منگل، 17 فروری، 2026

بعض طبی ضروریات اورروزہ پر اس کے اثرات

 

  بعض طبی ضروریات اورروزہ پر اس کے اثرات

عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی

           ماہ رمضان کا روزہ اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے، جس کی ادائیگی اپنی شرائط کے ساتھ ہر مسلمان عاقل وبالغ  مرد وعورت پر فرض ہے، جس کا انکارکرنےوالا اور جان بوجھ کر چھوڑنے والا اسلام سے خارج ہوجاتاہے ۔اوردیگر تمام عبادتوں کی طرح ایک مسلمان کےلئے روزہ  رکھنے میں بھی اللہ تعالی کی بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں ،اسی طرح  اس کے اندرانسانی طاقت وقوت کا نہایت ہی حکیمانہ اعتبار وحل  موجودہے، جس سے متعلق  احکام اورمسائل قرآن وسنت کے نصوص میں تفصیل کے ساتھ موجودہیں، اور انسانی قوت وطاقت اور بدلتے وقت  وحالات کے مطابق عبادات کی ادائیگی او راس کے اندرسہولت ومعافی کا اسلام میں  بہت زیادہ اور مناسب اعتبارکیاگیاہے ۔چنانچہ اس معاملےمیں  روزہ  سے متعلق بھی شریعت کے وہی احکام ہیں جو دیگر عبادتوں کے اندرہیں ،اور چونکہ روزہ کا  تعلق بلاواسطہ مواسم کے ساتھ ساتھ انسان کے جسم ودماغ کے ساتھ سب سے زیادہ ہے اس لئے اس کے اندر نت نئے مسائل کا پیداہونا بدیہی ہے ، اور خاص طور سے بدلتے ماحولیات اور خردونوش کے انقلابی تنوع نے انسان کے جسم ودماغ کو بہت زیادہ متأثرکیاہے ،جس کی وجہ سے روز نت نئی بیماریوں کا جنم ہورہاہے اور شریعت اسلامیہ میں یہ چیزمعروف ہے کہ بیماری کی حالت میں روزہ سے متعلق اللہ رب العزت کا خاص حکم موجود ہے ،اللہ تعالی فرماتاہے :( فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْعَلٰی سَفَرٍفَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ ؕ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ)۔(  تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وه اور دنوں میں گنتی کو پوری کر لے اور اس کی طاقت رکھنے والےفدیہ میں ایک مسکین کو کھانا  دیں، پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے وه اسی کے لئے بہتر ہےلیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے، اگر تم باعلم ہو)۔(البقرۃ/184)۔ اس آیت کریمہ کے اندر بیمار اور مسافر کو رخصت دے دی گئی ہے کہ بیماری یا سفر کی وجہ سے رمضان المبارک میں جتنے روزے نہ رکھ سکے ہوں بعد میں رکھ کر گنتی پوری کرلیں۔اسی طرح  آیۃ کریمہ کے اندر(يُطِيقُونَهُ) کا ترجمہ (يتَجَشَّمُونَهُ)(یعنی نہایت مشقت سے روزہ رکھ سکیں) کیا گیا ہے،یہ عبداللہ  ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، امام بخاری نے بھی اسے پسند کیا ہےیعنی جو شخص زیادہ بڑھاپے یا ایسی بیماری کی وجہ سےجس سے شفایابی کی امید نہ ہو یا روزہ رکھنے میں مشقت محسوس کرے وہ ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ دے دے، لیکن جمہور مفسرین نے اس کا ترجمہ (طاقت رکھتےہیں) ہی کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں روزے کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے طاقت رکھنے والوں کو بھی رخصت دے دی گئی تھی کہ اگر وہ روزہ نہ رکھیں تو اس کے بدلے ایک مسکین کو کھانا دے دیا کریں۔ لیکن بعد میں (فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ)کے ذریعے اسے منسوخ کرکے ہر صاحب طاقت کے لئے روزہ فرض کردیا گیا، تاہم زیادہ بوڑھے، دائمی مریض کے لئے اب بھی یہی حکم ہے کہ وہ فدیہ دے دیں اور ”حَامِلَةٌ“ (حمل والی) اور ”مُرْضِعَةٌ“ (دودھ پلانے والی) عورتیں اگر مشقت محسوس کریں تو وہ مریض کے حکم میں ہوں گی یعنی وہ روزہ نہ رکھیں اور بعد میں روزے کی قضا دیں۔(تفصیل کےلئے تحفۃ الاحوذی کا مراجعہ مفیدہے)۔

چنانچہ معلوم ہواکہ بیماری میں اصل روزہ توڑدیناہے مبادہ آدمی کو کسی خطرنا ک  صورت حال سے دوچار ہونا پڑجائے ۔ لیکن یہاں پر یہ بھی جان لینا ضروری ہے کہ بہت ساری بیماریاں ایسی ہیں جو اس قدر خظرنا ک بالکل نہیں ہوتیں جن سے انسان کے جان کو زیادہ خطرہ ہویا پھر اس قدر مشقت انگیزہوکہ  روزہ اور دیگر عبادات انسان کے بس سے باہر ہو ں ، بلکہ کچھ بیماریاں تو ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے ساتھ روزہ رکھ لینا ہی آدمی کےلئے آسانی والی بات ہوتی ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں ان ایام میں  جب وہ صحت مندہو  مشقت انگیز ہوجاتا ہے، خواص طور سے تجارت پیشہ ، نوکری پیشہ اور لگاتار سفرکرنے والوں کے لئے۔برسبیل تذکرہ  یہاں یہ بھی بتادیں کہ بہت سارے لوگ جو روزہ کو ایک بوجھ سمجھتےہیں یا  اسے عبادت کی نظرسے نہیں دیکھتے یا کسی  شرم اوردباؤ کی وجہ سے  رکھتے ہیں،  وہ ہمیشہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ  انہیں اسے چھوڑنےکا کوئی بہانہ مل  جائے۔ ایسی صورت میں ہلکی پھلکی بیماریاں بھی  اپنے لئے غنیمت سمجھتےہیں ۔ حالانکہ انہیں سمجھنا چاہئے کہ  یہ دین کے ان ارکان میں سے ہے جن کا جان بوجھ کر چھوڑنا کفرکے دائرے میں آتاہے اور اگر کسی مجبوری میں چھوٹ جائیں تو ان کی قضا لازم اور ضروری ہے ۔

 آمدم برسرمطلب ! موجودہ وقت میں کچھ بیماریاں  ایسی ہیں  جنہیں  بہترین طبی سہولیات کے  اختیار کے ساتھ آرام سے برداشت کیاجاسکتاہے او ران کے ساتھ روزہ رکھنا کچھ مشکل بھی نہیں ہوتاہے، بلکہ بعض حالات میں تو روزہ  علاج کا کام کرتاہے، جیسے بڑھتے وزن  ،   Obesity (چربی کا بہت زیادہ بڑھ جانا) اور  ذیابیطس (شوگر) وغیرہ کے بعض مریضوں کو دیکھاگیاہے کہ روزہ ان  کے لئے ایک بہترین علاج ہے، اس لئےکہ روزہ رکھنا  وزن کم کرنے، میٹابولزم   Metabolism  (کھائی ہوئی غذا اور پینے والی چیزوں کو توانائی  Energy  میں تبدیل کرنے کےعمل)کو بہتر بنانے اور چربی جلانے میں مدد دیتا ہے۔ اس سے کیلوری  (Calorie )  کی مقدار کم ہوتی ہے، انسولین کی حساسیت بڑھتی ہے، اور سوزش میں کمی آتی ہے، جو موٹاپے سے منسلک مسائل جیسے ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کو کم کر سکتی ہے۔لیکن وہی پر کچھ تحقیقات کے مطابق بعض حالات میں جیسے بسااوقات دل کی بیماریوں میں خطرناک بھی ہوتاہے ایسی صورت میں کسی بھی بیماری میں روزہ کے مناسب او ر غیرمناسب ہونے سے متعلق ماہر اطباء سے رجوع اور وقت پر ٹیسٹ اور بہترین نگرانی  اوراحتیاط ضروری ہے ،کیونکہ جان بوجھ کر کسی بھی نفس کو ہلاکت میں ڈالنا اللہ رب العزت کے حکم کی عدولی ہے ، اللہ تعالی فرماتاہے:( لَاتُلْقُوْابِاَیْدِیْكُمْ اِلَی التَّهْلُكَةِ)۔(خودکو ہلاکت میں مت ڈالو)۔(البقرہ/195)۔۔ چنانچہ ان جدید طبی سہولیات سے متعلق شرعی احکام کی معرفت ہر مسلمان کےلئے ضروری ہے کہ اگر ان کا استعمال کیاجائے تو روزہ پر اس کے کیااثرات ہوتے ہیں ایا ان کے استعمال سے روزہ فاسدہوجاتاہے یا پھر کسی  صورت میں  باقی رہتاہے ۔

واضح رہے کہ طبی علاج کے ذرائع کا استعمال کئی طریقوں سے کیاجاتاہے جن میں کچھ کا تعلق کھانے  اورپینے سے ہے تو کچھ کا تعلق کسی اور ذریعہ سے جسم  کے اندر اور نسوں تک پہنچانے سے ،  وہی  کچھ کا تعلق  آکسیجن اور اعضا ء کی جراحت او ر ان کی تبدیلی سے ہے۔موضوع کی مناسبت سے  ذیل میں ہم ان چند  معروف اور عمومی طبی  امور کا ذکر کررہےہیں جن کے  استعمال  و استخدام سے  روزہ پر مثبت یا منفی  اثرپڑتاہے :

 یہاں یہ بھی  واضح رہے کہ وہ دوائیں جو کھانے اور پینےکے حکم میں ہیں یا وہ انجکشن جو خوراک کے قائم مقام ہیں ان سے روزہ ٹوٹ جاتاہے، گرچہ افطار سے چند لمحے قبل ہی کیوں نہ ہو ،کیونکہ ایک شرعی ضابطہ ہے کہ کھانے پینے اور جو اشیاء اس کے حکم میں ہوں ،نیز منہ کے راستے سے لینے والی دوائیں  اور اسی طرح جماع کرنے سے روزہ فاسد ہوجاتاہے۔ لیکن وہی کچھ طبی ضروریات اور ٹیسٹ  ہیں جن سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ہےاورروزہ دار انہیں بغرض حاجت وضرورت افطار سے قبل لے سکتاہے۔  ان  میں  سے چند مندرجہ ذیل ہیں :

1  -  اینیما   Enema  :  اینیما ایک طبی طریقہ کار ہے جس میں rectum  /   ملاشی  (بڑی آنت )میں  سیال (پانی، ادویات، یا دیگر محلول) داخل کیا جاتا ہے تاکہ قبض کا علاج کیا جا سکے، انتڑیوں کو صاف کیا جا سکے، یا کسی ٹیسٹ  (جیسے بیریم اینیما  /   Barium Enema   )  سے پہلے فضلے کو خارج کیا جا سکے۔ یہ آنتوں کو متحرک کر کے رفع حاجت    bowel movements    میں مدد کرتا ہے۔ 

 2 - آنکھ میں قطرے ڈالنا  اور طرح  سرمہ  اور کاجل لگانا اوراسی طرح بوقت ضرورت اس کے اندر پانی کے چھینٹے مارنا ۔

3 - کان کی صفائی   اور اس کے اندردوا وغیرہ ڈالنا ۔

4 -  زخم کی  صفائی اور اس کی مرہم پٹی کرنا ۔

5-   ناک میں قطرے ڈالنا : بہت سارے علماء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ جب وہ قطرےمعدے  تک نہ پہنچیں تو روزہ فاسد نہیں ہوتا، جبکہ بہت سارے علماء  اس بات کی طرف گئے ہیں کہ ناک کے قطر وں سےروزہ فاسد ہوجاتاہے اور اس کی قضاء ضروری ہے، چںانچہ روزہ دار کےلئے مناسب ہے کہ وہ بحالت روزہ اس سے اجتناب کرے ۔( مجموع فتاوى ابن باز:15/261، مجموع  فتاوی ابن تیمیہ : 25/234)۔

6-  علاج کی گولیاں جو زبان کے نیچے انجائنا پیکٹوریس  Angina Pectoris  (دل کے پٹھوں میں خون کے ناکافی بہاؤ کی وجہ سے سینے میں درد ، دباؤ یاجکڑن)  اور دیگر چیزوں کے علاج کے لیے رکھی جاتی ہیں۔(بشرطیکہ گلے تک پہنچنے والی کسی بھی چیز کو نگلنے سے گریز کرے)۔

7 - شرمگاہ میں بغرض علاج یا  ٹیسٹ کوئی دوا یا  آلہ وغیرہ ڈالنا ۔

8-  عورت کی بچہ دانی میں بحالت اضطراریا ضرورت مانع حمل آلہ ڈالنا۔

9-  دانتوں سے متعلق امور جیسے:دانت کھودنا، دانت نکلوانا ، داڑھ نکالنا،دانتوں کی صفائی  یا مسواک 
یا  ٹوتھ برش سے دانت صاف کرنا وغیرہ۔ (لیکن کوئی ایسی چیز نگلنے سے گریز کرے جو گلے تک پہنچے)۔
10- کلی کرنا ،  منہ میں بغرض علاج اسپرے کرنا ، غرارے کرنا ، بھاپ لینا  اور دیگر ٹوپیکل 
ٹریٹمنٹ  (وقتی  علاج )۔ (لیکنکوئی ایسی چیز نگلنے سے گریز کرے جو گلے تک پہنچے)۔ 
11 - آکسیجن اور اینستھیزیا  : Anesthesia  کہتےہیں کسی عضوکووقتی طورپرسن 
کرنےوالا یا آدمی کو بیہوش کرنےوالا انجکشن ۔ (لیکن خیال رہے کہ ان کے ذریعہ غذائی اشیاءجسم میں نہ
پہنچائی جائے)۔
12- جسم  یا سر میں لگائی جانے والی کسی بھی طرح کی دوا ، مرہم ، تیل یا اسپرے وغیرہ۔
13- دل یا دیگر اعضاء کی شریانوں کی  اکسرے یا علاج کرنے کے لیے شریانوں میں کیتھیٹر  ڈالنا ۔
 (Catheter  ایک  باریک ، پتلی، لچکدار ٹیوب ہوتی ہے جسے طبی مقاصد کے لیے جسم
 کے اندر داخل کیا جاتا ہے۔یہ عام طورپر ربڑ ، پلاسٹک یا سلیکون سے بنی ہوتی ہے)۔
14 - پیٹ کے اندر  آنتوں  viscera  وغیرہ کے معائنہ یا سرجری  کے لئے  انڈواسکوپ  
endoscope  داخل کرنا۔
15 - جسم کے کسی بھی حصے سے ٹیسٹ کے لئے نمونہ لینا۔
16 - ہاضمہ کے اوپری حصے کے معائنہ کے لئےآلہ ڈالنا  ،اس شرط کے ساتھ کہ اس کے ساتھ 
کوئی سیال شیئ  نہ ہو۔
17 - دماغ یا ریڑھ کی ہڈی میں کسی بھی علاج کے لئے آلے یا مواد کا داخل کرنا۔
18- کسی بھی طرح کے ٹیسٹ کے لئے خون کا سیمپل لینا ۔(لیکن اگر زیادہ مقدار میں خون لیاجائے 
جیسے خون ڈونیٹ کرنے کے لئے تو روزہ فاسد ہوجاتاہے)۔
19 - دمہ کا انہیلر  Asthma inhaler   لینا۔
20- کسی بھی طرح کا  معالجاتی انجکشن لینا : یعنی پٹھوں یا جلد کے نیچے (انسولین، ویکسین اور درد کی 
دوا وغیرہ)  سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ واضح رہے کہ بعض معالجات میں آئی وی  فلوڈز     Intravenous fluids/
 IV Fluids (جیسےگلوکوز یا سلائن ڈرپ /  Saline Drip )
  براہِ راست رگوں کے ذریعے جسم کو ہائیڈریشن(پانی کی   کی وہ مقدار جو اسے صحیح 
طریقے سے کام کرنے کے لئے درکار ہوتی ہے )
  اور توانائی فراہم کرتے ہیں، اس لیے انہیں کھانے پینے کے حکم میں تصورکیاجاتاہے ۔
 اس لئے یہاں یہ  یقین ضروری ہے کہ وہ  
  انجکشن  صرف دوائی یا نمکیات ہوں غذائی نہ ہوں۔
21 – حجامہ   Cupping  کے ذریعہ خون نکالنےسے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔
(جبکہ علماء کا ایک گروہ اس سے روزہ فاسدنہیں سمجھتا)۔
22 - ڈائلاسس  dialysis    :  جس کے اندر گردے کی شدید خرابی کی وجہ سے خون کو جسم سے نکالا جاتا ہے، پھر مشین
 (ڈائلائزر) کے ذریعے اسے فلٹر کیا جاتا ہے، اور پھر جسم میں واپس لایا جاتا ہے۔واضح رہے کہ ڈائیلاسس کے دو اہم طریقے ہیں:
(پہلا) - ہیمو ڈائیلاسس   Hemodialysis   :  یہ سب سے عام ہے، اس کے اندرخون کو مشین   Dialyzer  کے 
ذریعہ  باہر نکال کر صاف کیا جاتا ہے اور واپس جسم میں ڈالا جاتا ہے ۔ بہت سارے علماء  اس بات کی طرف گئےہیں کہ اس 
سے روزہ نہیں ٹوٹتاہے، کیونکہ اس سےخون میں کوئی غذا یا پانی اندر نہیں جاتا جو معدے تک پہنچ کر غذائیت اورکھانے پینے
 جیسا اثر دے۔ یہ صرف صفائی کا عمل ہے، اور اس میں  معتاد راستہ (کھانے پینے کا راستہ)  بھی ا ستعمال نہیں ہوتا بس  خون کی 
رگ سے نکل کر واپس آتا ہے،اس لئے یہ  روزہ توڑنے والی  چیز (اکل ،شرب اور جماع ) میں سے نہیں ہے۔
(دوسرا) - پیری ٹونیل ڈائیلاسس    Peritoneal Dialysis    : اس میں پیٹ (پیٹ کی جھلی)
 کے ذریعے سیال اندر ڈالا جاتا ہے،جو جذب ہوتا ہے، اور نکالا جاتا ہے۔ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ،کیونکہ 
اس عمل سے سیال پیٹ میں داخل ہوتا ہے، جو کھانے پینے جیسا اثر رکھتا ہے۔
چنانچہ ایسی صورت میں ماہر معالج کی رائے اہمیت رکھتی ہے، اگر ڈاکٹر کہے کہ روزہ رکھنے سے صحت ک
و شدید نقصان ہوگا (جیسے شدید کمزوری، انفیکشن وغیرہ)، تو روزہ چھوڑ کر قضا کریں (یا شدید مستقل بیماری میں فدیہ دیں)۔
اللہ رب العزت ہمیں دین کے صحیح علم سے سرفرازکرے او رہمارے نیک اعمال کو قبول کرے ۔آمین  وصلی اللہ  علی نبیہ ورسولہ محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔
 
**************

 

 

 

کوئی تبصرے نہیں: