منگل، 20 مارچ، 2018

جھوٹ اور اس کےنقصانات

جھوٹ اوراس کے نقصانات

عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی

   جھوٹ زبان  سے متعلق بدترین گناہوں میں سے ایک دینی ومعاشرتی برائی ، لامتناہی خرابیوں کاسبب ، نقاق کا جزء اور ایمان کے فقدان کا سبب ہے، جس کےانسان اورمعاشرےپر بےپناہ اضرارونقصانات کی وجہ سےشریعت اسلامیہ نے اسے کبیرہ گناہوں کے زمرےمیں رکھاہے۔جھوٹ اورجھوٹوں کے بارے میں اللہ تعالی کافرمان ہے:(وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ)۔(ہرجھوٹے گناہ گارکے لئے ہلاکت ہے)،نیزفرمایا:(وَاجْتَنِبُواقَوْلَ الزُّورِ)۔ (جھوٹی بات سے بچو)۔نیز فرمایا:(إِنَّ اللَّهَ  لَا يَهْدِي  مَنْ  هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّاب) ۔(اللہ تعالی حق کوجھوڑ کراورباطل  کواختیارکرکے حدسےتجاوز کرنےوالےجھوٹےکو ہدایت نہیں دیتا)،نیزفرمایا:(اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ۚ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ)۔( وہ لوگ جو اللہ تعالی کی آیات پرایمان نہیں رکھتے  وہ جھوٹ گھڑتے ہیں ، اور یہ لوگ صحیح معنوں میں جھوٹے ہیں)۔(النحل/105)

اسی طرح جھوٹ اورجھوٹوں سے متعلق ذخیرہ احادیث میں بے شمارروایتیں موجود ہیں جن میں سے چندایک کوبیان کردینا مناسب سمجھتا ہوں :

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"وإياكم والكذب فإن الكذب يهدي إلى الفجور و إن الفجور يهدي إلى النار ، وما يزال الرجل يكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا"۔"جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ فسق وفجور کی طرف لے جاتاہے ، اور فجورجہنم کی طرف لے جاتاہے ، اور آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتاہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں کذاب لکھ دیاجاتاہے" ۔(صحیح بخاری/6094، صحیح مسلم/2607)۔  نیز فرمایا :"أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا أَوْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْ أَرْبَعَةٍ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ"۔" چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں بھی وہ ہوں گی، وہ منافق ہو گا۔ یا ان چار میں سے اگر ایک خصلت بھی اس میں ہے تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے۔ یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ جب بولے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے، جب معاہدہ کرے تو بے وفائی کرے، اور جب جھگڑے تو بد زبانی پر اتر آئے"۔(صحیح بخاری/2459،صحیح مسلم/58)۔

جھوٹ اور اس  کی شناعت سے متعلق ان روایتوں کےعلاوہ  بھی  بے شمار روایتیں ہیں ۔اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں ہر دوسرا آدمی جھوٹ بولتاہوا نظرآتاہے ،گھریلو معاملات سے لےکر تجارت تک سب اس  کے دام فریب کے شکار ہیں۔آج ہم اسی موضوع سے متعلق قارئین کے سامنےچند باتیں رکھنا چاہتےہیں۔چنانچہ اصل موضوع کی طرف آنے سے پہلے اس سےمتعلق چند وضاحتیں  پیش خدمت  ہیں :

جھوٹ کی تعریف:

جھوٹ کو عربی میں کذب کہاجاتاہے جو صدق وسچائی کاضد ہے ، لفظ "کذب"  کا ذکر قرآن مجید میں تقریبا 251 بار ہوا ہے ۔ کذب  کی تعریف ہے:"الكذب:هومخالفة الكلام للواقع"۔"یعنی حقیقت کے خلاف کرنےکو جھوٹ کہاجاتاہے" ۔ حافظ ابن حجر کے بقول :"والكذب هو الإخبار بالشيء على خلاف ماهو عليه، سواء كان عمدًا أم خطأً"۔"حقیقت کے خلاف خبردینا خواہ جان بوجھ کرہو یا سہوا ہو کذب ہے "۔ فتح الباری:1/201)۔ اورامام نووی لکھتےہیں کہ:"حقیقت کے خلاف خبردیناجھوٹ ہے جان بوجھ کرہوخواہ سہوا اوروہ خبرماضی سے متعلق ہوخواہ مستقبل سے"۔(المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج:1/69)۔

جھوٹ کی مختلف شکلوں کے بارے میں امام راغب اصفہانی  لکھتے ہیں : "جھوٹ  کہتے ہیں :  یاتو کوئی بے بنیاد کہانی گھڑلی جائے یا کسی قصےکہانیوں میں  حذف واضافہ کیاجائے ، جو اس کے مفہوم کو بدل دے یا عبارت کے اندرتحریف کردی جائے ، اگرکہانی گھڑی جائے تو اسے افتراء کہتے ہیں اور کمی وزیادتی کو "مَيْنٌ" کہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اگرکوئی جھوٹ بولتاہے تویاتو جس کے بارے میں جھوٹ بولتاہے وہ موجودہو یا موجودنہ ہو ، اگرموجود ہے تو یہ بہتان ہےاوراگرموجودنہیں ہےتویہ کذب ہے،اوراگرکوئی سنی ہوئی جھوٹی بات بیان کرتاہےتو اسے "إفكٌ  "کہتے ہیں "۔

جھوٹ کے اسباب:

جھوٹ بولنے کے چند اسباب ہیں جیسے : انسان عادتاجھوٹ بولتاہے ، یا پھرطمع ولالچ کے سبب یا پھربغض وحسد اور عداوت ودشمنی کی وجہ  سے،اور اسی طرح اپنے باطل نظریات وعقائد کی ترویج کی خاطر وغیرہ۔

جھوٹ کی قسمیں:

جھوٹ کی بنیادی طورپر دو قسمیں ہیں : قولی  اور عملی ۔ اور ان  کی ذیلی تین قسمیں ہیں :

 (1) - اللہ اور رسول پرجھوٹ : جس کی  سب سے قبیح صورت  ہے ان چیزوں کو حلال قراردینا جنہیں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ  وسلم نے حرام قرار دیا ہے اور ان چیزوں کوحرام  قراردینا جنہیں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ  وسلم نے حلال  قرار دیا ہے، اللہ تعالی فرماتاہے :" وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِه)۔(اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پرجھوٹ باندھے یا اس کی آیات کوجھٹلائے)۔ (الانعام/21)، نیزفرمایا:(وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ  تَرَى الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى اللَّهِ  وُجُوهُهُم  مُّسْوَدَّةٌ )۔(قیامت کےروزان لوگوں کوجنہوں نے اللہ پرجھوٹ باندھا دیکھوگے کہ ان کا  چہرہ کالا پڑجائےگا)۔(الزمر/60)۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"إنَّ كَذِبًا عَلَيَّ ليسَ كَكَذِبٍ علَى أَحَدٍ، مَن كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"۔"میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جس  شخص نےبھی میرے اوپرجھوٹ باندھا وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے "۔ (صحیح بخاری/1291 ، صحیح مسلم/4)۔

(2) -عام لوگو ں  سےان  کی عزت ودولت سے متعلق جھوٹ بولنا : اس  کے چندواضح  مظاہرمیں سےکچھ یہ ہیں :

پہلا : شہادۃ الزور یعنی جھوٹی گواہی : جھوٹ کی اس قسم کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے ساتھ شرک اور والدین کی نافرمانی کے ساتھ ذکرکرتے ہوئے اکبرالکبائر قراردیاہے ، ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:"  أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِالْكَبَائِرِ؟" ۔"  کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں"، ہم نے عرض کیا ضرور بتائیے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ"۔" اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا"۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا:" أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ، أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ"۔"  آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی (سب سے بڑے گناہ ہیں) آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی"۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے مسلسل دہراتے رہے اور میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش نہیں ہوں گے ۔اوربعض روایتوں میں ہےکہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جملے کو اتنی مرتبہ دہرایا کہ ہم کہنے لگے: کاش! آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جاتے "۔( صحیح بخاری/5976 ، 2654، صحیح مسلم/87)۔ 

دوسرا : جھوٹی قسم کھانا :  یہ جھوٹ شہادۃ الزور کی قسم میں سے ہے ، اس کےاندرجھوٹا اپنی جھوٹ کے ساتھ جھوٹی قسم ملاتاہے ، چنانچہ یہ  پہلے والے سے سخت جرم اور زیادہ گناہ والاہے ۔اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے اور ایک شخص کے درمیان ایک کنویں کو لے کر جھگڑا تھا، چنانچہ ہم دونوں اس مقدمے کے فیصلے کے لیے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: "تم دو گواہ لاؤ، ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہوگا"۔ میں نے عرض کیا: وہ تو قسم کھالے گا اور کچھ پروا نہ کرے گا! آپ ﷺ نےفرمایا: "مَن حَلف على يمينِ صَبْرٍ، يَقْتَطِعُ بها مالَ امرىءٍ مُسلمٍ، هو فيها فاجِرٌ، لَقِيَ الله وهوعليه غضبانُ "۔ "جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کے مال کو ہتھیا لے اور اس کی نیت بری ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا"۔(صحیح مسلم/138،نیز دیکھئے:صحیح بخاری/6659)۔

تیسرا : خریدوفروخت میں جھوٹ بولنا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :"الْحَلِفُ مُنَفِّقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مُمْحِقَةٌ لِلْبَرَكَةِ "۔اورمسنداحمدکی روایت میں ہے:"الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ"۔" یعنی  قسم کھانے سے سامانِ تجارت کا تو فروغ ہوتا ہے، لیکن قسم سے برکت اٹھا لی جاتی ہے"۔(صحیح بخاری/2087، صحیح مسلم/1606مسنداحمد/7206)۔ اورابو ذررضی الله عنہ سے مروی ہےکہ رسول  اکرم صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا :" ثَلاثَةٌ لا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ ولا يَنْظُرُ إليهِم ولا يُزَكِّيهِمْ ولَهُمْ عَذابٌ ألِيمٌ : المَنَّانُ الذي لا يُعْطِي شيئًا إلَّا مَنَّهُ، والْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بالحَلِفِ الفاجِرِ، والْمُسْبِلُ إزارَهُ"۔"تین شخص ایسے ہیں، جن سے قیامت کے دن اللہ تعالی نہ بات کرےگا، نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھےگا، اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرےگا، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے: کسی کو کچھ دےکر اس پراحسان جتانے والا ،جھوٹی قسم سے اپنے سامانِ تجارت کو فروغ دینے والا اورٹخنوں سے نیچے اپنا تہبند گھسیٹ کر چلنے والا"۔) صحیح مسلم/106 )۔

چوتھا:مذا ق وسخریہ کے مقصد سے جھوٹ بولنا : یہ بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" ويلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ بالحدِيثِ لِيُضْحِكَ بِهِ القوْمَ فيَكَذِبُ ويلٌ لَهُ ويلٌ لَهُ" ۔"تباہی  ہے اس آدمی کے لئے جولوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتاہے ، تباہی ہے اس کے لئے ، تباہی  ہے اس کے لئے "۔  (سنن الترمذی/2315 ،سنن ابی داود/4990 ، علامہ البانی رحمہ  اللہ نےاسےحسن قراردیاہے )۔

پانچواں : لوگوں کے درمیان بگاڑ وفساد پیداکرنے  کے لئے جھوٹ بولنا: لوگوں کے درمیان بگاڑ پیداکرنے کےلئے آدمی اگر کسی کی بات اگرچہ صحیح ہو نقل کرتاہے تو اسے شریعت میں نمام یعنی چغل خورکہاجاتاہےجو سراسرحرام ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"لَايَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ"۔" چغل خورجنت میں نہیں جائے گا"۔(صحیح بخاری/6056 ، صحیح مسلم/105)۔ چنانچہ اگرکوئی جھوٹی بات کے ذریعہ لوگوں کے درمیان فتنہ اور فساد پیدا کرتاہے تو اس کا اس کا دوہرا گناہ ہوگا ،ایک جھوٹ کا  اور دوسرے چغل خوری کا۔

(3) - عام لوگوں سے ان  چیزوں میں جھوٹ بولنا جو ان کی عزت ودولت سے متعلق نہ ہو: جھوٹ کی یہ قسم گرچہ  پہلے والے سے اخف ہے لیکن نہایت ہی مذموم ہے ، جیسے آدمی اپنی بڑائی  جتانے کے لئے ایسی چیزکا دعوی کرے جو اس کے اندرنہیں ہے ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :"۔" مَنِ ادَّعَى مَالَيْسَ لَهُ فَلَيْسَ مِنَّاوَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"۔"جس کسی نے ایسی چیزکا دعوی کیا جو اس  کی نہیں  ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے " ۔(سنن ابن ماجہ/2319 ، علامہ البانی نے اسے صحیح کہاہے)۔

اسی میں سے جھوٹا نسب بیان کرنا ہے:چنانچہ بعض لوگ اپنی قوم کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں اورسادات کی طرف اپنی نسبت کرلیتے ہیں تاکہ عوام کی نگاہوں میں محترم ہوں ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :"لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلَّا كَفَرَ وَمَنِ ادَّعَى قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"۔" جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ بنایا تو اس نے کفر کیا اور جس شخص نے بھی اپنا نسب کسی ایسی قوم سے ملایا جس سے اس کا کوئی (نسبی) تعلق نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے"۔(صحیح بخاری/3508،صحیح مسلم/61)۔

 نیز اسی میں سے جھوٹا خواب بیان کرناہے: جھوٹے خواب  بیان کرنےوالے کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "مَن تحلَّم كُلِّف أنْ يعقِدَ بيْنَ شعيرتَيْنِ وليس بفاعلٍ"۔"جس نے ایساخواب بیان کیا جو اس نے نہیں دیکھاتو اسےقیامت  کے روز دو جو کے درمیان گانٹھ لگانے کے لئے کہاجائے گا جب کہ وہ اسے ہرگز انجام نہیں دے سکتا"۔(صحیح بخاری/7042، صحیح مسلم/2110 ) ۔

جھوٹ کے نقصانات  :

شرعی لحاظ سے اور اسی طرح  شخص ومعاشرہ پرجھوٹ کے بےشمار نقصانات ہیں، جن میں سےچنددرج ذیل ہیں:

* - جھوٹ کبیرہ  گناہوں میں سے ایک ہے ۔

* - جھوٹ نفاق کی علامتوں میں سے ایک ہے ۔

* - جھوٹ انسان کی مروءت وکرامت کے خلاف ہے،چنانچہ جھوٹ بولنے والے سے لوگوں کا بھروسہ اٹھ جاتاہے ،چنانچہ اگر کبھی وہ  سچ  بھی  بولتاہے لوگ  اس پر بھروسہ نہیں کرتے ۔

 * - جھوٹ ذلت ورسوائی کا سبب ہے ۔

* - جھوٹ  کی وجہ سے انسان عذاب الہی کا مستحق بن جاتاہے ، چنانچہ منافقین کے سلسلے میں اللہ تعالی فرماتاہے: ) وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ)۔(ان کے جھوٹ کی وجہ سے ان کے لئے دردناک عذاب ہے )۔ (البقرہ/10)۔

 * - جھوٹا اللہ کی لعنت کا مستحق قرار پاتا ہے،لعان کے مسئلہ کو بیان کرتے ہوئےاللہ تعالی ارشادفرماتاہے:( وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ) ۔ (پانچویں بار میں اس سے کہاجائےگا کہ اگروہ جھوٹوں میں سے ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہوگی )۔(النور/7)۔

* - جھوٹ ایک دوسرے پربھروسہ کو کمزورکردیتا ہے جس کی وجہ لوگ ایک دوسرےکے خلاف  کینہ ، بغض ، حسد،افتراء ،بہتان ، اورتجسس کے شکارہوجاتے ہیں ۔

* - جھوٹ انسان کے اندر تعلی اور خودنمائی پیدا کرتاہے ۔

  * - جھوٹ بولنا قیمتی وقت کا ضیاع بھی ہے کیونکہ جھوٹا اپنے جھوٹ کی ترویج کے لئے مختلف قسم کے حیلہ اور نئےنئے طریقہ کی جستجو میں وقت ضائع کرتا رہتاہے ۔

* - جھوٹا بداخلاقی اور دوسروں کی بے عزتی  کرنے کا ارتکاب کرنے میں کو‏ئی عار نہیں سمجھتا ۔

* - جھوٹ روح وجسم کی پاگیزگی کو ختم کردیتاہے ۔

 * - جھوٹ معاشرے میں  فساد و بگاڑکا سبب ہے ۔  

* - جھوٹ کی وجہ سے سچائی مسخ ہوجاتی ہے اور برائیاں عام ہوجاتی ہیں ۔

* - حقائق مسخ ہونے اور بے ایمانی کے پھیلنے میں جھوٹ کا بہت بڑا دخل ہوتا ہے ۔

* -جھوٹا اللہ کی ہدایت سےمحروم ہوتاہے:اللہ تعالی فرماتاہے: (إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ)۔(اللہ تعالی جھوٹے کافرکو ہدایت نہیں دیتا )۔(الزمر/3)۔

* - خریدوفروخت کے معاملات میں جھوٹ برکت کو ختم کردیتاہے  ، چنانچہ خریدوفروخت کرنے والے سچائی اور حقیقت بیانی کے ساتھ لین دین کرتےہیں توان کی تجارت میں برکت ہوتی ہے اور اگردھوکااور جھوٹ کے ساتھ کرتے ہیں توان کی تجارت میں برکت ختم کردی جاتی ہے،حکیم بن حزام رضی اللہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ :" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ قَالَ حَتَّى يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا، بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا، مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا"۔" خریدنےاوربیچنے والے دونوں فریقوں کو اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں۔ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور حقیقت کو واضح کریں تو ان کی بیع میں برکت ڈالی جاتی ہے، اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور (عیب وغیرہ) چھپائیں تو ان کی بیع سے برکت مٹا دی جاتی ہے"۔(صحیح بخاری/2079، صحیح مسلم/1532)۔

* - جھوٹ سے لوگوں کے حقوق ضائع ہوتے ہیں ۔

* - جھوٹ کی وجہ سےصدق وسچائی کی ساری  اعلی وارفع خوبیاں ضا‏ئع ہوجاتی ہیں ۔

* - جھوٹ فسق وفجور کی جڑ اوربنیاد ہےچنانجہ وہ  آدمی کےلئے فسق وفجور کے دروازے کھول دیتاہے ۔  

* - بہت سارے گھراورخاندان کے انتشار کا سبب جھوٹ ہوتاہے ۔

* - جھوٹ انسان کے اندرسے اللہ کاخوف زائل کردیتا ہے اور رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت صرف دکھاوے کے لئے ہوتی ہے۔

 * - جھوٹ  فرائض واجبات کی ادائگی سے محروم کردیتاہے۔

* - جھوٹ ضمیر کو مردہ کردیتاہےاورآدمی کے شعورواحساس کو مضمحل کردیتاہے ۔

* - جھوٹ خواہش نفس کا پیروکاربنا دیتاہے ۔

* - جھوٹ کافروں کا شیوہ ہے ۔  

* - اگلی امتیں اپنے  کفر اور کذب کی وجہ سے ہلاک کردی گئیں ۔

 * - جھوٹ کے برخلاف صدق وصفا ابنیاء وصالحین کاوطیرہ رہاہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کے مقرب ومحبوب بندے قرار پائے ۔

جھوٹ اور مصلحتیں:

بعض  دوررس مصلحتوں کے پیش نظر  بعض حالات میں جھوٹ کو مباح قراردیاگیاہے جیسا کہ صحیح سندوں سے مروی روایتوں  میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ عیلہ وسلم نے ارشادفرمایا:" لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِي خَيْرًا "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَمْ أَسْمَعْ يُرَخَّصُ فِي شَيْءٍ، مِمَّا يَقُولُ: النَّاسُ كَذِبٌ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: الْحَرْبُ، وَالْإِصْلَاحُ بَيْنَ النَّاسِ، وَحَدِيثُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ، وَحَدِيثُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا"۔ "وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں میں صلح کرائے اور اچھی بات کہے اور اچھی بات پہنچائے"۔ ابن شہاب نے کہا: لوگ جو جھوٹی باتیں کرتے ہیں، میں نے ان میں سے تین کے سوا کسی بات کے بارے میں نہیں سنا کہ ان کی اجازت دی گئی ہے: جنگ اور جہاد میں، لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے اور خاوند کا اپنی بیوی سے (اسے راضی کرنے کی) بات اور عورت کی اپنے خاوند سے (اسے راضی کرنے کے لیے) بات۔(صحيح مسلم/2605)۔

اورام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بات میں جھوٹ بولنے کی اجازت دیتے نہیں سنا، سوائے تین باتوں کے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:" میں اسے جھوٹا شمار نہیں کرتا: ایک یہ کہ کوئی لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور کوئی بات بنا کر کہے، اور اس کا مقصد اس سے صرف صلح کرانی ہو، دوسرے یہ کہ ایک شخص جنگ میں کوئی بات بنا کر کہے، تیسرے یہ کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کوئی بات بنا کر کہے اور بیوی اپنے شوہر سے کوئی بات بنا کر کہے"۔(سنن ابی داود/4921، علامہ البانی نے اسے صحیح کہاہے)۔

چنانچہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو آدمیوں یا دو گروہوں میں سخت نزاع اور رنجش ہے،ہر فریق دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف باتیں کرتا ہے،ان میں بعض باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں،جو باہمی اختلاف اور نزاع کو ختم کرنے یا کم از کم،کم کرنے کا باعث بن سکتی ہیں،ایسی صورت میں اگر کوئی نیک نیت اور مخلص انسان دونوں فریقوں میں صلح کرانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لیے ایک فریق کی طرف سے دوسرے فریق کو خیر اندیشی کی باتیں پہنچاتا ہے،جن سے عداوت و اختلاف کی آگ ٹھنڈی ہو سکے اور خوش گمانی اور مصالحت کی فضا پیدا ہو سکے اور ایک دوسرے کی مخالفت و عداوت میں کہی گئی باتیں چھپا لے تو یہ اچھی اور بہتر بات ہے،اسی طرح جنگ و جدال میں توریہ و تعریض سے کام لیا جا سکتا ہے اور میاں بیوی ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لیے ایک دوسرے سے محبت و پیار کے اظہار میں مبالغہ سے کام لے سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے اچھے اچھے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں تو یہ جھوٹ نہیں ہے۔

جھوٹ اور ہمارالمیہ:

 ایک وقت تھا کہ دیگر صفات حسنہ اور قوت ایمانی  کے ساتھ ساتھ صدق وصفا نے ہمارے اسلاف کے اندروہ  عزم وحوصلہ  پیداکردی تھی جنہوں نے نہایت ہی کم وقت میں دنیا کے گوشے گوشےکو اسلام کی حقانیت سے روشناس کرادیاتھا۔ لیکن ہمارا یہ المیہ ہے کہ ہم نے جھوٹ کو گُناہ سمجھنے کے بجائے ہنر سمجھ لیا ہے، جھوٹ بول کر سودا کرنا، جھوٹ بول کر ووٹ لینا، جھوٹ بول کر حکومت کرنا اور جھوٹ کے ذریعے اپنی بددیانتی کو عین دیانت داری ثابت کرنے کا عمل ہمارے اندر رچ بس گیا ہے ہم توقع یہ رکھنے لگتے ہیں کہ جھوٹ سوچ کر ،جھوٹ بول کر ،جھوٹ پر عمل کرکے ہمیں وہ فائدے حاصل ہوں گے جو سچ کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں۔لیکن  یادرہے کہ جھوٹ کے بیج سے سچ کی فصل کاشت نہیں کی جاسکتی ۔

آج کے پرآشوب دور میں جھوٹ کو رواج دینے کے بہت سارے وسائل جدید ٹکنالوجی کی شکل میں موجود ہے الکٹرانک اور سوشل میڈیا نے جھوٹ کو پھیلانے کا بہت بڑاکام کیاہے ۔ چشم زدن میں جھوٹ پورے معاشرے کو اپنی چپیٹ میں لے لیتا ہے اورپورامعاشرہ اس  کے بھیانک انجام سے دوچارہونے لگتاہے ۔ بسااوقات اس کی وجہ ہےقتل وغارت گری جیسے جرائم کا ارتکاب ہونے لگتاہے ۔  ایسے وقت میں سچائی کی  اہمیت اور فوا‏ئد اورجھوٹ کے بھیانک انجام کو  پوری طاقت اور ہمت وحوصلہ کےساتھ بیان کرنے کی سخت ضرورت ہےتاکہ ہمارامعاشرہ امن وشانتی کاگہوارہ بن سکے۔

اللہ رب العزت سےدعاءہے کہ اللہ تعالی ہمیں صدق وسچائی کاپیکربنائےاورجھوٹ جیسے عظیم گناہ سے بچنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین ، وصلی اللہ علی خیرخلقہ وسلم ۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ 

 

*********

 

بدھ، 17 مئی، 2017

عرفہ کےدن کا روزہ : احکام وفضائل اور بعض شبہات کا ازالہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد لله وحده والصلاة والسلام على من لا نبي بعده,وبعد:
عرفہ کادن :   
یوم عرفہ کو یوم عرفات بھی کہتے ہیں کیونکہ حج کے ایام میں نویں ذی الحجہ کو حاجی حج کے ایک اہم  رکن کی ادائیگی کے لئے  مقام عرفات میں اکٹھا ہوتے ہیں جو مکہ  سے قریب بائیس کیلو میٹر کی مسافت پر ایک پہاڑی کا نام ہے ۔( معجم المعانی اور لغت کی ديگر کتب ،  مادہ : "عرف") اہل لغت کی تصریح کے مطابق  عرفہ کے دن کی تعیین میں زمان ومکان دونوں ایک دوسرے سے مرتبط ہیں۔ 
نیز عرفہ کے دن  کی تعیین کے سلسلے میں عام طور پر اہل لغت  لکھتے ہیں کہ  عرفہ  ذی الحجہ کا نواں دن ہے (دیکھئے : " القاموس الفقهي " " معجم لغة الفقهاء " ، اسی طرح دیگر  شروح كتب السنۃ ( ۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ عرفہ کا دن ذی الحجہ کی نویں تاریخ کوہی پڑتاہے اور ذی الحجہ کا اعتبارمکہ ونواحی کی رؤیت کے اعتبار سے ہوتاہے کیونکہ عرفہ کا دن حج کے اعمال سے متعلق ہے جو بلاشبہ مکہ کی رؤیت کے اعتبارسے ہی ہوتاہے۔
عرفہ کی وجہ تسمیہ کے بارے میں امام ابن قدامہ فرماتے ہیں :" فأما يوم عرفة : فهو اليوم التاسع من ذي الحجة ، سمي بذلك لأن الوقوف بعرفة فيه،وقيل : سمي يوم عرفة لأن إبراهيم عليه السلام أري في المنام ليلة التروية أنه يؤمر بذبح ابنه، فأصبح يومه يتروى، هل هذا من الله أوحلم ؟ فسمي يوم التروية،فلما كانت الليلة الثانية رآه أيضا فأصبح يوم عرفة، فعرف أنه من الله، فسمي يوم عرفة " (المغني : 4/ 442 )" عرفہ کا دن ذی الحجہ کی نویں تاریخ  ہے یہ نام اس لئے پڑاکہ اسی دن وقوف عرفہ ہوتاہے ، اور کہاجاتاہے کہ يوم عرفہ کانام  یوم عرفہ اس لئے پڑاکیونکہ ابراہیم علیہ السلام کویوم ترویہ کی رات میں خواب میں دکھایاگیا کہ انہیں اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کاحکم دیاجارہاہے ، پھر وہ پورے دن اس غور و فکر میں رہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے یا پھرمحض ایک خواب ؟ اسی وجہ سے اس دن کا نام یوم ترویہ پڑا  ،پھر دوسری رات بھی آپ کو یہ خواب دکھایاگیا پھرجب عرفہ کی صبح ہوئی تو آپ جان گئے کہ یہ اللہ کی جانب سے (حکم) ہے ، اسی وجہ سے اس کا نام عرفہ کا دن پڑا"۔
اس کے علاوہ بھی عرفہ یا عرفات کی وجہ تسمیہ سے متعلق بہت سارے اقوال مفسرین نے نقل کئے ہیں جن میں آدم علیہ السلام کا اس جگہ کو پہچاننا , آدم وحواء علیہما السلام کا اسی مقام میں ایک دوسرے کو پہچاننا ، ابراہیم علیہ السلام کا جبریل علیہ السلام کے ذریعہ بتانے پر حج کے ارکان کا پہچاننا اور لوگوں کا اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا وغیرہ ۔(ان سارے اقوال کے لئے دیکھئے : " تفسسير الطبري : 2 / 297 ) ، البحر المحيط :2 / 275 (( فإذا أفضتم من عرفات ... الآية , کی تفسیرمیں  )) ،اور اسی طرح  " لسان العرب لابن منظور : 4 / 2898  = مادة : (عرف ) ۔
یوم عرفہ کے دیگر نام :
اس دن کو عرفہ کے علاوہ بھی کئی ناموں سے جانا جاتا ہے  ، مثلا : یوم التمام ، یوم الحج الاکبر، المشھود،الوتراور یوم الرضاء وغیرہ ۔
عرفہ کے دن کی فضیلت  :
عرفہ کے دن   کی نصوص قرآن وسنت میں  بہت بڑی فضیلت وارد ہے   ، مثلا :
1 -  عرفہ کا دن اہل موقف کے لئے عید کا دن ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "يوم عرفة ويوم النحر وأيام منى عيدنا أهل الإسلام"(رواه أحمد/16932أبوداود:7/63 رقم/ 2419,الترمذي :3/417 رقم/768 والنسائي: 5/278رقم 3006وصححه الألباني في صحيح سنن أبي داؤد رقم/2090الإرواء :4/130) یعنی :" عرفہ ، نحر(قربانی) اور منی کے ایام ہم اہل اسلام کے لئے عیدکے دن ہیں "۔
2 –  اس روز دعاء کا خاص مقام ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :"خير الدعاء دعاء يوم عرفة " یعنی : "سب سے بہترین دعاء عرفہ کے دن کی دعاء ہے" (الترمذي:رقم /3585 وحسنه الألباني في صحيح الترمذي وتخريج مشكاة المصابيح :رقم/2531) .
3 – عرفہ کے دن اللہ تعالی کثرت سے لوگوں کو جہنم سے رہا کرتاہے  اللہ کے رسول صلى الله عليہ وسلم کا ارشادہے : " ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبدا من النار من يوم عرفة"( صحيح مسلم / 1348)
یعنی : " عرفہ کے دن سے زیادہ اللہ تعالی کسی دن بندوں کو آزاد نہیں کرتا"۔
4 – اللہ تعالی عرفہ میں وقوف کرنے والوں پر اہل آسمان کے درمیان فخرکرتاہے  ، اللہ کے رسول صلى الله عليہ وسلم کا ارشادہے :  "إن الله يباهي بأهل عرفات أهل السماء"( رواه أحمد وصحح إسناده الألباني " اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :"وإنه ليدنو ثم يباهي بهم ......." " اللہ تعالی قریب ہوتاہے پھر ان پرفخرکرتاہے " (صحیح مسلم / 1348 )۔
5 -   اسی دن دین اسلام کی تکمیل ہو‏ئی اورنعمت کا اتمام ہوا۔(صحیح البخاری : 4606 )
6 –  اس دن کی اللہ تعالی نے مختلف آیتوں میں قسم کھائی ہے جو اس دن کی اہمیت ومرتبہ کو بیان کرتاہے ، جیسے سورۃ البروج میں " مشھود" (البيهقي فی السنن :" 3/170 ، الترمذی :رقم/3339  وحسنه الالبانی في الصحيحة رقم/1502) اور بتفسیر عکرمہ وضحاک سورۃ الفجرمیں " الوتر" ۔ (دیکھئے : تفسیر الطبری وغیرہ )
7 – اسی دن اللہ تعالی نے بنی آدم سے توحید پر عہدومیثاق لیاتھا ۔ ( رواہ احمد/2455 ،والحاكم /75    وصححہ الالبانی )
اس کے علاوہ بھی اور بہت ساری خصوصیات ہیں جو اس دن کو دیگر ایام سے ممتازکرتی ہیں ۔
عرفہ کے دن کے روز ہ کی فضیلت :
ابوقتادہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفہ کے دن کے روزہ سے متعلق پوچھاگیا تو آپ نے ارشاد فرمایا:"إني أحتسب على الله  أن يكفر السنة التي قبله  والسنة التي بعده ......" ( صحیح مسلم/1162 ) " مجھے اللہ تعالی سے امیدہے کہ   (اس روزے کے بدلے) اس سے پہلے والے سال اور اس کے بعدوالے سال کے گناہوں کو معاف فرمادیگا)۔
کیا حاجی مقام عرفات میں روزہ رکھ سکتاہے ؟ :
حاجی مقام عرفات میں روزہ رکھنے کے سلسلے میں علماء کی مختلف رائیں ہیں :
اول : مقام عرفات میں حاجی کے روزہ کے سلسلے میں روایت واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے عرفات میں  روزہ نہیں رکھا۔(دیکھئے :صحیح بخاری : 1658 ،صحیح مسلم /1123)  ۔                                                                      یہ قول مالکیہ ، شافعیہ کا معتمد قول ، حنابلہ  عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما  اور اکثر علماء کا ہے ۔
عبداللہ بن عمر فرمایا کرتے تھے کہ :"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ نہیں رکھا اورنہ ہی ابوبکرنےاورنہ ہی عمرنے    اور نہ ہی عثمان نے ،  اور نہ میں رکھتاہوں ،اور نہ میں اس کا حکم دیتاہوں اور نہ اس سے روکتاہو ں"۔(اسے امام ترمذی نے      روایت کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے ، دیکھئے : عارضۃ الاحوضي : 3/285 رقم /752  ، امام البانی نے اسے صحیح الاسناد قراردیا ہے ، صحیح سنن الترمذی : رقم /599)۔
امام ابن بازایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :"الحاج ليس عليه صيام عرفة وإن صام يخشى عليه الإثم ; لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن صوم عرفة بعرفة ولم يصم . وإن تعمد الصيام وهويعلم النهي يخشى عليه من الإثم لأن الأصل في النهي التحريم " " حاجی کےاوپرعرفہ کا روزہ نہیں ہے اور اگروہ روزہ رکھ لیتاہے تو اثم کا خطرہ ہے ، اس لئے کہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے  اور خود بھی نہیں رکھا ہے ۔ اوراگر ممانعت کوجانتے ہوئےبھی روزہ رکھتاہوتو آثم ہونے کا خطرہ ہے ، کیونکہ نھي میں اصل تحریم ہوتی ہے"(مجموع فتاوى ومقالات الشیخ ابن باز :15/405) .
دوم : اگرحاجی اس روز روزہ رکھنے پہ قادرہواور اس سے اس کی عبادات اور ذکرواذکارپر کوئی اثر نہ پڑتا ہوتو اس کے لئے روزہ رکھنا مستحب ہے  ، یہ قول حنفیہ کا ہے اور شافعیہ کا قدیم قول بھی یہی ہے ، اور اس کے قائلین میں سے قتادہ اورعطاء بھی ہیں ،صاحب عون المعبود لکھتے ہیں : "امام خطابی کے بقول : یہ ممانعت استحبابی ہے نہ کہ ایجابی ،اس روز حاجیوں کے لئے روزہ کی ممانعت اس لئے ہےکہ مبادہ اس مقام میں ذکرودعاء میں حاجی  کمزورپڑجائےگا،لہذاجوقدرت رکھتاہواورروزے کے ساتھ کمزروی کا خوف نہ ہوتواس کے لئے اس دن کا روزہ بمشئۃ اللہ افضل ہے ، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ کا (عمومی) فرمان ہے : " عرفہ کے دن کاروزہ  اس کے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد  دوسالوں  کے گناہوں کے لئے کفارہ ہے "۔حاجی عرفہ کے دن روزہ رکھ سکتاہے یا نہیں  ؟  اس سلسلےمیں لوگوں کی مختلف رائیں ہیں ، عثمان بن ابی العاص اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ دونوں روزہ رکھا کرتے تھے ،  امام احمد بن حنبل کہتے ہیں : "اگر روزہ رکھنے پہ قادرہے تو رکھےگا اوراگرنہیں رکھتاہے تو یہ ایسادن ہے جس دن  (دعاء وعبادت کے لئے ) قوت کی ضرورت پڑتی ہے " اور امام اسحاق اس دن حاجی کےلئے روزہ کو مستحب  سمجھتے تھے ۔ امام مالک ، امام سفیان ثوری اور اسی طرح امام شافعی   روزہ نہ رکھنے کے قائل تھے ۔ عطاءکہتے تھے کہ میں  جاڑے کے موسم میں روزہ رکھتاہوں اور گرمی میں نہیں رکھتاہوں ۔(عون المعبود :7/75- 76 ، نیزدیکھئے :دلائل الاحکام لابن شداد : 4299- 4305 ، الحاوی الکبیر : 3/472)۔                                                                                        سوم : اس روز روزہ رکھنا حاجی کے لئے مطلقا مستحب ہے ،  یہ قول عائشہ وعبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہما اور اسحاق بن راہویہ اور ظاہریہ کا ہے ۔(دیکھئے :مؤطاامام مالک: 1/375 ، شرح السنۃ للبغوی : 6/345-346  ،  تحفۃالاحوذی : 3/378)۔   
حاجیوں کے لئے اس دن روزہ نہ رکھنے کی حکمت  :
- تاکہ اس دن حاجی بلاکسی تھکاوٹ وپریشانی کے ذکرودعاء اور  عبادت میں خودکو یکسوئی کے ساتھ مشغول کرسکے۔
-   یہ دن اہل موقف کے لئے عید کا دن ہے ۔
-  اس دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں روزہ نہیں رکھا ۔
یوم عرفہ  کا روزہ اور اختلاف مطالع کا اثر :                                                                                                دائمی کمیٹی برائے فتاوی نے ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے  :
"يوم عرفة هو اليوم الذي يقف الناس فيه بعرفة ، وصومه مشروع لغير من تلبس بالحج، فإذا أردت أن تصوم فإنك تصوم هذا اليوم، وإن صمت يومًا قبله فلا بأس، وإن صمت الأيام التسعة من أول ذي الحجة فحسن؛ لأنها أيام شريفة يستحب صومها...." ( " فتاوى اللجنة " (10 / 393 ) " عرفہ کا دن وہی دن ہے جس دن لوگ (مقام ) عرفہ میں وقوف کرتے ہیں ، اور غیرحاجیوں کے لئے اس (دن) کا روزہ مشروع ہے ، اگرآپ روزہ رکھنا چاہتے ہیں تو اسی دن رکھیں ، اور اگرایک دن قبل رکھاہے تو کوئی حرج نہیں ہے ، اور اگرپہلی ذی الحجہ سے ہی نو دنوں تک رکھنا چاہیں تو اچھاہے ، اس لئے کہ یہ مبارک دن ہیں جن کاروزہ مستحب ہے ۔۔۔"۔
شیخ عبدالرحمن السحیم ایک استفتاء کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں  :
والعبرة بوقوف الناس في "عرفة "،ولا عبرة بِمن خالف إجماع امة الإسلام ،فأمّة الإسلام تحج وتقف وتُجمِع على أن يوم عرفة ،وهو اليوم الذي يقف فيه الناس .ولا عبرة هنا باختلاف المطالع ؛ لأن الأمة تجتمع على أن يوم عرفة في ذلك اليوم الْمُحدَّد."" لوگوں کے عرفہ میں وقوف کا اعتبار ہوگا نہ  کہ جوامت اسلام کی مخالفت کرے اس کا ، چنانچہ امت مسلمہ حج ،وقوف اور اجتماع اس بنیاد پر کرتی ہے کہ عرفہ کادن ہی ہے جس میں لوگ وقوف کرتےہیں ، اوریہاں پر اختلاف مطالع کا کوئی اعتبار نہیں ہے ، کیونکہ امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ عرفہ کادن اسی متعین ومحددد  دن میں ہے "۔
اورایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :" يوم عرفة يوم يقف الناس في عرفات ، وليس لأحد أن يُخالف أمة الإسلام ، فإن امة الإسلام تجتمع وتُجمِع على أن يوم عرفة يوم يقف الناس ، وهو اليوم التاسع من ذي الحجة . فمن قدّم أو أخّر في الصيام فاته أجر صيام يوم عرفة، والله أعلم "۔ عرفہ کادن وہی دن ہے جس دن لوگ عرفات میں وقوف کرتے ہیں او رکسی کے لئے جائزنہیں کہ امت اسلام کی مخالفت کرے ، کیونکہ امت   اس بنیاد پر اکٹھی ہوتی ہے اور اس کا اجماع  ہے کہ عرفہ کادن لوگوں کے وقوف کا دن ہے ،جو ذی الحجہ کی نویں تاریخ  ہے ، لہذا جو  روزے میں تقدیم وتاخیر کرتاہے اس سے عرفہ کےدن کے روزے کا اجر فوت ہوجاتاہے ، اللہ اعلم " ۔
ہمارے استاد اور معروف محقق شیخ احمد مجتبی  سلفی مدنی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:"یہ واضح رہے کہ یوم عرفہ سے مراد مکہ کے کیلنڈرکے حساب سے نو ذی الحجہ کی تاریخ ہے ، کسی دیگرملک میں اگرچاندمکہ سے ایک دن بعد دیکھا گیاہوتووہاں کے لوگ بھی مکہ کے کیلنڈرہی سے نوذی الحجہ کا روزہ رکھیں ۔ "(تقدیم  ومراجعہ بکتاب "قربانی کے احکام ومسائل قرآن وسنت کی روشنی میں " /ص 23 )۔
شیخ محمد المغراوی اپنے ایک فتوی میں فرماتے ہیں  :
عرفات هو اسم للجبل الذي يقف عليه الحجاج في اليوم التاسع من شهر ذي الحجة، وهو يوم واحد لا يتعدد، فالصيام مع وقوف الحجاج هو الصيام الصحيح، وأما ما سواه فلا أعلم له أصلا لا في الكتاب ولا في السنة.اهـ " "عرفات اس پہاڑی  کانام ہے جہاں نویں ذی الحجہ کو حجاح کرام وقوف فرماتےہیں ، اور وہ صرف ایک ہی دن ہے متعددنہیں ، اس لئے (عرفہ کا) روزہ حاجیوں کے وقوف کے ساتھ ہی صحیح ہے ، اورجہاں تک اس کے علاوہ (دن) کی بات ہے تو میں قرآن وسنت میں اس کی کوئی اصل نہیں جانتا "۔                                                                                      عصر حاضرمیں  اختلاف مطالع اور اس سے پیدہ شدہ بعض مسائل  کی بنیاد پر عرفہ کے دن کےروزہ کی تاریخ کی تعیین میں  کچھ علماء  بعض شبہات کے شکا رہیں اور عرفہ کے دن کے روزہ  کے دن کی تعیین میں  صرف نو ذی الحجہ کے قا‏ئل وفاعل ہیں، اس سلسلے میں بنیادی چیزجو قابل غورہے وہ  یہ ہے کہ  عرفہ کے دن  کے  روزے کا سبب کیا ہے ؟ اوراس کا تعلق دن  اور تاریخ سے ہے یا حاجیوں کے کسی مخصوص دن میں شریعت  کے ذریعہ مخصوص عمل (یعنی عرفات میں وقوف )سے؟ جب اس چیز کی تعیین ہو جائےگی تو مسئلہ  میں کسی التباس کی کوئی  وجہ باقی نہیں رہ جائے گی ۔آیئے اس سلسلے میں چند نکتوں پہ غور کرتے ہیں :
1 – کسی بھی مسئلہ کی وضاحت اوراس سے متعلق امورمیں حکم کا بہت بڑا دخل ہوتاہے  ، تاکہ مکلف پر اس پر عمل کی حیثیت واضح اور مدون ہوسکے ۔عرفہ کے دن کا روز ہ حکم کے اعتبار سے ( اپنی بے انتہا فضیلت کے باوجود)مستحب  یا سنت مؤکدہ کے  زمرے میں آتاہے  ،اس لئے ترک وعمل اورتعیین وتحدید میں  اس کا اعتباربھی اسی   حیثیت سے ہوگا ، نہ کہ  بالکلیہ دوسرے سببی اور غیر سببی روزوں کے اعتبارسے ۔
2-  بلا شبہ رمضان اورغیررمضان کے روزوں میں رؤیت ہلال کا بہت بڑا دخل ہے جبکہ عرفہ کے دن کا روزہ رؤیت کے تخمینہ کے ساتھ ساتھ عرفہ میں حاجیوں کے وقوف سے متعلق ہے ۔ اسی وجہ سےہم دیکھتے ہیں کہ اس روزہ کی فضیلت  جن روایتوں میں بیان کی گئی ہے ان میں زیادہ ترمیں"یوم عرفہ " کا ذکرہے نہ کہ تاریخ ذی الحجہ کا یہ الگ بات ہے کہ یوم عرفہ نو ذی الحجہ ہی کو پڑتا ہے ۔
3- جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا کہ عرفہ کے دن کا روزہ کوئی واجبی روزہ نہیں ہے کہ اس کا توڑنے والا گنہگار ہوگا البتہ اس کے لئے  خیرکثیر سے محرومی کا باعث ضرورہے ۔
4 – (ساری عبادتوں  میں تاریخ  ، دن اوراوقات  کی تعیین میں اختلاف مطالع کا واقعی معتبر ہونے کے باوجود) جب اس  بات کی تعیین ہوجاتی ہے کہ اس روزہ کا تعلق عرفہ کے دن سے ہے تو  اس میں اختلاف مطالع کا کوئی  اعتبار نہیں رہ جاتاہے ، دنیا میں تاریخ  کوئی بھی  ہوعرفہ کا دن وہی ہوگا جس روز حاجی مقام عرفات میں قیام فرمائیں گے۔
عرفہ کے دن کاروزہ اور بعید ممالک  :
یہاں پر یہ اشکا ل پیش کرنا کہ: "بعض ممالک مثلاً : لیبیا ، تیونس اور مراکش ۔۔۔ ایسے ہیں جہاں چاند مکہ مکرمہ سے بھی پہلے نظر آتا ہے۔ یعنی ان ممالک میں جب 10/ذی الحج کا دن آتا ہے تو مکہ مکرمہ میں عرفہ کا دن ہوتا ہے۔ اگر ان ممالک کے لوگ حجاج کرام کے وقوفِ عرفات والے دن روزہ رکھیں تو یہ گویا ، ان کے ہاں عید کے دن کا روزہ ہوا اور یہ تو سب کو پتا ہے کہ عید کے دن روزہ ممنوع ہے۔ "۔ تو یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ  عرفہ کے دن کا روزہ ( جیساکہ پہلے بیان کیاجاچکا ہے) کو ‏ئی واجبی روزہ نہیں ہے جس کا نہ رکھنے والا گنہگار ہوگا ۔ خاص طورسے جب اسے چھوڑنے کے لئے کوئی مناسب اورمضبوط سبب موجود ہو ، اس لئے جن ممالک میں قربانی کا دن حاجیوں کے عرفات میں وقوف کے  دن  پڑ جائے توان کے یہاں قربانی کے دن کو ترجیح حاصل ہوگی ،کیونکہ ایسے لوگوں کے لئے عدم قدرت کی وجہ سے یہ روزہ مشروع ہی نہیں ہے ۔ اور جوعبادت  خاص طورسے نفلی عبادت کسی کے لئے مشروع نہ ہو اس کے اندرتاویل کرکے زبردستی کسی دوسرے دن میں لے جانا اور اس کی خصوصیت کو تعمیم میں بدل دینا کیا یہ احداث فی الدین نہیں ہے  ؟؟؟۔
نیز یہ بھی واضح رہے کہ  مختلف ممالک میں  اختلاف مطالع کی وجہ سے نو ذی الحجہ الگ الگ ہوتاہے  ، اوران الگ الگ ایام کو عرفہ کا نام دینا  مناسب نہیں ہے ، جن میں حاجیوں کا عرفات میں  قیام ہی نہیں ہوا ، بلکہ  دیگر ایام کو وہ نام دینا جو شریعت نے کسی خاص دن کو دے رکھاہے  شریعت پہ زیادتی  کے قبیل سے ہے۔
اگر اس چیزکی اجازت دے دی جائےکہ نو ذی الحجہ کو یوم عرفہ کہاجائے خواہ وہ دنیا کے کسی اور خطے میں کسی دوسرے دن ہی کیوں نہ پڑے  تو پوری دنیامیں ایک سے زیادہ  عرفہ کے ایام ہوجائیں گے اور نام " یوم عرفہ " کے بجائے " ایام عرفہ " رکھنا ہوگا۔
شریعت میں اس  نوع کے  بہت سارے اعمال   ہیں جو کسی  مناسب یا شرعی سبب کی بناء پریا توبعض افراد کے لئے غیرمشروع  یا ان سےساقط ہوتےہیں ، مثلا :
- ایک آدمی سفرکرکے کسی دوسرے ملک میں گیا اور وہاں کے لوگ عید منارہے ہوں ، جبکہ اس کا روزہ  جس ملک میں شروع کیا ہے کے مطابق ایک کم ہورہاہے پھربھی لوگوں کے ساتھ روزہ توڑدیگا ، یہ الگ بات ہے کہ یہ روزہ  فرض ہونے کی وجہ سے اس کی قضاء واجب ہوگی ۔
-  جمعہ کے روزے کی ممانعت عرفہ کے روزے کی عزیمت کی وجہ سے ساقط ہے ۔
- عرفہ کے دن وقوف عرفات کی وجہ سے حاجیوں سے اس روز روزہ ساقط ہے۔
- مقیم امام کی اقتداءمیں نماز پڑھنے کی وجہ مسافرکے لئے قصر ساقط ہے ۔
-  فجر اور ظہر وغیرہ کی سنتوں  یا جماعت کھڑی ہونے کی وجہ سےمسجدمیں داخل ہونے والے کے لئے  تحیۃ المسجد مشروع نہیں  ہے کیونکہ یہ سنتیں تحیۃ المسجدکے لئے کفایت کرتی ہیں ۔
- اسی طرح سببی نمازوں  جیسے فرض نمازوں کی قضاء ، طواف کی دورکعتیں ، تحیۃ المسجد اورسورج گرہن  کی نماز وغیرہ  کی وجہ سے ممنوعہ اوقات میں نماز کی  ممانعت ساقط ہے ۔
ان کے علاوہ بھی اور بہت سارے مسائل ہیں جو اس  نقطے کی وضاحت کے لئے کافی ہیں ۔
اس لئے جن ممالک میں یوم النحر عرفہ کے دن پڑجائے وہاں کے رہنے والوں سے عرفہ کے دن کا روزہ ساقط مانا جائے یہ احوط ہے اس بات سے کہ  شریعت کے متعین کردہ دن  کو ہی بدل دیا جائے ۔
(نوٹ : جب میں نے  کسی خاص سبب کی وجہ سے عرفہ کے  روزہ کے سقوط والی بات لکھی تو بہت سارے احباب نے اس پر یہ کہہ کر تنقید کی کہ آپ کون ہوتے ہیں کسی عمل کو ساقط کرنے والے  ؟
اس طرح کی بات  جب کسی ایسے آدمی کی زبان سے صادرہو جو شریعت کے علوم سے نابلد ہو تو سمجھ میں آتی ہے ، لیکن یہی بات کسی عالم دین جو کتاب وسنت کے رموزواسرار سے واقف ہو اور عبادتوں میں توقیف اور اسباب ومصالح کے دخل کا ادراک رکھتا ہو سے صادرہوتو پھر کیا کہاجاسکتاہے  ؟، جبکہ اشارۃ کچھ مسائل  کا ذکربھی کردیاگیاہو ۔)
عرفہ کا دن اور رؤيت والی روایت کا اعتبار :
"صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته ......"  والی روایت سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء اس بات پرزور دیتے ہیں کہ اس روایت میں  جو عمومیت وارد ہے وہ  رمضان کے ساتھ ساتھ سال کے ہرماہ  کے لئے عام ہے جس میں عرفہ کا دن بھی شامل ہے ،  امام   خرشی  مالکی  کے بقول :والمواسم جمع موسم الزمن المتعلق به الحكم الشرعي  ولم يرد بعرفة موضع الوقوف بل أراد به زمنه وهو اليوم التاسع من ذي الحجة ،وأراد بعاشوراءاليوم العاشر من المحرم "اهـ (شرح مختصر خليل:2/234)  مواسم موسم الزمن  کی جمع ہے جس سے حکم شرعی متعلق ہوتاہے لہذا عرفہ سے وقوف کی جگہ مراد نہ لے کر وقت وزمن مراد لیاگیا ہے جو نو ذی الحجہ کوپڑتاہے اور اسی طرح عاشوراء بول کردس محرم مراد لیاگیاہے ۔"۔                            امام خرشی کا مذکورہ استدلال کئی وجہوں سے قابل اعتبارنہیں ہے:                                                                   - بلاشبہ بہت ساری عبادتیں موسم وزمان سے متعلق ہیں ، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بہت ساری عبادتوں میں  زمان ووقت کا قطعا اعتبار نہیں ہوتا ، اور بسااوقات  اعتبار ہوتابھی ہے تو اس کے بعض احکام ومسائل اورجز‌ئیات اس اعتبارسے نکل جاتےہیں ،انہیں میں عرفہ کا دن ہے ، جوشروع  تو ہوتا مکہ ونواحی کی رؤیت سےہےلیکن اعتبار  عرفات کے میدان میں  حاجیوں کے اجتماع کا ہوتاہے ، مثلا : مکہ ونواحی کے غیرحجاج افرادجنہیں اس بات کا یقین بھی ہو کہ تعیین یوم عرفہ میں غلطی ہوئی ہے اور باعتبار طلوع قمر  ایک دن بعد یا ایک دن قبل یوم عرفہ ہونا چاہئے پھربھی ان کے روزے کا اعتباراس دن کا ہوگا جس دن خطأ کے باوجود  حاجی میدان عرفات میں ہوں ۔
- امام خرشی کا یہ کہنا کہ عرفہ سے جگہ نہ مراد لے کرنو ذی الحجہ  کی تاریخ مراد لی گئی ہے ،  دعوی بدون دلیل ہے ، جب کہ معاملہ اس کے برخلاف ہے ، روایت میں واضح طورپر یوم عرفہ سے وقوف عرفات کا دن ہی مراد لیا گیا ہے ،لہذا جس روز مقام عرفات میں حاجیوں کا قیام ہی نہ ہوا ہو اس روز کو یوم عرفہ کہنے کے لئے دلیل صریح کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ فقہاء کے بیان کے مطابق  یوم عرفہ اسی دن کوکہاجائے گا جس دن حاجی مقام عرفات میں  ہونگے ۔
 - امام خرشی رحمہ اللہ نے عاشوراء یعنی دس محرم کی مثال دی ہے کہ جس طرح عاشوراء بول کر دس محرم کی تاریخ مراد لی جاتی ہے   اسی طرح عرفہ بول کرنو ذی الحجہ کی تاریخ مراد لی جائے گی ۔ یہاں یہ بات  واضح ہونی چاہئے کہ عاشوراء یا تاسوعاء   معین تاریخ کا نام ہے ، جس میں اعتبار گنتی  وعددکےمطابق محرم کے نویں  اور دسویں دن کا ہوتاہے اور یہ تاریخ دنیا کےہرملک میں بروقت جاری شہری و قمری   اعتبارکے مطابق ہوتاہے ، جبکہ عرفہ کے ساتھ ایسی کسی بھی عمومیت کے لئے دلیل چاہئے ہوتی ہے ، خاص طور سے جب اس کے ساتھ کچھ خاص اعمال واحکام اور تعیین وتحدید مرتبط ہو ں، نیز یہ واضح ہونا چاہئے کہ عرفہ کا بیان  لفظ "یوم" سے خالی ہرگزنہیں ہے ، جو یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ یہ دن اپنی عمومیت پہ ہرگز نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ  زمان کے ساتھ ساتھ اجتماع ومکان  کی تخصیص موجودہے جس کے بغیر نہ یہ دن مکمل ہوتاہے اور نہ ہی حاجی کا حج ۔۔۔ فافھم وتدبر۔
لہذا یہ چیز واضح ہے کہ عرفہ ایک مخصوص دن کا نام ہے، جس روز  مقام عرفات میں حاجیوں کااجتماع ہوتاہے،اس لئےاسے کسی تاریخ سے متعلق کرکے اس میں تعددپیدا کرناقطعا مناسب نہیں ہے، اسی وجہ سےہم دیکھتے ہیں کہ اس روزہ کی فضیلت  جن روایتوں میں بیان کی گئی ہے ان میں زیادہ ترمیں "یوم عرفہ " کا ذکرہے نہ کہ تاریخ ذی الحجہ کا یہ الگ بات ہے کہ یوم عرفہ مکہ ونواحی کی رؤيت  کے اعتبارسے نو ذی الحجہ ہی کو پڑتاہے ۔
 یہاں یہ بات قابل غورہے کہ اگرکسی  اجتہادی غلطی کی وجہ سے حجاج آٹھ یا دس ذ ی الحجہ میں وقوف کرتے ہیں تو اسی دن کو یوم عرفہ شمارکیا جائے گاجیسا کہ فقہاء نے اپنی کتابوں میں  اس کی صراحت کی ہے ۔ (دیکھئے:حاشية ابن القيم على سنن أبي داود : 6/317, المحلى  لابن حزم :5/203-204 ،المغني لابن قدامة : 3/456, المهذب مع شرحه المجموع: 8/292, المجموع  للإمام النووي : 8/292, مجموع فتاوى الإمام ابن تيمية : 25/107 , بدائع الصنائع: 2/304 , شرح الخرشي على مختصر خليل : 2/ 321 , روضة الطالبين :2/377 )
چنانچہ"صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ –" والی روایت کو عمومیت کی بنیاد پرمطلقا یوم عرفہ کے روزہ کے لئے  تاریخ کی  تحدید کے طورپرپیش کرنا محل نظرہے ، کیونکہ اس روزے کا تعلق یوم عرفہ (حاجیوں کے مقام عرفات میں قیام ) سے ہے نہ کہ تاریخ سے ۔
یہاں یہ نکتہ کافی اہم ہے کہ مذکورہ روایت رمضان کےروزوں کے باب میں صریح ہے اور اس کا تعلق مطلقاتمام روزوں سے نہیں ہے کیونکہ کچھ روزے دن سے متعلق ہیں نہ کہ تاریخ سے، جیسےسوموار وجمعرات اورخود یوم عرفہ کا روزه .
عرفہ کے روزے کے لئےدن کی تعیین کی وجہ سے جب رؤيت كا اعتبارکالعدم کےحکم میں ہے تو یہاں پر اختلاف مطالع کی بحث بے معنی ہے .یہاں یہ اشکال پیش  کرنا کہ :"اگرروزے سےمتعلق  ر‏ؤیت  ہلال کا حکم نکال دیا جائے تو روزہ بے معنی ہوجائےگا  , ایک دن کا بھی کوئی روزہ نہیں رکھ سکتا ہے ، نہ سحری کھاسکتا اور نہ ہی  افطار کرسکتاہے ۔"، شریعت سے کج فہمی کی دلیل ہے ، سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ  دین کے زیادہ تر مسائل میں ر‏ؤیت ہلال کے اعتبار وحکم  کا کوئی بھی فرد انکارنہیں کرتا ، جو لوگ  توحید مطالع کے قائل ہیں ان کے یہاں بھی اعتبار رؤیت ہی ہے ، نہ کہ فلکی حسابات اور اعداد تاریخ  ۔  قاعدے کی رو سے رؤیت کا اعتبار  ان روزوں میں ہے جو رؤیت سے متعلق ہیں ، نہ کہ ان روزوں میں جو سببی اور مخصوص دن اور مخصوص وجہ سے متعلق ہیں ۔ کیا عرفہ اور اس دن  حاجی او ر غیر حاجی کے لئے مشروع اعمال  کا تعلق خاص نہیں ہے ؟ ۔
واضح رہے کہ رؤيت كے اعتبارکومطلق تمام روزوں کے لئے پیش کرکے ہی اشکال پیداکیاجاتاہے،قطع نظر اس کے کہ تمام روزوں کی حیثیت وماہیت میں یکسانیت نہیں ہے. اور "یوم" اور"تاریخ " اور "تعیین"اور"تخمینہ " کے اس بے انتہا "فرق" کے باوجود کچھ حضرات "واضح نص" کے مطالبے پر مصرہیں ؟؟؟؟  اور زبردستی ایک مخصوص ومعمول شیئ کو "نسبتی" عمل قرار دینے پرتلے ہوئے ہیں .                                                                                          اس پرمستزاد یہ کہ اپنے تأويلى موقف کو زبردستی ثابت کرنے کے لئے غیرضروری تأويلات وشبہات كا سہارالیتے ہیں ۔           کیا روایات میں وارد نو ذی الحجہ کا لفظ دنیا کے تمام خطوں کے لئے ہے ؟ :
جو حضرات عرفہ کے دن کے روزے کے تعدد کے قائل ہیں ان کی سب سے بڑی دلیل  ہے کہ عرفہ کے دن کے لئے روایات میں نو ذی الحجہ کا ذکر بصراحت موجود ہے  ۔
بلاشبہ عرفہ کے دن کے لئے نوذی  الحجہ کا  کے دن کی تعیین  باعتبار رؤیت مکہ اور حوالی مکہ وارد ہے ، اور اہل لغت بھی جہاں عرفہ کی تعریف کرتے ہیں اس میں  نو کی تحدید کرتے ہیں ۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ عرفہ مکہ اور حوالی مکہ کی ر‎ؤیت کے اعتبار سے عام طورسے نو ذی الحجہ کو ہی پڑتاہے ، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ  اس تحدید کو تعمیم میں بدل دیاجائے اور سارے عالم کےاختلاف رؤیت کو مخصوص ومتعین عمل کے لئے سبب اختلاف بنا دیاجائے ، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حج ایک مستقل عبادت ہے، اس کے تمام ارکان وایام متعین ہیں ، دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی بھی دن یا تاریخ ہو ایام حج اور ارکان واعمال حج پر اس کا کوئی اثرنہیں ہوتاہے ۔  
یہاں پراس اشکال کی توجیہ بھی ضروری ہے کہ :" ایام حج میں جس دن قربانی کی جاتی ہے دنیا کے تمام ممالک میں اس کے علاوہ کے ایام میں وہاں کی رؤیت کے اعتبار سے کی جاتی ہے ؟؟" ۔
جیساکہ میں نے ذکرکیاکہ حج ایک مستقل عمل ہے اس کا تعلق چند مخصوص ایام اور اعمال سے ہے ، اس پر دوسرے ممالک میں  اداکئے جانے والے اعمال کوقیاس نہیں کیاجاسکتا ، بلاشک  دونوں قربانیوں کی ہیئت وماہیت اور ارکان وادائیگی میں یکسانیت ہے لیکن دونوں کی ادائیگی کے اوقات واستحقاق میں بے تحاشہ فرق ہے، مثلا :
- قرآن وسنت کے مطابق دونوں حاجی وغیرحاجی کی طرف سے اللہ کےتقرب کے لئے ذبح ہے ، لیکن ایک کے لئے ھدي اور دوسرے کے لئےاضحیہ کا لفظ واردہے، گرچہ اس کو مکہ اور بالخصوص منی میں ہی کیوں نہ ذبح کیاگیاہو۔
- تمتع ،قرآن یا لزوم دم کے سبب ھدي کا حکم وجوب کا ہے برخلاف اضحیہ کے، کیونکہ  یہ جمہورفقہاء کے نزدیک سنت مؤکدہ ہے (المغنی لابن قدامہ    :9/435) حالانکہ بعض اہل علم وجوب کے قائل بھی ہیں ۔
- عام قربانی کے جانوراور حج کے ھدي کے جانورمیں تبدیلی کے امکان کے بارےمیں امام مالک کا فتوی ہے کہ قربانی کے جانورکوکسی حادث عیب کی وجہ سے اس سے اچھے جانورسے تبدیل کیاجاسکتاہے برخلاف  ھدي کے ۔ (المدونہ:1/549 )
-  ھدي ایک خاص جگہ کے ساتھ مخصوص ہے برخلاف قربانی کے اسے منی ، مکہ یا کسی دوسری جگہ کہیں بھی کیاجاسکتاہے ، امام شافعی فرماتے ہیں : " اضحیہ مسلمانوں میں سے ہرصاحب استطاعت کے لئے سفر،حضر، گا‏ؤں ، شہر، مکہ ، حج میں منی وغیرہ میں ہرجگہ سنت ہے  اس کے ساتھ ھدي ہو یا نہ ہو "(المجموع للامام النووی: 8/383 )
- قربانی کے بدلے کوئی دوسرا عمل نہیں کرسکتے جبکہ متمتع اورقارن کو اگرھدي میسرنہ ہوتواس کے اوپردس روزے واجب ہیں ، تین  حج کے ایام میں اور سات   گھرواپسی کے بعد۔
- قربانی کا ایک جانوریا حصہ اہل  خانہ کے لئے کفایت کرتاہے جبکہ ھدي صرف حاجی کےلئے ہوتاہے ۔
- اضحیہ کے لئے عید کی نماز شرط ہے جبکہ ھدي کے روزنمازعید ہے ہی نہیں ۔
- قربانی کی نیت کرنے والے کے لئے اول ذی الحجہ سے  بال اور ناخن نہ کاٹنے کا حکم ہے ، جب کہ  حاجی کے لئے یہ حکم صرف حالت احرام تک ہی محدود ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
یہاں دونوں قربانیوں میں فرق ذکرکرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ حج کے ایام میں حرم ، منی ، مزدلفہ ، یا عرفات سے متعلق اعمال وعبادت دیگرایام وامکنہ میں کئے جانے والے اعمال سے حکم میں مختلف ہیں لہذا یہ کہنا کہ جس طرح یوم النحریا رمضان وعیدین پوری دنیا میں اختلاف مطالع کےاعتبارسے مختلف ہوتے ہیں  اسی طرح یوم عرفہ بھی مختلف ہوگا قطعا درست نہیں ہے، کیونکہ یوم عرفہ ایک خاص دن ہے جو ایک خاص مقام میں قیام اور خاص اعمال واحکام سےمتعلق ہے،جسے دوسرے ایام و اعمال پرقیاس  کرنا صحیح نہیں ہے ۔
واضح رہے کہ کچھ لوگوں کو روایات میں وارد "تسع من ذی الحجہ" سے اشتباہ ہوا ہے کہ اس سے مراد نویں ذی الحجہ کا روزہ ہے ، جبکہ  اس روایت میں نویں ذی الحجہ کی تعیین کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے ، کیونکہ " تسع" سے مراد ذی الحجہ کے شروع کے نو دن ہیں نہ کہ نواں دن ، دائمی کمیٹی برائے فتاوی نے اس غلط تاویل اور فہم کی تصحیح کرتے ہوئے لکھا ہے:"وقول بعضهم :إن المراد بتسع ذي الحجة اليوم التاسع,تأويل مردود,وخطأ ظاهر للفرق بين التسع والتاسع ""کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ تسع ذی الحجہ سے مراد نویں ذی الحجہ ہے ، تاسع اور تسع کے فرق کی بنا پرمردود تاویل اور واضح غلطی ہے "۔(اللجنۃ الدائمہ :رقم /20247)
بعض شبہات کا ازالہ :
1 - بعض حضرات  یوم عرفہ اور عرفات کا فرق واضح کرتے ہوئے لکھتےہیں   :" یوم عرفہ اور وقوف عرفات دوالگ الگ چیزیں ہیں ، یوم عرفہ دن اور تاریخ کو کہتے ہیں اورجو  قمری حساب سے نو ذوالحجہ کو کہتےہیں جبکہ وقوف عرفات کا تعلق میدان عرفات سے ہے۔"
یہاں اس وضاحت کی ضرورت تھی کہ  "یوم عرفہ " کو دن اور تاریخ کی گنتی میں کس سبب سے لایاگیاہے ؟ کیادنیاکے کسی بھی خطے میں نو ذوالحجہ کو " یوم عرفہ " لکھا اور بولاجاتاہے؟۔
بلاشبہ وقوف عرفات  کا تعلق میدان عرفات سے ہے،  ٹھیک اسی طرح " یوم عرفہ " کاتعلق بھی وقوف عرفات سے ہے ،دن اور تاریخ سے نہیں ، گویا یہ دونوں ایک دوسرے سے مرتبط ہیں ، جیسا کہ مذکورہ سطورمیں فقہاءکے اقوال کی روشنی میں اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ "یوم عرفہ " کا اطلاق اسی دن پرہوگا جس دن حجاج وقوف عرفات کریں گے وہ دن بسبب اجتہاد وخطا آٹھ یا دس ذی الحجہ ہی کیوں  نہ ہو ۔
یہاں  یہ ملحوظ رہنا چاہئے کہ  عام طورپر اہل لغت کے یہاں  عرفہ  کا اطلاق زمان اورعرفات کا  مکان کے لئے ہوتا ہے، اور دونوں بحیثیت علم اور مترادف کے  بھی استعمال ہوتے ہیں(دیکھئے :معجم المعانی وغیرہ ۔)  اس لئے جب عرفہ یا عرفات کے ساتھ یوم کی اضافت ہوتی ہے تو اس دن کی تعیین کے لئے ہی ہوتی ہے جس دن مخصوص اعمال انجام دئے جاتے ہیں  ،بعض اہل لغت  لکھتےہیں :" وعرفة اسم لموقف الحاج ذالك اليوم وهي إثناعشرميلا من مكة وسمي عرفات أيضا وهو المذكور في التنزيل  ....."اور عرفہ حاجی کے اس دن قیام کے مقام کا نام ہے جو مکہ سے بارہ میل کی دوری پر ہے ، اس  کانام عرفات بھی ہے جس کا ذکرقرآن مجید کے اندرہے " نیساپوری کے بقول :"عرفات جمع عرفة وكلاهما علم للموقف , كأن كل قطعة من تلك الأرض عرفة فسمي مجموع تلك القطعة بعرفات " "عرفات عرفہ کی جمع ہے اور دونوں موقف کے لئے بطورعلم استعمال ہوتاہے ، گویا اس کا ہرحصہ عرفہ ہے لہذا اس کے سارے حصوں کے مجموعے کا نام عرفات ہے " اسی طرح کی بات ابن الحاجب نے شرح المفصل کے اندرلکھی ہے ۔ اور طبرسی کے بقول :"عرفات :إسم للبقعة المعروفة التي يجب الوقوف بها,ويوم عرفة يوم الوقوف بها" "عرفات : اس  معروف جگہ کا نام ہے جہاں (حاجی کے لئے ) وقوف واجب ہے ، اور وہاں وقوف کرنے کادن عرفہ کا دن ہے " فیروزآبادی نے بھی ان کی تائید کی ہے ۔(مزید وضاحت کے لئے دیکھئے: الصحاح للجوھری :4/1401-1402 ،معجم الفروق اللغویۃ للعسکری : ص 354 ، المغرب فی ترتیب المعرب  للمطرزی : ص 312 ، شرح الرضی علی الکافیۃ لابن الحاجب :3/259 ، المصباح المنیرللفیومی : 2/404 ، القاموس المحیط للفیروزآبادی : 1/836  ،اور تاج العروس للزبیدی  : 24/137)۔
2 - ایک اشکال یہ پیش کیاجاتاہے کہ : " اگرعرفات میں وقوف سے متعلق روزه ہوتاتوعرفہ نہیں عرفات کا ذکرہوتا" اس اشکال میں  دین میں ایک نئی  اصطلاح گھڑنے کے ساتھ ساتھ لغت معانی کے ساتھ خردبرد کی کوشش کی گئی ہے ، گویا مقام عرفات میں حاجیوں کے قیام  کےدن کے علاوه بهی کئی دن ہیں جنہیں عرفہ کا دن کہاجائےگا.(جب کہ نصوص اور اہل لغت کی صراحت کے مطابق "عرفہ " عرفات" اور ان کی طرف "یوم " کی نسبت  اور " اس دن " اور " اس دن اور اس مقام  کا عمل " ایک دوسرے سے متعلق ہیں  !!!) واضح رہےکہ "یوم عرفہ" "عرفہ کادن"یعنی جس دن حاجی میدان عرفات میں جمع ہوں کا بصراحت ذکرہے. لہذا میں نے پہلے ہی ذکرکیاہےکہ فقہاء كى صراحت کے مطابق اگرکسی  اجتہادی غلطی کی وجہ سے حجاج آٹھ یا دس ذ ی الحجہ میں وقوف کرتے ہیں تو اسی دن کو یوم عرفہ شمارکیا جائے گا. گویاتاریخ نہیں حجاج کے مقام عرفات میں اجتماع کا اعتبار ہوگا.
3 - ایک اشکال یہ پیش کیاجاتاہے کہ:"اگر یہ وقوف عرفہ کی وجہ سے ہوتاتوحاجیوں کے لئے بهی یہ روزہ مشروع  ہوتا". کہنا یہ چاہتے ہیں حاجی اور غیرحاجی کے لئے احکام ومسائل میں کوئی فرق ہی نہیں ہے ؟؟؟؟
یہ ملحوظ رہےکہ حجاج کرام کے لئے یہ روزہ ان کے مقام عرفات میں قیام کی وجہ سے ہی ممنوع ہے (ياغيرمسنون ، كيونكہ بعض اسلاف کے یہاں حاجیوں کے لئے بهی عرفہ کا روزہ مشروع ہے، جس کابیان گذرچکاہے ) جیساکہ غیرحاجیوں کےلئےایام عیدکا روزہ  ، جیسا کہ روایت میں ہے  کہ عرفہ ان کے لئے عیدکا دن ہے۔
4 - کچھ حضرات یہ اشکال پیش کرتے ہیں کہ:"  اگر عرفہ کے دن  کے روزہ کا مقصد حاجیوں کے مقام عرفات میں قیام سے مطابقت ہوتا تو ان لوگوں کے لئے کیاکہیں گے جن کا روزہ حاجیوں کے قیام سے کئی گھنٹے پہلے یا کئی گھنٹے بعد میں شروع یا ختم ہوجاتا ہے ؟"
اس قسم کا اعتراض یا اشکال پیداکرنا  اسلامی عبادات کے اسرارورموز ، اسباب ومقاصد اور روح ومعانی سے عدم واقفیت کی وجہ سے ہوتاہے ، یہ بات  ایک عام آدمی بھی جانتاہے کہ   روزے رکھے توقمری اعتبار سے جاتےہیں لیکن امساک وافطارمیں اعتبارشمسی ہوتاہے ، اور   اعداد میں دن کا اطلاق صرف  سورج کے  آسمان پرباقی رہنے تک نہیں ہوتا بلکہ دن اور رات کو ملا کر ہوتاہے ۔
یہ بھی واضح رہنی چاہئے کہ عرفات میں قیام  یوم النحرکی طلوع فجرسے   قبل چند لمحات قیام  یا مرور سے بھی حاصل ہوجاتاہے جبکہ روزہ  صرف طلوع فجرسے غروب شمس تک ہوتاہے ۔(روضۃ الطالبین :2/377)۔
5 - بعض علماء عرفہ کی وجہ تسمیہ کے ذکرمیں اہل لغت  کے اقوال کو رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں  کہ  :"ان لوگوں   کا دعوی بلا دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ عرفہ کے دن کا نام فقط حاجیوں کے وہاں وقوف کی بنا پرہے  ۔  "دراصل یہاں یہ اشکال پیش کیا جاتاہے کہ اللہ رب العزت نے جس دن ذریت آدم سے توحید پر عہدوپیمان لیاتھا وہ دن عرفہ کا تھا ، اور یہ معلوم ہے کہ اس وقت مقام عرفات میں حاجیوں کا قیام نہیں ہوتاتھا، پھربھی اسے عرفہ کا دن کہاگیا ۔                                                           اس میں  کوئی شک نہیں کہ اہل معرفت کے بیان کے مطابق   عرفہ  کی وجہ تسمیہ کے سلسلے میں ڈھیروں وجوہات مذکورہیں  ، لیکن یہ بھی حق ہے کہ قیام عرفہ اور اس سے متعلق دیگر احکام وامور کا اعتبار قرآن وسنت پرہے ، ماقبل الاسلام کوئی بھی عمل ، رواج  یا مسمی جب تک  انہیں اسلام میں باقی نہ رکھا گیاہو قابل اعتبار ہرگز نہیں ہیں ، یہاں مسئلہ وجہ تسمیہ کے ساتھ ساتھ اس دن کے لئے نصوص قرآن وسنت سے ثابت احکام واعمال کا ہے ، کیونکہ کسی چیزکا تعارف اس کی حیثیت وماہیت کے بیان کے لئے ہوتا ہے نہ کہ  قرآن وسنت میں وارد احکام کی تشریع یا ان  کے رد کے لئے ۔
اور عرفہ کی  وجہ تسمیہ اور دن اور اور وقت کی تعیین جو کتب احادیث ، فقہ اور لغات ومعاجم میں بھرے پڑے ہیں اس دن کے نام کے لئے دلیل نہیں  ہیں  ؟ آخرانہیں کس الہامی دلیل کا انتظارہے ؟
6 - نیز عرفہ کے دن کی تعیین کے انکارکے لئے  ایام تشریق اور یوم ترویہ کومثال بنا عرفہ کو ایک نسبتی نام کےطورپر پیش کیاجاتاہے  کہ  :" مناسک حج میں حج کی نسبت سے بہت سارے نام رکھے گئے ہیں  ان سب پرعمومی قاعدہ ہی لگے گا  الایہ کہ خاص وجہ ہو۔۔۔"  ایک طرف  بہت سارے ناموں کو حج سے نسبت کیاجارہاہے اور دوسری طرف "عرفہ" کو جو حج کے ساتھ خاص ہے عموم کی فہرست میں ڈالا جا رہا ہے ۔ ایں چہ بوالعجبی است ۔ یوم الترویہ یا یوم عرفہ  یہ ایسے نام ہیں جو حج کے بعض ایام کے ساتھ خاص ہیں  جن کے خاص امورواحکام ہیں ، اور رہی بات ایام تشریق کی تو یہ نام حاجیوں کی قربانی (ھدي) کے ایام  اور غیرحاجیوں    کی قربانی (اضحیہ) کے ایام ساتھ عام (مشترک) ہے ۔ (بلکہ ھدي اور اضحیہ دونوں کے ایام کے لئے یوم النحر کا لفظ وارد ہے جس کی نسبت سے دونوں کے اگلے تین دنوں کے لئے ایام تشریق کا اطلاق ہوتا ہے ۔) یہاں یہ  بات بھی  قابل اعتناء ہے کہ ایام تشریق کے اعمال بھی حاجی اور غیر حاجی کے اعتبار سے مختلف ہیں ، مثلا : ایام تشریق میں روزہ رکھنا ممنوع ہے، سوائے متمتع اورقارن حاجی کے ، کیونکہ ان کے لئے ان ایام میں اگر وہ ھدي نہ پائیں تو روزہ مشروع ہے ۔
تعجب تو اس بات پرہے کہ عرفہ کے دن کو حج کی طرف "  نسبت" کرکے بھی اس دن کے روزے کو "عموم" کے زمرے میں رکھا جاتا ہے ۔  پتا نہیں یہ منطق کا کون سا کلیہ ہے ؟
7 -  یہ کہنا کہ  سلف کے یہاں عرفہ سے مراد  مطلق  نو ذی الحجہ کی تاریخ ہے ، ان پہ اتہام باندھنا ہے ، سلف سے یہ کہیں مروی نہیں ہے کہ وہ عرفہ کے قیام کے دن کے علم یقینی کے باوجود اس کے پہلے یا دوسرے دن کو یوم عرفہ مانتے ہوں ، بلا شبہ عدم وسائل  اوررؤیت ومطالع میں اجتہاد  اور دیگر اسباب    کا اس دن کے اعمال پر اثر پڑسکتاہے لیکن  یہ کہناکہ وہ پوری دنیا کے اختلاف مطالع کی وجہ سے عرفہ کے دن کو متعدد مانتے تھے دعوی بلا دلیل ہے  ، اور اگر کسی نے اختلاف مطالع کو بنیاد بناکر کوئی بات کہی بھی ہے تو یہ ان کا محض اجتہاد ہے ۔
بلکہ صحابہ کرام اورتابعین   کے یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے ،جیسا کہ  عائشہ رضی اللہ عنہا  کی روایت میں ہے جس میں مسروق نے عرفہ کے دن روزہ اس احتمال کی بنیاد پرنہیں رکھا کہ کہیں قربانی کا دن نہ ہو اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان اس کی تصحیح فرمائی  جس کا مستفاد یہ ہے کہ آج عرفہ کا دن ہے اورعیداور قربانی وغیرہ میں  اعتباراسی  دن کا ہوگا جس دن  لوگ اسے انجام دے رہے ہوں  گرچہ اس دن کےبارے  میں شک ہی کیوں نہ  ہو  ۔(بیھقی /8301 ، شیخ البانی نے اس روایت کی سند کو جیدقرار دیا ہے ، سلسلہ صحیحہ : 1/1/ 442) ۔                                                                                                 اور عطاء کی ایک مرسل روایت میں ہے:" أضحاكم يوم تضحون ""قربانی کا وہی دن ہوتاہے جس دن تم لوگ قربانی کرتے ہو"وأراه قال:"وعرفة يوم تعرفون ""عرفہ کا دن وہی ہے جس دن تم لوگ عرفہ میں قیام کرتے ہو " أخرجه البيهقي في " السنن الكبرى "( 5 / 176 ) والشافعي في " الأم "( 1/ 264) عن عطاء مرسلاً،وصححه الألباني في "صحيح الجامع " ( 4224). اور بیھقی کی روایت میں عبدالعزيز بن عبد الله بن خالد بن أسيد  سے مرسلا مروی ہے :"يوم عرفة الذي يعرف فيه الناس""عرفہ کادن وہی دن ہے جس دن لوگ عرفہ میں قیام کرتے ہیں "(السنن الكبرى للبيهقي : 5/ 176 امام بیھقی فرماتےہیں :"هذا مرسل جيد أخرجه أبوداؤد في المراسيل " رقم /149" اور ابن حجر فرماتے ہیں :"وورواه الترمذي واستغربه وصححه , والدارقطني من حديث عائشة مرفوعا ,صوب الدارقطني وقفه في العلل ..." " اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے "غریب اور صحیح " کہاہے ، اور دراقطنی نے اسے علل کے اندرموقوف قرار دیاہے "دیکھئے : التلخیص الحبیر: 2/256 رقم /1051 ، اسی معنی کی روایت طبرانی نے اوسط کے اندر ذکر کیا ہے:"إنما عرفة يوم يعرف الإمام " ، ھیثمی لکھتے ہیں :" اس طبرانی نے اوسط کے اندرروایت کیا ہے اس کی سندمیں دلہم بن صالح ہیں جنہیں ابن معین اور ابن حبان نے ضعیف قراردیا ہے ، اوراس کی سند حسن ہے " مجمع الزوائد:3/190 ، دلہم  بن صالح کو امام ابوداؤد نے "لاباس بہ "قراردیا ہے ،تھذیب التھذیب :رقم /303 ،اور نسائی ،ذہبی اور ابن حجر نے ضعیف قراردیاہے ،دیکھئے :ضعفاء النسائی :ص 101 ، الجرح والتعدیل : 3/436، التقریب : 1/236 ) .                                                                      اسی  چیزکی تصریح فقہاء کے اس بیان میں بھی موجود ہے جس میں بسبب اجتہاد وخطا  آٹھ یا نو ذی الحجہ کو حاجی کے مقام عرفات میں اجتماع کے دن کو ہی عرفہ کا دن قراردیاگیاہے ۔                                                                     مذکورہ روایات وتوجیہات کودیکھتے ہوئے کہ عرفہ کے دن کے روزے کا تعلق  مقام عرفات میں حاجیوں کے قیام سے ہے یہ کہنا کہ:"اپنے اپنے ملک کےحساب سے نو ذی الحجہ کو عرفہ کا روزہ ماننا ہوبہو سلف کا عملی نمونہ ہے "،  کتنی مضحکہ خیزبات ہے ۔ نیزیہ کہنا کہ :" اگر سلف کے یہاں صوم عرفہ حاجیوں کے عرفات میں وقوف سے متعلق ہوتا یقینا وہ کسی نہ کسی ذریعہ سے حاجیوں کے وقوف عرفات جاننے کی کوشش کرتے ۔۔۔۔"سلف پراتہام  اور مغالطےمیں ڈالنے والی بات ہے ، جب سلف  کے یہاں اس بات میں کوئی اختلاف ہی نہیں تھا کہ عرفہ کا دن عین وقوف عرفات ہے، تو پھر وہ آخر کس ذریعہ سے کس چیزکوتلاش کرتے ؟کیا سلف میں کسی سے اس اختلاف کی بابت مروی ہے کہ یوم وقوف کے علاوہ بھی عرفہ ہوتاہے ؟ ۔ بناکسی دلیل کے باربار سلف کے فہم کا حوالہ ذہنی انتشار کی دلیل اور لوگوں پر اپنے من کی تھوپنے کی نارواکوشش  ہے ۔ چاہئےتویہ  تھا کہ عرفہ کو وقوف عرفات کے علاوہ پر اطلاق کے لئے کوئی ایسی دلیل لائی جاتی جو قرآن وسنت سے ثابت ہو اور صحابہ کرام نے اس پرعمل کیا ہو !!!  جبکہ وقوف عرفہ ہی اصل یوم عرفہ ہے جس دن کے احکام واعمال  حاجی اورغیرحاجی کے لئے متعین ومعروف ہیں  جس پر قرون اولی میں تعامل رہاہے ۔
8 - وقوف عرفات سے  عرفہ کے دن کے روزے کے متعلق ماننے پر اشکال پیداکرتےہوئے کہا جاتاہے کہ :(لوگوں کا یہ کہنا کہ) : "سو سال پہلے لوگ اپنے ملک کے حساب سے نوذی الحجہ کا ہی روزہ رکھتے تھےمگروقوف عرفات نہ جان سکنے کی وجہ سے معذورتھے ، اب وہ عذرباقی نہ رہا ۔ اس بات سے لازم آتاہے کہ ان سب میں سے کسی نے صحیح روزہ نہیں رکھا سوائے وقوف عرفات کا علم رکھنے والے کے ، اس سے ان لوگوں بشمول سلف صالحین کی فہم  حدیث اور عمل میں نتقیص کا پہلو نکلتاہے " ۔     میں کہتا ہو ں کہ سلف صالحین کے عمل میں تنقیص کا پہلو نکلتاہے اور نہ ہی ان کی فہم حدیث میں ، البتہ صاحب اشکال کی فہم  کا قصور ضرور ہے ، یہ کہاں ہے کہ اجتہادوخطا کی بنیاد پر کسی کا عمل ناقص اور فہم کمزور ہوجاتاہے ، آپ کے بیان کے مطابق تو - نعوذ باللہ  - ان سارے صحابہ کرام ، ائمہ محدثین وفقہاء او رمجتہدین کا عمل جو  بسبب اجتہادوخطأ  نص کے خلاف تھا  ناقص ہوا اور ان کے فہم میں تقصیر تھا ۔ اللہ ہدایت دے ۔
تاریخ میں بارہا  ایسا ہو اہے کہ لوگوں نے عیدین منائی اور حج کیا  ، اور پھر بعدمیں پتا چلا کہ وہ دن  صحیح نہیں تھا بلکہ اس سے پہلے یا بعد والا دن  صحیح تھا ، کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ ان لوگوں کاعمل  مردود و  ناقص تھا یا مقبول ومصاب ؟ کیا ایسے لوگوں کو اپنے حج اور دیگرعبادات کا اعادہ کرنا چاہئے تھا  ؟۔ بزعم خویش" تحقیقی" مضمون لکھنے کا دعوی کرنے والے کو اتنی سطحی بات لکھنے سے پہلے صحیح فہم اور اسلاف کے منہج وطریقہ کو اچھی طرح سے سمجھنے کی ضرورت ہے  ۔
اسکے علاوہ بهی غیرضروری اشکالات وتوجیہات اورمحاکمات پیش کی جاتی ہیں جوناقابل اعتناء  عقل وذہن کی پیداوار ہیں  ۔
یاد رکهیں کہ کوئی بهی عمل توحید کے بعد اتباع سنت پرہی منحصر ہے .
اللہ رب العزت ہمیں حق وصواب کی توفیق عطا فرمائے . وصلى الله على خيرخلقه وسلم .

********