئے ان میں زکوٰۃ نہیں نکالی جائے گی  ، کیونکہ جس مال سے زکوٰۃ نکالنا فرض ہے وہ مال کسی خاص شخص کی ملکیت ہونا چاہئے۔ اگر وہ مال کسی خاص شخص کی ملکیت نہ ہو تو اس پر زکوٰۃ  واجب نہیں ہے۔

زرعی پیداوار پر زکوٰۃ :

زرعی پیداوار پر زکوٰۃ کو اصطلاحی طور پر "عشر" کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ زرعی پیداوار میں ہر فصل تیار ہونے کے بعد اس کا عشر (یعنی دسواں حصہ) بطورِ زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے بشرطیکہ مجموعی پیداوار پانچ وسق یا اس سے زیادہ ہو اور زمین کی سیرابی کے لئے مشقت کر کے پانی حاصل نہ کیا گیا ہو یعنی ٹیوب ویل لگانے یا کنوئیں کھودنے کے بجائے بارش یا نہروں کے ذریعے بغیر  مشقت کے پانی حاصل ہو جائے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو پھر ازراہِ تخفیف بیسواں حصہ (یعنی نصف العشر) بطورِ زکوٰۃ نکالا جائے گا جیسا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "  فيما سقت السماء والعيون أو كان عثريا العشر وما سقى بالنضح نصف العشر " – " زمین بارش یا چشموں سے سیراب ہوتی ہو یا وہ بارانی ہو اس میں عشر ہے اور جو زمین رہٹ وغیرہ کے پانی سے سیراب کی جاتی ہو تو اس میں نصف العشر ہے"۔(صحیح بخاری/1483)۔

زمین سے حاصل ہونے والی پیداوار اگر پانچ وسق سے کم ہو تو پھر اس میں کسی قسم کی زکوٰۃ (عشر) فرض نہیں جیسا کہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "  وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ" ۔"پانچ وسق سے کم پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے"۔(صحیح بخاری/1405 ، صحیح مسلم /980)۔

      واضح رہے کہ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے پانچ وسق کے تین سو صاع ہوئے موجودہ وزن کے حساب سے تین سو صاع کا وزن تقریباً (750) کلو گرام یعنی ساڑھے سات کوئنٹل بنتا ہے۔(دیکھئے حاشیہ سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/ 626 )۔

واللہ اعلم ۔

زکوٰۃ کے مصارف اور مستحقین:

قرآنِ کریم میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف ذکر ہوئے ہیں اور مزید اس کی تفصیل حدیثوں میں آئی ہے، وہ آٹھ مستحقین مندرجہ ذیل ہیں:

1 - فقراء: وہ لوگ جن کے پاس کچھ نہ ہو یا بہت ہی کم ہو۔

2 - مساکین: وہ لوگ جن کے پاس ضرورت کا کچھ سامان تو ہو لیکن وہ ان کی بنیادی ضروریات کے لیے کافی نہ ہو (اور وہ کسی کے آگے ہاتھ بھی نہ پھیلاتے ہوں)۔

3 - عاملین: وہ ملازمین جنہیں اسلامی حکومت نے زکوٰۃ جمع کرنے اور تقسیم کرنے پر مقرر کیا ہو (ان کی اجرت اس میں سے دی جا سکتی ہے)۔

4 - مؤلفۃ القلوب: جن کی دلجوئی مقصود ہو (جیسے نئے مسلمان ہونے والے تاکہ ان کی اسلام پر استقامت رہے)۔

5 - فی الرقاب: غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے (موجودہ دور میں قیدیوں کی رہائی کے لیے بعض شرائط کے ساتھ)۔

6 - غارمین: وہ قرض دار جو اپنے قرضے اتارنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔

7 - فی سبیل اللہ: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے، اسی طرح  دین کی خدمت و اشاعت میں مصروف لوگ (جیسے دینی طلبہ) فی سبیل اللہ میں آتےہیں۔

8 - ابن السبيل: وہ مسافر جو سفر کے دوران تنگدست ہو گیا ہو، چاہے وہ اپنے گھر میں کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو۔ (التوبۃ/60)۔

کن لوگوں کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی؟:

مندرجہ ذیل افراد کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی :

1 - اپنی اصول اور فروع کو (یعنی والدین، دادا، دادی، نانا، نانی اور اسی طرح اپنی اولاد: بیٹے، بیٹی، پوتے، پوتی، نواسے، نواسی کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی کیونکہ ان کی کفالت ویسے ہی انسان پر واجب ہوتی ہے)۔

2 - میاں بیوی ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔

3 - بنو ہاشم  : صدقات واجبہ  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان یعنی بنو ہاشم کے لیے جائز نہیں ہیں اور یہ علی، جعفر، عقیل اورحارث بن عبد المطلب کی اولاد ہیں۔ بعض اہل علم کے مطابق اضطرای حالات میں جائزہے۔

4 -  مالدار (صاحبِ نصاب) شخص کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔

5 - غیر مسلم کو زکوٰۃ (فرض) نہیں دی جا سکتی (البتہ عام صدقات و خیرات دیے جا سکتے ہیں)۔

زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی سزا اورنقصانات:

زکوٰۃ ادا نہ کرنے کےبے شمار نقصانات ہیں،جیسے:

1 – زکوٰۃ  نہ ادا کرنے والے کےلئے سخت ترین عذاب ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ۙۦ يَوْمَ يُحْمٰى عَلَيْهَا فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوْبُهُمْ وَظُهُوْرُهُمْ ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ )۔ (جو لوگ سونے اور چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے کہ جس دن اس خزانے کو آتشِ جہنم میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں، پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جسے تم نے اپنے لیے خزانہ بنا کر رکھا تھا، پس اپنے خزانوں کا مزہ چکھو)۔(التوبۃ/34-35)۔ اور ایک حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" من آتاه الله مالا فلم يؤد زكاته مثل له يوم القيامة شجاعا أقرع له زبيبتان يطوقه يوم القيامة ثم يأخذ بلهزمتيه يعني شدقيه ثم يقول أنا مالك أنا كنزك " ۔" جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا لیکن اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی تو قیامت کے دن اس کا مال گنجے زہریلے سانپ کی شکل اختیار کرے گا، جس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے اور وہ اس کے گلے کا ہار ہوگا، وہ اس کے دونوں جبڑوں کو پکڑے گا اور کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں"۔ (صحیح بخاری/1403) ۔اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"  جو بھی سونے اور چاندی کا مالک ان کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، تو جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کے لیے (اس مال سے) آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی اور انہیں جہنم کی آگ میں خوب تپایا جائے گا، پھر ان سے اس کے پہلو (پسلی)، اس کی پیشانی اور اس کی پیٹھ کو داغا جائے گا۔ جب بھی وہ تختیاں ٹھنڈی ہونے لگیں گی، انہیں دوبارہ (تپا کر) لایا جائے گا؛ یہ معاملہ اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے، پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا کہ جنت کی طرف جاتا ہے یا جہنم کی طرف۔"۔(صحیح مسلم/987)۔اور ایک دوسری روایت میں  ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:" اونٹ (قیامت کے دن) اپنے اس مالک کے پاس—جس نے ان کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کیا ہوگا—پہلے سے بھی زیادہ موٹے تازے ہو کر آئیں گے اور اسے اپنے کھروں سے روندیں گے۔اور بکریاں (بھی) اپنے اس مالک کے پاس—جس نے ان کا حق ادا نہیں کیا ہوگا—پہلے سے زیادہ موٹی تازی ہو کر آئیں گی، وہ اسے اپنے کھروں سے کچلیں گی اور اپنے سینگوں سے ماریں گی۔ اور ان (جانوروں) کا ایک حق یہ بھی ہے کہ انہیں پانی کے گھاٹ پر ہی دوہا جائے (تاکہ مسافر اور ضرورت مند بھی فائدہ اٹھا سکیں)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مزید) فرمایا: اور تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن اس حال میں نہ آئے کہ وہ اپنی گردن پر کوئی ایسی بکری اٹھائے ہوئے ہو جو منمناتی (چیختی) ہو، اور وہ (شخص مجھ سے فریاد کرتے ہوئے) کہے: 'اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! میری مدد کیجیے! تو میں اسے کہہ دوں گا: 'میں اللہ کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا، یقیناً میں نے (اللہ کا حکم تم تک) پہنچا دیا تھا۔اور نہ ہی کوئی شخص (قیامت کے دن) ایسا اونٹ اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے جو بلبلا رہا ہو، اور وہ کہے: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! میری مدد کیجیے!تو میں (صاف) کہہ دوں گا: میں اللہ کی طرف سے تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، بیشک میں نے (حق) پہنچا دیا تھا'"۔ (صحیح بخاری/1402، صحیح مسلم/987)۔ ان علاوہ بھی ڈھیروں روایتیں ہیں جن میں زکوۃ ادانہ کرنے والے کےلئے شدیدوعیداور عذاب کا ذکرہے۔

 2 - زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار کرنے والے سے قتال جائزہے : خلیفۂ اول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیاتھا ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو عربوں میں سے کافر ہونے والے کافر ہو گئے (اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مانعین زکاۃ سے جنگ کا ارادہ کیا) تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ان لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں:"مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ (لا الٰه الا الله) کا اقرار کر لیں، پس جو کوئی (لا الٰه الا الله) کا قائل ہو گیا، اس نے میری طرف سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کر لیا،البتہ کسی حق کے بدل ہو تو وہ اور بات ہے (مثلاً کسی کا مال مار لے یا کسی کا خون کرے) اب اس کے باقی اعمال کا حساب اللہ کے حوالے ہے "۔اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں ان لوگوں سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کریں گے، کیونکہ زکاۃ مال (میں اللہ) کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ (اونٹ کا) پاؤں باندھنے کی ایک رسی بھی روکیں گے، جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں اس کے روکنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اصل بات اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ میں نے دیکھاکہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ جنگ کے لیے کھول دیا، تو میں جان گیا کہ حق یہی ہے۔(صحیح بخاری /7285، صحيح مسلم/20)۔

  3 -  قحط سالی اور بارش کا رک جانا: حدیث مبارکہ میں ہے کہ "جب بھی کوئی قوم اپنے مال کی زکوٰۃ روکتی ہے، تو ان سے آسمان سے بارش روک لی جاتی ہے، اور اگر زمین پر چوپائے (جانور) نہ ہوں تو ان پر کبھی بارش نہ ہو"۔ (سنن ابن ماجہ/4019 ، علامہ البانی نے اس حدیث کو حسن کہاہے)۔

4-  معاشرتی بگاڑ: جب امیر لوگ زکوٰۃ نہیں دیتےہیں  تو معاشرے میں غربت، افلاس، چوری اور ڈکیتی جیسی برائیاں جنم لیتی ہیں، کیونکہ غریبوں میں  آمدنی  کےوسائل و ذرائع کے مفقودہونے کا  یا  اس کی قلت کی وجہ سے ا حساسِ محرومی اور حسد بڑھ جاتا ہےاور وہ اس کےلئے کسی نہ کسی ناجائز اور نامناسب طریقہ اور وسیلہ  کے اختیار کرنے پر مجبورہوجاتے ہیں جس سے معاشرتی بگاڑ اور فساد  کا راستہ کھلتاہے۔

5    زکاۃ ادانہ کرنا جہاں ایک طرف اللہ تعالی کے حکم کے نافرمانی ہے وہی دوسری طرف اللہ کے بندوں کے حقوق کی تلفی ہے کیونکہ زکاۃ کو اللہ تعالی نے اپنے محتاج بندو ں کے لئے ہی فرض کیاہے۔

زکوٰۃ کے فوائد اوراس کی  حکمتیں:

اسلام کے دیگر ارکان اور فرائض کی طرح زکوٰۃ جیسے عظیم الشان رکن میں بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بے شمار انفرادی و اجتماعی حکمتیں اور عظیم فوائد رکھے ہیں جس سے زکوٰۃ کی ادائیگی کرنے والا ایک بندۂ  مومن ہی نہیں بلکہ پورا اسلامی اور انسانی سماج اور ساری دنیا مستفید ہوتی ہے ، چند فوائد اور حکمتیں ملاحظہ فرمائیں:

۱- زکوٰۃ اسلام کا ایک اہم  رکن ہے، لہٰذا اس سے بندے کا ایمان مکمل ہوتا ہے اور یہ پرہیزگاری کا ایک عظیم مقصود ہے۔

۲- زکوٰۃ کی ادائیگی سے اللہ کی اطاعت اور بندگی حاصل ہوتی ہے، بندہ اللہ سے اجر و ثواب کی امید رکھتا ہے، اس کے عذاب سے ڈرتا ہے اور اس کی محبت و خوشنودی کا طالب ہوتا ہے۔

۳- زکوٰۃ میں مال خرچ کرنے کی آزمائش ہے۔ چونکہ مال و جائیداد انسانی طبیعت میں ایک محبوب و مرغوب چیز ہےاس لئے اسے اپنی ذات  کے علاوہ کہیں اور خرچ کرنااس کی طبیعت پر گراں گزرتاہے۔

4 – زکاۃ  امتِ محمدیہ کے فتنہ و آزمائش کا سبب ہے،کیونکہ  قرآن مجید کے اندر مال اور أولاد کو فتنہ کہاگیاہے۔(الانفال/28 ، التغابن/15)۔

 5  -  زکوٰۃ خیراور بھلائی پانے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس کی ادائیگی سے بندے کے ایمان کی صداقت کا پتہ چلتا ہے ،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: " لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ؕ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ )۔(جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے، اور تم جو خرچ کرو اسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے) ۔ (آل عمران/92)۔

6-  زکوٰۃ کے ذریعہ جود و کرم، سخاوت و فیاضی اور فقراء و محتاجوں پر شفقت و رحم کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

7 - زکوٰۃ کے ذریعہ بعض قبیح خصلتوں سےنفس کی صفائی و ستھرائی ہوتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:(خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا )۔(آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جن کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک و صاف کر دیں)۔ (التوبۃ/103)۔

8 - چونکہ انسان کے دل میں مال کی محبت ایک فطری چیز ہے، لیکن جب وہ اللہ کے حکم پر اپنے حلال مال میں سے ایک حصہ نکالتا ہے، تو اس کے دل سے بخل (کنجوسی) اور حرص کا خاتمہ ہوتا ہے۔

9 -  زکوٰۃ انسان کو سکھاتا ہے کہ مال صرف جمع کرنے کے لیے نہیں، بلکہ  اللہ کی راہ میں بانٹنے اورخرچ کرنے کے لیے ہے۔

10- زکوٰۃ سے مال میں اللہ کی جانب سے برکت، اضافہ اور بڑھوتری ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ( وَمَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَيُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَخَيْرُالرّٰزِقِيْنَ)۔(اور تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہترین روزی دینے والا ہے)۔(السبأ/39)۔ اورابوہریرہ  رضی  اللہ عنہ سے مروی ہےکہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ما نقصت صدقة من مال " ۔ "صدقہ و زکوٰۃ سے مال میں کوئی کمی نہیں ہوتی"۔(صحیح مسلم/2588)۔

11 - اس سے مال پاکیزہ و بابرکت ہو جاتا ہے اور فقراء و مساکین کے ساتھ تعاون اور ان کی مدد ہو جاتی ہے۔ ، اگر زکوٰۃ کا نظام پوری ایمانداری سے نافذ ہو جائے تو معاشرے سے غربت کا خاتمہ ممکن ہے۔ یہ دولت کو چند ہاتھوں میں منجمد ہونے سے روکتا ہے اور اسے پورے سماج میں گردش دیتا ہے، جس سے امیر اور غریب کے درمیان خلیج کم ہوتی ہے اور معاشی عدل قائم ہوتا ہے۔

12 - جب ایک ضرورت مند کو یہ احساس ہوتا ہے کہ معاشرے کا خوشحال طبقہ اسے بھول نہیں گیا بلکہ اس کی بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھ رہا ہے، تو دلوں سے حسد اور نفرت کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اس کی جگہ محبت، ہمدردی اور بھائی چارے کے جذبات پروان چڑھتے ہیں، جو ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہیں۔

13 - زکوٰۃ محض ایک مالیاتی حساب کتاب یا صرف جیب سے پیسے نکالنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا پاکیزہ نظام ہے جو بیک وقت انسان کے باطن (دل) اور ظاہر (معاشرے) دونوں کی اصلاح کرتا ہے۔

14 -  زکوۃ سے دین  وشریعت کی نشرواشاعت ہوتی ہے اور  اس سےدعوت دین میں کوششوں کوجلاء ملتی ہےاو رمعاشرے کو  علماءو طلباء کی شکل میں خدام دین کی  اچھی خاصی  ٹیم  ملتی ہے۔

        ایک مسلمان کے لیے زکوٰۃ بوجھ نہیں بلکہ ایک اعزاز ہونا چاہیے کہ اللہ نے اسے دینے والا ہاتھ بنایا ہے، لینے والا نہیں۔ جب یہ عمل سچے دل اور خوشی سے کیا جائے تو یہ بارگاہِ الٰہی میں قبولیت پاتا ہے اور انسان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں حقیقی فلاح اور سکون کا باعث بنتا ہےاور یہ سوچنا کہ زکاۃ اداکرنے سےمال میں کمی ہوتی ہے ایمان کی کمزوری ، دنیا کی حد سے زیادہ حرص اور لالچ اور دین سے فرار کےلئے کوئی بہانہ تلاش کرنے کے مترادف ہے۔

      اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے مالوں کو پاک کرنے اور اس فریضے کو اس کی روح کے مطابق  اور خوشی سے ادا کرنے کی ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اور ہمارے مالوں میں برکت دے اور ہمارے نیک اعمال کو قبول فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔وصلی اللہ علی خیرخلقہ وسلم۔

******