اتوار، 8 فروری، 2026

ماہ ِرمضان میں گناہ اور شیطان کا بیڑیوں میں جکڑدیاجانا

 ماہ ِرمضان میں گناہ اور شیطان کا بیڑیوں میں جکڑدیاجانا

                                          عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی  (سعودی عرب )

            خیروبرکت  کے اس ماہ میں خاص طورسے گناہوں سے اجتناب ضروری عمل ہے  اس کے بغیرنہ اللہ کی خوشنودی حاصل ہوسکتی ہے اور نہ ہی روزہ کا مقصد حاصل ہوسکتاہے ،جیساکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:" مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ"اگر کوئی شخص(روزے رکھ کر بھی)  جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے"۔(صحیح البخاری /6057)۔

 یہی وجہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالی نے نیکیوں کے لئے خوب جدوجہد کے ساتھ ساتھ برائی اورمعصیت سے اجتناب پر بہت زیادہ ابھاراہے اور ہر وہ  آسانی فراہم کی ہے جس سے بندہ زیادہ سے زیادہ معصیت وگناہ سے بچ سکے ، اپنے نفس کو حکم الہی کا  تابع بناسکےاو ر اپنے اوقات کو زیادہ سےزیادہ  طاعت وعبادت میں صرف کرسکے  ، چنانچہ روزےکا سب سے  اہم مقصدبھی  اللہ کی رضا وخوشنودی کے حصول کے ساتھ تقوی شعاری ہےجوکہ بذات خود رب کائنات کی رضا کا سب سے اہم سبب ہے ، جیساکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ) (اےمومنو! جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزہ فرض کیاگیاتھا اسی طرح تم پرفرض کیاگیاہےتاکہ  تم تقوی اختیارکرو) (البقرہ/183)۔  

انسان کے لئے گمراہی کا سب سے بڑا سبب شیطانی وساوس اور اس کی چالیں ہیں  ، لیکن رمضان المبارک  میں  خاص طوراللہ تعالی  اس کی  تدبیروں اور چالوں  اور ان کے اثرات  کوختم کرنےکےلئے اسےبیڑیوں میں جکڑدیتاہے جس کا بیان حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں واضح طورپر موجودہے۔ خاص طور سے بندوں کی کثرت ِخیر اور نماز ، روزہ ، ذکرودعاء  جیسی  عبادتوں  میں انشغال اور اس کے عوض اللہ تبارک وتعالی کی رضا اور اس کی بے شمار  مغفرت  ومعافی  کی وجہ سے ہوتاہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الجَنَّةِ ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ ""جب رمضان کا مہینہ آتاہے تو جنت کے دروازے کھول دئےجاتےہیں ، اور جہنم کے دروازے بند کردئےجاتےہیں اور شیطان زنجیروں میں جکڑدیاجاتاہے "(صحیح بخاری : 3277 ، صحیح مسلم :1079) مسلم کی روایت میں ہے: " وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ""شیطان بیڑیوں میں جکڑدیاجاتاہے"۔

اور ایک دوسری روایت میں ہے : "إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ من شَهْرِ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ ، الخ ...") الحديث "۔"جب رمضان کا پہلا دن ہوتاہے تو شیطان اور سرکش جنوں کو بیڑیوں میں جکڑدیاجاتاہے اورجہنم کے دروازے بندکردئےجاتےہیں اورپھر اس کا کوئی دروازہ  نہیں کھولاجاتا، اور جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اورپھر اس کا کوئی دروازہ نہیں بندکیاجاتا۔۔۔۔" (سنن ترمذی :682 ، سنن ابن ماجہ:1642۔ شیخ البانی نے اس روایت کوصحیح الجامع :759 کے اندر حسن قراردیاہے)۔

اس حدیث کی مختلف روایتوں میں شیطان کے بیڑیوں میں جکڑے جانے سے متعلق مختلف الفاظ وارد ہیں جیسے:(صُفِّدَتِ الشياطينُ)، (سُلْسِلَتِ الشياطينُ )، (تُغَلُّ فيه الشياطينُ)،(تُغَلُّ فيه مَرَدَةُ الشياطين)،(صُفِّدَتِ الشياطينُ ومَرَدَةُ الجِنِّ) اور(يُصفَّد فيه مَرَدةُ الشياطين) ان سارے الفاظ کا معنی  تقریبا ایک ہی ہے اور وہ ہے شیطان یا سرکش اور ضدی شیطانوں کا بیڑیوں میں جکڑدیاجانا۔

شیطان کی حیثیت :

شیطان جو انسان کی گمراہی کا  بنیادی سبب  ہوتاہے جسے وسوسہ اور برائی پرابھارنے پر قدرت حاصل ہے، چنانچہ وہ   ہر ساعت وہر لمحہ اپنے عمل و وظیفہ میں لگارہتاہے، او رکوئی ایسا حیلہ یا ذریعہ نہیں چھوڑتاجس کی وجہ سے آدمی گمراہ ہوسکتاہے  ،ام المؤمنین صفیہ بن حیی رضی اللہ عنہا سے مروی ہےکہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" إن الشيطان يبلغ من الإنسان مبلغ الدم"۔ شیطان انسان کے اندر اس طرح دوڑتا رہتا ہے جیسے جسم میں خون دوڑتا ہے" ( صحیح البخاری/7171 ، صحیح مسلم/2175)۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں  انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:"  إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ"۔(صحیح مسلم/2174) ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے شیطان کو انسان کا بہت بڑادشمن قرردیاہے،فرماتاہے: ﴿ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ (یاد رکھو شیطان تمہارادشمن ہے ، تم بھی اسے دشمن جانووہ تو اپنے گروہ کو صرف اسی لئے بلاتاہے کہ وہ سب جہنم واصل ہوجائیں) (الفاطر/6) اور دشمن بھی کھلاہوا جس سے بچنے کی سخت تاکید کی گئی ہے  ،اللہ تعالی  ارشادفرماتاہے: ﴿ وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ * إِنَّمَا يَأْمُرُكُمْ بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ  (شیطانی راہ پر مت چلووہ تمہارا کھلا ہوادشمن ہے وہ تمہیں صرف برائی اوربےحیائی کا حکم دیتاہے ، اور اللہ تعالی کے اوپر ایسی باتیں کہنے  کا حکم دیتاہے جن کا تمہیں علم نہیں)۔(البقرۃ/168-169)۔

شیطان کے انہیں چالوں اور ہتھکنڈوں کی وجہ سے  اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو اسے دشمن سمجھنے کا حکم دیا ہے تاکہ آدمی اس کے شر سے محفوظ رہ سکے ،  اور اس کے شرسے محفوظ رہنے کےلئے قرآن وسنت میں  مختلف وظائف وطرق کا بیان موجودہے ، اور یہ بھی قابل ذکر ہے کہ   اللہ کے نیک بندوں کے لئے اس کی دسیسہ کاری عموما غیرمؤثرہوتی ہےجیساکہ خود شیطان کے عزم کا جواب دیتےہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ * إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ * قَالَ هَٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ * إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ (شیطان نے کہا: اے میرےرب ! چونکہ تونے مجھے گمراہ کیاہے تو مجھےبھی قسم ہے کہ میں بھی زمین میں ان کے لئے معاصی کو مزیّن کروں گا اوران سب کو بہکاؤں گابھی، سوائے تیرے ان بندوں کے جومخلص ہیں (اللہ تعالی کا) ارشادہوا : ہاں یہی مجھ تک پہنچنے کی سیدھی راہ ہے۔ میرےبندوں پر تمہاراکوئی زور نہیں چلےگا، ہاں جو گمراہ لوگ ہیں وہ تیری پیروی کریں گے)(الحجر/39-42) ۔

شیطان دن میں یا رات میں جکڑاجاتاہے؟ :

کیا شیطان صرف دن میں بیڑیوں میں جکڑاجاتاہے ؟ یا رات میں بھی جکڑا جاتاہے ، اسی طرح  کیا اس کا جکڑاجانا کسی خاص زمانے سے متعلق ہے؟  حافظ ابن حجر نے حلیمی سے نقل کیاہےکہ:" يَحْتَمِلُ أَن يكون المُرَاد من الشَّيَاطِين مسترقوا السَّمْعِ مِنْهُمْ وَأَنَّ تَسَلْسُلَهُمْ يَقَعُ فِي لَيَالِي رَمَضَانَ دُونَ أَيَّامِهِ لِأَنَّهُمْ كَانُوا مُنِعُوا فِي زَمَنِ نُزُولِ الْقُرْآنِ مِنَ اسْتِرَاقِ السَّمْعِ فَزِيدُوا التَّسَلْسُلَ مُبَالَغَةً فِي الْحِفْظِ وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ أَنَّ الشَّيَاطِينَ لَا يَخْلُصُونَ مِنَ افْتِتَانِ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَا يَخْلُصُونَ إِلَيْهِ فِي غَيْرِهِ لِاشْتِغَالِهِمْ بِالصِّيَامِ الَّذِي فِيهِ قَمْعُ الشَّهَوَاتِ وَبِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَالذِّكْرِ"۔(فتح الباری:4/ 114 ، نیز دیکھئے:شعب الایمان للبیھقی :5/ 219)۔ " یہ احتمال ہے کہ اس سے وہ شیطان مرادہیں جو آسمان میں کان لگا کر فرشتوں کے درمیان جو باتیں ہوتی ہیں انہیں اچک لیتےہیں ، ان کا بیڑیوں میں جکڑاجانا دن کے بجائے راتوں میں ہوتاہے کیونکہ نزول قرآن کے زمانہ میں انہیں  باتوں کو اچکنے سے روک دیاگیاتھا ،چنانچہ بہت زیادہ حفاظت کی غرض سے ان کوجکڑنے میں اضافہ کردیاجاتاہے۔ او یہ احتمال  بھی ہے کہ رمضان میں شیطان  لوگوں کو گمراہ کرنےکی اتنی کوشش نہیں کرتا جتنی دیگر ایام میں کرتاہے ،کیونکہ لوگ روزہ میں مشغول رہتےہیں جس کے اندر شہوتیں کم ہوتی ہیں نیز لوگ  قرآن کی تلاوت اور ذکر ودعاء میں مشغول ہوتےہیں"۔

حلیمی نے اپنے مذکورہ قول کے اندر کئی باتوں کا احتمام ذکرکیاہے ،جیسے :  شیطان کا بیڑیوں میں جکڑا جانا   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورمیں  قرآن کے نزول کے زمانے کے ساتھ خاص  ہے ،  اور  صرف وہ شیطان جکڑےجاتےہیں جو آسمان سے باتیں اچک لیتےہیں  ،نیزان کا جکڑا جانا رات کے بجائے دن میں ہوتاہے ۔

لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اسے کسی خاص وقت یا خاص شیطان سے مختص کردینے کےسلسلے میں قرآن وسنت سے کوئی دلیل نہیں ہے ، کیونکہ امت کے لئے بطور بشارت اور رحمت  گناہوں سے بچنے کےلئے جو آسانی کی بات ہے  اس سے اس کی نفی ہوتی ہے ، اور پھر اگر وقت وزمانہ کے ساتھ خاص کردیں تو پھر  اس سلسلےمیں دیگر ایام کے مقابلے میں رمضان کے ایام کی کوئی خصوصیت نہیں رہ جاتی ، اسی وجہ سے امام سیوطی  اور امام ملا علی قاری   نے  ان کا رد کیاہے ۔(دیکھئے: شرح سنن ابن ماجہ للسیوطی ص119 ، مرقاۃ المفاتیح:4/1364)۔

کیا سارے شیطان قید کرلئےجاتےہیں یا کوئی خاص :  

علماء نے اس سلسلےمیں کئی باتیں لکھی ہیں  ،مثلا:

- سارے شیطان قید نہیں کئے جاتےہیں بلکہ ان میں سے بعض جو سرکش قسم کے ہیں ،جیساکہ ترمذی اورابن ماجہ  وغیرہ کی روایتوں میں " مَرَدَةُ الشياطين" اور" ومَرَدَةُ الجِنِّ" کا ذکرہے۔ (دیکھئے:فتح الباری:4/114، حاشیۃ السیوطی علی سنن النسائی:4/129، شرح سنن ابن ماجۃ للسیوطی ص119، عمدۃ القاری:7/193، شرح الزرقانی علی الموطا:2/299 و صحیح ابن حبان/780)۔

-   شیطانوں کا سردار ابلیس مراد ہے ۔

-  جو لوگ مذکورہ روایت کو مجازی معنی میں مرادلیتےہیں ان کے مطابق شیطان کو قیدکیا جانا حقیقت نہیں بلکہ اس سے مراد ان کا لوگوں کو گمراہ کرنے میں کمزورپڑجانااور عاجزآناہے ۔ اس کے علاوہ اس کے دیگر معانی بھی بیان کئے جاتےہیں  جن کا ذکر آرہاہے۔

شیطان کا جکڑاجانا حقیقی  ہےیا مجازی ؟ :

مذکورہ روایت میں بلاغموض شیطان کے بیڑیوں میں قیدکئے جانےکی بات آئی  جسے زیادہ تر علماء  سلف نے حقیقت پر محمول کیاہے،جن میں تقی الدین ابراہیم بن مفلح (متوفی 884ھ) ابوحاتم بن حبان(متوفی354ھ) ، امام احمدبن حنبل اور  ابن الملقن(متوفی 804ھ)  وغیرہ ہیں ۔ زين بن المنیر کہتے ہيں :" الفاظ کو ظاہری معنی میں نہ لینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی اور نہ ہی  اس کی کوئی ضرورت ہے" ۔ عبد اللہ بن امام احمد کہتے ہیں:"میں نے اپنے والد سے کہا:  مجنون شخص کو ماہ رمضان میں بھی دورہ کیوں پڑ جاتا ہے؟!تو انہوں نے کہا: "حدیث میں ایسے ہی آیا ہے اس بارے میں مزید گفتگو مت کرو"۔ (دیکھئے :التوضيح لشرح الجامع الصحيح : 13/ 56, مصائب الإنسان من مكائد الشيطان:ص144 ، فتح الباری:4/114)۔

علماء کا ایک دوسرا گروہ ہے جن کے مطابق  شیطان کا بیڑیوں میں جکڑا جانا  مجازی معنی میں  ہے ۔ جیساکہ مناوی رحمہ اللہ نے لکھاہے:"إن تصفيد الشياطين مجاز عن امتناع التسويل عليهم، واستعصاء النفوس عن قبول وساوسهم، وحسم أطماعهم عن الإغواء"(فیض القدیر:1/ 422)۔"شیطان کا بیڑیوں میں جکڑاجانا  مجازی ہے جس کا معنی ہے معصیت وگناہ کولوگوں کے لئےمزین بنا کرپیش کرنے سے روکنا ،  نفوس کا ان  کے وسوسوں کو قبول کرنے سے عاجزہونا ، اور ان کو گمراہ کرنے کی لالچ کو ختم کرنا"۔

 ان کے علاوہ بہت سارے علماء نےاس کی  مختلف توضیحات پیش کی ہیں جن میں سے چند کا  مختصرا ذکر مناسب ہے :

* - امام ابوالعباس القرطبی  رقم طرازہیں :" اگر یہ کہاجائےکہ : ہم رمضان میں   بہت زیادہ گناہ ومعصیت کا وقوع دیکھتےہیں ، جبکہ شیطان قیدمیں ہوتاہےلہذا  اس ماہ میں   شرکا وقوع نہیں ہوناچاہئے ؟ تو اس کا جواب کئی طرح سے دیاجاسکتاہے :

اول: روزہ دارکے اس روزہ سے شیطان جکڑاجاتاہے جس کے اندرروزہ کے تمام شروط اور آداب کاخیال رکھاجاتاہے ، اور جن روزوں کے اندر ان کی رعایت نہیں کی جاتی  ان سے شیطان جکڑانہیں جاتا۔

دوم : اگریہ مان بھی  لیں کہ شیطان  ہر روزہ دار کے لئے جکڑدیاگیاہے ،اس کے باوجود تمام شیاطین کے جکڑے جانے سے معاصی وگناہ کا عدم وقوع لازم نہیں آتاکیونکہ ان کے وقوع کےلئے شیطان کے علاوہ دوسرے اسباب بھی ہیں جیسے : خبیث نفس ، بری عادتیں اور شیاطین الانس وغیرہ  ۔

سوم : یہ عام طورپر  سرکش شیطانوں کے بارے میں ہے لیکن جو سرکش نہیں ہیں وہ جکڑے نہیں  جاتے۔اس سے مرادتقلیل الشرور ہے کیونکہ دیگر مہینوں کے مقابلے رمضان میں   شراور فواحش کم ہوتےہیں ۔چنانچہ اس کا مطلب برائیوں کا کم ہوجانا ہے ، جو  ماہ رمضان واقعی دیگر مہینوں کے مقابلے بہت کم ہوجاتےہیں "۔ (المفھم لماأشکل من تلخیص کتاب مسلم:3/136)۔

* - شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتےہیں : "یہ صرف اس لئے ہوتاہے کہ رمضان  میں دل خیراو رنیک اعمال کی طرف راغب ہوتاہے جس کی وجہ سے جنت کے دروازےکھلتے ہیں  اور وہ برائیوں سے رک جاتاہے جس کی وجہ سے جہنم کے دروازے کھلتےہیں  اور شیطان قید کردیاجاتاہے، چنانچہ جو کام غیرروزہ کی حالت میں کرتاہے وہ حالت روزہ میں نہیں کرتا، کیونکہ شیطان بنی آدم پر شہوات اور(غلط)خواہشات کی بنا پرحاوی ہوتاہے لہذا جب وہ  شہوات سے بچتاہے تو شیطان کو اس سے روک دیاجاتاہے "۔(مجموع فتاوی ابن تیمیہ:14/167-باختصار)۔

* - نیز فرماتےہیں :" خون    جس میں شیطان دوڑتاہے  تنگ پڑجاتاہے اور جب  تنگ پڑجاتاہے تو دل نیکیوں کی طرف راغب ہوتاہے جن کی وجہ سے جنت کے دروازے کھلتے ہیں۔ اور منکر ات وبرائیوں کے تر ک کی طرف راغب ہوتاہے جن کی وجہ سے جہنم کا دروازہ بند ہوتاہے ۔ اور شیطان قیدکردیاجاتاہےتو اس وجہ سے اس کی  قوت کمزورپڑجاتی ہے لہذا  جو کام وہ غیررمضان میں کرسکتاہے رمضان میں نہیں کرسکتا"(مجموع فتاوی ابن تیمیہ:25/246-باختصار)۔

* - معصیت کے صدور کے لیے تحقق اور شیاطین کا وجود ضروری نہیں، انسان گیارہ مہینے شیطان سے متاثر ہوتا رہتا ہے،  اس کی اتباع کرتا رہتاہے یہاں تک کہ رمضان کا مہینہ آجاتاہے اور اس  میں بھی اس کا اثر باقی رہتا ہے ۔

* - جیساکہ ترمذی وغیرہ کی مذکورہ روایت میں ہے کہ  سرکش شیطان قید کرلئے جاتےہیں چنانچہ یہ عام طورپر  سرکش شیطانوں کے بارے میں ہے لیکن جو سرکش نہیں ہیں وہ جکڑے نہیں  جاتے۔

* - علامہ ابن العثیمین رحمہ اللہ فرماتےہیں :" مسلمانوں کے ساتھ اللہ کی مددہے کہ اس نے ان کےدشمن  کو قید کردیاہے جو اپنے گروہ کو جہنمی بننے کی دعوت دیتاہے، اسی وجہ سے صالحین  دیگر ایام کے مقابلے اس  مہینہ میں  خیرکی طرف زیادہ راغب اور شر اور برائیو ں سے زیادہ بچتے ہیں "۔   (مجالس شھررمضان:ص8 - باختصار)۔

* - اسی طرح  شیخ ابن العثیمن سے پوچھاگیاکہ:  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بموجب شیطان رمضان کے دنوں میں قید کردیاجاتاہے، اس کے باوجود ہم دیکھتےہیں کہ کچھ لوگوں کو رمضان کے دنوں  میں  شیطانی دورے پڑتے ہیں  ؟۔تو آپ  نے فرمایا: " اس طرح کی روایتیں غیبی امور سے تعلق رکھتی ہیں، جن پر تسلیم ورضا   کے ساتھ ہمارا ایمان ہوناچاہئے ، اس  سے آگے کوئی بات نہیں کرنی چاہئے ، یہی آدمی کے دین اورحسن ‏عاقبت کے لئے اچھاہے ، چنانچہ عبداللہ بن امام احمد بن حنبل نے اپنے والد سے  یہی سوال کیا تو  انہوں نے جواب دیاکہ :" حدیث میں اسی طرح آیاہے اس لئے ہم اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے"، اور پھر بظاہر یہی معلوم ہوتاہے کہ رمضان میں بہت زیادہ نیکیاں اور اللہ کی طرف زیادہ سے زیادہ رجوع کی وجہ سےشیطان کو   لوگوں کو گمراہ کرنے سے روک دیاجاتاہے  "۔ (مجموع فتاوی ابن عثیمین :20/75)۔

* -  یہ بھی کہاجاتاہے کہ جتنی شدت کے ساتھ شیطان دیگر ایام میں گمراہ کرتاہے اتنی شدت اس ماہ میں نہیں پائی جاتی کیونکہ اس کے قوی کمزور پڑ جاتےہیں ایسا نہیں ہے کہ بالکلیہ اس کے وسوسے ختم ہوجاتےہیں ۔

* -  احادیث کے ذریعہ یہ معلوم ہے کہ شیطان انسان کے جسم میں اس طرح دوڑتاہے جس طرح خون  چنانچہ  اس ماہ میں کم خوراکی کی وجہ سےخون کے ساتھ ساتھ شیطان کا دوران بھی کم ہوجاتاہے جو ایک طرح سے ان کے لئے بیڑیوں میں جکڑے جانے کے مانند ہے ۔

* -  جو لوگ رمضان کے اندر پوری تعظیم ، کمال ، اور اس کے شرا‏ئط ، لوازم اور آداب واخلاق کے ساتھ روزہ رکھتے ہیں ان کے لئے شیطان بیڑیوں میں جکڑدیاجاتاہے ، اور جو لوگ صرف پیٹ کاروزہ رکھتے ہیں جوارح کا نہیں مطلب روزے کے تمام شرائط کو پوری نہیں کرتے وہ ان لوگوں میں شامل نہیں ہیں جن سے شیطان کو بیڑیوں میں جکڑادیاجاتاہے ۔

* - یہ بھی ہوسکتاہےکہ شیطان  درحقیقت قیدمیں ہی ہوتاہے لہذا وہ روزہ داروں کو بہکاتانہیں ہے ، لیکن پھربھی لو‏‏گ معصیت اور گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں وہ ان کے نفس امارۃبالسوء کی وجہ سے ہے ، جو ہمیشہ انہیں گناہ پر آمادہ کرتارہتاہے ۔

اللہ تعالی ہمیں رمضان کے مقصد کوسمجھنے اور اس  ماہ مبارک میں  شیطان کے ہر قسم کے شر اور وسوسوں سے اپنی حفاظت میں رکھے، کثرت خیر اور اجتناب معاصی  کی توفیق ارزانی بخشے ،تقوی شعار بنائے ،  اورسارے اعمال کو قبولیت سے نوازے ۔ آمین ۔وصلی اللہ علی خیرخلقہ وسلم ۔

*************

اتوار، 4 جنوری، 2026

استہزاء بالدین اوراس کی نئی نئی شکلیں

استہزاء بالدین اور اس کی نئی نئی شکلیں

عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی

استہزاء اور سخریہ ہردورمیں ،تحقیراورتنقیص کا  اسلوب اور طریقۂ کار رہاہے ،اس کے ذریعہ کسی شرمندہ کرنا مقصود ہوخواہ  اس کی تحقیر۔ دراصل کسی کونیچا اور کمتردکھانےکے مقصد ہی سےاستہزاء کا اندازاختیارکیاجاتاہے۔عام بو ل چال میں استہزاء کے بہت سارے مترادفات رائج ہیں جیسے: دل لگی ، مزاح،طنز وتعریض ،مذاق اڑانا،ہنسی  اڑانا ، ٹھٹھا کرنا ، تمسخر، تضحیک کرنا ، مخول اڑانا ، پھبتی کسنا،بے توقیری، توہین، استخفاف (ہلکا اور بے وقعت سمجھنا) اور تنقید و تحقیر وغیرہ۔  استہزاء اور مذاق کا یہ عمل مختلف ثقافتوں اور معاشروں میں پایا جاتا ہے، لیکن اسلامی نقطہ نظر سے یہ انتہائی سنگین گناہ ہے اور بعض صورتوں میں کفر تک پہنچ جاتا ہے۔چنانچہ  مذاق اگر دینی شعارسے کے بجائےکسی شخص کی ذاتی شکل وصورت یا دنیاوی امور سےمتعلق  ہو تو یہ کفرتو نہیں مگر کبیرہ گناہ   ضرورہے ۔

 استہزاء کا حکم:

یوں توشریعت میں کسی بھی طرح کا استہزاء حرام او ر جرم وگناہ ہے لیکن وہی استہزاء دین اور شریعت سے متعلق ہوتو بسا اوقات کفر اور ارتدادکے زمرے میں آجاتاہے ،جو آدمی کو دین سے نکال دیتاہے،جیسے : اللہ تعالی کا استہزاء ، رسول کا استہزا ء یا دین کے کسی بھی حکم یاشعار کا استہزاء ۔استہزاء بالدین کا یہ حکم علماء کا اجماعی مسئلہ ہے ۔ اس کی حرمت کی قرآن وسنت میں بہت ساری دلیلیں ہیں ، چنانچہ جب منافقین اللہ تعالی ، اس کی آیات  اوراس کے رسول کا مذاق اڑاتےاور کہتےکہ ہم تو مذاق کررہےتھے تو ان کے بارے میں اللہ تعالی فرماتاہے:(قُلْ اَبِاللّٰهِ وَاٰیٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ * لاَتَعْتَذِرُواقَدْكَفَرْتُمْ بَعْدَإِيمَانِكُمْ)۔( کہہ دیجئے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے  ہنسی مذاق کے لئے ره گئے ہیں؟تم بہانے نہ بناؤ یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہوگئے)۔(التوبۃ/ 65-66)۔یعنی تم جو ایمان ظاہر کرتے رہے ہو۔ اللہ اور رسول کے استہزا کے بعد،  اس کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ گئی۔ اول تو وہ بھی نفاق پر ہی مبنی تھا، تاہم اس کی بدولت تمہارا شمار ظاہری طور پر مسلمانوں میں ہوتا تھا اب اس کی بھی گنجائش ختم ہوگئی ہے۔ چنانچہ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دین، آیات یا رسول ﷺ کا مذاق اڑانا ایمان لانے کے بعد کفر ہے، چاہے ہنسی میں ہی کیوں نہ ہو اس میں کوئی  عذر قبول نہیں ہوگا۔

عبداللہ بن عمر ، محمد بن کعب قرظی ،زیدبن اسلم اور قتادہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے - ان تمام لوگوں کی روایتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں - کہ غزوۂ تبوک کے موقع سے ایک منافق شخص نے کہاکہ ہم نے ان قراء جیسا پیٹ کا پجاری ،جھوٹا اور میدان جنگ میں بزدل نہیں دیکھا۔ اس کا اشارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی جانب تھا ، جب عوف بن مالک  رضی اللہ عنہ نے اس کی یہ بات سنی تو فورا اس سے کہاکہ توجھوٹا اورپکا منافق ہے ، میں  تمہاری بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور بتاؤں گا ، چنانچہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے لیکن وہاں پہنچ کریہ پتہ چلا کہ اللہ کی جانب سے اس سے قبل ہی وحی نازل ہوچکی تھی ۔وہ منافق معذرت پیش کرنے کی غرض سے بھاگا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا ۔آپ سفرکی غرض سے اپنی اونٹنی پرسوارہوچکےتھے، اس نے اپنی جانب سےصفائی دیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاکہ ہم لوگ آپس میں دل بہلا رہے تھے اور قافلہ والوں کےساتھ ایسی گفتگو کرکے راستہ طے کررہےتھے۔ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما اس کی حالت زار کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ : وہ شخص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے کجاوے کی رسی تھامے ہوئے تھا اور پتھر اس کےپاؤں سے ٹکرا رہے تھے ، اور وہ بار بار کہہ رہاتھا: ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جواب میں (یہ آیت )دہرارہے تھے:( اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے ره گئے ہیں؟تم بہانے نہ بناؤ یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہوگئے/سورہ توبہ/65-66)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ اس کی طرف متوجہ ہوتےتھے اورنہ ہی اس سے زیادہ کچھ فرماتے تھے۔( تفسير الطبري:11/ 542)۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتاہے:(وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍ *یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰی عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّمُسْتَكْبِرًاكَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ وَإِذَاعَلِمَ مِنْ آيَاتِنَا شَيْئًا اتَّخَذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ۔ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ جَهَنَّمُ ۚ وَلَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّاكَسَبُوْاشَیْـًٔاوَّلَا مَااتَّخَذُوْامِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(ویل اور افسوس ہے ہر ایک جھوٹے گنہگار پر جو اللہ کی آیتیں اپنے سامنے پڑھی جاتی ہوئی سنے پھر بھی غرور کرتا ہوا اس طرح اڑا رہے کہ گویا سنی ہی نہیں، تو ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی خبر (پہنچا) دیجئے. وه جب ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پالیتا ہے تو اس کی ہنسی اڑاتا ہےیہی لوگ ہیں جن کے لیے رسوائی کی مار ہےان کے پیچھے جہنم ہے ، جو کچھ  بھی انہوں نے حاصل کیا تھا وه انہیں کچھ بھی نفع نہ دے گا اور نہ وه (کچھ کام آئیں گے) جن کو انہوں نے اللہ کے سوا کارسازبنا رکھا تھا، ان کے لیے تو بہت بڑا عذاب ہے)۔ (الجاثیۃ/  7-10)۔

 اسی طرح اگر کوئی دین کو مذاق اور استہزاء کا مقام بنا لیتاہے تو اسے خیر کی توفیق نہیں ملتی  بلکہ اللہ تعالی  بھی اس کے ساتھ اسی جیسا معاملہ فرماتاہے اور اس کی گمراہی بڑھتی جاتی ہے منافقین کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتاہے:(اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَیَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ)۔ (اللہ تعالیٰ بھی ان سے مذاق کرتا ہے اور انہیں ان کی سرکشی اور بہکاوے میں اور بڑھا دیتا ہے)۔(البقرہ /15)

اسی طرح سورہ حجرات کے اندر مسلمانوں کا آپس میں استہزاء ممنوع قراردیاگیاہے کیونکہ ممکن ہے مذاق اڑانے والا اللہ کے نزدیک حقیر ونااہل ہو ،چنانچہ جب  عام لوگوں کے مذاق کی ممانعت ہے، تو دین کے معاملے میں تو اور زیادہ سنگین ہوگا۔(الحجرات / 11)

استہزاء منافقوں کاشیوہ ہے:

استہزاء اور سخریہ منافقین کا شیوہ رہاہے ،جیسا کہ  مذکورہ آیات میں گزرا کہ منافقین کس طرح  اللہ تعالی ،  ا س کی آیتوں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا استہزاء کیا کرتے تھے جس پر اللہ تعالی نے انہیں سخت  واررننگ دی ۔(التوبہ/64-65)

ایک اور  جگہ ان کے استہزاءکو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتاہے :(وَاِذَالَقُواالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاقَالُوْۤااٰمَنَّا ۖۚوَاِذَاخَلَوْااِلٰی شَیٰطِیْنِهِمْ ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ ۟)۔(اور جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان والے ہیں اور جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں ہم تو ان سے صرف مذاق کرتے ہیں)۔(البقرہ/14)۔

دین کا استہزاء کرنے والا مؤمن کا دوست نہیں ہوسکتا:

اللہ تعالی نے اس بات سے سختی سے منع کیاہے کہ کسی ایسے فردکو دوست بنایاجائےجو دین کو مذاق بناتاہے ،اللہ تعالی فرماتاہے:( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَتَّخِذُواالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًاوَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُواالْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ ۚ وَاِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّلَعِبًا ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّایَعْقِلُوْنَ)۔( مسلمانو! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنائے ہوئے ہیں (خواه) وه ان میں سے ہوں جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے یا کفار ہوں ۔اگر تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔اورجب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ اسے ہنسی کھیل  میں اڑا دیتے ہیں۔ یہ اس واسطے کہ بےعقل ہیں)۔(المائدۃ/57-58)۔

استہزاء کی صورتیں:

وقت ،حالات اور اسلوب کے  اعتبارسے استہزاء کی کئی  صورتیں ہیں ،جیسے: جان بوجھ کر اور بسا اوقات جارحانہ اندازمیں کسی کی تحقیرکرتےہوئےاس کا عیب بیان کرنا۔یا کسی قانون یا شعارخواہ معاشرتی اورحکومتی امور سے متعلق ہویا استخفاف دین سے متعلق۔ اسی طرح  جب کسی کے پاس کسی بات کا جواب نہ ہو تو وہ استہزاء کا سہارا لیتا ہے، یعنی وہ دلیل کے بجائے مذاق اڑانے لگتا ہے۔

استہزاء کے اسالیب میں سے ایک تنابز بالالقاب  بھی ہے ، یعنی کسی کو اس کے اصلی نام یا صفت کے بجائے تحقیر آمیز القاب سے پکارے جس سے اس  کی توہین ہوتی ہو یا اس کی کمتری کو واضح کرتاہو۔

استہزاء زبان سے بھی ہوسکتاہے اور کسی حرکت یا اشارہ  سے بھی ہوسکتاہے،اس معاملے میں کنکھیوں ( آنکھ کے اشاروں) کا زیادہ تر استعمال کیا جاتاہے۔ اور عام طور پر دیکھاجاتاہے کہ آدمی استہزاء کے لئے ہنسی ،ٹھٹھا  اور تضحیک کا سہارالیتاہےیا پھرکسی کی عیب جوئی کرکے یا غیبت کرکےیا اسے نامناسب عاردلا کر ۔

استہزاء کے اسباب:

استہزاء ایک ایسی مذموم خصلت ہے جو انسان پر  مختلف اسباب کی بناپر حاوی ہوتی ہے ،جیسے:

1 -  دینی تعلیم کی کمی ۔

2 – شریعت کی تعلیمات سے بے اعتنائی  اور کاہلی ۔

3 – تکبر وغرور،شیخی کا پیدا ہونا  ، برتری کا احساس  جس کی وجہ  سے کسی کو کم تر ، بے ڈھنگا،  جاہل ، ان  پڑھ ، بد صورت ، غلط، احمق یا کسی اور پہلو سے کمتر سمجھا جاتاہے۔

4 –  کفارکی مشابہت :خاص طورسے یہودیوں کا یہ خاص شیوہ ہے کہ وہ اسلام اور اہلِ اسلام کی تضحیک کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

5 –  دل میں دین  یا اس کے کسی حکم یا شعارسے متعلق شکوک وشبہات کا پیدا ہونا۔

6 -  دل میں کفریا نفاق کا پیدا ہونا۔

7 -  کسی  سے نارراضگی پر اپنے دل کی بھڑاس نکالنا۔

8 – جھوٹ  اورمکاری کی صفت کا پیدا ہونا جیساکہ سورہ جاثیہ  کی مذکورہ آیات کے اندر اللہ تعالی نے  جھوٹےاور مکار لوگوں کے شیوہ اور ان کے انجام  کا تذکرہ کرتےہوئے ذکر کیاہے۔(الجاثیۃ/  7-10)۔

9 – عیب جوئی کی صفت کا پیدا ہونا۔ وغیرہ۔

خوش طبعی اور استہزاء میں فرق :

استہزاء کے بارےمیں جیساکہ بیان کیاگیا کہ اس کا مقصدہی ہوتا ہے کہ کسی کی تحقیر کرکے اس کو اذیت دی جائے، جبکہ خوش طبعی ایک محمود اور پسندیدہ عمل ہے ،بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں احادیث کی کتابوں بے شمار واقعات صحیح سند کے ساتھ ملیں گےکہ آپ بسا أوقات اپنے أصحاب سے مزاح اور خوش طبعی کا مظاہرہ فرماتےتھے۔

استہزاء کی نئی نئی  اور عام روایتی شکلیں :

آج کے دور میں جہاں دنیا وسائل اور طرزندگی میں اوج پرہےاور جہاں زندگی گزارنے کے اندازبدلے ہیں اور اس میں ہر روز بڑی تیزی کے ساتھ تبدیلیاں ہورہی ہیں، وہی انسان نے اپنے اندازمیں بھی تبدیلی کی ہے اور یہ تبدیلیاں بسا اوقات لاشعوری طور پر انسان کی زندگی میں دخل اندازہوجاتی ہیں اور اگر انسان اپنےطرززندگی میں بیدار مغزی کا ثبوت نہ دے تو پھراخلاقی ، معاشرتی او ردینی اعتبار سے پستی میں چلا جاتاہے۔استہزاء ایک ایسی اخلاقی اور معاشرتی بیماری ہے جو انسان  کے اخلاق پر ہررائج وسیلہ کے ذریعہ سے اثراندازہوجاتاہے اورگزرتے وقت کے ساتھ نت نئے طریقوں سے سماج میں را‏ئج ہوکر انسان کے اخلاق کو متاثر کرتاہےاور وہ  طریقے نہ صرف دین کی توہین کا باعث بنتے ہیں بلکہ ایمان کو خطرے میں ڈالنے ،آدمی کو دین سے دور کردینے ، دین میں شکوک وشبہات پیدا کرنے، انسان کے اندر تکبر وغرور پیدا کرنے اورمعاشرے میں فتنہ اور فساد پھیلانےکا سب بنتےہیں ۔

یوں تو لوگ دین کا مذاق اڑانے کے کئی طریقے استعمال کرتے ہیں، جو عام طور پر توہین، طنز، یا ہلکا پن دکھانے کی شکل میں ہوتے ہیں۔ذیل میں ہم استہزاء کی نئی نئی شکلوں اور طریقوں کا خاکہ پیش کردینا مناسب سمجھتے ہیں تاکہ اس مذموم صفت کا ادراک ہوسکے اور ایک اچھے آدمی کے لئےان سے بچنا آسان ہوسکے۔

(1 ) –  مؤمنین کا استہزاء : اگر کسی مؤمن کا استہزاء اس وجہ سے کیاجائےکہ وہ صاحب ایمان  وتقوی  اور متشرع ہے تویہ د ین کا مذاق  واستہزاء ہے۔

(2 )–  علماء دین کا استہزاء : کسی عالم یا کسی طالب دین کا استہزاء اور اسی طرح کسی کے دینی لباس یا عمل کرنے والوں کی دینداری کی وجہ سے تحقیرآج معاشرے میں عام بات ہوگئی ہے ۔ اگریہ استہزاء  اس کے دین اورعمل بالشریعۃ کی وجہ سے ہے تو یہ بھی دین کا استہزاء ہے جو کفر کےدرجہ میں آتاہے اوراگر کسی دنیوی وجہ سےہے جیسے اس کے لباس ،بیماری  اور رہن وسہن اور کھانے پینے کا معیار وغیرہ تو یہ کفر تو نہیں ہے لیکن  معصیت وگناہ کبیرہ ہے۔

(3 )-  دین کے شعائر کا استہزاء: اگر کوئی دین کے مسمیات یا اس کے کسی شعارکا استہزاء اور مذاق اڑاتاہے جیسے : جنت ، جہنم ،فرشتے  اور انبیاء کرام وغیرہ کا استہزاء تو یہ کفراور ارتداد دین کے قبیل سےہے۔

(4) - طنز و مزاح کے ذریعے مقدس چیزوں کی توہین: مثلاً اللہ، رسول اللہ ﷺ، قرآن، احادیث، جنت، جہنم، یا دینی احکام (جیسے نماز، روزہ،حج،  حجاب، داڑھی، اذان ، مسجداورقرآن کریم یا اس کی تلاوت وغیرہ) پر لطیفے بنانا  ان کی نقل اتارکر لوگوں کو  ہنسانا یا انہیں ہلکا دکھانا۔

(5) - میڈیا پراستہزاء:  جب سے ميڈیا کا وجود ہواہے اس کےذریعہ دین کے استہزاء کا چلن سا ہوگیاہے۔کارٹون ،گرافکس ، آرٹ، کسی طرح کا توہین آمیز مواد،جیسے : نبیوں یا مقدس  یا اسلامی شخصیات کے کارٹون بنانا  خاص طورسے نبی  مکرم ﷺ  کا توہین آمیز کارٹون بنانا۔یا فلموں/ڈراموں میں دینی شعائر کی نقل اتارنا وغیرہ۔اسی  طور رپر کمیڈی شوبزمیں  کمیڈی  کے نام پر دین کے ساتھ مسخرہ پن دکھانایا اس کا  استزاء اور تحقیروتوہین ۔دین ک مذاق بنانےکے لئے یہ سارے طریقےمیڈیا کے اپنائےجاتےہیں۔

(6 ) –  سوشل میڈیا کے ذریعہ : آج کے دور میں سوشل میڈیا چونکہ ہر آدمی کی پہنچ میں ہے اس لئے شعوری یا لاشعوری طور پر دین کا مذاق اڑانے والے مواد عام بات ہوگئی ہے ۔میمزبناکر ، ویڈیوز،آڈیوزاور کارٹون کے ذریعہ ،اشاروں کنایوں میں یا آن لائن پوسٹس میں دینی معاملات کو مضحکہ خیز بناناسوشل میڈیا میں ہر روز دیکھنے اور سننے کو ملتاہے ۔ اور مصیبت تو یہ ہے کہ بسا اوقات عام آدمی اسے محسوس بھی نہیں کرپاتاہے اور دھیرے دھیرے چھپےراستوں سے اس کے ذہن ودماغ پرحاوی ہوجاتاہے اور خاص طور سے دینی ماحول سے دور اور کچے ذہن کے افراد لاشعوری طور اس جرم اورگناہ سے متاثر  ہوجاتےہیں۔

(7 )  -  جھوٹے یا خیالی کہانیوں کے ذریعہ :جھوٹی کہانیاں گھڑ کر اس کے ذریعہ لوگوں کو ہنسانا یا دینی احکام کو مسخ کر کے پیش کرنا، جیسے کسی حکم کے وعدووعید (جنت کی نعمتوں اور جہنم کی سزا) سے بچنے کا مذاقیہ "حل" بتانا  وغیرہ۔

(8)  -  "بسم اللہ الرحمن الرحیم "یا قرآن وحدیث کے کسی حکم یا نص کا مطلب اور ترجمہ مسخ کر کے مذاق بنانا یا ان کا محل استدلال مزاحیہ بنانا۔

(9)   عبادات اورشعائردین کی نقل اتارنا:جیسے: اذان، نماز، تلاوت قرآن، یا مسجد وغیرہ کی نقل اتار کر لوگوں کو ہنسانا۔

(10)  -  دینی شعائر کی تحقیر:جیسے: داڑھی کو "جنگلی" کہنا، حجاب کو "خیمہ" یا "چڑیل"یا "بیگ"وغیرہ سے تشبیہ دینا، اگر یہ دینی حکم کی وجہ سے ہو تو  یہ نہایت ہی سنگین جرم ہے۔اسی طرح کسی کو  سنت کے مطابق ہیئت  اختیارکرنے اور کپڑے وغیرہ پہننے پر قدامت پسنداورپچھڑا  وغیرہ جیسے الفاظ  سے نواز کر اس کا مذاق اڑاناوغیرہ ۔

(11)  – کسی دینی حکم  یا اسلامی  شعارکوقید وغلامی اورآزادئ  اظہار  جیسے  الفاظ سےتعبیر کرکے ان کا مذاق بنانا۔

(12)  -  کسی بھی چیزپردین کے شعائر سے متعلق کوئی نقش کرکے اسے متبرک سمجھنا اوراس کی تعظیم وتوقیرکرنا۔

(13)  – جوتے یا اس طرح کی کسی شیئی یا اس کی شکل پر اللہ یا رسول کا نام لکھ کر اس کی تعظیم کرنا۔

(14)   دین کے نام پر کوئی ایسا غیرشرعی کام کرنا جسے کفار ومشرکین او رملحد قسم کے لوگ سبب استہزاء بنائیں۔

(15)   اور اسی طرح جانوروں ،سبزیوں  ، کپڑوں اور پتھر وغیرہ پر کسی نقش کو متبرک سمجھنا جس سے کفار کو ہنسنے اور شریعت کا مذاق بنانےکا موقع ملے۔

(16) -  آج کل ایک اور ٹرینڈ چلا ہواہے کہ اگر کوئی  کسی  مسئلہ میں  اسلاف  کے طریقوں کی وضاحت کرتاہے تو اس سے کسی اختلاف کی  بناء پر اسے  منہجیت کا طعنہ دےکر منہج سلف کو محل استہزا ء بنایاجاتاہے ۔ یہ ٹھیک   ویسےہی  ہے جیسے کوئی توحید کی فضیلت  بیان کرے یا شرک کا  رد کرے  اور اسی طرح  مسائل کو سنت کے مطابق بیان کرے تو کچھ حلقوں کی طرف سے اسے وہابیت کا طعنہ دے کر لوگوں کو دین سے دور کرکے انہیں  شرک وبدعت  مبتلا کردیا جائے اور من مانی شریعت کی  ترویج کی جائے۔

ان کےعلاوہ بھی دین کا مذاق اڑانے کے ڈھیروں طریقہ رائج ہیں  ۔ اور اگر یہ شریعت اور اس کے کسی بھی احکام کی تحقیر کا سبب بنتے ہیں تو آدمی کے ایمان کےلئے نہایت ہی خطرناک ہے۔لہذا اگر کوئی شخص دین کا مذاق اڑائے تو اسے فوراً  سچےدل سےتوبہ کرنی چاہیے ۔ بہتر ہے کہ ہم سب دینی معاملات میں احترام اور سنجیدگی اختیار کریں، تاکہ اپنا ایمان محفوظ رکھ سکیں۔

 اللہ ہم سب کو دین کے احترام کی توفیق دے اور استہزاء سے بچائے۔ آمین۔ وصلی اللہ علی خیرخلقہ وسلم ۔

******


جمعرات، 11 دسمبر، 2025

گداگری ایک خطرناک معاشرتی ناسور

گداگری ایک خطرناک معاشرتی ناسور

عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی/سعودی عربیہ

غربت ومحتاجی یا فقر انسان کی اس حالت کو کہتےہیں جو اسےسکون اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے سے محروم کردے،چنانچہ محتاجی ایک ایسی حالت ہےجس میں آدمی کھانے ،پینے ،پہننےاور رہائش  وغیرہ جیسی اپنی بنیادی ضروریات فراہم کرنے سے قاصرہو۔اور وہ غربت اورمحتاجی جو انسان کو کسی دوسرے کا محتاج بنادے ایک بڑی بیماری  اور سبب عاروشنارہے جوقوم ومعاشرے میں انسان کی قدروقیمت کو گھٹا دیتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی محتاجی سےپناہ مانگی ہے اور فقراورکفرسےپناہ مانگنے کو ایک ہی دعاء میں اکٹھا کیاہے ، آپ دعاءفرمایا کرتے تھے :"اللهُمَّ إني أعوذُبك  من الكُفرِوالفَقْرِ"۔"اے اللہ! میں کفر اورمحتاجی سے تیری پناہ چاہتا ہوں"۔(سنن ابی داود/5090 ،سنن النسائی/1348 ،علامہ البانی نے اس روایت کو صحیح کہاہے)۔   

اسلام نے فقرومحتاجی سے لڑنےکا بہت ہی مضبوط راستہ بتایا ہے، جس سے انسان اور معاشرہ چین اور سکون کی بہترین زندگی بسرکرسکتاہے،اور مختلف پریشانیوں اور آفتوں اوربلاؤوں سے محفوظ رہ سکتاہے، اور وہ ہے   کمانا اور کمانے کےلئے کوشش کرنا ،  اس کےلئے لا ئحۂ عمل تیار کرنا  اور اس پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے روئے زمین کو اس لائق بنایا ہے جس کے اندر انسان آسانی کے ساتھ کام کرکے اپنے لئے روزی مہیا کرسکے، وہ فرماتاہے: (هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولاً فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ)۔( وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو  اور اللہ کی  دی ہوئی روزیاں کھاؤ )۔(سورۃالملک /15)۔اورکاروبار اورتجارت کےذریعہ تلاش رزق کا حکم دیتےہوئے فرماتاہے:(فَإِذَاقُضِيَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوافِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوامِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوااللَّهَ كَثِيراً لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ) ۔( پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم کامیابی پالو)۔(سورۃ الجمعۃ/10)۔مقدام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" کسی انسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھائی، جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے اللہ کے نبی داود علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ سے کام کر کے روزی کھایا کرتے تھے"۔(صحیح بخاری/2072)۔اورمحنت کی کمائی کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:" تم میں سے کوئی شخص اپنی رسیاں لے کر پہاڑ پر چڑھ جائے اور وہاں سے لکڑیوں کا ایک گٹھا باندھ کر اپنی پیٹھ پر لاد کر لے آئے اور انھیں بیچ دے اور اس (عمل) سے اللہ اسے مانگنے سے بچا لے، تو یہ اس کے حق میں اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے کہ لوگ چاہیں تو دیں یا نہ دیں"۔(صحیح بخاری/1471)۔

چنانچہ کمائی اور اس کےلئے محنت وکوشش  خواہ جس طریقےکی ہو ایک  ایسا تریاق ہے جس سے فقرومحتاجی کا بہترین علاج ہوسکتاہے، اس کے علاوہ جو لوگ اس  حالت میں نہیں ہیں جو کماسکتےہیں یا بیوہ ،محتاج ،یتیم اور بےسہارا ہیں ان کےلئے امیروں پر زکاۃ فرض کی گئی ہے ، اور انہیں صدقات وخیرات پر ابھارا گیاہے ، تاکہ  ان کی مدد اورحفاظت ہوسکے، اور وہ بھوک اور تنگدستی سے بے حال ہوکر زندگی  سےچھٹکارہ پاسکیں۔

پیشہ وربھیکاری:

پوری دنیا میں بھیک کی بیماری  عام ہے ، ہرچوک اور چوراہے پر بھیک مانگنے والے مل جاتےہیں ،  محتاج  اور فقیر تو الگ بات ہے، دیکھا جاتاہے کہ وہ لوگ بھی جو کام کرسکتےہیں جسم اور دماغ صحیح سالم ہے  بھیک مانگ رہے ہیں ، ان کے پاس اس کے لئے کئی طرح کے حیلے اوربہانے ہوتے ہیں جن کےذریعہ لوگوں کے اموال لوٹنے کی ہر کوشش کرتے ہیں ۔ضرورت اور حاجت کے نام پر بھیک مانگنے کے ایسے تکلیف دہ اور شرمندہ کردینے والے  فراڈاور چارسو بیسی کے مناظرسامنے ہوتے ہیں کہ اللہ کی پناہ ۔

بڑی عمر کے افرادسے لےکر کچی عمرکےبچوں تک کو دیکھاگیاہے کہ خاص طورسے ٹرینوںمیں اور اسٹیشنوں پر بھیک مانگ کر اس سے نشہ آوراشیاء کا استعمال کرتے ہیں۔بہتوں نےتو پیشہ ورانہ طورپربھیک کو دولت اکٹھی کرنے کا ذریعہ بنالیاہے۔

بھکاری مافیا: 

اس وقت بھکاری مافیا پوری دنیا میں سرگرم ہےبھیک کے ذریعہ زبردست کمائی کی  وجہ سے اور مجبوری کے نام پر بھکاریوں کے وارے نیارےہیں ، سڑکوں اور چوراہوں پر پیشہ ور بھکاریوں کی بھرمار ہے۔ ہر طرف بزرگ، بچوں کوگودمیں لی ہوئی   خواتین اور معذوراورغیرمعذور بھیک  مانگتے نظر آتے ہیں۔ شہر میں ایک بھکاری مختلف انداز اپنا کر روزانہ ہزار وں روپے تک لوگوں کی جیبوں سے اچک لیتا ہے۔کوئی سڑک ہو، چوک یا پھر سگنل، ہر طرف پیشہ ور گداگر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں ،یہاں تک کہ شہر کے اہم چوراہوں، ٹریفک سگنلز، مزارات، مساجد، قبرستانوں اور گلی کے نکڑوں  پر گداگروں کا قبضہ ہے۔سنہ 2011 عیسوی کے  شمار کے مطابق  صرف ملک ہندوستان میں بھکاریوں کی تعداد 413670   تھی جن میں 221673 مرد اور 191997 عورتیں تھیں ۔ عرب ممالک میں  یہ مافیا خاص طورسے سرگرم ہے۔ بعض ممالک میں ان پر سختی ہے لیکن پھر بھی  یہ اپنے  ممالک سے باضابطہ کسی کام یا ویزٹ کےبہانے امیگریشن کراکرآتے ہیں اورچوری چھپے اس پیشہ سے لگ جاتےہیں بسااوقات یہ   گرفتار ہوتے ہیں، لیکن پھرشوت دے کر واپس آجاتے ہیں ۔ نیزبہت سارے مواقع سے ملاحظہ کیاگیاہے کہ بھیک منگوانے کےلئے باضابطہ طور پر سنڈیکیٹ  اور غیرقانونی تنظیمیں بناکربچوں اور مجبوروں کو استعمال کیاجاتاہے ۔

بھیک مانگنے کے اسباب:

بھیک مانگنے کے بہت سارے اسباب ہیں ،جیسے :حاجت وضرورت  کے وقت باضابطہ کسی بھی طرح کی امدادکا نہ پہنچنا۔فقرومحتاجی سے لڑنے کا باضابطہ کوئی سسٹم یا معاشرتی نظام کا نہ ہونا۔غریبوں ، مسکینوں ، بیواؤوں ،یتیموں اور دیگر محتاج افراد کےنام پر بہت ساری تنظیموں کا  فراڈکرنا۔محتاج لوگوں کے لئے  ان کےحساب سے حکومتوں کی طرف سے کسی نوکری یا  روزگارکا فقدان۔کسی بھی نوکری کےلئے رشوت وغیرہ کا عام ہونا(جس کی وجہ سے ضرورت مندافراد  کسی بھی طرح کے وسیلہ کے فقدان کے وقت اس پیشہ سے جڑنے کو مجبورہوجاتےہیں)۔بعض لوگ وراثۃ یہ پیشہ اختیارکرلیتےہیں اور جب ان سے پوچھا جاتاہے تو کہتےہیں کہ یہ کام ہمارے باپ دادا بھی کرتےرہے ہیں۔زکاۃ وصدقات کو محتاج تک پہونچانے کےمناسب انتظام کا نہ ہونا۔ معاشرے میں تعاطف وتراحم اور  مددکے جذبےکا کم ہونا وغیرہ ۔

اسی طرح بہت سارےلوگوں کی فراخ دلی  اور بغیر سوچے سمجھے  کسی کی مدد کرنے کے جذبہ نے بھیک مافیا کو جنم  دینے  میں بڑا کردار ادا کیا ہے ،جس کا مشاہد ہ عام طور  درگاہوں  اورعبادت گاہوں میں  موجود بھکاریوں کی بھیڑ سےکیاجاسکتاہے ،لوگ اپنے صدقات وخیرات اور عطیات کو بازاروں میں ، سڑکوں پر،چوک چوراہوں پر اور عبادت گاہوں کے سامنے بےجا طورپر  صرف کرکے اپنی دریادلی دکھاتےہیں اور یہ نہیں سوچتےکہ ان کے اس رویہ کی وجہ سےایک غلط اورشرعا و قانونا غیرمناسب اور ناجائز عمل کوسماج ومعاشرے میں پھلنے پھولنےکا موقع مل رہاہے۔

بھیک مانگنے کے مختلف طریقے:

معاشرے میں بھیک مانگنے کے مختلف طریقےرائج ہیں جیسے: -بازاروں میں ۔چوک چوراہوں پر۔ گلیوں میں  آوازیں لگاکر۔گھرگھرجاکر۔ مسجدوں کے سامنےدامن پھیلاکر۔  درگاہوں اور مزاروں پر۔کسی دینی اور دھارمک کاز کےنام پر۔کسی ادارےکےنام پر چندہ کرکے۔کسی بیماری کا حوالہ دیکر۔بیٹی کی شادی اور جہیزکے نام پر۔ خانگی پریشانیوں کا حوالہ دےکر اورپڑھائی کےنام پر وغیرہ۔ اوراب تو نعت ،حمد، قوالی ، نظم ،گانے اوردکھ درد والی آواز وغیرہ کی ٹیپ چلاکر کسی دوپہئےاورچارپہئےوالی گاڑی پرلٹا کریا بٹھا کر گلی گلی میں گھمایاجاتاہے۔بسااوقات تو ان کی ہیئت اورحالت دیکھ کر ایک نفاست پسند انسان کو ان کے آس پاس سے گزرنے میں بھی ہچک محسوس ہوتی ہے۔اورکچھ سڑکوں پریا گلیوں میں گزرتےلوگوں کے دامن تک زبردستی پکڑکرانہیں پریشان کرتےہیں۔

الیکٹرانک بھیک:  

سننے میں ذرا عجیب لگتاہےلیکن یہ حقیقت ہے کہ بدلتے وقت ،

بے روزگاری ،دولت کی ہوس اور وسائل کی آسانی نے بھیک

جیسے پیشہ کو بھی ماڈرن کردیا ہے ،مختلف الکٹرانک پلیٹ

فارم اورسوشل سائٹس کے توسطسے یہاں تک کہ ویب

سائٹس بنا کر یہ آنلائن بھکاری ہمددری حاصل کرنے

اور مدد مانگنےکے لئے مختلف حکمت عملی اختیارکرتےہیں،

دل کو چھولینے والی کہانیاں سنائیں گےیا مذہبی یا انسانی

ضرورتوں اور فضیلتوں کا حوالہ دےکراپنی فنی مہارت

کو  استعمال کرکے پیشہ ورانہ بھیک منگی کوبھی مات دیتےہیں۔

الیکٹرانک بھیک منگی میں انہیں بہت ساری آسانیاں بھی فراہم

ہوجاتی ہیں ،جیسے  اس کے ذریعہ کم وقت میں  آسانی کے ساتھ

زیادہ سےزیادہ لوگوں تک رسائی مل جاتی ہے ،ان کےلئے اپنی

حقیقی شناخت چھپانا  بھی آسان ہوتاہے، جس سے کسی قانونی چارہ

جوئی یاسماجی احتساب کا سامنا کرنےسے بچ سکیں۔اوراب تو سوشل میڈیا

کے ذریعہ نیا ٹرینڈ چلاہواہےجس میں پیسےکمانےکا نام دیکر غیرمناسب ، غیر

اخلاقی ،بلا ضرورت اورگندے قسمکے ویڈیوز، آڈیوز یا تصویریں  ڈال کر لوگوں

کو اس پرابھارا جاتا ہےکہ وہ زیادہسے زیادہ شیئر، سبسکرائب، لائک اور ویوز

  دیں تاکہ سوشل سائٹس کی کمپنیاں انہیں خطیررقمدے۔واضح رہےکہ اس

سے وہ ویڈیوز مستثنی ہیں جوجائزاورحلال طریقوں کے مطابق ہیں،جودین

کی خدمت اورسماج ومعاشرہ کی تعمیروترقی ،اطلاعات عامہ اورتعلیم وتعلم کے

میدان میں اپنا کردار اداکرتےہوئے اپنی ویوزخودبناتی ہیں اوراس پرکسی بھی

طرح کےغیرمناسب،غلط ،حرام اشیاءاوراخلاقی اقدارسےمتصادم موادکے

اشتہارسےبچتےہوئے کمپنیاںاپنے صارفین (Users) کومکافآت

(rewards) دیتی ہیں ۔

اسلام اور گداگری :

بھیک اور بھیک مانگنے کی قباحت اورفردومعاشرہ پراس کےدور رس برے نتائج کی وجہ سے اسلام

 میں گداگری کو حرام اورسبب   ذلت وخواری قراردیاہے،چنانچہ بلاوجہ بھیک مانگنےکے حرام 

ہونے کی کئی ایک دلیلیں ہیں  ،جیسے:  عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ اللہ کے

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "آدمی لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا رہتاہے یہاں

تک کہ وہ  قیامت کے دن اس طرح اٹھے گا کہ اس کے چہرے پر ذرابھی گوشت نہ ہو گا"۔

(صحیح بخاری/1474،صحیح مسلم/1040)۔اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے

کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا:"جو شخص مال بڑھانے کے لئے لوگوں سے

ان کا مال مانگتا ہے وہ آگ کے انگارے مانگتا ہے، کم (اکھٹے) کرلے یا زیادہ کرلے"۔

(صحیح مسلم/1041)۔نیزابوہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولاللہ  صلی اللہ علیہ

وسلم نے ارشاد فرمایا:"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر کوئی شخص رسی

سے لکڑیوں کا بوجھ باندھ کر اپنی پیٹھ پر جنگل سے اٹھا لائے (پھر انہیں بازار میں بیچ کر اپنا

رزق حاصل کرے)تو وہ اس شخص سے بہتر ہے جو کسی کے پاس آ کر سوال کرے۔ پھر جس سے

سوال کیا گیا ہےوہ اسے دے یا نہ دے"۔(صحیح بخاری/1470 ، صحیح مسلم/1042)۔

اور امام احمد نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہےکہ اللہ کے رسول صلی اللہ

علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"جو آدمی  اپنے لئے بھیک کا دروازہ کھولتاہے تو اللہ تعالی اس کےلئے

فقرکا دروازہ کھول دیتاہے"۔(صحیح الجامع /3025)۔ اسی طرح عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  

سےمروی وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  منبر پر تشریف فرما تھے۔ آپ نے صدقہ

اور کسی کے سامنےہاتھ نہ پھیلانے کا اور دوسروں سے مانگنے کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ:" اوپروالا ہاتھ

نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والے کا ہے اورنیچے کا ہاتھ مانگنے والے کا"۔

(صحیح بخاری/1429، صحیح مسلم/1033)۔

بھیک مانگنے کےنقصات اوراس کےبرے اثرات :

بھیک اور بھیک مانگنے کے فرد ومعاشرہ اور ملک وملت پر ڈھیروں نقصانات ہیں   کیونکہ  یہ ایک ایسا سماجی ناسورہے جو  سب کےلئے مسائل پیداکرتاہے، ذیل میں ہم اس کے چندبرے اور خطرناک اثرات کا ذکر کررہےہیں:

 (1) -بھیکاری   خودکو حقیر بناتاہے ، اپنی عزت وکرامت کو بیچ ڈالتاہے لوگوں کے سامنے ذلت بھرا ہاتھ پھیلاتاہے کوئی اسے دے دیتاہے اور کوئی جھڑک دیتاہے۔

(2) - کسی بھی کام کرنے والے کےلئے یا ایسے شخص کے لئے جو کام کرسکتاہے  صدقہ حلال نہیں ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"صدقہ مالدار کے لیے حلال نہیں اور نہ طاقتور اور مضبوط آدمی کے لیے"۔(سنن ابی داود/1634 ، سنن الترمذی/662،مسنداحمد/6530،علامہ البانی نےاسے صحیح کہاہے)۔چنانچہ ایساآدمی جو کماکرکھاسکنےکی قوت رکھتاہےیا اس کےپاس کفایت بھررزق موجودہے اگر بھیک مانگ کرکھاتاہےتو وہ حرام خوری کا مرتکب ہے۔

 (3) - بھیک مانگنا  دنیا اور آخرت میں ذلت وخواری کا سبب ہے ،وہ ایک ایسا گھٹیا عمل ہےجو ذوق سلیم  کو مٹا دیتاہے، ایسا کرنا نفس کی حقارت اور گھٹیا پن کی دلیل ہے۔ اللہ رب العزت اس سے ہماری حفاظت فرمائے۔

 (4) - معاشرے اور ملک وقوم  پر بھیک کے بہت ہی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں، اسے بڑھاوا دینا انسان کو کاہل اورکام چوربنادیتاہے، بعض حالات میں ملک وقوم کی سلامتی کے لئے بھی خطرناک ہے کیوں کہ بسا اوقات ایسے لوگ جوشرپسند ہوتے ہیں  اس کام سے فائدہ اٹھاتےہیں اور ملک اور قوم کےلئے اس دولت کو استعمال کرتے ہیں ، ماضی اور حال میں اس قسم کے بہت سارے واقعات دیکھنے اور سننے کو ملے ہیں۔

(5) - بھیک  خواہ جس شکل میں مانگی جائے اگر اس کا رجحان بڑھتاہےجیساکہ عام طور پرملاحظہ کیاجارہے تو غیر شرعی اور غیرقانونی طریقوں سے  مال ودولت جمع کرنے کا رجحان بڑھتاجائےگا جو کسی بھی معاشرہ کےلئے شرعا وقانونا ناجائز اور غیر مناسب ہوگا۔

(6) - بھیک سے   محنت کش اور  حلال روزی کا خوگرمعاشرہ  بدظنی اور ضرورت مند اور دھوکے بازآپسی  بداعتمادی کا شکار ہوں گے۔

(7) - اس بڑھتےناسورکی وجہ سے ضرورت مندوں اور دھوکے بازوں میں فرق کرنا مشکل  ہوجائےگا۔

(8) -بھیک کی وجہ سے صدقات وعطیات   کا فریضہ معاشرے پر ایک بوجھ  بن جائےگا۔

(9) - بھیک معاشی  اور معاشرتی ترقی میں رکاوٹ کا ایک اہم سبب ہے ۔

(10) - بھیک کی وجہ سے جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتاہے۔

(11)- یہ پیشہ ور بھکاری جو ہر چوک چوراہے پر مل جاتےہیں انہیں بھیک دے کرناجائزطریقےسے پیسے وصول کرنا ، کام چوری اور جرائم کو  بڑھاوہ دینا اور اپنےمال کوضائع کرنا تو ہے ہی بسااوقات قوم ومعاشرے کےلئےخطرناک اور نقصان دہ بھی ہوسکتاہے۔ 

(12) - آج کل کے غش ودھوکہ دھڑی اورتعصب و نفرت بھرے ماحول میں بہت سارے واقعات ایسے ملے ہیں کہ لوگ بھیس بدل کر بھیک مانگتے ہیں اور یہاں تک بھی مشاہدہ کیاگیاہے کہ مسلمانوں سے بھیک مانگ کر ان پیسوں کو انہیں کے خلاف استعمال کیا جاتاہے۔

گداگری کاعلاج:

بھیک مانگنے جیسی  خطرناک معاشرتی بیماری سے بچنے کےلئے باضابطہ  مضبوط لائحۂ عمل کی ضرورت ہے خاص طورسے اسلامی شریعت نے فقرومحتاجی اور بھیک مانگنے جیسی بیماری کے خاتمے کے لئے جوبہترین حل پیش کیاہےاسے اپنانے اور عمل میں لانے کی ضرورت ہے جنہیں ذیل میں  چندنقاط میں پیش کیاجارہا ہے:

(1) - لوگوں کو اس بات سے آگاہ کیاجائےکہ روزی کا مالک اللہ رب العزت ہے:(إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ)۔(اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں توانائی والا اور زور آور ہے)۔( الذاريات/58) ، اورفرماتاہے:(إِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُإِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيراًبَصِيراً)۔(یقیناً تیرا رب جس کے لئے چاہے روزی کشاده کردیتاہےاورجس کےلئےچاہے تنگ۔یقیناًوه اپنےبندوں سےباخبراورخوب دیکھنےوالاہے)۔(الإسراء/30)۔ اورفرماتا ہے:(وَمَامِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّاعَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ)۔(زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ پر ہیں وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ اور ان کے مسکن وماوی کو بھی جانتاہے۔سب کچھ واضح کتاب میں موجود ہے)۔( هود/6)،اورفرماتاہے:(أَمَّنْ هَذَاالَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ)۔(اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی روک لے تو بتاؤ کون ہے جو پھر تمہیں روزی دے گا)۔(الملك/21)،اورفرماتاہے: (وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ)۔(یقیناً ہم نےاولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزه چیزوں کی روزیاں دیں)۔(الإسراء/70)۔چنانچہ اگر کسی کے حق میں اس نے پریشانی کا فیصلہ کرلیاہے تو وہ اسے ضرور پہنچےگی ،ایسی صورت میں ایک مسلمان کےلئے ضروری ہے کہ وہ اس مصیبت پر صبرکرے  اور اس پریشانی اور محتاجی کو دورکرنے کےلئے خوب کوشش کرے ،کیونکہ یہی اللہ تعالی کا حکم ہےاور یہی ایک سچے مؤمن کی شان بھی ہے ،صہیب رومی رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"مومن کا معاملہ عجیب ہے۔ اس کا ہر معاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے۔ اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کو میسر نہیں۔ اسے خوشی اور خوشحالی ملے تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو (اللہ کی رضا کے لیے) صبر کرتا ہے، یہ (بھی) اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے"۔(صحیح مسلم/2999)۔

(2) - فقرومحتاجی سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرنا :جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء میں گزراکہ آپ محتاجی اور کفرسے پناہ طلب کیاکرتےتھے،اور ایک روایت میں ہے کہ آپ  محتاجی کی بری آزمائش سے پناہ طلب کیاکرتے تھے۔ (دیکھئے:صحیح بخاری/6368 ،6375 وصحیح مسلم/589)

(3) - طلب رزق کےلئے محنت وکوشش اور اس کی ضرورت ،اہمیت اورصحیح اورمناسب طریقۂکارپرابھاراجائے۔

(4) - مالداراور صاحب نصاب افرادکےاوپرجوزکاۃ فرض ہے اسے یقینی بنایاجائےکیونکہ یہ ان کےاوپر اللہ رب العزت کی طرف سےعائدکردہ فریضہ ہے، اللہ تعالی فرماتاہے:(وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ) ۔(اور جن کے مالوں میں مانگنے والوں کا بھی اور سوال سے بچنے والوں کا بھی مقرره حصہ ہے) ۔(المعارج/24- 25)۔

(5) - غریبوں ،یتیموں ، مسکینوں اوربیواؤں کےلئے صدقات وعطیات پرابھاراجائےاور اس کی فضیلت واہمیت کوواضح کیا جائے۔

(6) - کسی بھی حالت میں غش اور دھوکہ دھڑی کرکے اورجھوٹ بول کرلوگوں کا مال مانگنے کے انجام اورگناہ سے واقف کرایاجائے۔

(7) - آس پڑوس  ، رشتےناطےاور گاؤں محلےکے محتاج افراد کی خبرگیری کی جائے تاکہ ان کو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بےنیازکیاجائے۔

(8) - معاشرے میں تعلیم اور روزگارکے مواقع فراہم کرنا بھیک جیسی بیماری کو دور کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہوسکتاہے۔

(9)-  بھیک کےبڑھتے واقعات وحالات کے پیش نظر خاص طورسے ہم مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ  اپنی بیداری کا ثبوت دیں اور  بھیک مانگنے کے عمل کے قلع قمع کےلئے اسلامی اصول کو اپنائیں، شرعی اصول معیشت کو زندہ کریں، صدقات وعطیات کا شرعی نظام نافذکریں   اور بغیرجانے بوجھے کسی کو بھی بھیک دینے سے احترازکریں۔

(10) -  بھیک مانگنے کےوسائل اور طریقۂ کار خاص طور سے آن لائن بھیک  مانگنےکی کڑی نگرانی کی جائےاور اس  کے لئے سخت  قانون وضع  کرکے اسے روبعمل لایاجائے۔

(11)-گداگری کے نقصانات  اورفرد ومعاشر ہ پر اس کے برے اثرات   کےبارے میں کمیونٹی بیداری کو بڑھاوا دینا بہت ضروری ہے، تاکہ لوگوں کو اس کے نقصانات  کےبارے میں پتا رہےاور وہ اپنے پیسوں کومناسب اور فائدے مندجگہوں میں خرچ کرسکیں۔

بھیک نہ مانگنے والے محتاجین:

بھیک کے بڑھتےرجحان کے بیچ  بہت سارے فقراء او رمحتاجین ایسے مل جائیں گے جو ضرورت کے باوجود  شرم وحیاء کی وجہ سے لوگوں  کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے وہ صرف اپنے رب رزاق سے طلب کرتے ہیں، کیونکہ ان کو یقین ہے کہ رزق کا مالک تو بس وہی ہے ، انہیں ہمیشہ یاد رہتاہے کہ اس نے خود کہاہے: (وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ)۔(اور تمہاری روزی اور جو تم سے وعده کیا جاتا ہے سب آسمان میں ہے)۔ (الذاریات/22)۔ اسی صفت کی وجہ سے ان کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتاہے: ﴿لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لاَ يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِسِيمَاهُمْ لاَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا )۔( صدقات کے مستحق صرف وه غربا ہیں جو اللہ کی راه میں روک دیئے گئے، جو ملک میں چل پھر نہیں سکتے۔ نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مالدار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہچان لیں گے وه لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے)۔(البقرۃ/273)۔ الحاف کا مطلب  یہ ہے کہ ضرورت نہ ہونے کے باوجود (بطور پیشہ) لوگوں سے زبردستی اور ان سے چمٹ کر مانگے۔

اس آیت کی روشنی میں اسلام نے بڑی سختی سے بھیک مانگے سےمنع کیاہے کہ صدقہ وخیرات ان بےگارکے لوگوں کے لئے ہرگزنہیں ہے جو کام  کرنے اور کمانے کی قدرت رکھتےہیں یہ توصرف ان محتاج اورغریب لوگوں کے لئے ہےجو کسی بھی وجہ سے کمانے سے قاصرہیں اورلوگوں کے سامنے شرم وحیاء کی وجہ سے ہاتھ بھی نہیں پھیلاتےاورسوال میں الحاح وزاری نہیں کرتے اور جس چیز کی انہیں ضرورت نہیں ہے اسے لوگوں سے طلب نہیں کرتے کیونکہ وہ بھیک نہیں مانگتے،اور لوگ ان کو جانتے ہیں کہ یہ حقیقت میں ضرورت مند ہیں، ایک حدیث میں ہےکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:"مسکین وہ نہیں ہے جو ایک ایک دو دو کھجور یا ایک ایک، دو دو لقمے کے لئے در در پر جا کر سوال کرتا ہے۔ مسکین تو وہ ہے جو سوال سے بچتا ہے"، پھر نبی (صلى الله عليہ  وسلم) نے آیت(لا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا) کا حوالہ پیش فرمایا۔ (صحیح بخاری/4539 صحیح مسلم/1039)۔

    جولوگ بلا ضرورت لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہیں انہیں اللہ سے خوف کھانا چاہئے کیونکہ یہ عمل شرعا اور اخلاقاکسی بھی طور سے جائزنہیں ہے، اگر انسان کو اللہ نہ چاہے کبھی محتاجی اور فقر جیسے حالات سے دوچار ہونا پڑے تو سب سے پہلے اس کے حصول کےلئے جائز اور ممدوح طریقہ اپنانا چاہئے اور کوشش ہونی چاہئے کہ ایسا عمل کرےجوشریعت میں جائز اور قابل رشک ہواورہرممکن دوسروں سے مانگنے سے بچنا چاہئے کیونکہ رزق کا مالک  اللہ ہے،وہ فرماتاہے:( وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِحِسَابٍ )۔(اللہ تعالیٰ جسے چاہے بےشمار روزیاں دیتا ہے)۔(النور/38)۔ اور ایک جگہ فرماتاہے: (هُوَالَّذِي جَعَلَ لَكُمْ الأَرْضَ ذَلُولاًفَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَاوَكُلُوامِنْ رِزْقِهِ وَإِلَيْهِ النُّشُور)۔(وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیاتاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو) اسی کی طرف جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے)۔(الملک/15)۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"جو شخص سوال کرنے سے بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے سوال کرنے سے محفوظ ہی رکھتا ہے"۔ (صحیح بخاری/1469)۔

اللہ رب العزت ذوالجلال والاکرام سے دعاء ہےکہ وہ ہمارےلئےحلال روزی کا راستہ کھولےرکھے،حرام طریقوں سے بچائے، ہمیں اپنی دی ہوئی رزق پر قناعت کرنے والا بنائے ،اپنے فیصلے پر ہمیشہ راضی رکھے اور اپنے نبی کا سچا متبع بنائے۔آمین یا رب العالمین وصلی اللہ علی خیرخلقہ وسلم۔

*******

(ماہنامہ" الفجر" جلد/3 ، شمارہ/30 ، نومبر-دسمبر2025 ء)