جمعرات، 25 اپریل، 2019

صبراور اس کےفوائد و ثمرات


صبراور اس کےفوائدوثمرات

      انسان کودنیاوی زندگی میں خوشی ومسرت کے ساتھ ساتھ غم ، تکلیف اور مصیبت وآفات سے بھی واسطہ پڑتارہتاہے،جوکہ اللہ تبارک وتعالی کےیہاں مقدرہیں اور اس کی مشیئت سے آتی ہیں ،جس پرایک مومن کا کامل یقین وایمان ہوتاہے ، اللہ تعالی فرماتاہے : { مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَا}(زمین میں اور تمہاری جانوں میں جومصیبت آتی ہے قبل اس کےکہ ہم   اسے پیداکریں ایک خاص کتاب میں لکھ دی گئی ہے ۔)  (سورۃ  الحدید:22-23)  اورایک دوسری جگہ فرماتاہے :{  قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا}(کہہ دیجئے کہ ہمیں سوائے اللہ کے ہمارے حق میں لکھے ہوئے کےکوئی چیزپہنچ ہی نہیں سکتی)  (سور ہ   توبۃ :51)۔
لہذا مصیبتوں کو اللہ رب العزت  دو وجہوں سے نازل کرتاہے :
 اول :ابتلاء وآزائش کےبطورتاکہ مومن بندہ کے درجات بلند ہوں اورگناہوں کے لئے کفارہ بنے ،  اللہ تعالی ارشادفرماتاہے :  {وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ}(ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے ، دشمن کے ڈرسے ، بھوک پیاس سے ، مال وجان او رپھلوں کی کمی سے ، اور صبر کرنے والوں کو بشارت سنا دیجئے ۔) (سورۃ البقرہ:155)۔
 دوم : کسی گناہ کی پاداش میں ، اللہ تعالی فرماتاہے :{ وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ }(تمہیں جوکچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے ، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگذرفرمادیتاہے) (سورۃ الشوری :30) ہردوصورت میں چھوٹی بڑی ہرمصیبت میں  ایک مومن بندہ کےلئے انابت الی اللہ اورصبرضرووی ہے جواس کےلئے دنیاوآخرت کی بھلائی کی ضمانت دیتاہے ، اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے :  {وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ۔ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۔ أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ}(اور ان صبر کرنےوالوں کو خوشخبری سنا دیجئے جنہیں جب کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ کی ملکیت ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ان کے اوپررب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔)  (سورۃ البقرہ :155-157)۔
 ہم اپنے اس مضمون میں صبر کی اہمیت وفضیلت اوراس سے متعلق  امورکوبیان کریں گے تاکہ کسی مصیبت زدہ کےلئے مشعل راہ بنے، اور صبرکی لذتوں اور اس کے فوائد سے بہرہ ورہو  :
صبرکامعنی :
صبرکالغوی معنی :  صبرجزع وفزع کا نقیض ہے جس کالغوی معنی حبس یعنی  روکنا،منع کرنا،قیدکرنااورضبط کرناہے، گویاصبرکامطلب ہوا نفس کوجزع وواویلا سےروکنا۔(دیکھئے : الصحاح للجوہری :ص 706 ولسان العرب : 4/437)
  قرآن کریم میں یعقوب علیہ السلام کے واقعہ میں  صبرجمیل کاذکرواردہے:{فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ }( سورۃ یوسف: 18) ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتےہیں : "الصبرالجميل هو الذي لا شكوى فيه ولا معه""صبرجمیل اس صبرکوکہتےہیں جس کےاندریاجس کےساتھ کوئی شکوہ شامل نہ ہو" امام مجاہد فرماتےہیں :"هوالذي لاجزع معه""جس کے ساتھ کوئی آہ وفغاں نہ ہو"۔(دیکھئے :تفسیر ابن کثیر: 2/489)۔ امام شافعی کا شعرہے:
صبرا جميلا ما أقرب الفرجا  ***  من راقب الله في الأمور نجا
 من صدق الله لم ينله  أذى  *** و من رجاه يكون  حيث رجا
"(صبر کیجئے )صبر جمیل کشادگی(یاغم کو ختم کرنے) سےبہت ہی  قریب ہے  ۔  جس نے معاملات میں اللہ تعالی کا خوف کیاوہ نجات پاگیا۔اور جس نے قول وعمل میں اللہ کے ساتھ وفاکی اسے اذیت نہیں پہنچتی  ۔ اور جو اس سے امید لگاتاہے اسے وہی پاتاہے"۔
صبرکااصطلاحی معنی : "نفس کوقرآن وسنت  اورفرائض پرثابت قدم رکھنااوراس کوآہ وبکا اورشکوی وناراضگی سے روکنا۔" صبر کی ایک تعریف یہ کی جاتی ہے : " مصیبت وپریشانی کی تکلیف کوغیراللہ سے بیان کرنے سے پرہیز کرنا "  نیز صبرکی ایک  تعریف  یہ بھی کی جاتی ہے اوروہ ہے :"عقل وشریعت کے مقتضی کے مطابق نفس کوکنٹرول کرنا"۔(دیکھئے : التعریفات للجرجانی : ص 131،مفردات الفاظ القرآن الکریم للراغب الاصفہانی : 474)
امام ابن القیم نے اس کی تعریف یوں کی ہے :"الصبر: بأنه ثبات القلب علی الأحکام القدریة والشرعیة " " تقدیری اورشرعی احکام پہ دل کوثابت قدم رکھنا صبرہے"(الروح :ص 241)۔
ابو بکر بن الانباری نے بعض علماء سے لکھاہے کہ : "صبر کو صبر اس لئے کہتے ہیں وہ دل پہ کڑواہوتاہے اور نفس کے لئے پریشان کن، جیسے کڑوا پھل منہ کے اندر"( ذم الھوی /ابن الجوزی  :58)۔ شاعر کہتاہے :
 الصبر مثل اسمه مر مذاقته   ***   لكن عواقبه أحلى من العسل
"صبرکی لذت اس کے نام کی طرح ہی کڑواہے ۔ لیکن اس کا انجام شہد سے بھی زیادہ میٹھاہے"۔
صبرکے مقامات:
صبرتین  چیزوں پرہوتاہے :
اول : طاعت ونیکی پرصبر: انسان کا نفس نیکیوں سے بھاگتاہے ،اور ان سے سستی اورکاہلی محسوس کرتاہے۔ اس کےباوجود نفس کو اللہ کی طاعت پرآمادہ کرنا اور اس پرقائم رہنا جیسے ، نفس کے انکارکےباوجود نمازقائم کرنا ، نہ چاہتے ہوئے بھی زکاۃ ، صدقات ، روزہ ، حج اوردیگرعبادات کااہتمام کرنا ، مشقت کے باوجود  نیکیوں کو احسن طریقےسے خالص اللہ کے لئے انجام دینا صبر ہے ۔
اسی طرح معاملات میں لوگوں کے ساتھ نرمی اورحسن اخلاق سے پیش آنا ، ان کے حقوق کواداکرنا، ان کو تکلیف دینےسےپرہیزکرنا اورسارےمعاملات میں امانتداری اوردیانتداری کاثبوت دینا  وغیرہ  صبر کی بہترین مثالیں ہیں ۔اللہ رب العزت نے طاعت پہ صبر کی کچھ مثالیں ذکرکی ہے ، جن میں سےچند مندرجہ ذیل ہیں :
فرماتاہے : { رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ ۚ}(آسمانوں اور زمینوں اورجوکچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب وہی ہے تو اسی کی عبادت کراور اس کی عبادت پرصبرکر(جم جا) (سورۃ مریم :65)۔
نمازکے لئے صبر کی تعبیر کرتےہوئے فرماتاہے: {وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَ}(اپنے گھروالوں کو نمازکی تاکیدکر اور اس پر خودبھی صبرکر(جم جا) (سورۃ طہ : 132)۔
دوم  :  محرمات پرصبر: گناہ اپنی جاذبیت کی بناپرانسان کے نفس کواپنی جانب راغب کرتاہے ، ایسے وقت میں اس کے انجام وعواقب، اوراللہ رب العزت کی پکڑ کو پیش نظررکھ کرنفس کواس سے روکنا ،زنا،بدکاری ، چوری ، ڈکیتی ، خودکشی اوراس طرح کے تمام معاصی وگناہوں سے خودپرقابورکھنا بہترین صبرہے  ۔
     گناہ ومعاصی سے صبر دیگر صبر کے مقابلے کچھ زیادہ ہی سخت ہے کیونکہ خواہشات وشہوات سے بچنے کے لئے آدمی کو نفس سے شدت کے ساتھ مجاہدہ کرنا پڑتاہے ، اور اس لئے بھی کہ گناہ اپنی جاذبیت کے ساتھ اس پر عمل سہل  الوصول ہوتاہے ،اور اس سے بچنے کے لئے اللہ کاخوف اور تقوی کے ساتھ ساتھ اس کے برے انجام کا ڈر بھی پیش نظر رکھنا پڑتاہے ،  میمون بن مہران سے مروی ہے:"صبر دوطرح کا ہوتاہے : مصیبت پرصبر اچھاہے اور اس سے بھی افضل صبرگناہوں سے بچناہے "۔ (عدۃ الصابرین وذخیرۃ الشاکرین لابن القیم/71،والصبر والثواب علیہ لابن ابی الدنیا/ص 28)۔
     گناہوں سے بچنے والے نوجوان کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے:" إن ربك ليعجب للشاب لا صبوة له""اللہ تعالی اس نوجوان پر تعجب فرماتاہے جس کا میلان شہوات کی طرف نہیں ہوتا"(اس روایت کوشیخ البانی نے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ/2843 کے اندر صحیح قراردیاہے)۔
سوم : ابتلاءوآزمائش پرصبر:ابتلاء وآزمائش کےبطورانسان پرمختلف  راستوں سے   چھوٹی بڑی بے شمار مصیبتیں  آتی رہتی ہیں ،جن پر صبر کیاجاتاہے، جیسے :
کسی محبوب کی موت،چھوٹی بڑی کوئی بھی بیماری لاحق ہونا، تنگدستی ومحتاجی لاحق ہونا،دشمن کی طرف سے پہنچنے والاضرر ونقصان ،ظالم حکمراں کا ظلم وتشدداورخانگی و معاشرتی  زندگی میں  آنے والی پریشانی وغیرہ  پرصبر۔
     ان مصائب وپریشانیوں اور دیگر مختلف وجوہات کی بناپروارد بلایا اورمصیبتوں کے وقت اللہ سے اس پر اجروثواب کی امیدلگاکر ثابت قدم رہنا ، جزع وفزع ، آہ وبکا ، اورچہرہ نوچنے ، گریبان چاک کرنے اورچھاتی  پیٹنے سے احتراز ، یہ ایمان رکھتے ہوئے کہ یہ مصیبتیں  ہمارا مقدرہیں  صبر ہے ۔    
صبر کی اہمیت :
     اخلاقی صفات میں صبر وہ صفت ہے جس کا دین اسلام نے بہت زیادہ اہتمام کیاہے اسی وجہ سے اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجیدکے اندرتقریبا نوے (90) بار اس کاذکرکیا ہے۔ قرآن مجیدمیں اللہ تعالی نے جہاں بھی صبرکاذکرکیاہے "یاأیھاالذین آمنوا ۔۔۔"سے خطاب کیاہے ،اورکئی مقامات پراس  کا تذکرہ نمازاورتقوی کے ساتھ کیاہے۔ نیزدین کےاکثرمقامات صبرسے مرتبط ہیں  ، کیونکہ اطاعت کی بجاآوری اورمعصیت سے اجتناب کا نام ہی دین ہے جن کی اصل بنیادصبرہے ،اللہ تعالی نے سورۃ العصرمیں جب زمانے کی قسم کھاکرانسان کی ناکامیوں اوربربادیوں کاتذکرہ کیاتوچندلوگوں کواس سےمستثنی فرمایا جن میں سے وہ لوگ بھی ہیں جوایک دوسرےکوصبرکی تلقین کرتےہیں ۔  نیز اللہ تبارک وتعالی نے مختلف مقامات پر انبیاءکرام علیہم السلام اورمومنوں   کوصبرکاحکم دیاہے ، اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتےہوئے فرماتاہے :{فاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ } (صبر کیجئے  کیونکہ اللہ کا وعدہ برحق ہے ) (سورۃ الروم:60)۔ نیزفرماتاہے : {فاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ }(یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر آپ صبرکریں اور اپنے رب کی تسبیح  تعریف کے ساتھ بیان کریں سورج نکلنے سے پہلے بھی اور سورج غروب ہونے سے پہلےبھی ) (سورۃ  ق:39)۔نیزفرماتاہے: {فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ} (جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبرکیااسی طرح آپ بھی صبرکیجئے) (سورۃالاحقاف: 35)۔
ایک جگہ  فرماتاہے :{ يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنذِرْ   وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ  وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ   وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ  وَلَا تَمْنُن تَسْتَكْثِرُ  وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ} (اے کپڑااوڑھنے والے ، کھڑاہوجااور (لوگوں کو)آگاہ کردے،اپنے کپڑوں کو پاک رکھاکر،ناپاکی کوچھوڑدے، اوراحسان کرکےزیادہ لینے کی خواہش نہ کر، اور اپنے رب کی راہ میں صبرکر) (سورۃ المدثر:1-7)۔
نیزفرماتاہے: {وَاصْبِرْ عَلى ما يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْراً جَمِيلًا}(اورجوکچھ وہ کہیں اس پر صبرکراور وضعداری کے ساتھ ان سے الگ تھلگ رہ) ( سورۃ المزمل:10)۔
     اللہ رب العزت کے بقول  :لقمان علیہ السلام اپنے بیٹے کوحکم دیتےہوئے فرماتےہیں : { يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ ۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ }(اے بیٹے نمازقائم کر، بھلائی کاحکم دے ، برائی سے روک اور اگر تجھے کوئی پریشانی ہو تو صبرکر، یقین مانوں کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے۔) (سورۃ لقمان :17)۔ 
انبیاء کرام کے صبر کے بارے میں فرماتاہے : {وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَى مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّى أَتَاهُمْ نَصْرُنَا }(آپ سے قبل رسولوں کوجھٹلایاگیاتو انہوں نے اپنے جھٹلائے جانے اور اذیت دئے جانے پر صبرکیا،یہاں تک کہ ان کو ہماری مدد پہنچ گئی ) (سورۃالانعام:34) انبیاء کرام کو لوگ کسی بھی طرح کی تکلیف دیتے تووہ  ان سے کہتے :{وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آَذَيْتُمُونَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ}(تم ہمیں ایذائیں دوگے تو ہم ان پر صبر کریں گے اور توکل کرنے والوں کے لئے اللہ پرتوکل کرنا ہی زیباہے ) ۔ (سورۃابراہیم :12)۔
نیزفرماتاہے : {وَإِسْمَاعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا الْكِفْلِ كُلٌّ مِنَ الصَّابِرِينَ}(اور اسماعیل ادریس اور ذوالکفل سب کے سب صبرکرنے والوں میں سے تھے)۔( سورۃالانبیاء:85)۔
       ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئےاس وقت آپ کو تیزبخارتھا، انہوں نے چادرکے اوپرہاتھ رکھاتو کہا: اے اللہ کےرسول ( صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ کوتو بہت تیزبخارہے، تو آپ نے فرمایا:"إنا كذلك، يشدد علينا البلاء ويضاعف لنا الأجر""ہم (انبیاء)  پرایسے ہی سخت بلاء آتی ہے اور ہمارے اجرمیں زیادتی کی جاتی ہے" پھر پوچھا : اے اللہ کے رسول ! سب سے سخت مصیبتیں کن لوگوں پرآتی ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا: " انبیاء پر" پوچھا: پھرکن پر ؟ تو فرمایا:" علماء پر" پوچھا: پھرکن پر؟ تو فرمایا:"نیک لوگوں پر"۔(شعب الایمان للبیہقی /9774،علامہ البانی نے اس روایت کو صحیح قراردیاہے۔ صحیح الترغیب /3403)۔
     اپنے مومن بندوں کو حکم دیتے ہوئے  اللہ تعالی فرماتاہے : { وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ }(صبر اور نمازکے ساتھ مدد طلب کرو،یہ چیزشاق ہے مگرڈررکھنے والوں پر)  (سورہ البقرہ:45) نیزفرماتاہے :{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ } (اے ایمان والوں صبر کرو اور ایک دوسرے کو تھامے رکھواورجہاد کے لئے تیار رہواور اللہ سے ڈرتے رہوتاکہ تم کامیاب ہوسکو۔) (سورۃآل عمران:200)۔
      اسی طرح اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجیدکے اندراپنےمومن بندوں کوصبر کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ  ابراہیم اسماعیل، یعقوب ، یوسف ،ایوب ، موسی، عیسی اوردیگرانبیاءکرام علیہم السلام کے صبرکےواقعات مختلف اسلوب واندازمیں ذکرکیاہےجن کاذکرطوالت کاسبب ہے  ۔
صبر کی معرفت :
      اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجید کے اندراور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنتوں کے اندر صبرکی مختلف صورتوں راستوں اورطریقوں  کو بیان کیاہےجن کی معرفت انسان کو صبر کی حقیقی اہمیت ، اس کی ضرورت اور فوائدکا ادراک کراتی ہے اور پھر رب کائنات کی حقیقی معرفت اوربےمشقت  زندگی کی راہیں  ہموارکرنے میں ممد ومعاون بنتی ہے  ۔
اسی طرح اللہ کی حاکمیت اور کمال قدرت اور تقیدیر پر ایمان صبر کا عنصرہے ، انسان کو ہمیشہ یہ بات  اپنے ذہن میں رکھنی  چاہئے کہ صبر اس کے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کا ایک بہترین ذریعہ ووسیلہ ہے اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے:{ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ}(جب انہیں مصیبت پہنچتی ہے تو { إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ } کہتے ہیں)۔( سورۃالبقرہ:156)۔
     جیساکہ مذکورہ نصوص میں بیان کیاگیاکہ اللہ تبارک وتعالی انسان کے اوپر مختلف وجوہات کی بناپر مصیبتیں اور تکلیفیں نازل کرتارہتا ہے ، کبھی انسان کے نفس میں ، کبھی مال ودولت میں ، کبھی آل واولاد میں تو کھبی رشتہ داروں اور ملک ووطن میں یا اور کسی چیزمیں ۔ ان سارے مصا‏ئب کے اندر اللہ تبارک وتعالی نے  صبر کا حکم دیاہے اور دنیا وآخرت میں کامیابی کا ذریعہ قراردیاہے۔
     لہذا انسان کو ایسے مواقع سے لعن طعن،آہ وواویلااور گریبان چاک کرنے کے بجائے اللہ کی تقدیرپر ایمان کے ساتھ ساتھ اس کی طرف سے آسانی ورحمت کا انتظار کرنا چاہئے کیونکہ یہ مصیبتیں ہمار ےلئےآزمائش، گناہوں کا کفارہ اور ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ ہیں۔
   اور اس پر واویلا اور ہائے توبہ ایمان کی کمزوری کا سبب ہے ،سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو گالوں کو پیٹے یا گریبان کو پھاڑے ۔۔۔۔" (صحیح مسلم/103 )۔
صبر کا اصل موقع :
      انسان حسب برداشت وحاجت صبر کرتاہے لیکن اصلی صبروہی ہے جو ابتدائی صدمہ  پہ کیاجائے ، بلا شبہ جب کسی تکلیف اور مصیبت کے پہلے حملے پہ آدمی صبر کرے تو اس کی قوت ارادی اور اللہ سے قربت اور اس پرتوکل اور اسی سے رجاء وامید  کا پتہ چلتاہے  ،  اسی لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إنما الصبرعند الصدمة الأولى" " صبر تو پہلے صدمہ کے وقت ہے "  ۔(صحیح بخاری /1252 ، صحیح مسلم /926)۔
صبرکے فوا‏ئد اور ثمرات :
     قرآن وسنت کے نصوص میں صبرکے مختلف فوائد اوراس کے ثمرات کا بیان ہےجن میں سے چند کاذکر مندرجہ ذیل ہے:
پہلافائدہ وثمرہ:صبرسے ایمان ویقین کی پختگی کاپتہ چلتاہے ، اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاگیاکہ کون سا ایمان افضل ہے توآپ نے ارشادفرمایا:" الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ"صبراوردرگذر " (رواہ  ابویعلی/1854 وابن ابی شیبہ فی شعب الایمان/9710 ، علامہ البانی نے سلسلہ صحیحہ /1495 کے اندرصحیح  قرار دیاہے۔) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتےہیں:"صبر نصف ایمان ہے"(رواه الطبراني في الكبير /8544 والحاکم/3666، علامہ البانی نے صحیح الترغیب والترھیب /3397کے اندراسےصحیح  قراردیاہے)۔
دوسرافائدہ: صبرآدمی کےاندرخشوع وعاجزی پیداکرتاہے، اللہ رب العزت فرماتاہے : { وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ* الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَالصَّابِرِينَ عَلَى مَا أَصَابَهُمْ وَالْمُقِيمِي الصَّلَاةِ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ}(عاجزی کرنےوالوں کوخوشخبری سنادیجئے،یہ وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کاذکرکیاجائےتوان کادل تھراجاتاہے،انہیں جب تکلیف پہونچےتوصبرکرتےہیں ،نمازقائم کرتےہیں ، اورہم نےجوکچھ  انہیں دیاہے اس میں سے (اللہ کےراستےمیں ) خرچ کرتےہیں ) (سورۃالحج:34-35) ۔
تیسرافائدہ: صبرسےصدق وتقوی  کی صفت پیداہوتی ہے  ، نیکوکاروں کا تذکرہ کرتےہوئے اللہ تعالی فرماتاہے: { وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ}(تنگدستی ،دکھ ،درد اورلڑائی کےوقت صبرکرنےوالے،یہی لوگ سچے ہیں اوریہی متقی وپرہیزگارہیں ) (سورۃالبقرہ: 177)۔
چوتھا فائدہ : صبرسےہدایت ملتی ہے، اللہ تعالی فرماتاہے : { وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ } (سورۃالتغابن:11) امام طبری اوردیگرمفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں مختلف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا قول نقل کیاہے کہ  اس سے مرادوہ آدمی ہے جس پرمصیبت آتی ہے تواسے یقین ہوتاہے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے اورپھراس پرسراپاتسلیم ورضابن جاتاہے۔
اورصحیح مسلم کےاندرہے،اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " والصَّبْرُضِياءٌ "(صحیح مسلم /556) یعنی آدمی ہمیشہ صبرکےذریعہ روشن راستہ وہدایت کا طلبگارہوتاہےکہ حق وصواب پرقائم رہے ۔
اللہ تعالی صبرکرنے والوں کے سلسلےمیں  فرماتاہے : { وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ} (اوریہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ) (البقرة: 157)۔
پانچواں فائدہ:صبرسے امامت وحکومت اوررئاست  ملتی ہے،  بنواسرائیل کے سلسلےمیں اللہ تعالی فرماتاہے : {وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُو} (ہم نے ان لوگوں کوجوبالکل کمزروسمجھےجاتےتھےاس سرزمین کےپورب وپچھم کامالک بنادیاجس میں ہم نےبرکت رکھی اورآپ کے رب کانیک وعدہ بنواسرائیل کےحق میں ان کےصبرکی وجہ سے پوراہوگیا) (سورۃالأعراف: 137) نیزفرماتاہے: {وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآَيَاتِنَا يُوقِنُونَ}(اورجب ان لوگوں نے صبرکیاتوہم نے ان میں سے ایسے پیشوابنائےجوہمارےحکم سےلوگوں کوہدایت کرتےتھےاوروہ ہماری آیتوں پریقین رکھتےتھے) (سورۃالسجدة:24)۔
چھٹا فائدہ : صبرسے اللہ کی  رحمت کاحاصل ہوتی ہے ،اللہ تعالی فرماتاہے : {وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ * الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ * أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ} (صبرکرنےوالوں کوبشارت دےدیجئےجنہیں مصیبت پہونچتی ہےتو" إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ " کہتےہیں ، ان پران کےرب کی نوازشیں اوررحمتیں ہیں اوریہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ) (سورۃالبقرة: 155- 157)۔
ساتواں فائدہ : صبرگناہوں کاکفارہ ہے،ابوسعید  خدری اورابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : "ما يصيب المسلم من نصبٍ ولا وصبٍ ولا همٍ ولا حزنٍ ولا أذىً ولا غمٍ حتى الشوكة يشاكُها إلا كفر الله بها من خطاياه""کسی مسلم کوتھکان ،درد،غم ، اذیت ،اورتکلیف پہونچتی ہے ،یہاں تک کہ کانٹابھی چوبھتاہےتواللہ تعالی (صبرکرنےپہ)  اس کےبدلے اس کےگناہ معاف فرمادیتاہے"۔(صحیح بخاری /5641  وصحیح مسلم /2554) نیزفرماتے ہیں : "لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ أَوْ الْمُؤْمِنَةِ فِي جَسَدِهِ وَفِي مَالِهِ وَفِي وَلَدِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ" "مومن مرد یا مومنہ عورت کواس کے جسم میں اوراس کی  مال و دولت میں اوراس کی  اولاد میں  مصیتیں پہنچتی رہتی ہیں (اوروہ صبر کرتاہے) تو وہ اللہ تعالی سے  حال میں ملتاہے کہ اس کے اوپر کوئی  گناہ باقی نہیں رہتا"۔(سنن ترمذی /2399،مسند احمد/7859 ، علامہ البانی نے اس روایت کو حسن صحیح قراردیاہے۔سلسلۃالاحادیث الصحیحۃ/2280)۔ 
      اسی طرح بخار جیسی بیماری پر آدمی صبر کرتاہے تو اس کے گناہ جھڑجاتے ہیں ، جابررضی اللہ عنہ سے مروی  ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  ام سائب کے پاس گئے (وہ بخارسے تپ رہی تھیں )   ، آپ نے پوچھا : " کیابات ہے تمہارے اوپر کپکپی کیوں طاری ہے ؟ " تو انہوں نے کہاہے : بخارکی وجہ سے ، اللہ تعالی اس کے اندر برکت نہ دے ۔تو آپ نے فرمایا: " لا تسبي الحمى ; فإنها تذهب خطايا بني آدم ، كما يذهب الكير خبث الحديد  "بخار کو برابھلامت کہہ کیونکہ بخاربنوآدم کے گناہوں کو اس  طرح ختم کردیتاہے جیسے بھٹی لوہے کی گندگی کو" (رواه مسلم/4678) ،اسی طرح عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "إنَّما مثَلُ العَبْدِ المؤْمِنِ حين يُصيبُه الوَعْكُ والحُمّى؛ كحديدَةٍ تدْخُلُ النارَ، فَيذْهَبُ خَبثُها ويَبْقَى طِيبُها" "مومن بندےکی مثال جب اسے دردو بخار لاحق ہوتاہے اس لوہے کی طرح ہے جو آگ میں جاتاہے تواس کی گندگی ختم ہوجاتی ہے اور اس کا خالص  حصہ بچ جاتاہے " ۔(رواہ الحاکم ، شیخ البانی نے اسے حسن قراردیاہے ۔ صحیح الترغیب /3439)۔  
آٹھواں فائدہ : صبرکرنےوالےکواللہ تعالی بے  حساب اجرسے نوازتاہے، اللہ تعالی فرماتاہے : { إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ} (صبرکرنےوالے کواللہ تعالی بےحساب اجر دیتاہے) (سورۃالزمر:10) ۔نیزفرماتاہے: {إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ} (سوائے ان لوگوں کےجنہوں نے صبرکیااورنیک اعمال انجام دئے توان کےلئے بخشش اوربہت بڑااجرہے) (سورۃھود:11)۔
نواں فائدہ : صبرسےاللہ کی معیت  حاصل ہوتی ہے ،اللہ تعالی فرماتاہے : {إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ}(بےشک اللہ صبرکرنےوالوں کےساتھ ہے) (سورۃالبقرہ:153)۔
دسواں فائدہ :صبرکرنےوالوں سے  اللہ تبارک وتعالی  محبت  کرتاہے،اللہ تعالی فرماتاہے: {وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ} (اور اللہ صبرکرنےوالوں سے  محبت  کرتاہے) (سورۃآل عمران: 146)۔
گیارہواں فائدہ :صبرسے جنت  اوراس کی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں ،اللہ تبارک وتعالی  فرماتاہے:{الصَّابِرِينَ وَالصَّادِقِينَ وَالْقَانِتِينَ وَالْمُنْفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ}(جو صبر کرنے والے اور سچ بولنے والے اور فرمانبرداری کرنے والے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے  اور  بوقت سحر بخشش مانگنے والے ہیں ) (سورۃآل عمران : 17)۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے متقی ، صادق،فرمانبردار، دعاءکرنےوالوں اوراللہ کی راہ میں خرچ کرنےوالوں کےساتھ صبرکرنےوالوں کےلئےجنت اوراس کی نعمتوں کاوعدہ کیاہے۔صحیحین کےاندرہے کہ ایک کالی عورت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اورکہا : میرےاوپرغشی طاری ہوجاتی ہے اورمیں بےپردہ ہوجاتی ہوں ،اللہ سےمیرےلئے دعاءکردیجئےکہ ایسانہ ہو۔ توآپ نے فرمایا:"اگرتوصبرکرتی ہےتوتیرےلئے جنت ہے ، اوراگریہ چاہتی ہے کہ تیرےلئے دعاءکروں اوراللہ تمہیں شفادے،توکردوں گا " اس عورت نےکہا: میں صبرکروں گی ، لیکن جوایسی حالت میں بےپردہ ہوجاتی ہوں اس کے لئےدعاءکردیجئے کہ ایسانہ ہو،توآپ نے اس کےلئے دعاءکردیا" ۔(صحیح بخاری /5328 ، صحیح مسلم /2576)حدیث قدسی میں  ہے کہ اللہ کےرسول نے فرمایا کہ: اللہ تعالی فرماتاہے: "اے آدم کی اولاداگرتونے پہلےصدمہ کے وقت صبرواحتساب سے کام لیاتومیں جنت سے کم پرتمہارےلئے راضی نہیں ہوں "(اسے ابن ماجہ /1597نے روایت کیاہے اورعلامہ البانی نے حسن قراردیاہے)۔
بارہواں فائدہ : صبرانسان کےاندرعزم وثبات  اورہمت وحوصلہ  پیداکرتاہے،اللہ تعالی فرماتاہے:{ وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ} (اگرصبراورتقوی اختیارکروتویقینایہ بہت بڑی ہمت کاکام ہے ) (سورۃآل عمران:186) ۔
تیرہواں فائدہ : صبرسے دشمن کی سازشیں نقصان نہیں دیتیں، اوراللہ کی مدد شامل حال ہوتی ہے،اللہ تعالی فرماتاہے: {وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا}(اگرصبرکرواورتقوی اختیارکروتوان کی سازشیں تمیہں کچھ نقصان نہیں پہونچاسکتیں ) (سورۃآل عمران:  120)۔
چودہواں فائدہ:صبرکرنےوالے کےساتھ اللہ کی نصرت ومدد ہوتی ہے ، اللہ تعالی فرماتاہے: {بَلَى إِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُمْ مِنْ فَوْرِهِمْ هَذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آَلَافٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُسَوِّمِينَ}(کیوں نہیں اگرتم صبرکرو،پرہیزگاری کرواوریہ لوگ  اسی دم تمہارےپاس آجائیں توتمہارارب  پانچ ہزارمخصوص نشان والےفرشتوں سے تمہاری مددکرےگا) (سورۃآل عمران: 125)۔
پندرہواں فائدہ:امام حسن بصری فرماتےہیں : "   صبر خیرکے خزانوں میں  سے ایک  خزانہ ہے جو اللہ تبارک وتعالی کی جانب سے نیک بندوں کو ہی دیاجاتاہے ۔( الصبر والثواب عليہ لابن أبی الدنيا/ص 38 ، مختصر منہاج القاصدين/ص259) ۔
سولہواں فا‏ئدہ : اللہ تعالی نے صبر کو فلاح وکامیابی  کا ضامن قراردیاہے، فرماتاہے:{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ } (اے ایمان والوں صبر کرو اور ایک دوسرے کو تھامے رکھواورجہاد کے لئے تیار رہواور اللہ سے ڈرتے رہوتاکہ تم کامیاب ہوسکو۔)  (سورۃآل عمران:200)۔
سترہواں فائدہ : صبرسے ایک مومن کا تقدیرپر ایمان مضبوط ہوتاہے ،کیونکہ  وہ جانتاہے کہ یہ ساری بلائیں اور مصیبتیں  تقدیرکاحصہ ہیں  ۔
اٹھارہواں فا‏ئدہ : صبرکے اندرخیرہی خیرہے ، اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: "عَجَباً لأمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَلِكَ لأِحَدٍ إِلاَّ للْمُؤْمِن: إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْراً لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خيْراً لَهُ""مومن کےمعاملے پرتعجب ہے ،اس کا تمام کاتمام معاملہ خیرہے، اوریہ  صرف مومن کےلئے ہی ہے، اگراسے خوشی ملتی ہےتوشکراداکرتاہے اوریہ اس کےلئےخیرہے اوراگرغم وتکلیف لاحق ہوتی ہےتوصبرکرتاہے، اوریہ اس کےلئےخیرہے" (صحیح مسلم /2999) ۔
انیسواں فائدہ : صبرکومومن بندےکےلئے اللہ کا عطیہ وتحفہ قراردیاگیاہے، اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:" مَا أُعْطِىَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْراً وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ""کسی کےلئے صبرسے بہتراوروسیع ترعطیہ نہیں ہے" (صحیح بخاری /1469 ، صحیح مسلم /1053)۔
بیسواں فائدہ :صبرکرنے والا اللہ رب العزت کی حفظ وامان میں ہوتاہے ، اللہ تعالی فرماتاہے :{ وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا ۖ}(اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبرسے کام لے کیونکہ تم میری حفظ وامان میں ہو)  (سورۃالطور:48)۔
     اللہ رب العزت ہمیں ناگہانی مصیبتوں سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ، اور قسم کی پریشانیوں پر صبر جمیل کی توفیق دے ۔آمین ۔ وصلی اللہ علی خیرخلقہ ونبیہ محمد  وعلی آلہ وصحبہ اجمعین ۔

               عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی                                                                         

٭٭٭٭٭

                                                 



منگل، 14 اگست، 2018

یوم عرفہ کا روزہ : احکام و فضائل اوربعض شبہات کاازالہ


  بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد لله وحده والصلاة والسلام على من لا نبي بعده,وبعد:
*عرفہ کادن* :   
یوم عرفہ کو یوم عرفات بھی کہتے ہیں کیونکہ حج کے ایام میں نویں ذی الحجہ کو حاجی حج کے ایک اہم  رکن کی ادائیگی کے لئے  مقام عرفات میں اکٹھا ہوتے ہیں جو مکہ  سے قریب بائیس کیلو میٹر کی مسافت پر ایک پہاڑی کا نام ہے ۔( معجم المعانی اور لغت کی ديگر کتب ،  مادہ : "عرف") اہل لغت کی تصریح کے مطابق  عرفہ کے دن کی تعیین میں زمان ومکان دونوں ایک دوسرے سے مرتبط ہیں۔  
نیز عرفہ کے دن  کی تعیین کے سلسلے میں عام طور پر اہل لغت  لکھتے ہیں کہ  عرفہ  ذی الحجہ کا نواں دن ہے (دیکھئے: " القاموس الفقهي " "معجم لغةالفقهاء"،اسی طرح دیگر شروح كتب السنۃ) ۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ عرفہ کا دن ذی الحجہ کی نویں تاریخ کوہی پڑتاہے اور ذی الحجہ کا اعتبارمکہ ونواحی کی رؤیت کے اعتبار سے ہوتاہے کیونکہ عرفہ کا دن حج کے اعمال سے متعلق ہے جو بلاشبہ مکہ کی رؤیت کے اعتبارسے ہی ہوتاہے۔
عرفہ کی وجہ تسمیہ کے بارے میں امام ابن قدامہ فرماتے ہیں :" فأما يوم عرفة : فهو اليوم التاسع من ذي الحجة ، سمي بذلك لأن الوقوف بعرفة فيه،وقيل : سمي يوم عرفة لأن إبراهيم عليه السلام أري في المنام ليلة التروية أنه يؤمر بذبح ابنه، فأصبح يومه يتروى، هل هذا من الله أوحلم ؟ فسمي يوم التروية،فلما كانت الليلة الثانية رآه أيضا فأصبح يوم عرفة، فعرف أنه من الله، فسمي يوم عرفة " (المغني : 4/ 442 )" عرفہ کا دن ذی الحجہ کی نویں تاریخ  ہے یہ نام اس لئے پڑاکہ اسی دن وقوف عرفہ ہوتاہے ، اور کہاجاتاہے کہ يوم عرفہ کانام  یوم عرفہ اس لئے پڑاکیونکہ ابراہیم علیہ السلام کویوم ترویہ کی رات میں خواب میں دکھایاگیا کہ انہیں اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کاحکم دیاجارہاہے ، پھر وہ پورے دن اس غور و فکر میں رہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے یا پھرمحض ایک خواب ؟ اسی وجہ سے اس دن کا نام یوم ترویہ پڑا  ،پھر دوسری رات بھی آپ کو یہ خواب دکھایاگیا پھرجب عرفہ کی صبح ہوئی تو آپ جان گئے کہ یہ اللہ کی جانب سے (حکم) ہے ، اسی وجہ سے اس کا نام عرفہ کا دن پڑا"۔
اس کے علاوہ بھی عرفہ یا عرفات کی وجہ تسمیہ سے متعلق بہت سارے اقوال مفسرین نے نقل کئے ہیں جن میں آدم علیہ السلام کا اس جگہ کو پہچاننا , آدم وحواء علیہما السلام کا اسی مقام میں ایک دوسرے کو پہچاننا ، ابراہیم علیہ السلام کا جبریل علیہ السلام کے ذریعہ بتانے پر حج کے ارکان کا پہچاننا اور لوگوں کا اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا وغیرہ ۔(ان سارے اقوال کے لئے دیکھئے : " تفسسير الطبري : 2 / 297 ) ، البحر المحيط :2 / 275 (( فإذا أفضتم من عرفات ... الآية , کی تفسیرمیں  )) ،اور اسی طرح  " لسان العرب لابن منظور : 4 / 2898  = مادة : (عرف ) ۔
*یوم عرفہ کے دیگر نام* : 
اس دن کو عرفہ کے علاوہ بھی کئی ناموں سے جانا جاتا ہے، مثلا : یوم التمام ، یوم الحج الاکبر، المشھود،الوتراور یوم الرضاء وغیرہ ۔
*عرفہ کے دن کی فضیلت*: 
عرفہ کے دن   کی نصوص قرآن وسنت میں  بہت بڑی فضیلت وارد ہے  ، مثلا :
1 -  عرفہ کا دن اہل موقف کے لئے عید کا دن ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "يوم عرفة ويوم النحر وأيام منى عيدنا أهل الإسلام"(رواه أحمد/16932أبوداود:7/63 رقم/ 2419,الترمذي :3/417 رقم/768 والنسائي: 5/278رقم 3006وصححه الألباني في صحيح سنن أبي داؤد رقم/2090الإرواء :4/130) یعنی :" عرفہ ، نحر(قربانی) اور منی کے ایام ہم اہل اسلام کے لئے عیدکے دن ہیں "۔ 
2 –  اس روز دعاء کا خاص مقام ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :"خير الدعاء دعاء يوم عرفة " یعنی : "سب سے بہترین دعاء عرفہ کے دن کی دعاء ہے" (الترمذي:رقم /3585 وحسنه الألباني في صحيح الترمذي وتخريج مشكاة المصابيح :رقم/2531) .
3 – عرفہ کے دن اللہ تعالی کثرت سے لوگوں کو جہنم سے رہا کرتاہے  اللہ کے رسول صلى الله عليہ وسلم کا ارشادہے : " ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبدا من النار من يوم عرفة"( صحيح مسلم / 1348)
یعنی : " عرفہ کے دن سے زیادہ اللہ تعالی کسی دن بندوں کو آزاد نہیں کرتا"۔
4 – اللہ تعالی عرفہ میں وقوف کرنے والوں پر اہل آسمان کے درمیان فخرکرتاہے  ، اللہ کے رسول صلى الله عليہ وسلم کا ارشادہے :  "إن الله يباهي بأهل عرفات أهل السماء"( رواه أحمد وصحح إسناده الألباني " اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :"وإنه ليدنو ثم يباهي بهم ......." " اللہ تعالی قریب ہوتاہے پھر ان پرفخرکرتاہے " (صحیح مسلم / 1348 )۔
5 - اسی دن دین اسلام کی تکمیل ہو‏ئی اورنعمت کا اتمام ہوا۔(صحیح البخاری : 4606 )
6 – اس دن کی اللہ تعالی نے مختلف آیتوں میں قسم کھائی ہے جو اس دن کی اہمیت ومرتبہ کو بیان کرتاہے ، جیسے سورۃ البروج میں " مشھود" (البيهقي فی السنن :" 3/170 ، الترمذی :رقم/3339  وحسنه الالبانی في الصحيحة رقم/1502) اور بتفسیر عکرمہ وضحاک سورۃ الفجرمیں " الوتر" ۔ (دیکھئے : تفسیر الطبری وغیرہ )
7 –اسی دن اللہ تعالی نے بنی آدم سے توحید پر عہدومیثاق لیاتھا ۔ ( رواہ احمد/2455 ،والحاكم /75    وصححہ الالبانی )
اس کے علاوہ بھی اور بہت ساری خصوصیات ہیں جو اس دن کو دیگر ایام سے ممتازکرتی ہیں ۔
*عرفہ کے دن کے روز ہ کی فضیلت* :
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفہ کے دن کے روزہ سے متعلق پوچھاگیا تو آپ نے ارشاد فرمایا:"إني أحتسب على الله  أن يكفر السنة التي قبله  والسنة التي بعده ......" ( صحیح مسلم/1162 ) " مجھے اللہ تعالی سے امیدہے کہ (اس روزے کے بدلے) اس سے پہلے والے سال اور اس کے بعدوالے سال کے گناہوں کو معاف فرمادیگا)۔
*"کیا حاجی مقام عرفات میں روزہ رکھ سکتاہے؟* :
حاجی مقام عرفات میں روزہ رکھنے کے سلسلے میں علماء کی مختلف رائیں ہیں :
اول : مقام عرفات میں حاجی کے روزہ کے سلسلے میں روایت واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے عرفات میں  روزہ نہیں رکھا۔(دیکھئے :صحیح بخاری : 1658 ،صحیح مسلم /1123)  ۔                                                                      یہ قول مالکیہ ، شافعیہ کا معتمد قول ، حنابلہ  عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما  اور اکثر علماء کا ہے ۔
عبداللہ بن عمر فرمایا کرتے تھے کہ :"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ نہیں رکھا اورنہ ہی ابوبکرنےاورنہ ہی عمرنے    اور نہ ہی عثمان نے ،  اور نہ میں رکھتاہوں ،اور نہ میں اس کا حکم دیتاہوں اور نہ اس سے روکتاہو ں"۔(اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے ، دیکھئے : عارضۃ الاحوضي : 3/285 رقم /752  ، امام البانی نے اسے صحیح الاسناد قراردیا ہے ، صحیح سنن الترمذی : رقم /599)۔
امام ابن بازایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :"الحاج ليس عليه صيام عرفة وإن صام يخشى عليه الإثم ; لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن صوم عرفة بعرفة ولم يصم . وإن تعمد الصيام وهويعلم النهي يخشى عليه من الإثم لأن الأصل في النهي التحريم " " حاجی کےاوپرعرفہ کا روزہ نہیں ہے اور اگروہ روزہ رکھ لیتاہے تو اثم کا خطرہ ہے ، اس لئے کہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے  اور خود بھی نہیں رکھا ہے ۔ اوراگر ممانعت کوجانتے ہوئےبھی روزہ رکھتاہوتو آثم ہونے کا خطرہ ہے ، کوہنکہ نھي میں اصل تحریم ہوتی ہے"(مجموع فتاوى ومقالات الشیخ ابن باز :15/405) .
دوم : اگرحاجی اس روز روزہ رکھنے پہ قادرہواور اس سے اس کی عبادات اور ذکرواذکارپر کوئی اثر نہ پڑتا ہوتو اس کے لئے روزہ رکھنا مستحب ہے ، یہ قول حنفیہ کا ہے اور شافعیہ کا قدیم قول بھی یہی ہے ، اور اس کے قائلین میں سے قتادہ اورعطاء بھی ہیں ،صاحب عون المعبود لکھتے ہیں : "امام خطابی کے بقول : یہ ممانعت استحبابی ہے نہ کہ ایجابی ،اس روز حاجیوں کے لئے روزہ کی ممانعت اس لئے ہےکہ مبادہ اس مقام میں ذکرودعاء میں حاجی  کمزورپڑجائےگا،لہذاجوقدرت رکھتاہواورروزے کے ساتھ کمزروی کا خوف نہ ہوتواس کے لئے اس دن کا روزہ بمشئۃ اللہ افضل ہے ، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ کا (عمومی) فرمان ہے : " عرفہ کے دن کاروزہ  اس کے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد  دوسالوں  کے گناہوں کے لئے کفارہ ہے "۔حاجی عرفہ کے دن روزہ رکھ سکتاہے یا نہیں  ؟  اس سلسلےمیں لوگوں کی مختلف رائیں ہیں ، عثمان بن ابی العاص اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ دونوں روزہ رکھا کرتے تھے ،  امام احمد بن حنبل کہتے ہیں : "اگر روزہ رکھنے پہ قادرہے تو رکھےگا اوراگرنہیں رکھتاہے تو یہ ایسادن ہے جس دن  (دعاء وعبادت کے لئے ) قوت کی ضرورت پڑتی ہے " اور امام اسحاق اس دن حاجی کےلئے روزہ کو مستحب  سمجھتے تھے ۔ امام مالک ، امام سفیان ثوری اور اسی طرح امام شافعی   روزہ نہ رکھنے کے قائل تھے ۔ عطاءکہتے تھے کہ میں  جاڑے کے موسم میں روزہ رکھتاہوں اور گرمی میں نہیں رکھتاہوں ۔(عون المعبود :7/75- 76 ، نیزدیکھئے :دلائل الاحکام لابن شداد : 4299- 4305 ، الحاوی الکبیر : 3/472)۔                                                                                        سوم : اس روز روزہ رکھنا حاجی کے لئے مطلقا مستحب ہے ،  یہ قول عائشہ وعبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہما اور اسحاق بن راہویہ اور ظاہریہ کا ہے ۔(دیکھئے :مؤطاامام مالک: 1/375 ، شرح السنۃ للبغوی : 6/345-346  ،  تحفۃالاحوذی : 3/378)۔   
*حاجیوں کے لئے اس دن روزہ نہ رکھنے کی حکمت* :
- تاکہ اس دن حاجی بلاکسی تھکاوٹ وپریشانی کے ذکرودعاء اور  عبادت میں خودکو یکسوئی کے ساتھ مشغول کرسکے۔
-   یہ دن اہل موقف کے لئے عید کا دن ہے ۔
-  اس دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں روزہ نہیں رکھا ۔
*یوم عرفہ کا روزہ اور اختلاف مطالع کا اثر* :                                                                                                دائمی کمیٹی برائے فتاوی نے ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے  : 
"يوم عرفة هو اليوم الذي يقف الناس فيه بعرفة ، وصومه مشروع لغير من تلبس بالحج، فإذا أردت أن تصوم فإنك تصوم هذا اليوم، وإن صمت يومًا قبله فلا بأس، وإن صمت الأيام التسعة من أول ذي الحجة فحسن؛ لأنها أيام شريفة يستحب صومها...." ( " فتاوى اللجنة " (10 / 393 ) " عرفہ کا دن وہی دن ہے جس دن لوگ (مقام ) عرفہ میں وقوف کرتے ہیں ، اور غیرحاجیوں کے لئے اس (دن) کا روزہ مشروع ہے ، اگرآپ روزہ رکھنا چاہتے ہیں تو اسی دن رکھیں ، اور اگرایک دن قبل رکھاہے تو کوئی حرج نہیں ہے ، اور اگرپہلی ذی الحجہ سے ہی نو دنوں تک رکھنا چاہیں تو اچھاہے ، اس لئے کہ یہ مبارک دن ہیں جن کاروزہ مستحب ہے ۔۔۔"۔
شیخ عبدالرحمن السحیم ایک استفتاء کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں  :
والعبرة بوقوف الناس في "عرفة "،ولا عبرة بِمن خالف إجماع امة الإسلام ،فأمّة الإسلام تحج وتقف وتُجمِع على أن يوم عرفة ،وهو اليوم الذي يقف فيه الناس .ولا عبرة هنا باختلاف المطالع ؛ لأن الأمة تجتمع على أن يوم عرفة في ذلك اليوم الْمُحدَّد."" لوگوں کے عرفہ میں وقوف کا اعتبار ہوگا نہ  کہ جوامت اسلام کی مخالفت کرے اس کا ، چنانچہ امت مسلمہ حج ،وقوف اور اجتماع اس بنیاد پر کرتی ہے کہ عرفہ کادن ہی ہے جس میں لوگ وقوف کرتےہیں ، اوریہاں پر اختلاف مطالع کا کوئی اعتبار نہیں ہے ، کیونکہ امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ عرفہ کادن اسی متعین ومحددد  دن میں ہے "۔
اورایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :" يوم عرفة يوم يقف الناس في عرفات ، وليس لأحد أن يُخالف أمة الإسلام ، فإن امة الإسلام تجتمع وتُجمِع على أن يوم عرفة يوم يقف الناس ، وهو اليوم التاسع من ذي الحجة . فمن قدّم أو أخّر في الصيام فاته أجر صيام يوم عرفة، والله أعلم "۔ عرفہ کادن وہی دن ہے جس دن لوگ عرفات میں وقوف کرتے ہیں او رکسی کے لئے جائزنہیں کہ امت اسلام کی مخالفت کرے، کیونکہ امت اس بنیاد پر اکٹھی ہوتی ہے اور اس کا اجماع  ہے کہ عرفہ کادن لوگوں کے وقوف کا دن ہے ،جو ذی الحجہ کی نویں تاریخ  ہے ، لہذا جو  روزے میں تقدیم وتاخیر کرتاہے اس سےعرفہ کےدن کےروزے کا اجرفوت ہوجاتاہے،اللہ اعلم" ۔
ہمارے استاد اور معروف محقق شیخ احمد مجتبی  سلفی مدنی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:"یہ واضح رہے کہ یوم عرفہ سے مراد مکہ کے کیلنڈرکے حساب سے نو ذی الحجہ کی تاریخ ہے ، کسی دیگرملک میں اگرچاندمکہ سے ایک دن بعد دیکھا گیاہوتووہاں کے لوگ بھی مکہ کے کیلنڈرہی سے نوذی الحجہ کا روزہ رکھیں ۔ "(تقدیم  ومراجعہ بکتاب "قربانی کے احکام ومسائل قرآن وسنت کی روشنی میں " /ص 23 )۔
شیخ محمد المغراوی اپنے ایک فتوی میں فرماتے ہیں  : 
عرفات هو اسم للجبل الذي يقف عليه الحجاج في اليوم التاسع من شهر ذي الحجة، وهو يوم واحد لا يتعدد، فالصيام مع وقوف الحجاج هو الصيام الصحيح، وأما ما سواه فلا أعلم له أصلا لا في الكتاب ولا في السنة.اهـ " "عرفات اس پہاڑی  کانام ہے جہاں نویں ذی الحجہ کو حجاح کرام وقوف فرماتےہیں ، اور وہ صرف ایک ہی دن ہے متعددنہیں ، اس لئے (عرفہ کا) روزہ حاجیوں کے وقوف کے ساتھ ہی صحیح ہے ، اورجہاں تک اس کے علاوہ (دن) کی بات ہے تو میں قرآن وسنت میں اس کی کوئی اصل نہیں جانتا "۔                                                                                      عصر حاضرمیں  اختلاف مطالع اور اس سے پیدہ شدہ بعض مسائل  کی بنیاد پر عرفہ کے دن کےروزہ کی تاریخ کی تعیین میں  کچھ علماء  بعض شبہات کے شکا رہیں اور عرفہ کے دن کے روزہ  کے دن کی تعیین میں  صرف نو ذی الحجہ کے قا‏ئل وفاعل ہیں، اس سلسلے میں بنیادی چیزجو قابل غورہے وہ  یہ ہے کہ  عرفہ کے دن  کے  روزے کا سبب کیا ہے ؟ اوراس کا تعلق دن  اور تاریخ سے ہے یا حاجیوں کے کسی مخصوص دن میں شریعت  کے ذریعہ مخصوص عمل (یعنی عرفات میں وقوف) سے؟ جب اس چیز کی تعیین ہو جائےگی تو مسئلہ  میں کسی التباس کی کوئی  وجہ باقی نہیں رہ جائے گی ۔آیئے اس سلسلے میں چند نکتوں پہ غور کرتے ہیں :
1 – کسی بھی مسئلہ کی وضاحت اوراس سے متعلق امورمیں حکم کا بہت بڑا دخل ہوتاہے  ، تاکہ مکلف پر اس پر عمل کی حیثیت واضح اور مدون ہوسکے ۔عرفہ کے دن کا روز ہ حکم کے اعتبار سے ( اپنی بے انتہا فضیلت کے باوجود)مستحب  یا سنت مؤکدہ کے  زمرے میں آتاہے  ،اس لئے ترک وعمل اورتعیین وتحدید میں  اس کا اعتباربھی اسی   حیثیت سے ہوگا ، نہ کہ  بالکلیہ دوسرے سببی اور غیر سببی روزوں کے اعتبارسے ۔
2-  بلا شبہ رمضان اورغیررمضان کے روزوں میں رؤیت ہلال کا بہت بڑا دخل ہے جبکہ عرفہ کے دن کا روزہ رؤیت کے تخمینہ کے ساتھ ساتھ عرفہ میں حاجیوں کے وقوف سے متعلق ہے ۔ اسی وجہ سےہم دیکھتے ہیں کہ اس روزہ کی فضیلت  جن روایتوں میں بیان کی گئی ہے ان میں زیادہ ترمیں"یوم عرفہ " کا ذکرہے نہ کہ تاریخ ذی الحجہ کا یہ الگ بات ہے کہ یوم عرفہ نو ذی الحجہ ہی کو پڑتا ہے ۔
3- جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا کہ عرفہ کے دن کا روزہ کوئی واجبی روزہ نہیں ہے کہ اس کا توڑنے والا گنہگار ہوگا البتہ اس کے لئے  خیرکثیر سے محرومی کا باعث ضرورہے ۔
4 – (ساری عبادتوں  میں تاریخ  ، دن اوراوقات  کی تعیین میں اختلاف مطالع کا واقعی معتبر ہونے کے باوجود) جب اس  بات کی تعیین ہوجاتی ہے کہ اس روزہ کا تعلق عرفہ کے دن سے ہے تو  اس میں اختلاف مطالع کا کوئی  اعتبار نہیں رہ جاتاہے ، دنیا میں تاریخ  کوئی بھی  ہوعرفہ کا دن وہی ہوگا جس روز حاجی مقام عرفات میں قیام فرمائیں گے۔
*عرفہ کے دن کاروزہ اور بعید ممالک*  :
یہاں پر یہ اشکا ل پیش کرنا کہ: "بعض ممالک مثلاً : لیبیا ، تیونس اور مراکش ۔۔۔ ایسے ہیں جہاں چاند مکہ مکرمہ سے بھی پہلے نظر آتا ہے۔ یعنی ان ممالک میں جب 10/ذی الحج کا دن آتا ہے تو مکہ مکرمہ میں عرفہ کا دن ہوتا ہے۔ اگر ان ممالک کے لوگ حجاج کرام کے وقوفِ عرفات والے دن روزہ رکھیں تو یہ گویا ، ان کے ہاں عید کے دن کا روزہ ہوا اور یہ تو سب کو پتا ہے کہ عید کے دن روزہ ممنوع ہے۔ "۔ تو یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ  عرفہ کے دن کا روزہ ( جیساکہ پہلے بیان کیاجاچکا ہے) کو ‏ئی واجبی روزہ نہیں ہے جس کا نہ رکھنے والا گنہگار ہوگا ۔ خاص طورسے جب اسے چھوڑنے کے لئے کوئی مناسب اورمضبوط سبب موجود ہو ، اس لئے جن ممالک میں قربانی کا دن حاجیوں کے عرفات میں وقوف کے  دن  پڑ جائے توان کے یہاں قربانی کے دن کو ترجیح حاصل ہوگی ،کیونکہ ایسے لوگوں کے لئے عدم قدرت کی وجہ سے یہ روزہ مشروع ہی نہیں ہے ۔ اور جوعبادت  خاص طورسے نفلی عبادت کسی کے لئے مشروع نہ ہو اس کے اندرتاویل کرکے زبردستی کسی دوسرے دن میں لے جانا اور اس کی خصوصیت کو تعمیم میں بدل دینا کیا یہ احداث فی الدین نہیں ہے  ؟؟؟۔
نیز یہ بھی واضح رہے کہ  مختلف ممالک میں  اختلاف مطالع کی وجہ سے نو ذی الحجہ الگ الگ ہوتاہے  ، اوران الگ الگ ایام کو عرفہ کا نام دینا  مناسب نہیں ہے ، جن میں حاجیوں کا عرفات میں  قیام ہی نہیں ہوا ، بلکہ  دیگر ایام کو وہ نام دینا جو شریعت نے کسی خاص دن کو دے رکھاہے  شریعت پہ زیادتی  کے قبیل سے ہے۔
اگر اس چیزکی اجازت دے دی جائےکہ نو ذی الحجہ کو یوم عرفہ کہاجائے خواہ وہ دنیا کے کسی اور خطے میں کسی دوسرے دن ہی کیوں نہ پڑے  تو پوری دنیامیں ایک سے زیادہ  عرفہ کے ایام ہوجائیں گے اور نام " یوم عرفہ " کے بجائے " ایام عرفہ " رکھنا ہوگا۔
شریعت میں اس  نوع کے  بہت سارےاعمال  ہیں جو کسی مناسب یا شرعی سبب کی بناء پریا توبعض افراد کے لئے غیرمشروع  یا ان سےساقط ہوتےہیں ، مثلا :
- ایک آدمی سفرکرکے کسی دوسرے ملک میں گیا اور وہاں کے لوگ عید منارہے ہوں ، جبکہ اس کا روزہ  جس ملک میں شروع کیا ہے کے مطابق ایک کم ہورہاہے پھربھی لوگوں کے ساتھ روزہ توڑدیگا ، یہ الگ بات ہے کہ یہ روزہ  فرض ہونے کی وجہ سے اس کی قضاء واجب ہوگی ۔ 
- جمعہ کے روزے کی ممانعت عرفہ کے روزے کی عزیمت کی وجہ سے ساقط ہے ۔
- عرفہ کے دن وقوف عرفات کی وجہ سے حاجیوں سے اس روز روزہ ساقط ہے۔
- مقیم امام کی اقتداءمیں نماز پڑھنے کی وجہ مسافرکے لئے قصر ساقط ہے ۔
- فجر اور ظہر وغیرہ کی سنتوں  یا جماعت کھڑی ہونے کی وجہ سےمسجدمیں داخل ہونے والے کے لئے  تحیۃ المسجد مشروع نہیں  ہے کیونکہ یہ سنتیں تحیۃ المسجدکے لئے کفایت کرتی ہیں ۔
- اسی طرح سببی نمازوں  جیسے فرض نمازوں کی قضاء ، طواف کی دورکعتیں ، تحیۃ المسجد اورسورج گرہن  کی نماز وغیرہ  کی وجہ سے ممنوعہ اوقات میں نماز کی  ممانعت ساقط ہے ۔
ان کے علاوہ بھی اور بہت سارے مسائل ہیں جو اس  نقطے کی وضاحت کے لئے کافی ہیں ۔
اس لئے جن ممالک میں یوم النحر عرفہ کے دن پڑجائے وہاں کے رہنے والوں سے عرفہ کے دن کا روزہ ساقط مانا جائے یہ احوط ہے اس بات سے کہ  شریعت کے متعین کردہ دن  کو ہی بدل دیا جائے ۔
( *نوٹ* : جب میں نے  کسی خاص سبب کی وجہ سے عرفہ کے  روزہ کے سقوط والی بات لکھی تو بہت سارے احباب نے اس پر یہ کہہ کر تنقید کی کہ آپ کون ہوتے ہیں کسی عمل کو ساقط کرنے والے  ؟
اس طرح کی بات  جب کسی ایسے آدمی کی زبان سے صادرہو جو شریعت کے علوم سے نابلد ہو تو سمجھ میں آتی ہے ، لیکن یہی بات کسی عالم دین جو کتاب وسنت کے رموزواسرار سے واقف ہو اور عبادتوں میں توقیف اور اسباب ومصالح کے دخل کا ادراک رکھتا ہو سے صادرہوتو پھر کیا کہاجاسکتاہے  ؟، جبکہ اشارۃ کچھ مسائل  کا ذکربھی کردیاگیاہو ۔)
*عرفہ کا دن اور رؤيت والی روایت کا اعتبار* :
"صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته ......"  والی روایت سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء اس بات پرزور دیتے ہیں کہ اس روایت میں  جو عمومیت وارد ہے وہ  رمضان کے ساتھ ساتھ سال کے ہرماہ  کے لئے عام ہے جس میں عرفہ کا دن بھی شامل ہے ،  امام خرشی  مالکی  کے بقول :والمواسم جمع موسم الزمن المتعلق به الحكم الشرعي  ولم يرد بعرفة موضع الوقوف بل أراد به زمنه وهو اليوم التاسع من ذي الحجة ،وأراد بعاشوراءاليوم العاشر من المحرم "اهـ (شرح مختصر خليل:2/234)  مواسم موسم الزمن  کی جمع ہے جس سے حکم شرعی متعلق ہوتاہے لہذا عرفہ سے وقوف کی جگہ مراد نہ لے کر وقت وزمن مراد لیاگیا ہے جو نو ذی الحجہ کوپڑتاہے اور اسی طرح عاشوراء بول کردس محرم مراد لیاگیاہے ۔"۔                            امام خرشی کا مذکورہ استدلال کئی وجہوں سے قابل اعتبارنہیں ہے:                                                                   - بلاشبہ بہت ساری عبادتیں موسم وزمان سے متعلق ہیں ، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بہت ساری عبادتوں میں  زمان ووقت کا قطعا اعتبار نہیں ہوتا ، اور بسااوقات  اعتبار ہوتابھی ہے تو اس کے بعض احکام ومسائل اورجز‌ئیات اس اعتبارسے نکل جاتےہیں ،انہیں میں عرفہ کا دن ہے ، جوشروع  تو ہوتا مکہ ونواحی کی رؤیت سےہےلیکن اعتبار  عرفات کے میدان میں  حاجیوں کے اجتماع کا ہوتاہے ، مثلا : مکہ ونواحی کے غیرحجاج افرادجنہیں اس بات کا یقین بھی ہو کہ تعیین یوم عرفہ میں غلطی ہوئی ہے اور باعتبار طلوع قمر  ایک دن بعد یا ایک دن قبل یوم عرفہ ہونا چاہئے پھربھی ان کے روزے کا اعتباراس دن کا ہوگا جس دن خطأ کے باوجود  حاجی میدان عرفات میں ہوں ۔
- امام خرشی کا یہ کہنا کہ عرفہ سے جگہ نہ مراد لے کرنو ذی الحجہ  کی تاریخ مراد لی گئی ہے ،  دعوی بدون دلیل ہے ، جب کہ معاملہ اس کے برخلاف ہے ، روایت میں واضح طورپر یوم عرفہ سے وقوف عرفات کا دن ہی مراد لیا گیا ہے ،لہذا جس روز مقام عرفات میں حاجیوں کا قیام ہی نہ ہوا ہو اس روز کو یوم عرفہ کہنے کے لئے دلیل صریح کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ فقہاء کے بیان کے مطابق  یوم عرفہ اسی دن کوکہاجائے گا جس دن حاجی مقام عرفات میں  ہونگے ۔ 
 - امام خرشی رحمہ اللہ نے عاشوراء یعنی دس محرم کی مثال دی ہے کہ جس طرح عاشوراء بول کر دس محرم کی تاریخ مراد لی جاتی ہے   اسی طرح عرفہ بول کرنو ذی الحجہ کی تاریخ مراد لی جائے گی ۔ یہاں یہ بات  واضح ہونی چاہئے کہ عاشوراء یا تاسوعاء   معین تاریخ کا نام ہے ، جس میں اعتبار گنتی  وعدد کےمطابق محرم کے نویں  اور دسویں دن کا ہوتاہے اور یہ تاریخ دنیا کےہرملک میں بروقت جاری شہری و قمری   اعتبارکے مطابق ہوتاہے ، جبکہ عرفہ کے ساتھ ایسی کسی بھی عمومیت کے لئے دلیل چاہئے ہوتی ہے ، خاص طور سے جب اس کے ساتھ کچھ خاص اعمال واحکام اور تعیین وتحدید مرتبط ہو ں، نیز یہ واضح ہونا چاہئے کہ عرفہ کا بیان  لفظ "یوم" سے خالی ہرگزنہیں ہے ، جو یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ یہ دن اپنی عمومیت پہ ہرگز نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ  زمان کے ساتھ ساتھ اجتماع ومکان  کی تخصیص موجودہے جس کے بغیر نہ یہ دن مکمل ہوتاہے اور نہ ہی حاجی کا حج ۔۔۔ فافھم وتدبر۔ 
لہذا یہ چیز واضح ہے کہ عرفہ ایک مخصوص دن کا نام ہے، جس روز  مقام عرفات میں حاجیوں کااجتماع ہوتاہے،اس لئےاسے کسی تاریخ سے متعلق کرکے اس میں تعددپیدا کرناقطعا مناسب نہیں ہے، اسی وجہ سےہم دیکھتے ہیں کہ اس روزہ کی فضیلت  جن روایتوں میں بیان کی گئی ہے ان میں زیادہ ترمیں "یوم عرفہ " کا ذکرہے نہ کہ تاریخ ذی الحجہ کا یہ الگ بات ہے کہ یوم عرفہ مکہ ونواحی کی رؤيت  کے اعتبارسے نو ذی الحجہ ہی کو پڑتاہے ۔
 یہاں یہ بات قابل غورہے کہ اگرکسی اجتہادی غلطی کی وجہ سے حجاج آٹھ یا دس ذ ی الحجہ میں وقوف کرتے ہیں تو اسی دن کو یوم عرفہ شمارکیا جائے گاجیسا کہ فقہاء نے اپنی کتابوں میں  اس کی صراحت کی ہے ۔ (دیکھئے:حاشية ابن القيم على سنن أبي داود : 6/317, المحلى  لابن حزم :5/203-204 ،المغني لابن قدامة : 3/456, المهذب مع شرحه المجموع: 8/292, المجموع  للإمام النووي : 8/292, مجموع فتاوى الإمام ابن تيمية : 25/107 , بدائع الصنائع: 2/304 , شرح الخرشي على مختصر خليل : 2/ 321 , روضة الطالبين :2/377 )
چنانچہ"صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ –" والی روایت کو عمومیت کی بنیاد پرمطلقا یوم عرفہ کے روزہ کے لئے  تاریخ کی  تحدید کے طورپرپیش کرنا محل نظرہے ، کیونکہ اس روزے کا تعلق یوم عرفہ (حاجیوں کے مقام عرفات میں قیام ) سے ہے نہ کہ تاریخ سے ۔
یہاں یہ نکتہ کافی اہم ہے کہ مذکورہ روایت رمضان کےروزوں کے باب میں صریح ہے اور اس کا تعلق مطلقاتمام روزوں سے نہیں ہے کیونکہ کچھ روزے دن سے متعلق ہیں نہ کہ تاریخ سے، جیسےسوموار وجمعرات اورخود یوم عرفہ کا روزه .
عرفہ کے روزے کے لئےدن کی تعیین کی وجہ سے جب رؤيت كا اعتبارکالعدم کےحکم میں ہے تو یہاں پر اختلاف مطالع کی بحث بے معنی ہے .یہاں یہ اشکال پیش  کرنا کہ :"اگرروزے سےمتعلق  ر‏ؤیت  ہلال کا حکم نکال دیا جائے تو روزہ بے معنی ہوجائےگا  , ایک دن کا بھی کوئی روزہ نہیں رکھ سکتا ہے ، نہ سحری کھاسکتا اور نہ ہی  افطار کرسکتاہے ۔"، شریعت سے کج فہمی کی دلیل ہے ، سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ  دین کے زیادہ تر مسائل میں ر‏ؤیت ہلال کے اعتبار وحکم  کا کوئی بھی فرد انکارنہیں کرتا ، جو لوگ  توحید مطالع کے قائل ہیں ان کے یہاں بھی اعتبار رؤیت ہی ہے ، نہ کہ فلکی حسابات اور اعداد تاریخ  ۔  
قاعدے کی رو سے رؤیت کا اعتبار  ان روزوں میں ہے جو رؤیت سے متعلق ہیں ، نہ کہ ان روزوں میں جو سببی اور مخصوص دن اور مخصوص وجہ سے متعلق ہیں ۔ کیا عرفہ اور اس دن  حاجی او ر غیر حاجی کے لئے مشروع اعمال  کا تعلق خاص نہیں ہے ؟ ۔
واضح رہے کہ رؤيت كے اعتبارکومطلق تمام روزوں کے لئے پیش کرکے ہی اشکال پیداکیاجاتاہے،قطع نظر اس کے کہ تمام روزوں کی حیثیت وماہیت میں یکسانیت نہیں ہے. اور "یوم" اور"تاریخ " اور "تعیین"اور"تخمینہ " کے اس بے انتہا "فرق" کے باوجود کچھ حضرات "واضح نص" کے مطالبے پر مصرہیں ؟؟؟؟  اور زبردستی ایک مخصوص ومعمول شیئ کو "نسبتی" عمل قرار دینے پرتلے ہوئے ہیں .                                                                                          اس پرمستزاد یہ کہ اپنے تأويلى موقف کو زبردستی ثابت کرنے کے لئے غیرضروری تأويلات وشبا ت كا سہارالیتے ہیں ۔     
 *کیا روایات میں وارد نو ذی الحجہ کا لفظ دنیا کے تمام خطوں کے لئے ہے ؟* :
جو حضرات عرفہ کے دن کے روزے کے تعدد کے قائل ہیں ان کی سب سے بڑی دلیل  ہے کہ عرفہ کے دن کے لئے روایات میں نو ذی الحجہ کا ذکر بصراحت موجود ہے  ۔ 
بلاشبہ عرفہ کے دن کے لئے نوذی  الحجہ کا  کے دن کی تعیین  باعتبار رؤیت مکہ اور حوالی مکہ وارد ہے ، اور اہل لغت بھی جہاں عرفہ کی تعریف کرتے ہیں اس میں  نو کی تحدید کرتے ہیں ۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ عرفہ مکہ اورحوالی مکہ کی ر‎ؤیت کے اعتبار سے عام طورسے نو ذی الحجہ کو ہی پڑتاہے ، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ  اس تحدید کو تعمیم میں بدل دیاجائے اور سارے عالم کےاختلاف رؤیت کو مخصوص ومتعین عمل کے لئے سبب اختلاف بنا دیاجائے،اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حج ایک مستقل عبادت ہے، اس کے تمام ارکان وایام متعین ہیں، دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی بھی دن یا تاریخ ہو ایام حج اور ارکان واعمال حج پر اس کا کوئی اثرنہیں ہوتاہے ۔  
یہاں پراس اشکال کی توجیہ بھی ضروری ہے کہ :" ایام حج میں جس دن قربانی کی جاتی ہے دنیا کے تمام ممالک میں اس کے علاوہ کے ایام میں وہاں کی رؤیت کے اعتبار سے کی جاتی ہے ؟؟" ۔
جیساکہ میں نے ذکرکیاکہ حج ایک مستقل عمل ہے اس کا تعلق چند مخصوص ایام اور اعمال سے ہے،اس پر دوسرے ممالک میں اداکئے جانے والے اعمال کوقیاس نہیں کیاجاسکتا، بلاشک  دونوں قربانیوں کی ہیئت وماہیت اور ارکان وادائگیے میں یکسانیت ہے لیکن دونوں کی ادائیگی کے اوقات واستحقاق میں بے تحاشہ فرق ہے، مثلا : 
- قرآن وسنت کے مطابق دونوں حاجی وغیرحاجی کی طرف سے اللہ کےتقرب کے لئے ذبح ہے ، لیکن ایک کے لئے ھدي اور دوسرے کے لئےاضحیہ کا لفظ واردہے، گرچہ اس کو مکہ اور بالخصوص منی میں ہی کیوں نہ ذبح کیاگیاہو۔
- تمتع ،قرآن یا لزوم دم کے سبب ھدي کا حکم وجوب کا ہے برخلاف اضحیہ کے، کیونکہ  یہ جمہورفقہاء کے نزدیک سنت مؤکدہ ہے (المغنی لابن قدامہ    :9/435) حالانکہ بعض اہل علم وجوب کے قائل بھی ہیں ۔
- عام قربانی کے جانوراور حج کے ھدي کے جانورمیں تبدیلی کے امکان کے بارےمیں امام مالک کا فتوی ہے کہ قربانی کے جانورکوکسی حادث عیب کی وجہ سے اس سے اچھے جانورسے تبدیل کیاجاسکتاہے برخلاف  ھدي کے ۔ (المدونہ:1/549 ) 
-  ھدي ایک خاص جگہ کے ساتھ مخصوص ہے برخلاف قربانی کے اسے منی ، مکہ یا کسی دوسری جگہ کہیں بھی کیاجاسکتاہے ، امام شافعی فرماتے ہیں : " اضحیہ مسلمانوں میں سے ہرصاحب استطاعت کے لئے سفر،حضر، گا‏ؤں ، شہر، مکہ ، حج میں منی وغیرہ میں ہرجگہ سنت ہے  اس کے ساتھ ھدي ہو یا نہ ہو "(المجموع للامام النووی: 8/383 )
- قربانی کے بدلے کوئی دوسرا عمل نہیں کرسکتے جبکہ متمتع اورقارن کو اگرھدي میسرنہ ہوتواس کے اوپردس روزے واجب ہیں ، تین  حج کے ایام میں اور سات گھرواپسی کے بعد۔
- قربانی کا ایک جانوریا حصہ اہل  خانہ کے لئے کفایت کرتاہے جبکہ ھدي صرف حاجی کےلئے ہوتاہے ۔
- اضحیہ کے لئے عید کی نماز شرط ہے جبکہ ھدي کے روزنمازعید ہے ہی نہیں ۔
- قربانی کی نیت کرنے والے کے لئے اول ذی الحجہ سے  بال اور ناخن نہ کاٹنے کا حکم ہے ، جب کہ  حاجی کے لئے یہ حکم صرف حالت احرام تک ہی محدود ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
یہاں دونوں قربانیوں میں فرق ذکرکرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ حج کے ایام میں حرم ، منی ، مزدلفہ ، یا عرفات سے متعلق اعمال وعبادت دیگرایام وامکنہ میں کئے جانے والے اعمال سے حکم میں مختلف ہیں لہذا یہ کہنا کہ جس طرح یوم النحریا رمضان وعیدین پوری دنیا میں اختلاف مطالع کےاعتبارسے مختلف ہوتے ہیں  اسی طرح یوم عرفہ بھی مختلف ہوگا قطعا درست نہیں ہے، کیونکہ یوم عرفہ ایک خاص دن ہے جو ایک خاص مقام میں قیام اور خاص اعمال واحکام سےمتعلق ہے،جسے دوسرے ایام و اعمال پرقیاس  کرنا صحیح نہیں ہے ۔
واضح رہے کہ کچھ لوگوں کو روایات میں وارد "تسع من ذی الحجہ" سے اشتباہ ہوا ہے کہ اس سے مراد نویں ذی الحجہ کا روزہ ہے ، جبکہ  اس روایت میں نویں ذی الحجہ کی تعیین کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے ، کیونکہ " تسع" سے مراد ذی الحجہ کے شروع کے نو دن ہیں نہ کہ نواں دن ، دائمی کمیٹی برائے فتاوی نے اس غلط تاویل اور فہم کی تصحیح کرتے ہوئے لکھا ہے:"وقول بعضهم :إن المراد بتسع ذي الحجة اليوم التاسع,تأويل مردود,وخطأ ظاهر للفرق بين التسع والتاسع ""کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ تسع ذی الحجہ سے مراد نویں ذی الحجہ ہے ، تاسع اور تسع کے فرق کی بنا پرمردود تاویل اور واضح غلطی ہے "۔(اللجنۃ الدائمہ :رقم /20247)
*بعض شبہات کا ازالہ* : 
1 - بعض حضرات  یوم عرفہ اور عرفات کا فرق واضح کرتے ہوئے لکھتےہیں :" یوم عرفہ اور وقوف عرفات دوالگ الگ چیزیں ہیں ، یوم عرفہ دن اور تاریخ کو کہتے ہیں اورجوقمری حساب سے نو ذوالحجہ کو کہتےہیں جبکہ وقوف عرفات کا تعلق میدان عرفات سے ہے۔"
یہاں اس وضاحت کی ضرورت تھی کہ "یوم عرفہ " کو دن اور تاریخ کی گنتی میں کس سبب سے لایاگیاہے؟ کیادنیاکے کسی بھی خطے میں نو ذوالحجہ کو " یوم عرفہ" لکھا اور بولاجاتاہے؟۔
بلاشبہ وقوف عرفات کا تعلق میدان عرفات سے ہے،  ٹھیک اسی طرح " یوم عرفہ " کاتعلق بھی وقوف عرفات سے ہے ،دن اور تاریخ سے نہیں،گویایہ دونوں ایک دوسرے سے مرتبط ہیں ، جیسا کہ مذکورہ سطورمیں فقہاءکے اقوال کی روشنی میں اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ "یوم عرفہ " کا اطلاق اسی دن پرہوگا جس دن حجاج وقوف عرفات کریں گے وہ دن بسبب اجتہاد وخطا آٹھ یا دس ذی الحجہ ہی کیوں  نہ ہو ۔
یہاں  یہ ملحوظ رہنا چاہئے کہ عام طورپر اہل لغت کے یہاں عرفہ کا اطلاق زمان اورعرفات کا  مکان کے لئے ہوتا ہے، اور دونوں بحیثیت علم اور مترادف کے  بھی استعمال ہوتے ہیں. (دیکھئے :معجم المعانی وغیرہ ۔)  اس لئے جب عرفہ یا عرفات کے ساتھ یوم کی اضافت ہوتی ہے تو اس دن کی تعیین کے لئے ہی ہوتی ہے جس دن مخصوص اعمال انجام دئے جاتے ہیں  ،بعض اہل لغت  لکھتےہیں :" وعرفة اسم لموقف الحاج ذالك اليوم وهي إثناعشرميلا من مكة وسمي عرفات أيضا وهو المذكور في التنزيل  ....."اور عرفہ حاجی کے اس دن قیام کے مقام کا نام ہے جو مکہ سے بارہ میل کی دوری پر ہے ، اس  کانام عرفات بھی ہے جس کا ذکرقرآن مجید کے اندرہے " نیساپوری کے بقول :"عرفات جمع عرفة وكلاهما علم للموقف , كأن كل قطعة من تلك الأرض عرفة فسمي مجموع تلك القطعة بعرفات " "عرفات عرفہ کی جمع ہے اور دونوں موقف کے لئے بطورعلم استعمال ہوتاہے ، گویا اس کا ہرحصہ عرفہ ہے لہذا اس کے سارے حصوں کے مجموعے کا نام عرفات ہے " اسی طرح کی بات ابن الحاجب نے شرح المفصل کے اندرلکھی ہے ۔ اورطبرسی کے بقول :"عرفات :إسم للبقعة المعروفة التي يجب الوقوف بها,ويوم عرفة يوم الوقوف بها" "عرفات : اس  معروف جگہ کا نام ہے جہاں (حاجی کے لئے ) وقوف واجب ہے ، اور وہاں وقوف کرنے کادن عرفہ کا دن ہے " فیروزآبادی نے بھی ان کی تائید کی ہے ۔(مزید وضاحت کے لئے دیکھئے: الصحاح للجوھری :4/1401-1402 ،معجم الفروق اللغویۃ للعسکری : ص 354 ، المغرب فی ترتیب المعرب  للمطرزی : ص 312 ، شرح الرضی علی الکافیۃ لابن الحاجب :3/259 ، المصباح المنیرللفیومی : 2/404 ، القاموس المحیط للفیروزآبادی : 1/836  ،اور تاج العروس للزبیدی  : 24/137)۔
2 - ایک اشکال یہ پیش کیاجاتاہے کہ : " اگرعرفات میں وقوف سے متعلق روزه ہوتاتوعرفہ نہیں عرفات کا ذکرہوتا" اس اشکال میں  دین میں ایک نئی  اصطلاح گھڑنے کے ساتھ ساتھ لغت معانی کے ساتھ خردبرد کی کوشش کی گئی ہے ، گویا مقام عرفات میں حاجیوں کے قیام  کےدن کے علاوه بهی کئی دن ہیں جنہیں عرفہ کا دن کہاجائےگا.(جب کہ نصوص اور اہل لغت کی صراحت کے مطابق "عرفہ " عرفات" اور ان کی طرف "یوم " کی نسبت  اور " اس دن " اور " اس دن اور اس مقام  کا عمل " ایک دوسرے سے متعلق ہیں  !!!) واضح رہےکہ "یوم عرفہ" "عرفہ کادن"یعنی جس دن حاجی میدان عرفات میں جمع ہوں کا بصراحت ذکرہے. لہذا میں نے پہلے ہی ذکرکیاہےکہ فقہاء كى صراحت کے مطابق اگرکسی اجتہادی غلطی کی وجہ سے حجاج آٹھ یا دس ذ ی الحجہ میں وقوف کرتے ہیں تو اسی دن کو یوم عرفہ شمارکیا جائے گا. گویاتاریخ نہیں حجاج کے مقام عرفات میں اجتماع کا اعتبار ہوگا.
3 - ایک اشکال یہ پیش کیاجاتاہے کہ:"اگر یہ وقوف عرفہ کی وجہ سے ہوتاتوحاجیوں کے لئے بهی یہ روزہ مشروع  ہوتا". کہنا یہ چاہتے ہیں حاجی اور غیرحاجی کے لئے احکام ومسائل میں کوئی فرق ہی نہیں ہے ؟؟؟؟ 
یہ ملحوظ رہےکہ حجاج کرام کے لئے یہ روزہ ان کے مقام عرفات میں قیام کی وجہ سے ہی ممنوع ہے (ياغيرمسنون ، كيونكہ بعض اسلاف کے یہاں حاجیوں کے لئے بهی عرفہ کا روزہ مشروع ہے، جس کابیان گذرچکاہے ) جیساکہ غیرحاجیوں کےلئےایام عیدکا روزہ  ، جیسا کہ روایت میں ہے  کہ عرفہ ان کے لئے عیدکا دن ہے۔
4 - کچھ حضرات یہ اشکال پیش کرتے ہیں کہ:"  اگر عرفہ کے دن  کے روزہ کا مقصد حاجیوں کے مقام عرفات میں قیام سے مطابقت ہوتا تو ان لوگوں کے لئے کیاکہیں گے جن کا روزہ حاجیوں کے قیام سے کئی گھنٹے پہلے یا کئی گھنٹے بعد میں شروع یا ختم ہوجاتا ہے ؟"
اس قسم کا اعتراض یا اشکال پیداکرنااسلامی عبادات کے اسرارورموز ، اسباب ومقاصد اور روح ومعانی سے عدم واقفیت کی وجہ سے ہوتاہے ، یہ بات  ایک عام آدمی بھی جانتاہے کہ   روزے رکھے توقمری اعتبار سے جاتےہیں لیکن امساک وافطارمیں اعتبارشمسی ہوتاہے ، اور اعداد میں دن کا اطلاق صرف سورج کے  آسمان پرباقی رہنے تک نہیں ہوتا بلکہ دن اور رات کو ملا کر ہوتاہے ۔
یہ بھی واضح رہنی چاہئے کہ عرفات میں قیام  یوم النحرکی طلوع فجرسے قبل چند لمحات قیام  یا مرور سے بھی حاصل ہوجاتاہے جبکہ روزہ صرف طلوع فجرسے غروب شمس تک ہوتاہے ۔(روضۃ الطالبین :2/377)۔
5 - بعض علماء عرفہ کی وجہ تسمیہ کے ذکرمیں اہل لغت  کے اقوال کو رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں  کہ  :"ان لوگوں کا دعوی بلا دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ عرفہ کے دن کا نام فقط حاجیوں کے وہاں وقوف کی بنا پرہے  ۔  "دراصل یہاں یہ اشکال پیش کیا جاتاہے کہ اللہ رب العزت نے جس دن ذریت آدم سے توحید پر عہدوپیمان لیاتھا وہ دن عرفہ کا تھا ، اور یہ معلوم ہے کہ اس وقت مقام عرفات میں حاجیوں کا قیام نہیں ہوتاتھا، پھربھی اسے عرفہ کا دن کہاگیا ۔                                                           اس میں  کوئی شک نہیں کہ اہل معرفت کے بیان کے مطابق عرفہ  کی وجہ تسمیہ کے سلسلے میں ڈھیروں وجوہات مذکورہیں ، لیکن یہ بھی حق ہے کہ قیام عرفہ اور اس سے متعلق دیگر احکام وامور کا اعتبار قرآن وسنت پرہے ، ماقبل الاسلام کوئی بھی عمل ، رواج  یا مسمی جب تک  انہیں اسلام میں باقی نہ رکھا گیاہو قابل اعتبار ہرگز نہیں ہیں ، یہاں مسئلہ وجہ تسمیہ کے ساتھ ساتھ اس دن کے لئے نصوص قرآن وسنت سے ثابت احکام واعمال کا ہے ، کیونکہ کسی چیزکا تعارف اس کی حیثیت وماہیت کے بیان کے لئے ہوتا ہے نہ کہ  قرآن وسنت میں وارد احکام کی تشریع یا ان  کے رد کے لئے ۔ 
اور عرفہ کی  وجہ تسمیہ اور دن اور وقت کی تعیین جو کتب احادیث ، فقہ اور لغات ومعاجم میں بھرے پڑے ہیں اس دن کے نام کے لئے دلیل نہیں  ہیں ؟ آخرانہیں کس الہامی دلیل کا انتظارہے ؟
6 - نیز عرفہ کے دن کی تعیین کے انکارکے لئے ایام تشریق اور یوم ترویہ کومثال بنا عرفہ کو ایک نسبتی نام کےطورپر پیش کیاجاتاہے  کہ  :" مناسک حج میں حج کی نسبت سے بہت سارے نام رکھے گئے ہیں  ان سب پرعمومی قاعدہ ہی لگے گا  الایہ کہ خاص وجہ ہو۔۔۔"  ایک طرف  بہت سارے ناموں کو حج سے نسبت کیاجارہاہے اور دوسری طرف "عرفہ" کو جو حج کے ساتھ خاص ہے عموم کی فہرست میں ڈالا جا رہا ہے ۔ ایں چہ بوالعجبی است ۔ یوم الترویہ یا یوم عرفہ  یہ ایسے نام ہیں جو حج کے بعض ایام کے ساتھ خاص ہیں  جن کے خاص امورواحکام ہیں ، اور رہی بات ایام تشریق کی تو یہ نام حاجیوں کی قربانی (ھدي) کے ایام  اور غیرحاجیوں    کی قربانی (اضحیہ) کے ایام کے ساتھ عام (مشترک) ہے ۔ (بلکہ ھدي اور اضحیہ دونوں کے ایام کے لئے یوم النحر کا لفظ وارد ہے جس کی نسبت سے دونوں کے اگلے تین دنوں کے لئے ایام تشریق کا اطلاق ہوتا ہے ۔) یہاں یہ  بات بھی  قابل اعتناء ہے کہ ایام تشریق کے اعمال بھی حاجی اور غیر حاجی کے اعتبار سے مختلف ہیں ، مثلا : ایام تشریق میں روزہ رکھنا ممنوع ہے، سوائے متمتع اورقارن حاجی کے ، کیونکہ ان کے لئے ان ایام میں اگر وہ ھدي نہ پائیں تو روزہ مشروع ہے ۔ 
تعجب تو اس بات پرہے کہ عرفہ کے دن کو حج کی طرف "  نسبت" کرکے بھی اس دن کے روزے کو "عموم" کے زمرے میں رکھا جاتا ہے ۔  پتا نہیں یہ منطق کا کون سا کلیہ ہے ؟ 
7 -  یہ کہنا کہ  سلف کے یہاں عرفہ سے مراد  مطلق  نو ذی الحجہ کی تاریخ ہے ، ان پہ اتہام باندھنا ہے ، سلف سے یہ کہیں مروی نہیں ہے کہ وہ عرفہ کے قیام کے دن کے علم یقینی کے باوجود اس کے پہلے یا دوسرے دن کو یوم عرفہ مانتے ہوں ، بلا شبہ عدم وسائل  اوررؤیت ومطالع میں اجتہاد اور دیگر اسباب کا اس دن کے اعمال پر اثر پڑسکتاہے لیکن  یہ کہناکہ وہ پوری دنیا کے اختلاف مطالع کی وجہ سے عرفہ کے دن کو متعدد مانتے تھے دعوی بلا دلیل ہے ، اور اگر کسی نے اختلاف مطالع کو بنیاد بناکر کوئی بات کہی بھی ہے تو یہ ان کا محض اجتہاد ہے ۔ 
بلکہ صحابہ کرام اورتابعین   کے یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے ،جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے جس میں مسروق نے عرفہ کے دن روزہ اس احتمال کی بنیاد پرنہیں رکھا کہ کہیں قربانی کا دن نہ ہو اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان اس کی تصحیح فرمائی  جس کا مستفاد یہ ہے کہ آج عرفہ کا دن ہے اورعیداور قربانی وغیرہ میں  اعتباراسی  دن کا ہوگا جس دن  لوگ اسے انجام دے رہے ہوں  گرچہ اس دن کےبارے  میں شک ہی کیوں نہ  ہو  ۔(بیھقی /8301 ، شیخ البانی نے اس روایت کی سند کو جیدقرار دیا ہے ، سلسلہ صحیحہ : 1/1/ 442) ۔                                                                                                 اور عطاء کی ایک مرسل روایت میں ہے:" أضحاكم يوم تضحون " "قربانی کا وہی دن ہوتاہے جس دن تم لوگ قربانی کرتے ہو"وأراه قال:"وعرفة يوم تعرفون " "عرفہ کا دن وہی ہے جس دن تم لوگ عرفہ میں قیام کرتے ہو " أخرجه البيهقي في " السنن الكبرى "( 5 / 176 ) والشافعي في " الأم "( 1/ 264) عن عطاء مرسلاً،وصححه الألباني في "صحيح الجامع " ( 4224). اور بیھقی کی روایت میں عبدالعزيز بن عبد الله بن خالد بن أسيد  سے مرسلا مروی ہے :"يوم عرفة الذي يعرف فيه الناس""عرفہ کادن وہی دن ہے جس دن لوگ عرفہ میں قیام کرتے ہیں "(السنن الكبرى للبيهقي : 5/ 176 امام بیھقی فرماتےہیں :"هذا مرسل جيد أخرجه أبوداؤد في المراسيل " رقم /149" اور ابن حجر فرماتے ہیں :"وورواه الترمذي واستغربه وصححه , والدارقطني من حديث عائشة مرفوعا ,صوب الدارقطني وقفه في العلل ..." " اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے "غریب اور صحیح " کہاہے ، اور دراقطنی نے اسے علل کے اندرموقوف قرار دیاہے "دیکھئے : التلخیص الحبیر: 2/256 رقم /1051 ، اسی معنی کی روایت طبرانی نے اوسط کے اندر ذکر کیا ہے:"إنما عرفة يوم يعرف الإمام " ، ھیثمی لکھتے ہیں :" اس طبرانی نے اوسط کے اندرروایت کیا ہے اس کی سندمیں دلہم بن صالح ہیں جنہیں ابن معین اور ابن حبان نے ضعیف قراردیا ہے ، اوراس کی سند حسن ہے " مجمع الزوائد:3/190 ، دلہم  بن صالح کو امام ابوداؤد نے "لاباس بہ "قراردیا ہے ،تھذیب التھذیب :رقم /303 ،اور نسائی ،ذہبی اور ابن حجر نے ضعیف قراردیاہے ،دیکھئے :ضعفاء النسائی :ص 101 ، الجرح والتعدیل : 3/436، التقریب : 1/236 ) .                                                                      اسی  چیزکی تصریح فقہاء کے اس بیان میں بھی موجود ہے جس میں بسبب اجتہاد وخطا  آٹھ یا نو ذی الحجہ کو حاجی کے مقام عرفات میں اجتماع کے دن کو ہی عرفہ کا دن قراردیاگیاہے ۔                                                                     مذکورہ روایات وتوجیہات کودیکھتے ہوئے کہ عرفہ کے دن کے روزے کا تعلق  مقام عرفات میں حاجیوں کے قیام سے ہے یہ کہنا کہ:"اپنے اپنے ملک کےحساب سے نو ذی الحجہ کو عرفہ کا روزہ ماننا ہوبہو سلف کا عملی نمونہ ہے "،  کتنی مضحکہ خیزبات ہے ۔ نیزیہ کہنا کہ :" اگر سلف کے یہاں صوم عرفہ حاجیوں کے عرفات میں وقوف سے متعلق ہوتا یقینا وہ کسی نہ کسی ذریعہ سے حاجیوں کے وقوف عرفات جاننے کی کوشش کرتے ۔۔۔۔"سلف پراتہام  اور مغالطےمیں ڈالنے والی بات ہے ، جب سلف  کے یہاں اس بات میں کوئی اختلاف ہی نہیں تھا کہ عرفہ کا دن عین وقوف عرفات ہے، تو پھر وہ آخر کس ذریعہ سے کس چیزکوتلاش کرتے ؟کیا سلف میں کسی سے اس اختلاف کی بابت مروی ہے کہ یوم وقوف کے علاوہ بھی عرفہ ہوتاہے ؟ ۔ بناکسی دلیل کے باربار سلف کے فہم کا حوالہ ذہنی انتشار کی دلیل اور لوگوں پر اپنے من کی تھوپنے کی نارواکوشش  ہے ۔ چاہئےتویہ تھا کہ عرفہ کو وقوف عرفات کے علاوہ پر اطلاق کے لئے کوئی ایسی دلیل لائی جاتی جو قرآن وسنت سے ثابت ہو اور صحابہ کرام نے اس پرعمل کیا ہو !!!  جبکہ وقوف عرفہ ہی اصل یوم عرفہ ہے جس دن کے احکام واعمال  حاجی اورغیرحاجی کے لئے متعین ومعروف ہیں  جس پر قرون اولی میں تعامل رہاہے ۔
8 - وقوف عرفات سے  عرفہ کے دن کے روزے کے متعلق ماننے پر اشکال پیداکرتےہوئے کہا جاتاہے کہ :(لوگوں کا یہ کہنا کہ) : "سو سال پہلے لوگ اپنے ملک کے حساب سے نوذی الحجہ کا ہی روزہ رکھتے تھےمگروقوف عرفات نہ جان سکنے کی وجہ سے معذورتھے ، اب وہ عذرباقی نہ رہا ۔ اس بات سے لازم آتاہے کہ ان سب میں سے کسی نے صحیح روزہ نہیں رکھا سوائے وقوف عرفات کا علم رکھنے والے کے ، اس سے ان لوگوں بشمول سلف صالحین کی فہم  حدیث اور عمل میں نتقیص کا پہلو نکلتاہے " ۔   
  میں کہتا ہو ں کہ سلف صالحین کے عمل میں تنقیص کا پہلو نکلتاہے اور نہ ہی ان کی فہم حدیث میں ، البتہ صاحب اشکال کی فہم  کا قصور ضرور ہے ، یہ کہاں ہے کہ اجتہادوخطا کی بنیاد پر کسی کا عمل ناقص اور فہم کمزور ہوجاتاہے ، آپ کے بیان کے مطابق تو - نعوذ باللہ  - ان سارے صحابہ کرام ، ائمہ محدثین وفقہاء اورمجتہدین کا عمل جو  بسبب اجتہادوخطأ  نص کے خلاف تھا ناقص ہوا اور ان کے فہم میں تقصیر تھا ۔ اللہ ہدایت دے ۔
تاریخ میں بارہا ایسا ہو اہے کہ لوگوں نے عیدین منائی اور حج کیا ، اور پھر بعدمیں پتاچلا کہ وہ دن  صحیح نہیں تھا بلکہ اس سے پہلے یا بعد والا دن صحیح تھا ، کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ ان لوگوں کاعمل  مردود و  ناقص تھا یا مقبول ومصاب ؟ کیا ایسے لوگوں کو اپنے حج اور دیگرعبادات کا اعادہ کرنا چاہئے تھا  ؟۔ بزعم خویش" تحقیقی" مضمون لکھنے کا دعوی کرنے والے کو اتنی سطحی بات لکھنے سے پہلے صحیح فہم اور اسلاف کے منہج وطریقہ کو اچھی طرح سے سمجھنے کی ضرورت ہے  ۔
اسکے علاوہ بهی غیرضروری اشکالات وتوجیہات اورمحاکمات پیش کی جاتی ہیں جوناقابل اعتناء  عقل وذہن کی پیداوار ہیں  ۔ 
یاد رکهیں کہ کوئی بهی عمل توحید کے بعد اتباع سنت پرہی منحصر ہے .
اللہ رب العزت ہمیں حق وصواب کی توفیق عطا فرمائے . وصلى الله على خيرخلقه وسلم .
               ********