جمعرات، 14 ستمبر، 2023

اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گی

 

اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گی

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ  (ہر جان موت کا مزه چکھنے والی ہے)

إنماالموتُ مُنْتهى كُلِّ حيّ  (ہرجاندار کی انتہا موت ہے)

                          ابھی کل ہی کی بات ہے اہلیہ سے فون پر بات ہورہی تھی ، اچانک انہوں نے اپنا ایک خواب بیان کرنا شروع کردیا حالانکہ میں نے انہیں  ہر وہ خواب بیان کرنے سے منع کررکھاہے جو بُرے اور ڈراونے ہوں ،لیکن شاید انہیں یہ خواب بُرا یا ڈراونا نہیں لگا ،     یا  انہیں  لگا ہو کہ جس سے انہیں یگ گونہ محبت ہے گرچہ وہ دنیامیں نہیں ہیں حالت خواب میں  اس سے ملنے جارہی تھیں اس لئے بیا ن کردینےمیں کوئی حرج نہیں ہے۔

خیر میں نے اطمینان سے  ان کا خواب  سنا اور انہیں پھر یاددہانی کرائی کہ میں نے اس طرح کے خواب کوبیان کرنے سے منع کیاتھا،  کہنے لگیں کہ میں نے اس میں کوئی قباحت یا کسی طرح کی کوئی چیز محسوس نہیں کی اس لئے بیان کردیا ، ان کا  خواب تھا کہ : میری بڑی بہن (جن کا انتقال گزشتہ رمضان میں ہواتھا ) سے ملنے جارہی  ہیں  کہ اچانک راستے میں ایک گڑھا آگیا جس کی وجہ سے دروازہ تک جانا مشکل ہوگیا پھر دوسری جانب سے بہن کی کھڑکی پر جاکر انہیں آواز دیا۔

 خواب  معمولی ساتھا لیکن اسے سن کر میرا دل پریشان ہوگیا اورخیال آیا کہ ان کے سامنے شاید کوئی حادثہ ہونے والاہے، اور چونکہ ان کےوالد صاحب کئی سالوں سے صاحب فراش تھے اس لئے ان  کی طرف خیال کا بھٹکنا  بدیہی تھا۔

آج  صبح ناشتہ کرکے آفس میں جوں ہی بیٹھا ان کا فون آیا کہ میکے سے فون آیاتھا والد صاحب کو  کافی بےچینی  محسوس ہورہی ہے ،ان کی کال  کاٹ کر میں نے  فورا  اپنے سالے کوویڈیو کال کیا تاکہ انہیں دیکھ سکوں اور خیریت لینے کے ساتھ  کچھ ہدایات دے سکوں، کافی نحیف نظرآرہے تھے اور گھر کے افراد آس پاس بیٹھےہوئے تھے میں نے سلام کیا تو سلام کا جواب دیا قدرے عافیت میں لگ رہےتھے پھرمیں نے  گھروالوں کو کھانے پینے اورعلاج سے متعلق کچھ ہدایات  دیااور  اپنے کام میں مشغول ہوگیا۔تقریبا آدھے گھنٹہ کے بعد بڑی بچی کا میسیج ملا کہ نانا کا انتقال ہوگیا ،زبان پر ۔إنا لله وإنا إليه راجعون۔ کا ورد جاری ہوگیا۔

ان کی عمراسی سے  نوے سال کے درمیان رہی ہوگی جب تک ہاتھ پاؤں چلتارہا شاہانہ زندگی بسر کی بڑھاپےمیں بھی غضب کی پھرتی تھی اپنے گھرسے موتیہاری تقریبا پینتالیس کیلومیٹر سائیکل سے آنا جانا کرلیتےتھے، مجھے  بےحد عزیز رکھتے بلکہ اپنے بیٹوں سےزیادہ قدر ومحبت دیتے ، نفاست ایسی تھی کہ ہمیشہ اپنے بستر سے لے کر سائیکل اور دیگر سامان کو صاف ستھرا رکھتے اورکسی کو ان کے قریب بھی نہیں آنے دیتے ،لیکن میں جب بھی ان  کے یہاں  جاتا نہایت ہی محبت سے کپڑا بدلنےکے لئے اپنی لنگی پیش کرتے اور کہتے کہ کہیں جانا ہوتو میری سائیکل لے کرجانا ۔ لوگ کہتے ہیں کہ  جوانی سے لے کربڑھاپے تک اپنی نفاست پسندی کی وجہ سے  کبھی   بچوں یا ناتی پوتوں کو اپنے قریب نہیں آنے دیا ۔لیکن جب میری بچیاں پیداہوئیں تو انہیں اپنی گود میں لیتے یہاں تک کہ ان کی  ناک وغیر ہ بھی صاف کرتےدیکھےگئے۔جامعہ امام ابن تیمہ میں جب تک رہا  ہر دوسرے تیسرے دن گھر سے سائیکل کے ذریعہ آتے اور ہمار ےبچوں کی ضروریات کی چیزیں لاتے ، اسی طرح جب بھی  گاؤں  جاکر وہاں کچھ دن گزارنا ہوتا یہ سن کر کافی خوش ہوتے اور ہمارے وہاں پہنچنے سے قبل ہی اناج اور دیگر ضروریات کا سامان  خرید کر پہنچ جاتے ۔

آج جب وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں ان کی  طبعی عمرمیں وفات کے بعد بھی دل  بےچین ہے ، دنیا کی یہی ریت ہے کہ آنے والا آتاہے اور جانے والا چلا جاتاہے،لیکن دنیا ویسے ہی چلتی رہتی ہے،  ہر چیز اپنے وقت پر مقدر ہے ۔

یہ چمن یوں ہی رہے گا اور ہزاروں بلبلیں       اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گی

انہوں نے اپنے پیچھے  چھ بیٹے اور  دوبیٹیاں اور ان کے ساتھ بےشمارناتی پوتے چھوڑاہے ۔


عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی  (7/9/2023ء) 

*********

 

جمعرات، 24 اگست، 2023

جہالت کی فلاّحى

  فیس بک کے ایک کمنٹ پر رد عمل کا جواب 

جہالت کی فلاّحى

محترم غفران اصلاحی صاحب  !

 

(Ghufran Rafeequi Islahi Builders)

اگر علم وفہم سے واسطہ ہوتاتو اس طرح کی واہیات باتیں نہیں کرتے یہ بچے بچیوں کا کھیل نہیں ہےکہ ان کی غیر ضروری اور غیر مطابق مثالیں پیش کریں ، آپ اپنی بلڈنگ  کی ڈیزا‏ئننگ  میں مست رہئے، اور شوق سے اس میں تصرف کیجئے لیکن یہاں دین کا معاملہ ہے اس لئے ہوش میں رہ کر کسی بات پر کمنٹ کیجئے ، تقلیدی جمود نے ویسے ہی آپ جیسوں کا دماغ خراب کررکھا ہے اس لئے کسی کی بات کو سمجھنا آپ کے بس کی نہیں ہے ، میں نے جو کمنٹ کیاہے اس کا مدعاء قمر فلاحی صاحب اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اسی لئے انہوں نے کم سے کم یہاں پر خاموش رہ کرحکمت سے کام لیاہے ،حالانکہ انہوں نے مجھے پوری طرح بلاک کردیاہے جس کی وجہ سے   ان کا کوئی پوسٹ میرے سامنے نہیں آسکتا اورنہ ہی میں ان کے کسی بھی پوسٹ پر کوئی کمنٹ وغیرہ کرسکتا ہوں ۔ اور آپ  ہیں کہ بےگانی شادی میں دیوانہ بن کر آگئے ،یہ تو خیر ہے کہ میں  کسی اورکے فیس بک میں آپ کے کمنٹ سے واقف ہوگیا اور یہ چند سطریں لکھنے پرمجبور ہوگیا، اگر نہیں لکھوں تو ہوسکتاہے آپ  خودکوطرم خان سمجھنے لگیں کہ سامنے والا لاجواب ہوگیا۔

آپ نے جوش جہالت میں یہ بھی نہیں دیکھا کہ قمر صاحب نے کس پس منظر میں اپنا مذکورہ پوسٹ ڈالاہے ،اگر پس منظرپر غورکرتے تو اتنی حماقت والی بات نہیں کرتے، بات ابراہیم علیہ السلام کے مجبور کئے جانےکے امکان اور غیرامکان کی تھی جس کے بہانے ایک سیرت نگار کے فہم اور منہج کو چیلنج کیاجارہاتھا اور اس  کی آڑمیں  تمام سلفیوں کو مطعون کرنے کی ناروا کوشش کی جارہی تھی۔ ویسےتو میں عام طور پر اس قسم کے مسائل سے خو د کو الگ رکھتاہوں اور جلدی کوئی کمنٹ نہیں کرتا، البتہ بسا اوقات جب زیادہ ضروری سمجھتاہوں توکچھ ہلکا پھلکا لکھ دیتاہوں ،کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ آپ جیسے نیم فہم تقلیدی اپنی زبان اوربیان پر قابو نہیں رکھتے۔ خیر فلاحی صاحب  کئی ماہ سے اپنی فکر کی کجی کی وجہ سے سلفیوں کے  راڈار پر ہیں ، اوریہ بدیہی ہے کیونکہ  سلفیت  کا یہی امتیاز ہے کہ دین وشریعت ، عقائدواعمال  ، انبیا ء  ورسل ، اہل بیت اور صحابہ وتابعین ومن تبعہم باحسان  کے بارے میں کسی بھی طرح کی غلط بات کی جائے اس کا رد کریں اور دین وشریعت کی حفاظت کے لئے کوئی لحمہ فروگزاشت نہ کریں ، اور یہی دینی فریضہ بھی ہے ،  اور فلاحی صاحب کے سلسلے میں بھی احباب کی جانب سے  وہی کیاگیا ، گرچہ ان میں سے بعض کے طرز تخاطب سے مجھے بھی اختلاف  ہی نہیں سخت اختلاف ہے ۔  ایسا لگتاہے کہ فلاحی صاحب نے مولانا مباکپوری  رحمہ اللہ  کی کتاب میں مذکور ابراہیم علیہ السلام کے واقعے کو اس  کے اسباب وعوامل کا  صحیح طرح سے مطالعہ اور اس پر غوروفکر کئےبغیر ہی چھیڑدیا ہے  ( اس میں ان کی نیت کیاتھی وہی جانیں اور اللہ تعالی  سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے ۔)،  اورانہوں نےیہ نہیں  دیکھا کہ مولانا رحمہ اللہ نے اس   واقعہ کو کہاں سے ذکر کیاہے ،اور ان سے پہلے اسلاف کے درمیان اس سلسلے میں کیا کیا اور کن بنیادوں پر لکھا  گیاہے   ؟  جس کی وجہ سے مؤاخذہ کرنے پر بغیر سوچے سمجھے ہی ادھر ادھر کی مار رہے ہیں ،خیر یہ ان کا معاملہ ہے لیکن کسی بھی مسئلے کو چھیڑنے سے پہلے  اس موضوع سے متعلق خوب اچھی طرح سے معلومات اکٹھی کرلینی چاہئے، تاکہ فضیحت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔

یہاں میں قمر فلاحی صاحب کے فکر  اور ان کے اس خاص پوسٹ اور اس پر اپنے اور ان کے کمنٹ کو ذکر کردوں تاکہ ناظرین  کو حقیقت معلوم ہوسکے:

فلاحی صاحب نے لکھا : "پوری دنیا ایک طرف کیوں ناہوجائے، بنی کو کوئی مجبورنہیں کرسکتا"۔

میرا کمنٹ تھا :" جی محترم بالکل صحیح ، لیکن : اللہ تعالی کسی کوبھی مجبور کرسکتاہے اور اپنی کسی حکمت کے تحت کسی کے ذریعہ مجبور کروا بھی سکتاہے۔۔۔۔۔۔۔ اگر آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو !!!"

اس کے بعد فلاحی صاحب لکھتےہیں :"توبہ ہے"

 پھر میں نے لکھا:"یعنی آپ مان رہے ہیں کہ کوئی انسان خواہ نبی ہی ہو اللہ کی  کسی حکمت کے تحت کسی معاملے میں مجبور کیاجاسکتاہے"۔

اس کےبعد پتہ نہیں کیاہوا کہ فلاحی صاحب کے سارے پوسٹس اور کمنٹس مجھ سے  مکمل طور پر محجوب ہوگئے   ، لاکھ کوشش کے باوجود میں نہیں جان سکاکہ آگے کیاہوا ، پھر اپنے آفس والے  اکاؤنٹ سے سرچ کیاتو ان کا پوسٹ اور اس پر کئے گئے کمنٹس نظرآئے ، میرے کمنٹ کے بعد فلاحی  صاحب تو خاموش نظرآئے لیکن آپ  غفران اصلاحی صاحب غیر کی شادی میں بطور عبداللہ دیوانہ نظر آئے اور ہمارے تبصرےکو بے تکا قرار دے دیا  یہ کہہ کرکہ:   کائنات اور اس میں موجود تمام مخلوقات کی کہ یہ سب کے سب ایک ہوجائیں پھر بھی نبی کے استقامت میں لغزش نہیں آسکتی ،پھر درمیان میں اللہ کو لاکر بچکانہ پن کیوں ظاہر کرنے لگے ؟؟

یہ ہے آپ کی    جاہلانہ سمجھ شریف ، جب اللہ تعالی خود بخود بیچ میں ہے تو ہماری کیااوقات کہ اسے بیچ میں  لائیں، اللہ تعالی خود ابراہیم اور ان کی اہلیہ علیھما السلام کو ہجرت کا حکم دیتاہے اس کےلئے اسباب پیدا کرتاہے اورپھر  ایک ایسا سبب پیدا کرکے ان کواپنی  بیوی  اور شیرخواربچے کو مکہ کے بیان میں چھوڑنے  کا حکم دیتاہے، جس کا ذکر مختلف روایتوں میں موجود ہے جنہیں سیرت نگاروں نے بیان کیاہے اور یہ کسی سے مخفی نہیں ہے ۔ جس طرح مکہ سے بے انتہامحبت کے باوجود اللہ جل شانہ ہمار ےنبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چند  اسباب پیدا کرتاہے آپ کے خلاف قتل کی سازشیں ہوتی ہیں بلکہ روایتوں میں ہے کہ آپ نے مکہ سے نکلتے وقت ایک ٹیلہ  کھڑے ہوکر حسرت کے ساتھ اس کی طرف دیکھ کر فرمایا :" والله إنك لخيرأرض الله , وأحب أرض الله إلى الله , ولولاإني أخرجت منك ما خرجت " (سنن الترمذی/3925 ، سنن ابن ماجۃ/3108) "اللہ کی قسم  ! تو بلاشبہ اللہ کی سب سے بہترین سرزمین ہے ،  اللہ کے نزدیک محبوب ترین سرزمین ہے ، اگر مجھے تجھ سے نہ نکالا جاتا ہو میں نہیں نکلتا"۔ پھر رب ذوالجلال آپ کو مدینہ کے لئے ہجرت کا راستہ اختیار  کرنے کا حکم دیتاہے، راستے میں  دسیوں پریشانیاں آتی ہیں لیکن پائے استقامت میں لغزش نہیں آتی  غار ثورمیں بھی پناہ لینا پڑتاہے، وہاں پراپنے ساتھی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اللہ کی معیت کا حوالہ دے کر ہمت وڈھارس دلانی پڑتی ہے  ۔  اسی طرح موسی علیہ السلام کو  بھی مجبوری میں  فرعون کے ظلم واستبداد سے اپنوں کو بچانے کے لئے اللہ کے حکم سےمصرسے بھاگنا پڑتاہے،بات بنواسرائیل اور موسی علیہ السلام کی مجبوری سے شروع ہوتی ہے اور اللہ کے حکم پرہجرت کے ساتھ ختم ہوتی ہے۔

یہی نہیں موسی علیہ السلام کے واقعے میں ان کے ڈراوراحتیاط کا ذکراللہ تعالی نےواضح طورپرکیاہے، فرماتاہے: (وَجَآءَ رَجُلٞ مِّنۡ أَقۡصَا ٱلۡمَدِينَةِ يَسۡعَىٰ قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّ ٱلۡمَلَأَ يَأۡتَمِرُونَ بِكَ لِيَقۡتُلُوكَ فَٱخۡرُجۡ إِنِّي لَكَ مِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ* فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآئِفٗا يَتَرَقَّبُۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ) (القصص/20-21) ۔

(شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا ۔ اور کہنے لگا اے موسیٰ! یہاں کے سردار تیرے قتل کا مشوره کر رہے ہیں، پس تو بہت جلد چلا جا مجھے اپنا خیر خواه مان * پس موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے خوفزده ہوکراحتیاط کے ساتھ دیکھتے بھالتے نکل کھڑے ہوئے ، کہنے لگے اے پروردگار! مجھے ﻇالموں کے گروه سے بچا لے)

کیا یہاں ایک نبی مجبوری کی حالت میں اپنی قوم اور اپنے شہرکو نہیں چھوڑرہا ہے؟ جس کی وجہ سے اپنے رب سے نہایت ہی عاجزی کے ساتھ دعاء بھی کررہاہےکہ وہ انہیں ظالم قوم کےجبرواستبداد سے محفوظ رکھے۔(تدبرتفهم)غورکیجئے بات ضرور آپ کو سمجھ آئےگی !!!

کیا آپ یہ بتا سکتےہیں کہ   یوسف علیہ السلام کا جیل میں رہنا ان کی مجبوری نہیں تھی ؟(بلکہ اس مجبوری کو آپ نے اپنی عزت عصمت اورپاکیزگی کو بچانےکےلئےخوداپنالیاتھا)۔   کیا آدم علیہ السلام کا   جنت سے نکالے جانے  کا واقعہ اور اس کے اسباب وعوامل ہمارے سامنے نہیں ہیں  ؟    وغیرہ وغیرہ۔

بلاشبہ کسی بھی انسان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ کسی نبی کو  (ہم تو کہتے  ہیں کہ کسی  اللہ والے  نیک انسان کو بھی)  مجبور نہیں کرسکتا،لیکن جب یہی اللہ کی مرضی اور اس کاحکم ہوتو کوئی بھی کسی کوبھی خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو کسی بات پر مجبور کرسکتاہے ،یہ الگ بات ہے کہ  ہر نبی  استقامت کی بلندی پر ہوتا، ان کے قدم کبھی اور  کہیں نہیں ڈگمگاتے اور وہ ہمہ دم  اس معاملے میں اللہ تعالی کی رہنمائی کا منتظر رہتے، اور پھرجوبھی امر باری تعالی ہو اس کی پاسداری میں  اس پر توکل کرکے جی جان لگادیتے، کیا جنگ بدر ، جنگ احد ، جنگ خندق  جیسے معرکوں میں نبی مکر م صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی مثالیں ہمارے سامنے نہیں ہیں ، اور خود ابراہیم علیہ السلام کا نمرود کے ذریعہ آگ میں ڈالے جانے کے وقت استقامت میں ہمار ے لئے نصیحت نہیں ہے  ؟   اس طرح کی بے شمار  مثالیں قرآن وسنت میں  ملیں گی ،جن میں کسی کا گھرسے نکلنے پر مجبورکیاجانا ، کسی کو اپنی جان کو قربان کردینا وغیرہ شامل ہیں۔

چونکہ فلاحی صاحب کا مقصد  ایک خاص کتاب اور  صاحب کتاب کے منہج وفکر پر رد کرنے کاتھا اس لئے انہوں نے  مذکورہ کلمات پوسٹ کئے  ، جس تناظرمیں انہوں نے پوسٹ ڈالا میں نے اسی کے حساب سے اس پر تبصرہ کیاہے ،ورنہ  ایک ایک مسلمان جانتاہے کہ کسی نبی کے پائے میں کوئی بھی انسان لغزش نہیں لاسکتا۔ فلاحی صاحب کے جملے کے سلسلے میں میں وہی کہوں گا جو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے خوارج کے نعرہ "لاحکم الا للہ" کے بارے میں کہاتھا : "كلمة حق أريد به الباطل" "بات صحیح ہے لیکن اس کا مقصد غلط ہے "۔

غفران اصلاحی صاحب !  مجھے آپ کی سمجھ پر افسوس ہورہا  کہ ایک سیریس معاملے میں بچوں جیسی بچکانہ حرکت کی   سینس لیس بچکانہ مثال پیش کرکے   خود کو مدعائے کلام کا  بہت بڑا فاہم  سمجھ رہے ہیں ، اگر فلاحی صاحب کے آرگومینٹس اور ان پر کئے گئے ردود سے تھوڑی بھی واقفیت ہوتی تو اس طرح کی جاہلانہ حرکت سے پرہیز کرتے۔

اصلاحی صاحب ! آپ کی دلیل بھی بڑی کائناتی ہے :"زمیں جنبد آسماں جنبد نہ جنبد پیر محمدصلی اللہ علیہ وسلم"

یہاں اس طرح کی دلیل پیش کرنے والے کی عقل پرسوائے ہنسنے کےاورکیاکیاجاسکتاہے ؟؟؟؟ ۔

ایک آدمی خود سینس لیس ہوکر  دوسرےکو سینس کی نصیحت کررہاہے ، ایں چہ بوالعجبی است ؟ ۔

 اللہ تعالی ہم سب کو صحیح فکر وفہم کی دولت سے نوازے اور حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے اور سمجھنے کی توفیق دے ۔

********

                            عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی 

                                                              (24/8/2023)

 

 

بدھ، 10 مئی، 2023

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے (بڑی بہن کی وفات پرایک بھائی کے جذبات)

 ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

  (بڑی بہن کی وفات پرایک بھائی کے جذبات)

                        (عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی)

        --------------------------------------------------------

    قد كنت ُ أحسب ُ أني للفراق ِفتى    

صلدا ً صبورا ً تعيب ُ الدمعَ أحداقي

  لكن وَجْدي , ودمع ُ العين ِ كذّبني   

 إذ  صار يُرسل ُ سيلَ الحُبِ رقراق 

(میں تو سمجھتا تھاکہ میں (اپنی بہن کی )  جدائی کے وقت بڑا سخت جان،  صبر والاہوں گا ،آنسومیری پلکوں سے نالاں  ہوگا (کہ تو بہتی کیوں نہیں ؟)۔ لیکن جب  محبت کے سیلاب اور روانی  نے آسوؤں کی جھڑی لگادی تو میری بےخودی و غم اور آنکھوں سے بہتےآنسوؤں نے مجھےجھوٹا ثابت کردیا) ۔

حواس مجتمع نہیں ہیں ،فرط غم نے بار بار آنکھوں  میں آنے والے آسوؤں کو  ضبط کرنا بہت ہی مشکل  کر رکھاہے ، شاید زندگی میں  پہلی بار آنسوؤں پر کنٹرول کرنے سے قاصر ہوں ، کئی گھنٹے گزرجانے کے بعد بھی  ،خود کے غم سے دورنہیں ہوپارہا، تلاوت   قرآن کے لئےبیٹھا تو  درمیان میں  بار بار آنکھوں میں آنسو آجا رہے ہیں، تراویح  میں بھی  وہی کیفیت رہی ہے  ،کئی گھنٹے تک اپنوں سے اس سلسلے میں بات کرنے  کی  ہمت نہیں جٹا پایامبادہ دل کا دردنگاہوں  سےنہ چھلک پڑے ۔کسی اپنے کی  موت ہی اتنی تکلیف دہ ہوتی ہے اور وہ بھی جب اپنا خون ہو ، اس یقین کے بعد بھی کہ موت ایک حقیقت اور صبر آزما ہے   جو  بڑا سخت ہوتاہے :

الموت كأس وكل الناس شاربه        

والقبر باب وكل الناس داخله

(موت ایک ایسا جام ہے جسے ہر آدمی کو پیناہے  اور قبر ایک ایسا دروازہ ہے جس میں ہرشخص کو داخل ہونا ہے)۔

میر ی سب سے بڑی بہن  (عزیزم خالدہشم اللہ تیمی  سلمہ اللہ کی والدہ )  کی پہلے ہارٹ اٹیک او رپھر چند ہی گھنٹوں میں وفات  پورے خاندان  اوراحباب واصدقاء کے دل ودماغ  کو جھنجھوڑگئی ۔(اللهم اغفر لها, وارحمها، وعافها, واعفُ عنها, وأكرم نُزُلَها, ووسِّع مُدْخَلَها, واغسلها بالماء والثَّلج والبَرَد, ونَقِّها من الخطايا كما يُنَقَّى الثوبُ الأبيضُ من الدَّنَس, وأبدلها دارًا خيرًا من دارها, وأهلًا خيرًا من أهلها, وأدخلها الجنة, وقِهِا فتنةَ القبروعذابَ النار).

میرے لئےاس تکلیف کو برداشت کرنا شاید اس لئے مشکل ہورہاہےکہ آٹھ بھائی بہنوں میں یہ کسی پہلے   فردکی  وفات ہے،اور یہ احساس بھی کہ ہم میں ایک فردکم ہوگیاجس سے اب کبھی  ملاقات اور بات نہیں ہوگی  ۔ اور یہ ایک ایسا احساس ہے جس سے ہر فردکو سامنا کرنا پڑتاہے۔(رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا) ۔

میری بہن کی شادی اس وقت ہوئی تھی جب میں بہت چھوٹا تھا غالبا پانچ یا چھ سال کا رہاہوں گا ، انہوں نے اپنی پوری زندگی جدوجہد میں گزاری ہے۔ 

جب آپ سے کوئی محبت کرنے والا ہوتو لگتاہے کہ آپ ہی اس کے سب سےزیادہ چہیتےہو،بسا اوقات  مجھے بھی ایسا ہی  لگتا تھاکہ  اپنے تمام بھائیوں کے درمیان  میں ان سےزیادہ قریب ہوں  اور وہ مجھے سب سے زیادہ لاڈ کرتی ہیں  ،حالانکہ انہیں  اپنے تمام بھائیوں سے بے انتہا محبت تھی اور کیوں نہ ہو اللہ تعالی نے بہن بھائی کے تعلق میں ایک قدرتی محبت جو رکھی ہے ،جو دکھاوہ سے دور حقیقت پر مبنی ہوتی ہے ۔

 جس گاؤں میں بیاہی گئی تھیں وہاں جہالت انتہا کو پہنچی ہوئی تھی ا س ماحول میں  انہوں نے اپنے دوبیٹوں کو میرے حوالے کردیا کہ ان کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری تمہاری ہے ،جن  کو میں نے اپنے پاس ہی جامعہ امام ابن تیمیہ میں داخل کرا کررکھ لیا،    لیکن ان میں سے چھوٹا  دینی تعلیم کی طرف بے رغبتی کی وجہ سے اسکولی تعلیم کی طرف متوجہ ہوگیا  اور دوسرا عزیزم خالد تیمی سلمہ اللہ  اپنی محنت اورلگن  سے جامعہ امام ابن تیمیہ اور پھر جامعہ ملیہ اسلامیہ سے اپنی تعلیم مکمل کرکے سب کی امیدوں کا مرکز بنا ہواہے  ۔سهل الله أموره وسدد خطاه۔

آج ان کے ساتھ بتائے زندگی کا ہر پل رہ رہ کر نگاہوں میں گھوم رہاہے ، جامعہ امام ابن تیمیہ کے دور میں  جب کہیں جانا ہوتا  اورمواصلات کی کمی کی وجہ سے  بیراگنیا ریلوے اسٹیشن  سے ٹرین پکڑنے کے لئے بذریعہ سائیکل جانا ہوتا  توچونکہ ان کا گھر اسٹیشن سے قریب ہی تھا اس لئے سائیکل انہیں کے گھرچھوڑدیتاتاکہ واپسی کے وقت  آسانی ہو،جوں ہی  ان کے گھر پہنچتا پہلے ٹرین کا وقت دیکھتیں اور اگر گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کا وقفہ ہوتاتو ہزار منع کرنے کے باوجود کھانا بنانے میں لگ جاتیں ۔ میری ایک عادت ہے کہ بہنوں کے یہاں جاتے وقت  اگر امکان میں ہواتوکچھ نہ کچھ   تحفہ مٹھائی یا پھل کی شکل میں  لے کر ضرور جاتاہوں  ، کبھی ایسا ہوتاکہ کسی وجہ سے کچھ نہ لےجاسکاتو کبھی  پیشانی پر بل نہیں لاتیں بلکہ وہی مسکراہٹ اور خندہ پیشانی  ہمیشہ کی طرح  استقبال ووداع کرتی  اس حکم کے ساتھ کے بابو پھر آنا ۔(ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے)۔

ادھرچند سالوں سے اپنے بیٹے خالد کے پاس دہلی میں رہنے لگی تھیں ،  میں جب بھی سعودی عرب سے چھٹی پرجانے کا ارادہ کرتا سب سے پہلے   اس امر پربات ہوتی کہ بہن کےیہاں کب جاناہے یا انہیں اپنےگھر کب بلاناہے ؟ ، ابھی چند روز قبل ہی  اہلیہ کہہ رہی تھیں کہ بہن کو عید کے دن اپنے یہاں بلانا ہے لیکن   : (اے بسا آرزوکہ خاک شدہ )۔

دل ابھی سے پریشان ہے کہ اگلے سفرمیں  سب تو ہوں گے لیکن وہ نہیں ہوں گی ،پھران کی مسکراہٹ اورپیار دیکھنے کو نگاہیں ترسیں گی ، ان کی  مہمان نوازی کےلئے دل ترسےگا اور ان کی ہمیشہ کےلئے جدائی پر دل تڑپےگا،بس یہی  ایمان ہے کہ جو اللہ کو منظورتھاوہی ہوا :"كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَر" "ہر چیز تقدیر سے ہے"۔

آج میں خود کو اور اپنے  گھر والوں اور خاص طور سے بہن کی اولاد اور ان کے شوہر کو صبر کی تلقین کرتاہوں  اور رب العزت سے دعاء کرتاہو کہ سب کو صبر جمیل دے ، اور متوفیہ کےگناہوں کو معاف کرکے اپنی رحمت اور مغفرت سے نوازے اور  ان کی قبر کو نور سے بھر دے اورقیامت کے روز ہم سب کو جنت الفردوس میں اکٹھاکرے۔

يارب فاجعل  جنان الخلد مسكنها       

الكل فانٍ وأنت الواحد الباقي

(اے میرے رب جنت الخلدمیں  ان کا ٹھکانہ بنا  ہر شیئ فانی ہے بس تو  ہی اکیلا باقی رہنے والاہے)۔

وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.

                    2023/4/10

                             **************

پیر، 13 مارچ، 2023

اس مہرباں نظر کی عنایت کا شکریہ(تشکر نامہ)

                                                   اس مہرباں نظر کی عنایت کا شکریہ(تشکر نامہ) 


لَكَ الحَمدُ ياذا الجودِ والمَجدِ وَالعُلا       تَبارَكتَ تُعطي مَن تَشاءَ وَ تَمنَعُ

إِلَهي وَ خَلّاقي وَحِرزي وَ مَوئِلي         إِلَيكَ لَدى الإِعسارِ وَاليُسرِأَفزَعُ

 (اےسخاوت والے، جلال وبلندی کا مالک ہر طرح کی تعریف وحمد تیرے لئے ہی ہے، تو برکت والاہے جسے چاہتاہے نوازتاہے اورجسے چاہتا  ہےمحروم رکھتاہے ،اے میرے معبود،مجھےپیدا کرنے والے،مجھے پناہ دینے والے، تنگدستی  اور خوشحالی   ہرحال میں تجھ سے ہی فریاد کناں ہوں )۔

    انسان کی زندگی میں غم اورخوشیاں آتی جاتی رہتی ہیں، اور کامیاب  انسان وہی ہے جو ہر غم سے بیگانہ اپنی ڈگرپر چلتاجاتاہے پھر ایک دن اس کے جہد مسلسل کا نتیجہ ضرور سامنے آتاہے :

جنّت تری پنہاں ہے ترے خُونِ جگر میں                 اے پیکرِ گل کوششِ پیہم کی جزا دیکھ۔

 انسان  جب اپنی  زندگی میں    کسی موڑ پر اللہ رب العزت  کے فضل وکرم سے کسی عظیم نعمت سے سرخرو ہوتاہےتو اس بےبہا خوشی   کی سرفرازی پر اس کے حضور سربسجود ہوجاتاہے ، وہ خوشی  نعمتوں کی جس شکل میں بھی آئے ۔

تو میرے سجدوں کی لاج رکھ لے شعور سجدہ نہیں ہے مجھ کو     یہ سر ترے آستاں سے پہلے کسی کے آگے جھکا نہیں ہے!!!

     آج میرے لئے ایسی ہی خوشی کا دن ہے جس کا انتظار میں نے برسوں کیاہے، میری لخت جگر نور نظر   (زھراء  بتول) نے زندگی کے ایک پڑاؤ  کو بحسن وخوبی پار کرلیاہے ، کلیہ  عائشہ صدیقہ (جامعہ اسلامیہ سنابل نئی دہلی )  سے آج اس کی فراغت کا دن ہے ۔ (اللهم لك الحمد والشكر كما ينبغي لجلال وجهك وعظيم سلطانك)۔ یہ ایک مولویانہ زندگی جینے والے عام آدمی کے لئے بہت بڑی بات ہے ،اس کا ادراک وہی لوگ کرسکتےہیں جو شعور واحساس کے اس دور سےگزرےہوں  ۔

آج ٹھیک ویسی  ہی  خوشی محسوس ہورہی جیسی میں نے سنہ  1996ء میں جامعہ سلفیہ بنارس سے اپنی فراغت کےدن محسوس کی تھی ۔ آپ  یا آپ کا کوئی قریبی خاص طور اولاد جب زیورعلم سے آراستہ ہو  اور وہ بھی شرعی علم سے تو اس  لمحہ  ،اس  گھڑی  جب یہ نعمت ملتی  ہے  اس  کے جذبات اس کے قابو میں نہیں رہتے ،ہر کسی سے اپنی خوشی  بانٹنا چاہتاہے :  ﴿ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ ﴾۔

زندگی کی اس بھاگ دوڑ میں جب آدمی کسی ایک جگہ ٹک کر نہیں رہ سکتاہو تو بچوں کی تعلیم پر اس کا بہت زیادہ اثر پڑتاہے ، پردیش میں رہتےہوئے ہمہ وقت ان کی اچھی صحت اور ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم سے متعلق کچھ زیادہ ہی فکر لاحق  رہتی  ہے ۔مدرسہ احیاء السنہ  بنارس سے لےکر جامعہ امام تیمیہ ومرکزالامام ابن باز للدراسات الاسلامیہ اور پھر سعودی عرب آنے کے درمیان  میرے ساتھ ساتھ  بچے بھی کبھی ایک جگہ ٹک کر نہیں  رہ پائے  ان حالات سےگزرتےہوئے بالآخر  بچیوں کو نئی دہلی کی مناسب فضاء نصیب ہوئی  ، جہاں قدرے اطمینان بخش ماحول ملا اور جیساکہ سب کو معلوم ہےکہ شاہین باغ کے ساتھ ساتھ پوراجامعہ نگر  اپنی تعلیمی اوردینی  اقدار کے لئے  بھی پوری دنیامیں معروف ہے ۔

 بچیوں  کی تعلیم وتربیت کے مسائل کو حل کرنے کےلئے ہی مجھے یہ قربانی دینی پڑی کہ انہیں اپنے سے دور  دہلی میں  رکھ کر ان کے لئے   کسی مناسب  اور مستقل تعلیمی ادارہ  کی تلاش کی جائے جہاں ان کی تعلیم وتربیت  کے ساتھ  ساتھ ہر طرح کی  سہولت  میسر ہو جو اللہ رب العزت کے فضل سے کلیہ عائشہ صدیقہ جوگابائی  کی شکل میں ملا ، جو نہ کہ صرف نئی  دہلی بلکہ ہندوستان کے تمام نسوانی اداروں میں ممتاز حیثیت رکھتاہے ، وہاں کا رکھ رکھاؤ،کھان پان ، اور تعلیم وتربیت بلا شبہ لائق تحسین ہے:

فالعلم قد أشرقت نُوراً مطالعه

والجودُ قد أسبلت سحاً مواطره

(علم نے اس کی فضاکوخوب روشن کیاہے  اورسخاوت کی تو موسلا دھار بارش ہوتی ہے)۔

گلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ        ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ

 جس کے لئے   ادارہ کے بانیان خصوصا علامہ عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ    اور اس کے ذمہ داران اور اساتذہ ومعلمات شکریہ  کے مستحق ہیں ۔خاص طور سے موجودہ صدر موالانا محمد رحمانی اور سکریٹری مولانا عاشق علی   اثری حفظہما اللہ  اور کلیہ کے ذمہ دار قاری   محمدمصطفی عثمانی  صاحب  اور ان کے معاونین۔

کلیہ میں جب میں نے اپنی بچیوں کا داخلہ کرایا   اس وقت جامعہ امام ابن تیمیہ کی  میری دو لائق وفائق شاگردائیں صفیہ تسنیم   تیمی اور ساجدہ نو رتیمی  وہاں کے تدریسی امور سےجڑی ہوئی تھیں، جنہوں نے  میری بچیوں کی ہر طرح سے رہنمائی کی اور انہیں ہر موقع سے حوصلہ دیا  ۔ اللہ تعالی انہیں اس کا بہترین اجر دے۔بلاشبہ انہوں نے ہر طرح سے اپنی ذمہ داری کو پوراکیا  ہے، ان کے علاوہ وہاں کے دیگر اساتذہ او رمعلمات بھی شکریہ کے مستحق ہیں  ۔فجزاھم اللہ في الدنیا والآخر‏‏‏‏‏ۃ ۔

اس موقع سے اگر میں اپنی ماموں زاد محترمہ صفیہ مجتبی زھراوي صاحبہ  کا شکریہ ادا نہ کروں تو   میری یہ تحریر ادھوری رہ جائےگی ، جب سے ان کی تقرری کلیہ میں ہوئی  میں ہر طرح کے افکار سے    بیگانہ ہوگیا کہ میری بچیوں کو وہاں گارجین کی شکل میں ایک بہترین مربیہ  مل گئی ہے ، ہمار ےلئے اب کسی بھی طرح کی فکر کی ضرورت نہیں تھی، اور وہ اس امید پر کھری اتریں  ۔ اللہ تعالی انہیں اس کا بہترین اجر دے۔

کل اہلیہ سے میری بات ہورہی تھی  ان کے چہرے سے بےپناہ خوشی کا اظہار ہورہاتھا ، دوران گفتگو کہنے لگیں کہ:"  میں نےتوباضابطہ دینی تعلیم نہیں حاصل کی لیکن آج میری بچی  مدرسہ سے فاضلہ ہوکرنکل رہی ہے " سچ پوچھئے تو اصل خوشی کی حقدار بھی وہی ہیں ، ایک عام گھریلو عورت  ہونے کے باوجود لمبی مدت تک  ہر سردوگرم کوبرداشت کرکے اپنی بچیوں کو دینی تعلیم سےآراستہ کرنے کے لئے  بےپناہ  قربانی دیتی  آرہی ہیں ، بچیوں کے تئیں ایک ماں کی ساری ذمہ داری انہوں نے پوری کی ہے  ، چھٹیوں کے ایام سے لےکر تعلیمی ایام میں  انہوں نے کبھی بھی  اپنی ذمہ کو بوجھ نہیں سمجھا ۔ ابتداء میں بچیوں کو لے کر جب وہ دہلی آئیں تب سے  انہیں چھوٹے سے مکتب اور پھر اسکو ل اورپھر وہاں سے کلیہ تک پہنچانے میں انتھک محنت کی ہے ۔ بلاشبہ وہ  خصوصی شکریہ کی مستحق ہیں ۔اللہ تعالی انہیں صحت وعافیت کے ساتھ رکھے اور ان کی اس خدمت کو ان کے لئے صدقۂ جاریہ  اور دنیا وآخرت میں  کامیابی کا ذریعہ بنائے۔

یہاں پر وہ احباب اوررشتہ دار بھی شکریہ کے مستحق ہیں جنہوں نے اس راہ میں  کسی بھی طرح کی کوئی مدد کی ہے ،خصوصا ہمارے بڑے بھائی  انڈین ریلوے کے ملازم عبدالحنان انصاری  اور ان کی اولادیں جنہوں نے ہر طرح سے مادی  اور معنوی سہولیات خصوصا رہائش اوراپنی خصوصی  نگرانی فراہم کی ۔ اسی طرح ہمار ے مشفق ومربی شیخ احمد مجتبی مدنی حفظہ اللہ اور ان کی اہلیہ  جن کی  محبت  وحوصلہ  اور خصوصی توجہ   ہمیشہ ساتھ رہی ۔

اس راہ میں جن لوگوں کا ساتھ رہا ان میں بھانجہ خالد ہشم اللہ تیمی، خالہ زاد ڈاکٹر عبدالمحسن تیمی اوردوسرے بڑے بھائی عبدالمنان انصاری  خاص ہیں ۔ اللہ رب العزت  ان سب کو جزائے خیر عطافرمائے  اورعزیزہ زہراء بتول کو والدین  کی آنکھوں کی ٹھنڈک  ان کےلئے صدقۂ جاریہ ،آخرت کا ذخیرہ   اور  متعلقین کے لئےنفع بخش  بنائے، وصلی اللہ علی خیرخلقہ وسلم ۔ آمین ۔

  12/3/2023 م 

     ********                       

اتوار، 19 فروری، 2023

یادوں کے جھروکوں سے

 

یادوں کے جھروکوں سے                                                                            (استادمحترم ماسٹراحمدحسین رحمہ اللہ  کی یادمیں)


بدھ، 28 دسمبر، 2022

ابوالعلاء مَعَرِّی کاایک شعر اورنظریہ ارتقاء

 ابوالعلاءمَعَرِّی کاایک شعر اورنظریہ ارتقاء

                                                                     عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی (سعودی عربیہ)

 

و الذي حارت البرية  فيه

حيوان مستحدث من جماد

(مخلوق جس کے بارے میں حیران ہےکہ ایک حیوان (ذی روح ) جماد (غیرذی روح ) سے پیدا کیاگیا)۔

شعر کی بلاغی حیثیت :

    یہ شعر ابو العلاء المعری (363 ھ- 449ھ)  کے ایک لمبےقصیدہ کا جزء ہے ،جسے ادباء نے "فلسفۃ الحیاۃ  والموت"  کا عنوان دیاہے ۔ معری کا یہ قصیدہ "قصیدۃ دالیة" کے نام سے مشہورہے جسےاس نےاپنے منظوم " سقط الزند"میں ایک فقیہ کے مرثیہ میں کہی تھی ۔  (دیکھئے: سقط الزند/ ص7-12 ط:داربیروت ودارصادر)  ۔

اہل بلاغہ نےاس شعرکو عام طورمسنداورمسندالیہ کے قاعدے کے تحت ذکرکیاہے، جسے مسند الیہ کامسندپر مقدم ہونےکامستدل بنایاہے ، جس کےتقدیم سے سامع کے ذہن میں خبر راسخ ہوجائے،  نیزاس سےاس کےاندرخبرکا اشتیاق پیداہوتاہے کہ آخر وہ کون سی انوکھی چیزہےجس کا ذکرمتکلم کرنےوالا ہے اور جس نے مخلوق کوحیرت زدہ کررکھاہے۔(دیکھئے: لطائف التبيان في علمي المعاني والبيان لشرف الدین الطیبي 743 ھ بتحقیق ھنداوي / ص 65 و كتاب عروس الأفراح في شرح تلخيص المفتاح للسبکي:1/ 232)۔

شاعراوراس کاعقیدہ ونظریہ :

   ابوالعلاء المعری کاپورانام أحمدبن عبدالله بن سليمان القضاعی التنوخی المعری ہے، یہ عباسی دورکا شاعر، مفكر،فلسفی،نحوی اوراديب تھا۔اوراس دور کےاختلافی اورنزاعی افکارکامتحمل فلسفی کےطورپرجاناجاتاتھا۔ اس کی ولادت سنہ 363 ہجری میں معرۃالنعمان میں ہوئی تھی جو فی الوقت سوریا کےاندر محافظہ ادلب میں واقع ہے۔بچپن میں ہی ایک بیماری (چیچک ) کی وجہ سے نابیناہوگیاتھا۔ صغرسنی سے ہی اس کے اندرشاعری کا ملکہ تھا، گیارہ بارہ سال کی عمرمیں اس نے پہلی شاعری کی تھی ۔ 

ابوزکریا تبریزی اس کی لغوی براعت وتفوق سے متعلق فرماتے ہیں : " ما أعرف أن العرب نطقت بكلمة ولم يعرفها المعري"۔" میں کسی ایسے  کلمہ سے متعلق نہیں جانتاجسے عرب نے بولاہواور معری اس سے واقف نہ ہو"۔(الفكراللغوي عندأبي العلاء في ضوء علم اللغۃ الحديث للدکتورجمال محمد طلبۃ /ص 5 )۔

اس نےاپنی زندگی ایک فلسفی اور دنیاسے بےرغبت انسان کی طرح گزاری ۔ عصرحاضرکے معیار کے مطابق(خاص طورسے خودساختہ مغربی افکارکے تناظر میں) اسے حقوق الحیوانات کےدفاع کابہت بڑا علم بردار مانا جاتا ہے ۔ یہ متشددسبزی خورتھا، گوشت خوری سےخودکودور رکھتا تھا، اس کاماننا تھا کہ کائنات میں کسی بھی جاندارکو تکلیف پہونچانا امر مکروہ اور غیرمناسب ہے۔ کہاجاتاہے کہ اس سلسلے میں وہ ہندستانی فکروفلسفہ سے متأثرتھا۔

ابو العلاء معری کا عقیدہ ونظریہ علماء اسلام کے یہاں مشکوک رہاہے، خاص طور سےدین کےمعاملے میں اس کا نظریہ معروف ہےجس کے مطابق اس کاماننا تھا کہ دین پہلے لوگوں کی ایجاد کردہ خرافات ہے :

أَفِيقُواأَفِيقُوايَاغُوَاةُ فَإِنَّمَا                  دِيَانَاتُكُمْ مَكْرٌ مِنَ الْقُدَمَا

(اےبھٹکےہوئے لوگو!سدھرجاؤتمہارےادیان محض پہلے لوگوں کافریب ہیں )۔

علامہ ابن کثیر،امام ابن قيم الجوزيہ اورامام ابوالفرج بن الجوزی ،وغیرہم نے اس کی طرف زندیقیت کی نسبت کی ہے۔(البدايۃوالنهايۃ:3/331 ، سير أعلام النبلاء  : 17/10، طبقات الشافعيۃ للسبکی :5/288)۔ 

 کچھ لوگوں نےاس کی نسبت قرامطہ کی طرف کی ہے۔

 اس کے بعض اشعار میں ملتاہے کہ اس نے قدماء کی رائے سے ہٹ کربہت ساری باتیں کی ہیں،خواہ قدماءکی رائے سے ٹکراؤ ہی کیوں نہ پیدا ہو،جیسے:

  وإني وإن كنتُ الأخيرَ زمانُه             لآتٍ بما لم تستطعه الأوائلُ

(اگرچہ میں بعدکے زمانےکا ہوں لیکن ایسی چیزیں بیان کرسکتاہوں جس کی قدرت پہلے کےلوگوں کےاندرنہیں تھی ) ۔

اس کا مانناتھا کہ حقدوکینہ، عداوت ودشمنی اورجنگ وجدال کے رواج میں ادیان وشرائع  کابہت بڑاہاتھ رہا ہے :

إِنَّ الشَرائِعَ أَلقَت بَينَنا إِحناً        وَأَودَعَتنا أَفانينَ العَداواتِ

(شریعتوں نےہمارےدرمیان بغض ونفرت کورواج دیاہے، اور دشمنی کےفنون اور طریقوں سے واقف کرایاہے)۔

دین اس کےیہاں رسولوں کی اختراع کےسواکچھ نہیں ہے،جس کامقصدلوگوں کو پریشان کرناہوتاتھا:

فلا تحسْب مَقَال الرُّسْلِ حقًّا       ولكنْ قولُ زُورٍ سطَّرَوُهُ

(رسولوں کی بات کوسچ مت سمجھ، وہ توان کےلکھے ہوئےجھوٹ ہیں )۔

وكان النّاس في عَيْشٍ رَغِيدٍ   فجاءوا بالمُحَالِ فكدَّرُوه

(لوگ خوش وخرم عیش وعشرت کی زندگی گزار رہے تھےکہ ان لوگوں نےاپنی مہارت وچالبازی سےاسے مکدرکردیا)۔

اس کے علاوہ بھی اس کے عقائد ونظریات سے متعلق لوگوں نےبہت ساری باتیں لکھی ہیں ۔

   وہی ایک دوسراگروہ ہے جس نے اسےصحیح العقیدہ قراردیاہے ان میں ڈاکٹرطہ حسین،اور ڈاکٹرشوقی ضیف وغیرہ خاص ہیں۔ڈاکٹرطہ حسین نےاس کی بڑی وکالت کی ہےاور اپنی مختلف کتابوں اور مضامین میں اس پرخوب لکھاہے، جن میں سب سے مشہورکتاب "معَ أبي العلاءِ في سجنِه"ہے۔

اسی طرح حافظ ابوطاہر السلفی، امام ذہبی، مصری ادیب محمودمُحمدشاكر  ہندوستانی ادیب عبد العزيز ميمني اورمصری  قلم کار بنت الشاطئ، وغيرہم نےاس کےصحیح العقیدہ ہونے کو بیان کیاہے۔

کچھ دیگرادباءجیسے ابن الوردی وغیرہ نے لکھاہے کہ معرّی ابتداء میں زندیق تھالیکن آخرعمرمیں صحیح اسلام کی طرف رجوع کرلیاتھا۔(أبوالعلاءالمعرِّي:دفاع المُؤرِّخ ابن النديم عنہ/ ص 9-10 و 12-14) ۔

   امام ذہبی نےلکھاہےکہ یہ خودکواپنےآپ کوگھرمیں مقیدکرلینےیاپھرعدم بینائی کی وجہ سے"رهين المَحْبِسَيْنِ " کہاکرتاتھا۔ وجہ یہ تھی کہ اس نے آخر وقت میں اپنی وفات سنہ 449 ھ تک معرۃ النعمان میں اپنے گھرکےاندر خودکو قیدکرلیاتھا۔مرتے وقت اس نےوصیت کی تھی کہ اس کی قبرپر یہ عبارت کندہ کی جائے(هذاجَناهُ أبي عليَّ،وماجَنيْتُ على أَحَد)  جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کاباپ اس کی ماں سے شادی کرکےاس کودنیامیں لانےکاسبب بنا،جوکہ ایک جرم،اولادکوناکردہ گناہ کی سزادينااوراس کےاوپرظلم ہے، کیونکہ اسےدنیامیں لاکرغم، مصیبت،حوادث، آفات اورتکالیف کےحوالے کردیا۔یہی وجہ ہےکہ اس نے شادی نہیں کی تھی،کیونکہ اس کاعقیدہ تھاکہ شادی اولادپرظلم ہےاوراس نےشادی نہ کرکےخودکوکسی پرظلم کرنے سےبچالیاہے۔

اس کی قبرپراس زمانے کے بےشمار ادیبوں اورشعراءنے حاضری دی اوراس کے لئےاسی(80) مرثیہ کہےگئے۔

   اس کی بےشمارتصنیفات ہیں جنہیں معجم الأدباء کے اندرذکرکیاگیاہے،نیزابن خلکان نے وفیات کےاندربھی بہت ساری کتابوں کاذکرکیاہے، جیسے:الأيك والغصون، تاج الحرة،عبث الوليد، رسالة الملائكة، شرح ديوان المتنبي،رسالةالغفران،خطبة الفصيح،الرسائل الإغريقية،الرسالة المنبجية،الفصول والغايات اللامع العزيزي ،اللُّزوميَّات، سِقْطُ الزَّنْد،وغیرہ۔ ان میں سے بعض مطبوع اوربعض  مخطوط ہیں ۔

شعرکامطلب اورمفہوم :

اس شعرکے مختلف معانی بیان کئےجاتےہیں:

 - ساری مخلوق اس بات سےششدراورحیران ہےکہ ایک عقل وفہم والامتحرک حیوان (یعنی انسان)جماد(جس کےاندرنہ عقل ہے،نہ سمجھ بوجھ ہےاور نہ ہی حرکت ہے) سے کیسے پیدا کیا گیاہے۔

 - بعض اقوال کے مطابق اس سےآدم علیہ السلام کو مرادلیاگیاہے،جنہیں مٹی جیسی شیئ  (جماد )سے پیداکیاگیاتھا۔

- ایک قول کےمطابق اس سےمقصودانسان ہے،ابن السيدالبطليوسی ( 444-521 ھ ) شرح سقط الزند میں رقمطرازہے: "معناه:مقصودبه الإنسان،والحيرة الواقعة فيه من قبيل اتصال النفس بالجسم، إذ النفس جوهرية والجسم عرض؛ فلذلك يعدم الجسم الحياة، إذا فارقته النفس، والحيرة الواقعة فى نياطهابه"۔"اس سے مقصودانسان ہے، جس کےاندرروح اورجسم کےایک دوسرےسےاتصال پرحیرت واقع ہوتی ہے، کیونکہ روح جوہر اورجسم عرض ہے (فلسفہ کی اصطلاح میں وہ شےجوقائم بالذات ہوجوہرہے۔اورجو کسی دوسرے کے ساتھ قائم ہوعرض کہلاتاہے۔) یہی وجہ ہےکہ جب روح جسم سےجدا ہوتی ہےتوجسم بےکارہوجاتاہے،حیرانگی درحقیقت روح کےجسم سےارتباط سےہوتی ہے"۔(عروس الأفراح في شرح تلخیص المفتاح:1/232 ط : المکتبۃ العصريۃ - بیروت – لبنان 1423ھ)۔

 -  اس سے یہ مراد بھی لیاگیاہے کہ آدمی بلکہ عام طورپر سارے حیوانات پانی (یعنی مادہ منویہ ) سے معرض وجودمیں آتےہیں ۔

 - کچھ لوگوں نے اس سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی مراد لی ہے جوکہ قوم ثمودکے مطالبہ پر اللہ تعالی کےحکم سے بطورمعجزہ ایک پہاڑکےچٹان سےنکلی تھی۔

 - وہی کچھ لوگوں نے موسی علیہ السلام کی عصا کو مرادلیاہے،جس نےموسی علیہ السلام کونبوت ملنےکے وقت اورفرعون کے جادوگروں سے مقابلہ کے وقت ازدہا کی شکل اختیارکرلیاتھا۔

 - اس کاایک مطلب یہ بھی بیان کیاگیاہےکہ شاعر نےاس سےفقنس(فَقَنَّسُ) یاققنوس Phoenix (جسے یونانی میں Phenix کہتےہیں) نامی چڑیا مرادلیا ہے، یہ قصے کہانیوں کی ایک خیالی اورنہایت ہی خوبصورت چڑیاہے، جس کاذکر سندباد کے معروف انڈونچروالی کہانی اور"الف لیلہ"اورقدیم عربی کہانیوں میں ملتاہے۔ اس کی آواز نہایت ہی جاذب اور شیریں ہوتی تھی۔ اس  کارنگ خوب سفیداورچونچ لمبی ہوتی تھی جس کےاندر چالیس سوراخ ہوتےتھے ۔اوربعض مصادرنےتین سو ساٹھ سوراخوں کاذکرکیاہے۔ ان سوراخوں سے نہایت ہی  خوش گلوآوازیں نکلتی تھیں۔

بعض کہانیوں کےمطابق اللہ تعالیٰ نے اسے ہندوستان میں پیدا کیاتھا، نیز بعض کہانی نگاروں نےذکرکیاہےکہ یہ چڑیا مختلف ناموں سے، عرب،چین، یونان، مصراور ایران میں بھی پائی جاتی تھی،جیسے:عربی میں عنقاءکےنام سےچائنامیں فینگھوانگ (Fenghuang) ، مصرمیں طائرالفينيق (بعض لوگوں نےکہاہےکہ یہ مصریوں کےیہاں دوسرا پرندہ ہے)، اہل فارس کے نزدیک ھوما یا ھما اور سیمرغ یا قفنس یا ققنوس اورترکیوں کےنزدیک قنرل(Qonrul) کےنام سے۔ اس پرندےکو بادشاہ گر سیماب صفت پرندہ بھی کہاجاتاہے۔ مشہور ہےکہ ہما کاسایہ جس کےسر پر پڑجائے وہ بادشاہ بن جاتا ہے۔

اور ہندی میں اسے امرپکچھی یا مایا پنچھی  (یعنی ہمیشہ زندہ رہنےوالایاجادوئی پرندہ)کہاجاتاہے۔یہ نہایت ہی رنگین سنہری یابیگنی اوربعض روایتوں کےمطابق  ہری یانیلی رنگت کی ہوتی تھی۔بعض قدیم افسانوں میں یہ بھی بیان کیاگیاہے کہ اس کےاندر انسانی شکل اختیار کرنےکی صلاحیت تھی ۔اس کے متعلق کہاجاتاہےکہ وہ اپنی قسم کی واحدچڑیا تھی جوپانچ یاچھ سو سال(بعض کہانیوں میں اس کی عمر چھ سو سال سے ہزار سال تک کاذکرہے) تک زندہ رہتی ۔ پھرجب اللہ تعالی اس کی موت کافیصلہ کرتاتو وہ پہاڑوں پرلکڑیاں جمع کرتی اور وہاں بیٹھ کرچالیس دنوں تک خودپر نوحہ کرتی، ساراعالم اکٹھا ہوکراس کی آوازسے لطف اندوزہوتا۔ پھراس لکڑی پر بیٹھ کراپنےپروں کو پھڑپھڑاتی جس سےاس لکڑی میں آگ لگ جاتی اور وہ لکڑی کےساتھ جل کر راکھ بن جاتی، پھر بارش ہوتی اوراس راکھ (جماد) سےانڈےیاکیڑےپیداہوتے جس سےپھراس چڑیا کاجنم ہوتایااس سےپھر دوسرا ققنس پیداہوتا ۔(اس پرندے کاذکرابن سینانےبھی اپنی کتاب "الشفا" کےاندرکیاہے)۔ (دیکھئے:تاج العروس :16/ 342 - مادۃ/ف ق ن س - )۔اس چڑیا کو رومن امپائر کے سلوگن اور قدیم یونانی فلسفہ کےاعتبارسے تناسخ ارواح نیز بعث بعدالموت کی علامت کےطورپربھی جانا جاتاہے۔ (دیکھئے : عربی ویکیپیڈیا)۔اس کے علاوہ بھی لوگوں نےاس شعر کےدوسرے معانی بیان کئے ہیں جوناقابل اعتناء اور شعرکی من مانی تأویلات ہیں ۔

نظریہ ارتقاءاورابوالعلاء کایہ شعر:

   بعض علماء نےاس بات کی صراحت کی ہے کہ قدیم یونانی فلاسفہ کا نظریہ ارتقاء(جس کابہت بڑاداعی انگریز ماہر حیاتیات  Charles Darwin چارلس ڈارون 1859ء تھا۔اوراس کےاس ارتقائےحیات والے مفروضےکو ڈارونزم "Darwinism" سے موسوم کیاجاتاہے۔)  کہ حیاتی اجسام کےاندربقا کے لیے ماحول کے مطابق  تبدیلی ہوتی رہتی ہے، بلکہ خود کویہ اجسام ماحول کے مطابق ڈھال لیتے ہیں،جسےانتخاب طبعی (Natural Selection ) کا عمل کہاجاتاہے۔ حالانکہ ڈارون کےنظریےکےاندرانسان کی بات نہیں کی گئی  تھی مگر بہرحال اُس کا نظریہ بنی نوع انسان کے ساتھ ہرجاندار شے پہ لاگو ہوتا ہے۔ڈارون کے نزدیک تمام جانداراپنےاطراف کے ماحول میں زندہ رہنےکےلیےاپنی ہیئت کو تبدیل کرتے رہتے ہیں۔

 اسی نظریہ کے حاملین اس کےاندرامتداد پیدا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسان بن مانس  یا بندرکی نسل سےتھاجو اپنےماحول کی وجہ سےتبدیل ہوکرموجودہ شکل وشباہت کاہوگیا،جوکہ لاکھوں برس کےارتقاءاور انتخاب طبعی  Selection  Natural  کاماحصل ہے۔ چمپینزی جیسےچو پائےسے دو پیروں پر انسان اس لیے کھڑاہوگیاکہ اُس زمانے میں اوراُس وقت کے ماحول کے مطابق اُس کی بقاء کے لیےیہ ضروری تھا۔ ایک عام آدمی کی سماعت کو یہ نظریہ بڑا دلچسپ اور بھلا لگتاہے، یہی وجہ ہےکہ اس پر سینکڑوں کہانیاں اور کتابیں لکھی جا چکی ہیں،اور اسی سے متعدد فلمیں ، فیچرس اور افسانےجنم لےچکے ہیں۔جبکہ ایک صحیح العقیدہ مسلمان کاایمان اس کےقطعی برعکس ہے،جو ایک لاانکار حقیقت ہے ۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو بالکل اسی حلیےمیں بنایاہےجس میں وہ آج موجودہے،جس کی صراحت خودباری تعالی نےکیاہے: (لَقَدْخَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ)۔(یقینا ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیداکیاہے)۔(سورۃ التین/4) ۔ اسی طرح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی متفق علیہ روایت اوراس معنی کی دیگر روایتوں میں وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالی نےآدم علیہ السلام کواپنی صورت پر پیداکیاہے:"خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ ۔۔۔"(صحیح البخاری /6227 ، صحیح مسلم/2841)۔ جیساکہ سلف کے یہاں اس روایت کامعنی معروف ہے ۔

 اس موضوع پرگفتگوایک لمبی بحث کی متقاضی ہے۔

 کہاجاتاہےکہ اس سےقبل یہ نظریہ قدیم یونان میں موجودتھا ۔ فتوحات اسلامیہ کےبعدیونانی کتب کاعربی میں ترجمہ کرکےاس تصورکو عرب میں عام کیاگیا، جسے بعض علماءعرب نے اختیارکیا، ان میں جاحظ، زکریا القزوینی، ابن خلدون، ابن مسکویہ اور اخوان الصفا خاص طورسےلیاجاتاہے۔ (تفصیل کےلئےدیکھئے:اردو انسائیکلوپیڈیا "ارتقائیت" کے زیرعنوان)۔

اورابوالعلاءمعری نےاپنے شعر(والذي حارت البرية فيه……حيوان مستحدث من جماد) کے ذریعہ اسی نظریہ کی صراحت کی ہے۔(دیکھئے: خاطرات جمال الدين الأفغانی :6/155 ط : مکتبۃ الشروق الدولیہ 1423ھ)۔ حالانکہ بعض کے نزدیک ابوالعلاءکےاس شعر میں یہ نظریہ لائق اعتناء اس لئےنہیں ہےکہ اولا اس شعر کی حیثیت ایک پہیلی کی ہے،اوراس کےاندرکسی خاص نظریہ کی صراحت نہیں کی گئی ہے۔

ابوالعلاءکے اس شعرکو ڈارون کے نظریہ ارتقاءپر منطبق کرنااس لئےبھی صحیح نہیں ہےکہ اس کا مصداق - جیساکہ پہلے ذکرکیاگیا -  انسان کا مٹی سے یاذی حیات کاپانی (منی) سے پیدا ہونابھی ٹھہرتاہے۔یہاں یہ ذکر بھی دلچسپی سےخالی نہیں کہ ارتقائی نظریات کےحاملین کےلئےابوالعلاءکےمذکورہ شعرکے علاوہ اس سےمشابہ کچھ اوراشعاربھی ہیں، جن سےان کو دلیل فراہم ہوسکتی ہے ، جیسے :

-  اس کا نظریہ ہےکہ حیوان کےاندربقاء کی جدوجہداور چاہت جبلی ہے، اس لئےجب اسےکسی ڈراونےاورخوفناک چیزسے واسطہ پڑتاہے،تو فطرتا اس سےخوف کھانے لگتاہے :

أَرى حَيوانَ الأَرضِ يَرهَبُ حَتفَهُ        وَيُفزِعُهُ رَعدٌ وَ يُطمِعُهُ  بَرقُ

(میں روئےزمین کےجانورکو دیکھتاہوں کہ وہ موت سے خوفزدہ رہتاہے ،بدلی کی کڑک اسےڈراتی ہےاوربجلی کی چمک اس کے اندرامیداورلالچ پیداکرتی ہے)۔

- وہ مانتاہےکہ جانوروں کو مضبوط اعضاءاور قوی ساخت و بناوٹ سےاس لئے مسلح کیاگیاہےکہ ان کے اندرجدوجہد کا ملکہ پیداہو اور کامیابی وکامرانی کی چاہت کےساتھ زندگی کی دوڑمیں آگے بڑھ سکیں:

وَما جُعِلَت لِأُسودِ العَرينِ          أَظافيرُ إِلّا اِبتِغاءَ الظَفَر

(غاروں میں رہنےوالےشیروں کےناخن صرف اس لئے بنائےگئے ہیں کہ ان کےاندر کامیابی اورفتح وکامرانی کی چاہت ہو)۔

- اوربقاء کی جنگ اورزندگی کی دوڑمیں ایک دوسرے سے تنازع اور تنافس سےمتعلق کہتاہے:

وَلا يُرى حَيوانٌ لا يَكونُ لَهُ         فَوقَ البَسيطَةِ أَعداءٌ وَحُسّادُ

(کوئی ایسا حیوان نظرنہیں آتا کہ روئے زمین پراس کےدشمن اوراس سے حسدکرنے والےنہ ہوں ) ۔

ان کے علاوہ بھی مزید اشعارہیں جنہیں طوالت کے خوف سےذکرنہیں کیاجارہاہے۔

      بہرحال نظریہ ارتقاءایک غیرشرعی، ملحدانہ اور غیرمنطقی نظریہ ہے،ہرچیز کی تخلیق باری تعالی کی طرف ویسے ہی کی گئی ہے جیسی ان کی موجودہ ہیئت وماہیت ہے،البتہ تہذیبی اور سائنسی ارتقاءنےبدلتےوقت کےساتھ تعیش وتمدن کے طرزکوخاصامتاثرکیاہے۔ خاص طورسےانسان سے متعلق اس نظریہ کےبطلان پر دلائل شرعیہ کےاندر وافرمقدارمیں مواد موجودہے، جس پرعلماءامت نے بہت کچھ لکھاہے ۔ اللہ رب العزت ہی صحیح راستےکی ہدایت دینے والاہے ۔

 

**************