بدھ، 2 ستمبر، 2026

حصولِ علم کی اہمیت اور اس کے آداب

حصولِ علم کی اہمیت اور اس کے آداب

زہراء بتول سنابلی بنت عبدالعلیم سلفی(بہوری ، بیرگنج ،  نیپال)

               علم  انسانی زندگی  میں ارتقاء وعروج  اوراس کے لئےتزئین  و زیبائش کی معراج ہے۔ علم ہی انسان کو صحیح اور غلط کی تمیز سکھاتا ہے۔ اطاعتِ الہی کے لیے علم کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ علم نورہے اور جہل تاریکی ہے ،شریعت اسلامیہ میں علم کی حیثیت کا پتہ اس سے چلتاہے کہ جو فرد ترویج و اشاعتِ علم کے لیے جدوجہد کرتا ہے اس کے لیے عظیم اجر و ثواب کا وعدہ کیاگیاہے، کیونکہ علم کی اشاعت ان تین أمور میں سے ایک ہے جن کا ثواب انسان کے مرنے کے بعد بھی اسے ملتارہتاہے۔(صحیح مسلم/1631)۔

 ذیل کی سطورمیں  ہم علم کی اہمیت اور  اس کےآداب سے متعلق  چند باتیں رکھنا چاہیں گے۔ اللہ تعالی ہمیں زیور علم سے آراستہ کرے۔

علم کی تعریف:

لغوی تعریف:  علم جہل  کی ضد ہے اور لغت میں  اس کےبہت سارے معانی ہیں ،جیسے: معرفت، فہم ، یقین ، علامت ،اثر،تمییزاور آگاہی وغیرہ ۔  درحقیقت علم  ایک ایسا صحیح  اوربنیادی مادہ ہے جو کسی چیز پر ایسے اثر اور علامت پر دلالت کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ دوسری چیزوں سے ممتاز ہو جاتی ہے۔

اصطلاحی تعریف : اصطلاح میں  علم  کی مختلف الفاظ میں تعریف کی گئی ہے ،جن کا مفاد ایک ہی ہے ، اور وہ ہے :" کسی چیز کو اس کی اصل حقیقت کے مطابق پختہ طور پر  جاننا"۔ (دیکھئے: المعجم الوسیط اور لغت اور أصول کی دیگر کتابیں)۔

شرعی تعریف:علم کی شرعی تعریف بھی علماء نے مختلف الفاظ میں کیاہے جن کا خلاصہ ہے :" شرعی علم سے مراد ا س ہدایت اور  واضح دلیلوں کی معرفت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائی ہیں۔ اور ایسا علم جو انسان کو نیک اعمال کی طرف راغب کرے"۔ چنانچہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور ہدایت کے راستے پر چلنا ہی اصل علم ہے اور اس پر عمل کرنا ہی بہتر طریقہ و عمل ہے۔(کتاب العلم لابن العثیمین/9)۔

علم حاصل کرنےکا حکم :

حیثیت اور نوعیت کے اعتبارسے علم کے حصول کے مختلف احکا م ہیں جن کو کئی زمروں میں تقسیم کیاجاسکتاہے ،جیسے : شرعی علوم ، عام دیناوی علوم ، جائزومباح علوم اور حرام  وناجائزعلوم  وغیرہ  جن کی بنیادی طور پر مندرجہ ذیل  تین قسمیں ہیں :

(1) -  شرعی علوم:اسلام میں شرعی علوم حاصل کرنا ہر مسلمان پردوطرح سے لازم ہے : اول: فرض عین  : وہ علوم جو دین کے عقائد اور اور نبیاد ی مسائل سے متعلق ہیں ،جیسے : اللہ تعالی کی معرفت ، رسول کی معرفت اور دین کی معرفت اور اسی طرح روزہ مرہ کی زندگی میں پیش آنے والے مسائل  کا علم ، جیسے نماز ،روزہ اور وضوء وغیرہ ۔ دوم فرض کفایۃ: جیسے : دین میں گہرا رسوخ اورمعرفت حاصل کرنا ، فقہ وفتاوی اور مسائل کی گہرائی کا علم  وغیرہ۔

 (2) -  دنیاوی علو م: دنیاوی علوم میں کچھ علوم جب دین ، قوم و ملت اور وطن کو ان کی ضرورت ہو فرض کفایہ کےحکم میں آتے ہیں ، جیسے: طب ، دفاعی ٹیکنالوجی اور معاشیات وغیرہ کا علم ،خاص طور سے دفاعی ٹیکنالوجی اور اس کی تیاری سے متعلق ۔ اور کچھ علوم مباح ہیں جیسے: زندگی میں کام آنے والے وہ تمام علوم جن کے حصول سے نہ کوئی خاص دینی فائدہ ہو اورنہ ہی دنیاوی فائدہ ۔ لیکن اگر ان مباح اورجائز علوم کو حاصل کرنے کا مقصد اپنے نفس کے ساتھ ساتھ اہل خانہ ، والدین ،اقرباء ، معاشرہ اور ملک وقوم کو کسی طرح کا مادی اور معنوی فائدہ پہونچانا ہو تو پھر ا سکی نیت او رقصدو ارادہ کے اعتبار سے  اس کا حکم  اور ثواب  بدل جاتاہے۔  واللہ اعلم۔

(3) -  حرام وناجائز علوم : کچھ ایسے علوم بھی ہیں جن کا حصول ایک مؤمن بندہ کےلئے حرام ہے،جیسے : جادو کا علم ، سود اور ربا سے متعلق نظام اور کاروبار کو فروغ دینے کے طریقے سیکھنا اور وہ تمام علوم جن کا مقصد حرام کمائی اور غلط راستوں کوچننے کا ہو اورجومعاشرے میں بگاڑ اورفسادکا سبب بنیں ۔

حصولِ علم کی اہمیت:

اسلام میں حصولِ علم کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ اگر ہم اس کی  اہمیت کا إحصاء کریں تو ایک مستقل کتاب تیا رہوجائےگی ،اس لئے ہم  اس سے متعلق چند نکات کا  ذکر مختصرا کردینا مناسب سمجھتےہیں:

 (1) -  علم کی بدولت ہی انسان میں  خیر، سعادت اور عزت پیدا ہوتی ہے۔

 (2) -  علم  انسان کو دیگر مخلوقات پر فضیلت اور وسعت عطا کرتا ہے۔

(3) -  علم حق و باطل  اور خیروسعادت کی پہچان کا  سب سے اہم اوربڑا ذریعہ ہے ، اور وہ انسان کو صحیح اور غلط، نیک اور بد، اور فائدہ اور نقصان کے درمیان فرق سکھاتا ہے۔

(4) -  اسلام میں پہلا حکم حصول علم کا تھا  قرآن مجید کی سب سے پہلی نازل ہونے والی آیت کا پہلا لفظ "اِقْرَأْ" (پڑھ!) ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام کی بنیاد علم پر ہے ۔اللہ تعالی فرماتاہے:﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ * خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ * اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ * الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ * عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ  ۔(پڑھ  اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، انسان کو جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھ اور تیرا رب نہایت کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا، انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا)۔(سورۃ العلق/:1-5)۔

 (5) -  علم شرعی کا حصول ایک مسلمان مرد ہوخواہ عورت سب کے لئے ایک فریضہ ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ"۔"علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے"۔(سنن ابن ماجۃ/224 ،علامہ البانی نے  طرق و شواہد کی بناء پراسے صحیح کہاہے)۔

(6) - حصول علم کی اہمیت کو واضح کرنے کےلئے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی کو اس میں زیادتی کی دعاء کاحکم دیا ہے ، فرماتاہے: ﴿وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾ ۔( اور کہو: اے میرے پروردگار! میرا علم بڑھا)۔(سورۃ طہ:114)۔

(7) -  انسانیت کو پہلا شرف اسی علم کی وجہ سے حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر جو فضیلت دی، وہ علم ہی کی بنیاد پر تھی (وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَٰؤُلَاءِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ * قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ * قَالَ يَا آدَمُ أَنبِئْهُم بِأَسْمَائِهِمْ ۖ فَلَمَّا أَنبَأَهُم بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ) ۔(اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام نام سکھا کر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا، اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ ان سب نے کہا اے اللہ! تیری ذات پاک ہے ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تونے ہمیں سکھا رکھا ہے، پورے علم وحکمت والا تو تو ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :اےآدم ! تم ان کے نام بتا دو۔ جب انہوں نے بتا دیئے تو فرمایا کہ: کیا میں نے تمہیں (پہلے ہی) نہ کہا تھا کہ زمین اور آسمانوں کا غیب میں ہی جانتا ہوں اور میرے علم میں ہے جو تم ظاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپاتے تھے)۔(سورۃ بقرۃ:31-33) ۔

 ان آیات سے واضح ہوتاہےکہ اللہ تعالیٰ نے ایک تو فرشتوں پر حکمت تخلیق آدم واضح کردی۔ دوسرے دنیا کا نظام چلانے کے لئے علم کی اہمیت وفضیلت بیان فرما دی، جب علم کی یہ حکمت ا وراہمیت فرشتوں پر واضح ہوئی، تو انہوں نے اپنے قصور علم و فہم کا اعتراف کرلیا۔ فرشتوں کے اس اعتراف سے یہ بھی واضح ہوا کہ عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے، اللہ کے برگزیدہ بندوں کو بھی اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرماتا ہے۔

(8) -  قرآن مجید میں علماء کا مقام واضح کرتےہوئے اللہ تعالی فرماتاہے:( هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ)۔( کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو علم نہیں رکھتے برابر ہو سکتے ہیں ؟یقینا نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل وسمجھ والےہیں)۔ (سورۃالزمر: 9)۔

(9) -  حصول علم سے جنت کا راستہ آسان ہوتاہے،رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:"مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ"۔"جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے"۔ (سنن ابی داود/3641، سنن ترمذی /2682، شواہد او رمتابعات کی بنا پر علامہ البانی نے اس روایت کو صحیح کہاہے)۔

(10) -  عالم کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ایک عام آدمی پر ہے،اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنی سوراخ میں اور مچھلیاں اس شخص کے لیے جو نیکی و بھلائی کی تعلیم دیتا ہے خیر و برکت کی دعائیں کرتی ہیں"۔(سنن الترمذی/2685، علامہ البانی نے اسے صحیح کہاہے)۔

(11) -  شخصیت کی تعمیر ، عزت وسربلندی کےحصول ، روزہ گار اوروسائل زندگی کےحصول ،برائیوں کے خاتمے اور صحت وتندرستی کے وسائل کی توفیرمیں علم کا بہت بڑا عمل ودخل ہے جس سے کوئی بھی صاحب عقل انکار نہیں کرسکتا۔

(12) -  علم وہ روشنی ہے جو نہ صرف  اپنے حاصل کرنے والےلئے اس کے راستوں کو منور کرتی ہے بلکہ پورا معاشرہ اس کی کرنوں  اور ضیاءپاشی سےمنورہوکراس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

(13) -  بغیر علم کے انسان کی مثال اس اندھے کی سی ہے جو تاریک راستے پر گامزن ہو،چنانچہ بغیرعلم کے انسان کو اپنی زندگی ادھوری اور اندھیر سی لگتی ہے۔ اور بارہا اس کےسامنے ایسے مواقع آتے ہیں جہاں علم کے بغیر اسے اپنی زندگی میں بہت بڑی کمی نظرآتی ہے اور وہ کئی بار اپنےآپ کو بے بس محسوس کرتاہے۔

(14) -  علم کی اہمیت کا پتہ اس سے بھی چلتاہے کہ عام حالات میں ایک مسلمان کےلئے کتا پالنا حرام ہے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی برتن میں منہ لگا دے تو اسے سات بار دھولنےکا حکم ہے ۔لیکن وہی پر الکلب المعلم(سکھایا اور سدھایا ہوا کتا) نہ یہ کہ اس کا رکھنا جائزہے بلکہ اس کا شکار بھی حلال  ہے،  یہاں تک کہ اگر آدمی بسم اللہ  پڑھ کر اسے شکار پرچھوڑتاہے اور اس نے شکارکرکے اسے مارڈالا پھربھی اس کا کھانا حلال ہے ۔ ہاں اگر اس نے خود بھی اس میں سے کھا لیا تو اسےنہیں کھایاجائےگا ،کیونکہ یہ شکار اس نے اپنے لیے پکڑا ہے۔(صحیح بخاری/5484، صحیح مسلم/1929)۔

حصولِ علم کے آداب:

علم ایک مقدس امانت اور نور ہے، اور اس نور سے وہی لوگ مکمل طور پر مستفید ہوتے ہیں جو اس کے آداب کا خیال رکھتے ہیں۔ علم حاصل کرنے کے اہم آداب درج ذیل ہیں:

(1)  -  علم کے حصول کےلئے نیت کی پاکیزگی (اخلاص)  بہت ضروری ہے ،علم صرف اللہ کی رضا،آخرت کی کامیابی ،جہالت کو دور کرنے، اور حق کو جاننے کے لیے حاصل کیا جائے، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"۔"تمام (اچھے) اعمال کا دارومدار نیت پر ہے"۔ (صحیح بخاری/1، صحیح مسلم/1907)۔ چنانچہ انسان جس نیت سے علم حاصل کرتاہے  اسی کے مطابق  اللہ تعالی اس کے ساتھ معاملہ کرتاہے۔

 (2)  -  شہرت ، فخر ومباہات ، یا محض دنیاوی مال و دولت کمانے کی نیت سے علم حاصل نہ کیا جائے۔ کیونکہ ریاء کاری اوردکھاوے کے لئے علم حاصل کرنے کا انجام قیامت کے دن بڑا بھیانک ہوگا ،جیساکہ حدیث میں ہے کہ :" قیامت کے دن جن تین افراد کے بارے  میں فیصلہ کیاجائےگا  ان میں سے ایک وہ شخص ہوگا جس نے علم حاصل کیا، دوسروں کو سکھایا اور قرآن پڑھا۔ اسے اللہ کے سامنے لایا جائے گا اور اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ ان کا اعتراف کرے گا۔ اللہ پوچھے گا:تو نے ان نعمتوں کے بدلے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا:میں نے تیرے لیے علم حاصل کیا، سکھایا اور قرآن پڑھا ۔اللہ فرمائے گا:تو نے جھوٹ کہا! تو نے تو علم اس لیے حاصل کیا تھا تاکہ تجھے 'عالم' کہا جائے اور قرآن اس لیے پڑھا تاکہ تجھے 'قاری' کہا جائے، سو وہ تو کہا جا چکا۔ پھر حکم دیا جائے گا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا"۔(صحیح مسلم/1905)۔

(3) -  طالب علم کےلئے ضروری ہے کہ وہ  تکبر اور غرور سے بچے، کیونکہ تکبر علم کی آفات میں سے ایک بڑی آفت ہے۔ جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے:

العلم حربٌ للفتى المتعالي  -    كالسيل حربٌ للمكان العالي

(علم مغرور اور تکبر کرنے والے جوان کا دشمن ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے سیلاب اونچی جگہ کا دشمن ہوتا ہے۔)

یعنی تکبر کرنے والا کبھی علم حاصل نہیں کر سکتا  جس طرح سیلاب کا پانی کبھی اونچی جگہ پر نہیں ٹھہرتا  اور دائیں بائیں ہوکر نیچے بہہ جاتا ہے  ویسے ہی علم کو تکبر وگھمنڈکے ساتھ استقرار حاصل نہیں ہوتا۔

(4)- استاد ومعلم کا احترام علم کی کامیابی کی پہلی شرط ہے۔استاد کی بات کو غور سے سننا، ان کی بات نہ کاٹنا، اور ان کے سامنے عاجزی اختیار کرنا ضروری ہے۔اور یہ بھی ضروری اور علم کے آداب میں سے ہےکہ اپنے اساتذہ اور معلمین کے لیے ہمیشہ خیر و برکت کی دعا کی جائے۔

(5) - طالبِ علم کےلئے  اپنے اندر عاجزی اور انکساری پیدا کرنا ضروری ہے جو اسے متواضع ، منکسر المزاج  اور صبر وثبات کا خوگر بناتا ہے۔

(6)  -  بوقت ضرورت لاعلمی کا اظہار بھی علم اورصاحب علم کے آداب میں سے ہے، چنانچہ اسےجو بات معلوم نہ ہو، اس پر بلا جھجھک "مجھے نہیں معلوم" کہنے کا حوصلہ رکھنا چاہئے۔

(7) - کتاب کی قدر وقیمت پہچاننا ایک طالب علم کےلئےضروری اور اہم ہےجیسے:کتاب کو ادب سے رکھنا، اس کا بے جا استعمال نہ کرنا ، اسے جب بھی موقع ملے مطالعہ اور مراجعہ میں لانا ۔

 (8) -  وقت کی قدر وقیمت پہچاننا ایک طالب علم کےلئےضروری ہے بلکہ حصول علم میں وقت کی ناقدری علم میں ناپختگی کا اہم سبب ہوتاہے۔ چنانچہ اپنے وقت کو فضول کاموں اور سستی اور لاپرواہی میں ضائع نہ کرنا  علم میں نکھار اور پختگی کا سبب ہے اس لئے ایک طالب علم کو زیادہ سے زیادہ وقت  نصوص کے حفظ ، مطالعہ اور تحقیق کو دینا چاہئے ۔

(9) -  حصول علم میں سوال کرنے کا سلیقہ صلاحیت کے لئے مہمیز اور علم کےتئیں  تحریص اور تحریک کا کام کرتاہے کیونکہ علم کی کنجی سوال ہے۔لیکن  ضروری ہے کہ سوال ہمیشہ سیکھنے اور سمجھنے کی نیت سے کیا جائے، استاد کو آزمانے یا نیچا دکھانے کے لیے نہیں۔ صحیح وقت پر اور با  ادب طریقے سے سوال پوچھا جائے۔

(10) - حصول علم کےلئےگناہوں سے پرہیزاور باطنی پاکیزگی ضروری ہے کیونکہ علم ایک نور ہے اور گناہ اندھیر ا اور نور اور اندھیرا ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ اپنے دل اور فکر کو بری باتوں، حسد، اور برے کاموں سے پاک رکھنا  علم کے اہم اورضروری آداب میں سے ہے ،امام شافعی رحمہ اللہ کا  مشہورشعرہے:

شَكَوتُ إِلى وَكِيعٍ سوءَ حِفظي    فَأرشَدني إِلى تَركِ المَعاصي

وأخبرني بِأنَّ العلمَ نورٌ              ونورُ اللّهِ لا يُهدى لِعاصي

(میں نے (اپنے استاد) وکیع سے اپنے حافظے کی کمزوری کی شکایت کی، تو انہوں نے مجھے گناہوں کو چھوڑ دینے کی ہدایت فرمائی۔

اور مجھے بتایا کہ بے شک علم  ایک نور ہے اور اللہ کا نور کسی گناہ گار ونافرمان کو تحفے میں نہیں دیا جاتا۔)

(11)  -  عمل بالعلم  یعنی  جو کچھ بھی  سیکھا ہے اس پر عمل کرنا علم کا نہایت  ہی  ضروری اور لازمی حصہ ہے کیونکہ علم کا اصل مقصد ہی اس پر عمل ہوتا ہے ، اس لئے جو کچھ سیکھا جائے اس پر خود عمل کرنا علم کا سب سے بڑا ادب اور اس کی حفاظت کی عملی تطبیق ہے۔ عمل کے بغیر علم اس درخت کی طرح ہے جس پر پھل نہ ہو یا وہ چراغ جس کےاندرتیل تو ہے لیکن اس کےاندرروشنی  پھیلانے کی صلاحیت نہیں ہے۔

(12)  -  علم کے حصول کے بعد اور آنے والی زندگی میں  خاص طور سےشرعی علوم کے تئیں یہ ضروری ہے کہ علم کے آداب اور اس کے حقو‍ق کی پاسداری کی جائے اور اس کی تطبیق وتعامل اور تعلیم ودعوت میں سلف کے منہج کی اتباع کی جائے ،کیونکہ پوری اسلامی تاریخ میں جن لوگوں نے سلف کے منہج سے ہٹ کر شرعی علوم کی تطبیق کی یا  اس کے افہام وتفہیم میں تعقل پسندی اور منطق وفلسفہ کی راہ اختیارکی وہ گمراہ ہوئے جس کے نتیجے میں  بےشمار باطل نظریات اورعقائد نے جنم لئے۔

اللہ تعالی ہمیں صحیح علم کے حصول کی توفیق عطافرمائے اورکتاب وسنت پر سلف صالحین کے فہم  کے مطابق عمل کی توفیق عطافرمائے۔ وصلی اللہ علی محمد وآلہ وسلم۔

********

 

 

 

 

کوئی تبصرے نہیں: