اتوار، 4 جنوری، 2026

استہزاء بالدین اوراس کی نئی نئی شکلیں

استہزاء بالدین اور اس کی نئی نئی شکلیں

عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی

استہزاء اور سخریہ ہردورمیں ،تحقیراورتنقیص کا  اسلوب اور طریقۂ کار رہاہے ،اس کے ذریعہ کسی شرمندہ کرنا مقصود ہوخواہ  اس کی تحقیر۔ دراصل کسی کونیچا اور کمتردکھانےکے مقصد ہی سےاستہزاء کا اندازاختیارکیاجاتاہے۔عام بو ل چال میں استہزاء کے بہت سارے مترادفات رائج ہیں جیسے: دل لگی ، مزاح،طنز وتعریض ،مذاق اڑانا،ہنسی  اڑانا ، ٹھٹھا کرنا ، تمسخر، تضحیک کرنا ، مخول اڑانا ، پھبتی کسنا،بے توقیری، توہین، استخفاف (ہلکا اور بے وقعت سمجھنا) اور تنقید و تحقیر وغیرہ۔  استہزاء اور مذاق کا یہ عمل مختلف ثقافتوں اور معاشروں میں پایا جاتا ہے، لیکن اسلامی نقطہ نظر سے یہ انتہائی سنگین گناہ ہے اور بعض صورتوں میں کفر تک پہنچ جاتا ہے۔چنانچہ  مذاق اگر دینی شعارسے کے بجائےکسی شخص کی ذاتی شکل وصورت یا دنیاوی امور سےمتعلق  ہو تو یہ کفرتو نہیں مگر کبیرہ گناہ   ضرورہے ۔

 استہزاء کا حکم:

یوں توشریعت میں کسی بھی طرح کا استہزاء حرام او ر جرم وگناہ ہے لیکن وہی استہزاء دین اور شریعت سے متعلق ہوتو بسا اوقات کفر اور ارتدادکے زمرے میں آجاتاہے ،جو آدمی کو دین سے نکال دیتاہے،جیسے : اللہ تعالی کا استہزاء ، رسول کا استہزا ء یا دین کے کسی بھی حکم یاشعار کا استہزاء ۔استہزاء بالدین کا یہ حکم علماء کا اجماعی مسئلہ ہے ۔ اس کی حرمت کی قرآن وسنت میں بہت ساری دلیلیں ہیں ، چنانچہ جب منافقین اللہ تعالی ، اس کی آیات  اوراس کے رسول کا مذاق اڑاتےاور کہتےکہ ہم تو مذاق کررہےتھے تو ان کے بارے میں اللہ تعالی فرماتاہے:(قُلْ اَبِاللّٰهِ وَاٰیٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ * لاَتَعْتَذِرُواقَدْكَفَرْتُمْ بَعْدَإِيمَانِكُمْ)۔( کہہ دیجئے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے  ہنسی مذاق کے لئے ره گئے ہیں؟تم بہانے نہ بناؤ یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہوگئے)۔(التوبۃ/ 65-66)۔یعنی تم جو ایمان ظاہر کرتے رہے ہو۔ اللہ اور رسول کے استہزا کے بعد،  اس کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ گئی۔ اول تو وہ بھی نفاق پر ہی مبنی تھا، تاہم اس کی بدولت تمہارا شمار ظاہری طور پر مسلمانوں میں ہوتا تھا اب اس کی بھی گنجائش ختم ہوگئی ہے۔ چنانچہ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دین، آیات یا رسول ﷺ کا مذاق اڑانا ایمان لانے کے بعد کفر ہے، چاہے ہنسی میں ہی کیوں نہ ہو اس میں کوئی  عذر قبول نہیں ہوگا۔

عبداللہ بن عمر ، محمد بن کعب قرظی ،زیدبن اسلم اور قتادہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے - ان تمام لوگوں کی روایتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں - کہ غزوۂ تبوک کے موقع سے ایک منافق شخص نے کہاکہ ہم نے ان قراء جیسا پیٹ کا پجاری ،جھوٹا اور میدان جنگ میں بزدل نہیں دیکھا۔ اس کا اشارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی جانب تھا ، جب عوف بن مالک  رضی اللہ عنہ نے اس کی یہ بات سنی تو فورا اس سے کہاکہ توجھوٹا اورپکا منافق ہے ، میں  تمہاری بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور بتاؤں گا ، چنانچہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے لیکن وہاں پہنچ کریہ پتہ چلا کہ اللہ کی جانب سے اس سے قبل ہی وحی نازل ہوچکی تھی ۔وہ منافق معذرت پیش کرنے کی غرض سے بھاگا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا ۔آپ سفرکی غرض سے اپنی اونٹنی پرسوارہوچکےتھے، اس نے اپنی جانب سےصفائی دیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاکہ ہم لوگ آپس میں دل بہلا رہے تھے اور قافلہ والوں کےساتھ ایسی گفتگو کرکے راستہ طے کررہےتھے۔ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما اس کی حالت زار کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ : وہ شخص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے کجاوے کی رسی تھامے ہوئے تھا اور پتھر اس کےپاؤں سے ٹکرا رہے تھے ، اور وہ بار بار کہہ رہاتھا: ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جواب میں (یہ آیت )دہرارہے تھے:( اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے ره گئے ہیں؟تم بہانے نہ بناؤ یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہوگئے/سورہ توبہ/65-66)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ اس کی طرف متوجہ ہوتےتھے اورنہ ہی اس سے زیادہ کچھ فرماتے تھے۔( تفسير الطبري:11/ 542)۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتاہے:(وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍ *یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰی عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّمُسْتَكْبِرًاكَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ وَإِذَاعَلِمَ مِنْ آيَاتِنَا شَيْئًا اتَّخَذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ۔ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ جَهَنَّمُ ۚ وَلَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّاكَسَبُوْاشَیْـًٔاوَّلَا مَااتَّخَذُوْامِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(ویل اور افسوس ہے ہر ایک جھوٹے گنہگار پر جو اللہ کی آیتیں اپنے سامنے پڑھی جاتی ہوئی سنے پھر بھی غرور کرتا ہوا اس طرح اڑا رہے کہ گویا سنی ہی نہیں، تو ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی خبر (پہنچا) دیجئے. وه جب ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پالیتا ہے تو اس کی ہنسی اڑاتا ہےیہی لوگ ہیں جن کے لیے رسوائی کی مار ہےان کے پیچھے جہنم ہے ، جو کچھ  بھی انہوں نے حاصل کیا تھا وه انہیں کچھ بھی نفع نہ دے گا اور نہ وه (کچھ کام آئیں گے) جن کو انہوں نے اللہ کے سوا کارسازبنا رکھا تھا، ان کے لیے تو بہت بڑا عذاب ہے)۔ (الجاثیۃ/  7-10)۔

 اسی طرح اگر کوئی دین کو مذاق اور استہزاء کا مقام بنا لیتاہے تو اسے خیر کی توفیق نہیں ملتی  بلکہ اللہ تعالی  بھی اس کے ساتھ اسی جیسا معاملہ فرماتاہے اور اس کی گمراہی بڑھتی جاتی ہے منافقین کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتاہے:(اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَیَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ)۔ (اللہ تعالیٰ بھی ان سے مذاق کرتا ہے اور انہیں ان کی سرکشی اور بہکاوے میں اور بڑھا دیتا ہے)۔(البقرہ /15)

اسی طرح سورہ حجرات کے اندر مسلمانوں کا آپس میں استہزاء ممنوع قراردیاگیاہے کیونکہ ممکن ہے مذاق اڑانے والا اللہ کے نزدیک حقیر ونااہل ہو ،چنانچہ جب  عام لوگوں کے مذاق کی ممانعت ہے، تو دین کے معاملے میں تو اور زیادہ سنگین ہوگا۔(الحجرات / 11)

استہزاء منافقوں کاشیوہ ہے:

استہزاء اور سخریہ منافقین کا شیوہ رہاہے ،جیسا کہ  مذکورہ آیات میں گزرا کہ منافقین کس طرح  اللہ تعالی ،  ا س کی آیتوں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا استہزاء کیا کرتے تھے جس پر اللہ تعالی نے انہیں سخت  واررننگ دی ۔(التوبہ/64-65)

ایک اور  جگہ ان کے استہزاءکو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتاہے :(وَاِذَالَقُواالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاقَالُوْۤااٰمَنَّا ۖۚوَاِذَاخَلَوْااِلٰی شَیٰطِیْنِهِمْ ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ ۟)۔(اور جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان والے ہیں اور جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں ہم تو ان سے صرف مذاق کرتے ہیں)۔(البقرہ/14)۔

دین کا استہزاء کرنے والا مؤمن کا دوست نہیں ہوسکتا:

اللہ تعالی نے اس بات سے سختی سے منع کیاہے کہ کسی ایسے فردکو دوست بنایاجائےجو دین کو مذاق بناتاہے ،اللہ تعالی فرماتاہے:( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَتَّخِذُواالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًاوَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُواالْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ ۚ وَاِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّلَعِبًا ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّایَعْقِلُوْنَ)۔( مسلمانو! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنائے ہوئے ہیں (خواه) وه ان میں سے ہوں جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے یا کفار ہوں ۔اگر تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔اورجب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ اسے ہنسی کھیل  میں اڑا دیتے ہیں۔ یہ اس واسطے کہ بےعقل ہیں)۔(المائدۃ/57-58)۔

استہزاء کی صورتیں:

وقت ،حالات اور اسلوب کے  اعتبارسے استہزاء کی کئی  صورتیں ہیں ،جیسے: جان بوجھ کر اور بسا اوقات جارحانہ اندازمیں کسی کی تحقیرکرتےہوئےاس کا عیب بیان کرنا۔یا کسی قانون یا شعارخواہ معاشرتی اورحکومتی امور سے متعلق ہویا استخفاف دین سے متعلق۔ اسی طرح  جب کسی کے پاس کسی بات کا جواب نہ ہو تو وہ استہزاء کا سہارا لیتا ہے، یعنی وہ دلیل کے بجائے مذاق اڑانے لگتا ہے۔

استہزاء کے اسالیب میں سے ایک تنابز بالالقاب  بھی ہے ، یعنی کسی کو اس کے اصلی نام یا صفت کے بجائے تحقیر آمیز القاب سے پکارے جس سے اس  کی توہین ہوتی ہو یا اس کی کمتری کو واضح کرتاہو۔

استہزاء زبان سے بھی ہوسکتاہے اور کسی حرکت یا اشارہ  سے بھی ہوسکتاہے،اس معاملے میں کنکھیوں ( آنکھ کے اشاروں) کا زیادہ تر استعمال کیا جاتاہے۔ اور عام طور پر دیکھاجاتاہے کہ آدمی استہزاء کے لئے ہنسی ،ٹھٹھا  اور تضحیک کا سہارالیتاہےیا پھرکسی کی عیب جوئی کرکے یا غیبت کرکےیا اسے نامناسب عاردلا کر ۔

استہزاء کے اسباب:

استہزاء ایک ایسی مذموم خصلت ہے جو انسان پر  مختلف اسباب کی بناپر حاوی ہوتی ہے ،جیسے:

1 -  دینی تعلیم کی کمی ۔

2 – شریعت کی تعلیمات سے بے اعتنائی  اور کاہلی ۔

3 – تکبر وغرور،شیخی کا پیدا ہونا  ، برتری کا احساس  جس کی وجہ  سے کسی کو کم تر ، بے ڈھنگا،  جاہل ، ان  پڑھ ، بد صورت ، غلط، احمق یا کسی اور پہلو سے کمتر سمجھا جاتاہے۔

4 –  کفارکی مشابہت :خاص طورسے یہودیوں کا یہ خاص شیوہ ہے کہ وہ اسلام اور اہلِ اسلام کی تضحیک کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

5 –  دل میں دین  یا اس کے کسی حکم یا شعارسے متعلق شکوک وشبہات کا پیدا ہونا۔

6 -  دل میں کفریا نفاق کا پیدا ہونا۔

7 -  کسی  سے نارراضگی پر اپنے دل کی بھڑاس نکالنا۔

8 – جھوٹ  اورمکاری کی صفت کا پیدا ہونا جیساکہ سورہ جاثیہ  کی مذکورہ آیات کے اندر اللہ تعالی نے  جھوٹےاور مکار لوگوں کے شیوہ اور ان کے انجام  کا تذکرہ کرتےہوئے ذکر کیاہے۔(الجاثیۃ/  7-10)۔

9 – عیب جوئی کی صفت کا پیدا ہونا۔ وغیرہ۔

خوش طبعی اور استہزاء میں فرق :

استہزاء کے بارےمیں جیساکہ بیان کیاگیا کہ اس کا مقصدہی ہوتا ہے کہ کسی کی تحقیر کرکے اس کو اذیت دی جائے، جبکہ خوش طبعی ایک محمود اور پسندیدہ عمل ہے ،بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں احادیث کی کتابوں بے شمار واقعات صحیح سند کے ساتھ ملیں گےکہ آپ بسا أوقات اپنے أصحاب سے مزاح اور خوش طبعی کا مظاہرہ فرماتےتھے۔

استہزاء کی نئی نئی  اور عام روایتی شکلیں :

آج کے دور میں جہاں دنیا وسائل اور طرزندگی میں اوج پرہےاور جہاں زندگی گزارنے کے اندازبدلے ہیں اور اس میں ہر روز بڑی تیزی کے ساتھ تبدیلیاں ہورہی ہیں، وہی انسان نے اپنے اندازمیں بھی تبدیلی کی ہے اور یہ تبدیلیاں بسا اوقات لاشعوری طور پر انسان کی زندگی میں دخل اندازہوجاتی ہیں اور اگر انسان اپنےطرززندگی میں بیدار مغزی کا ثبوت نہ دے تو پھراخلاقی ، معاشرتی او ردینی اعتبار سے پستی میں چلا جاتاہے۔استہزاء ایک ایسی اخلاقی اور معاشرتی بیماری ہے جو انسان  کے اخلاق پر ہررائج وسیلہ کے ذریعہ سے اثراندازہوجاتاہے اورگزرتے وقت کے ساتھ نت نئے طریقوں سے سماج میں را‏ئج ہوکر انسان کے اخلاق کو متاثر کرتاہےاور وہ  طریقے نہ صرف دین کی توہین کا باعث بنتے ہیں بلکہ ایمان کو خطرے میں ڈالنے ،آدمی کو دین سے دور کردینے ، دین میں شکوک وشبہات پیدا کرنے، انسان کے اندر تکبر وغرور پیدا کرنے اورمعاشرے میں فتنہ اور فساد پھیلانےکا سب بنتےہیں ۔

یوں تو لوگ دین کا مذاق اڑانے کے کئی طریقے استعمال کرتے ہیں، جو عام طور پر توہین، طنز، یا ہلکا پن دکھانے کی شکل میں ہوتے ہیں۔ذیل میں ہم استہزاء کی نئی نئی شکلوں اور طریقوں کا خاکہ پیش کردینا مناسب سمجھتے ہیں تاکہ اس مذموم صفت کا ادراک ہوسکے اور ایک اچھے آدمی کے لئےان سے بچنا آسان ہوسکے۔

(1 ) –  مؤمنین کا استہزاء : اگر کسی مؤمن کا استہزاء اس وجہ سے کیاجائےکہ وہ صاحب ایمان  وتقوی  اور متشرع ہے تویہ د ین کا مذاق  واستہزاء ہے۔

(2 )–  علماء دین کا استہزاء : کسی عالم یا کسی طالب دین کا استہزاء اور اسی طرح کسی کے دینی لباس یا عمل کرنے والوں کی دینداری کی وجہ سے تحقیرآج معاشرے میں عام بات ہوگئی ہے ۔ اگریہ استہزاء  اس کے دین اورعمل بالشریعۃ کی وجہ سے ہے تو یہ بھی دین کا استہزاء ہے جو کفر کےدرجہ میں آتاہے اوراگر کسی دنیوی وجہ سےہے جیسے اس کے لباس ،بیماری  اور رہن وسہن اور کھانے پینے کا معیار وغیرہ تو یہ کفر تو نہیں ہے لیکن  معصیت وگناہ کبیرہ ہے۔

(3 )-  دین کے شعائر کا استہزاء: اگر کوئی دین کے مسمیات یا اس کے کسی شعارکا استہزاء اور مذاق اڑاتاہے جیسے : جنت ، جہنم ،فرشتے  اور انبیاء کرام وغیرہ کا استہزاء تو یہ کفراور ارتداد دین کے قبیل سےہے۔

(4) - طنز و مزاح کے ذریعے مقدس چیزوں کی توہین: مثلاً اللہ، رسول اللہ ﷺ، قرآن، احادیث، جنت، جہنم، یا دینی احکام (جیسے نماز، روزہ،حج،  حجاب، داڑھی، اذان ، مسجداورقرآن کریم یا اس کی تلاوت وغیرہ) پر لطیفے بنانا  ان کی نقل اتارکر لوگوں کو  ہنسانا یا انہیں ہلکا دکھانا۔

(5) - میڈیا پراستہزاء:  جب سے ميڈیا کا وجود ہواہے اس کےذریعہ دین کے استہزاء کا چلن سا ہوگیاہے۔کارٹون ،گرافکس ، آرٹ، کسی طرح کا توہین آمیز مواد،جیسے : نبیوں یا مقدس  یا اسلامی شخصیات کے کارٹون بنانا  خاص طورسے نبی  مکرم ﷺ  کا توہین آمیز کارٹون بنانا۔یا فلموں/ڈراموں میں دینی شعائر کی نقل اتارنا وغیرہ۔اسی  طور رپر کمیڈی شوبزمیں  کمیڈی  کے نام پر دین کے ساتھ مسخرہ پن دکھانایا اس کا  استزاء اور تحقیروتوہین ۔دین ک مذاق بنانےکے لئے یہ سارے طریقےمیڈیا کے اپنائےجاتےہیں۔

(6 ) –  سوشل میڈیا کے ذریعہ : آج کے دور میں سوشل میڈیا چونکہ ہر آدمی کی پہنچ میں ہے اس لئے شعوری یا لاشعوری طور پر دین کا مذاق اڑانے والے مواد عام بات ہوگئی ہے ۔میمزبناکر ، ویڈیوز،آڈیوزاور کارٹون کے ذریعہ ،اشاروں کنایوں میں یا آن لائن پوسٹس میں دینی معاملات کو مضحکہ خیز بناناسوشل میڈیا میں ہر روز دیکھنے اور سننے کو ملتاہے ۔ اور مصیبت تو یہ ہے کہ بسا اوقات عام آدمی اسے محسوس بھی نہیں کرپاتاہے اور دھیرے دھیرے چھپےراستوں سے اس کے ذہن ودماغ پرحاوی ہوجاتاہے اور خاص طور سے دینی ماحول سے دور اور کچے ذہن کے افراد لاشعوری طور اس جرم اورگناہ سے متاثر  ہوجاتےہیں۔

(7 )  -  جھوٹے یا خیالی کہانیوں کے ذریعہ :جھوٹی کہانیاں گھڑ کر اس کے ذریعہ لوگوں کو ہنسانا یا دینی احکام کو مسخ کر کے پیش کرنا، جیسے کسی حکم کے وعدووعید (جنت کی نعمتوں اور جہنم کی سزا) سے بچنے کا مذاقیہ "حل" بتانا  وغیرہ۔

(8)  -  "بسم اللہ الرحمن الرحیم "یا قرآن وحدیث کے کسی حکم یا نص کا مطلب اور ترجمہ مسخ کر کے مذاق بنانا یا ان کا محل استدلال مزاحیہ بنانا۔

(9)   عبادات اورشعائردین کی نقل اتارنا:جیسے: اذان، نماز، تلاوت قرآن، یا مسجد وغیرہ کی نقل اتار کر لوگوں کو ہنسانا۔

(10)  -  دینی شعائر کی تحقیر:جیسے: داڑھی کو "جنگلی" کہنا، حجاب کو "خیمہ" یا "چڑیل"یا "بیگ"وغیرہ سے تشبیہ دینا، اگر یہ دینی حکم کی وجہ سے ہو تو  یہ نہایت ہی سنگین جرم ہے۔اسی طرح کسی کو  سنت کے مطابق ہیئت  اختیارکرنے اور کپڑے وغیرہ پہننے پر قدامت پسنداورپچھڑا  وغیرہ جیسے الفاظ  سے نواز کر اس کا مذاق اڑاناوغیرہ ۔

(11)  – کسی دینی حکم  یا اسلامی  شعارکوقید وغلامی اورآزادئ  اظہار  جیسے  الفاظ سےتعبیر کرکے ان کا مذاق بنانا۔

(12)  -  کسی بھی چیزپردین کے شعائر سے متعلق کوئی نقش کرکے اسے متبرک سمجھنا اوراس کی تعظیم وتوقیرکرنا۔

(13)  – جوتے یا اس طرح کی کسی شیئی یا اس کی شکل پر اللہ یا رسول کا نام لکھ کر اس کی تعظیم کرنا۔

(14)   دین کے نام پر کوئی ایسا غیرشرعی کام کرنا جسے کفار ومشرکین او رملحد قسم کے لوگ سبب استہزاء بنائیں۔

(15)   اور اسی طرح جانوروں ،سبزیوں  ، کپڑوں اور پتھر وغیرہ پر کسی نقش کو متبرک سمجھنا جس سے کفار کو ہنسنے اور شریعت کا مذاق بنانےکا موقع ملے۔

(16) -  آج کل ایک اور ٹرینڈ چلا ہواہے کہ اگر کوئی  کسی  مسئلہ میں  اسلاف  کے طریقوں کی وضاحت کرتاہے تو اس سے کسی اختلاف کی  بناء پر اسے  منہجیت کا طعنہ دےکر منہج سلف کو محل استہزا ء بنایاجاتاہے ۔ یہ ٹھیک   ویسےہی  ہے جیسے کوئی توحید کی فضیلت  بیان کرے یا شرک کا  رد کرے  اور اسی طرح  مسائل کو سنت کے مطابق بیان کرے تو کچھ حلقوں کی طرف سے اسے وہابیت کا طعنہ دے کر لوگوں کو دین سے دور کرکے انہیں  شرک وبدعت  مبتلا کردیا جائے اور من مانی شریعت کی  ترویج کی جائے۔

ان کےعلاوہ بھی دین کا مذاق اڑانے کے ڈھیروں طریقہ رائج ہیں  ۔ اور اگر یہ شریعت اور اس کے کسی بھی احکام کی تحقیر کا سبب بنتے ہیں تو آدمی کے ایمان کےلئے نہایت ہی خطرناک ہے۔لہذا اگر کوئی شخص دین کا مذاق اڑائے تو اسے فوراً  سچےدل سےتوبہ کرنی چاہیے ۔ بہتر ہے کہ ہم سب دینی معاملات میں احترام اور سنجیدگی اختیار کریں، تاکہ اپنا ایمان محفوظ رکھ سکیں۔

 اللہ ہم سب کو دین کے احترام کی توفیق دے اور استہزاء سے بچائے۔ آمین۔ وصلی اللہ علی خیرخلقہ وسلم ۔

******


کوئی تبصرے نہیں: