جھوٹ اوراس کے نقصانات
عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی
جھوٹ زبان سے متعلق بدترین گناہوں میں سے ایک دینی
ومعاشرتی برائی ، لامتناہی خرابیوں کاسبب ، نقاق کا جزء اور ایمان کے فقدان کا سبب
ہے، جس کےانسان اورمعاشرےپر بےپناہ اضرارونقصانات کی وجہ سےشریعت اسلامیہ نے اسے
کبیرہ گناہوں کے زمرےمیں رکھاہے۔جھوٹ اورجھوٹوں کے بارے میں اللہ تعالی کافرمان
ہے:(وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ)۔(ہرجھوٹے گناہ گارکے لئے ہلاکت ہے)،نیزفرمایا:(وَاجْتَنِبُواقَوْلَ الزُّورِ)۔ (جھوٹی
بات سے بچو)۔نیز فرمایا:(إِنَّ
اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّاب) ۔(اللہ تعالی حق کوجھوڑ کراورباطل کواختیارکرکے حدسےتجاوز کرنےوالےجھوٹےکو ہدایت
نہیں دیتا)،نیزفرمایا:(اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ۚ
وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ)۔( وہ لوگ جو اللہ
تعالی کی آیات پرایمان نہیں رکھتے وہ جھوٹ گھڑتے ہیں ، اور یہ لوگ صحیح
معنوں میں جھوٹے ہیں)۔(النحل/105)
اسی طرح جھوٹ اورجھوٹوں سے متعلق ذخیرہ احادیث میں بے
شمارروایتیں موجود ہیں جن میں سے چندایک کوبیان کردینا مناسب سمجھتا ہوں :
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"وإياكم والكذب فإن
الكذب يهدي إلى الفجور و إن الفجور يهدي إلى النار ، وما يزال الرجل يكذب ويتحرى
الكذب حتى يكتب عند الله كذابا"۔"جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ فسق وفجور کی طرف لے
جاتاہے ، اور فجورجہنم کی طرف لے جاتاہے ، اور آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتاہے یہاں
تک کہ اللہ کے یہاں کذاب لکھ دیاجاتاہے" ۔(صحیح بخاری/6094، صحیح مسلم/2607)۔
نیز فرمایا :"أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا أَوْ كَانَتْ فِيهِ
خَصْلَةٌ مِنْ أَرْبَعَةٍ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى
يَدَعَهَا: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا عَاهَدَ
غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ"۔" چار خصلتیں ایسی
ہیں کہ جس شخص میں بھی وہ ہوں گی، وہ منافق ہو گا۔ یا ان چار میں سے اگر ایک خصلت
بھی اس میں ہے تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے۔ یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ جب بولے
تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے، جب معاہدہ کرے تو بے وفائی کرے، اور جب
جھگڑے تو بد زبانی پر اتر آئے"۔(صحیح بخاری/2459،صحیح مسلم/58)۔
جھوٹ اور اس کی
شناعت سے متعلق ان روایتوں کےعلاوہ بھی بے
شمار روایتیں ہیں ۔اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں ہر دوسرا آدمی جھوٹ بولتاہوا
نظرآتاہے ،گھریلو معاملات سے لےکر تجارت تک سب اس
کے دام فریب کے شکار ہیں۔آج ہم اسی موضوع سے متعلق قارئین کے سامنےچند
باتیں رکھنا چاہتےہیں۔چنانچہ اصل موضوع کی طرف آنے سے پہلے اس سےمتعلق چند وضاحتیں
پیش خدمت ہیں :
جھوٹ کی تعریف:
جھوٹ کو عربی میں کذب کہاجاتاہے جو صدق وسچائی کاضد ہے
، لفظ "کذب" کا ذکر قرآن مجید
میں تقریبا 251 بار ہوا ہے ۔ کذب کی
تعریف ہے:"الكذب:هومخالفة الكلام للواقع"۔"یعنی حقیقت کے خلاف کرنےکو جھوٹ کہاجاتاہے" ۔ حافظ ابن حجر کے بقول :"والكذب هو الإخبار بالشيء على خلاف ماهو عليه، سواء كان عمدًا أم خطأً"۔"حقیقت کے خلاف خبردینا خواہ جان بوجھ کرہو یا سہوا
ہو کذب ہے "۔ فتح الباری:1/201)۔ اورامام نووی لکھتےہیں کہ:"حقیقت کے
خلاف خبردیناجھوٹ ہے جان بوجھ کرہوخواہ سہوا اوروہ خبرماضی سے متعلق ہوخواہ مستقبل
سے"۔(المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج:1/69)۔
جھوٹ کی مختلف شکلوں کے بارے میں امام راغب اصفہانی
لکھتے ہیں : "جھوٹ کہتے ہیں : یاتو کوئی بے بنیاد کہانی
گھڑلی جائے یا کسی قصےکہانیوں میں حذف واضافہ کیاجائے ، جو اس کے مفہوم کو
بدل دے یا عبارت کے اندرتحریف کردی جائے ، اگرکہانی گھڑی جائے تو اسے افتراء کہتے
ہیں اور کمی وزیادتی کو "مَيْنٌ" کہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اگرکوئی
جھوٹ بولتاہے تویاتو جس کے بارے میں جھوٹ بولتاہے وہ موجودہو یا موجودنہ ہو ،
اگرموجود ہے تو یہ بہتان ہےاوراگرموجودنہیں ہےتویہ کذب ہے،اوراگرکوئی سنی ہوئی
جھوٹی بات بیان کرتاہےتو اسے "إفكٌ "کہتے
ہیں "۔
جھوٹ کے اسباب:
جھوٹ بولنے کے چند اسباب ہیں جیسے : انسان عادتاجھوٹ
بولتاہے ، یا پھرطمع ولالچ کے سبب یا پھربغض وحسد اور عداوت ودشمنی کی وجہ
سے،اور اسی طرح اپنے باطل نظریات وعقائد کی ترویج کی خاطر وغیرہ۔
جھوٹ کی قسمیں:
جھوٹ کی بنیادی طورپر دو قسمیں ہیں : قولی اور عملی ۔
اور ان کی ذیلی تین قسمیں ہیں :
(1) - اللہ اور
رسول پرجھوٹ : جس کی سب سے قبیح صورت ہے ان چیزوں کو حلال قراردینا
جنہیں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے اور ان
چیزوں کوحرام قراردینا جنہیں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
نے حلال قرار دیا ہے، اللہ تعالی فرماتاہے :" وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى
عَلَى اللهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِه)۔(اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ
پرجھوٹ باندھے یا اس کی آیات کوجھٹلائے)۔ (الانعام/21)، نیزفرمایا:(وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ تَرَى الَّذِينَ كَذَبُوا
عَلَى اللَّهِ وُجُوهُهُم مُّسْوَدَّةٌ )۔(قیامت
کےروزان لوگوں کوجنہوں نے اللہ
پرجھوٹ باندھا دیکھوگے کہ ان کا چہرہ کالا پڑجائےگا)۔(الزمر/60)۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"إنَّ كَذِبًا عَلَيَّ ليسَ كَكَذِبٍ علَى أَحَدٍ، مَن كَذَبَ عَلَيَّ
مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"۔"میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق
جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جس شخص نےبھی
میرے اوپرجھوٹ باندھا وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے "۔ (صحیح بخاری/1291 ، صحیح مسلم/4)۔
(2) -عام لوگو ں سےان کی عزت ودولت
سے متعلق جھوٹ بولنا : اس کے چندواضح
مظاہرمیں سےکچھ یہ ہیں :
پہلا : شہادۃ الزور یعنی جھوٹی گواہی : جھوٹ کی اس قسم کو
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے ساتھ شرک اور والدین کی نافرمانی کے
ساتھ ذکرکرتے ہوئے اکبرالکبائر قراردیاہے ، ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:" أَلَا أُنَبِّئُكُمْ
بِأَكْبَرِالْكَبَائِرِ؟" ۔" کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں"، ہم نے عرض کیا ضرور بتائیے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ"۔"
اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا"۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم اس وقت ٹیک
لگائے ہوئے تھے اب آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا:" أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ، أَلَا
وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ"۔" آگاہ
ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی (سب سے بڑے گناہ ہیں) آگاہ ہو جاؤ جھوٹی
بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی"۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے مسلسل دہراتے رہے اور میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش نہیں ہوں گے ۔اوربعض روایتوں میں ہےکہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جملے کو اتنی مرتبہ دہرایا کہ ہم کہنے لگے: کاش! آپ صلی اللہ علیہ
وسلم خاموش ہو جاتے "۔(
صحیح بخاری/5976 ، 2654، صحیح مسلم/87)۔
دوسرا : جھوٹی قسم کھانا : یہ جھوٹ شہادۃ الزور کی
قسم میں سے ہے ، اس کےاندرجھوٹا اپنی جھوٹ کے ساتھ جھوٹی قسم ملاتاہے ، چنانچہ یہ
پہلے والے سے سخت جرم اور زیادہ گناہ والاہے ۔اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ میرے اور ایک شخص کے درمیان ایک کنویں کو لے کر جھگڑا تھا، چنانچہ ہم
دونوں اس مقدمے کے فیصلے کے لیے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ نے مجھ سے
فرمایا: "تم دو
گواہ لاؤ، ورنہ اس کی قسم
پر فیصلہ ہوگا"۔ میں نے عرض کیا: وہ تو قسم کھالے گا اور کچھ پروا نہ کرے گا! آپ ﷺ نےفرمایا: "مَن حَلف
على يمينِ صَبْرٍ، يَقْتَطِعُ بها مالَ امرىءٍ مُسلمٍ، هو فيها فاجِرٌ، لَقِيَ
الله وهوعليه غضبانُ "۔ "جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کے مال
کو ہتھیا لے اور اس کی نیت بری ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ
اللہ اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا"۔(صحیح مسلم/138،نیز دیکھئے:صحیح
بخاری/6659)۔
تیسرا
: خریدوفروخت میں جھوٹ بولنا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :"الْحَلِفُ
مُنَفِّقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مُمْحِقَةٌ لِلْبَرَكَةِ "۔اورمسنداحمدکی روایت میں ہے:"الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ
لِلْكَسْبِ"۔" یعنی قسم کھانے سے سامانِ تجارت کا تو فروغ
ہوتا ہے، لیکن قسم سے برکت اٹھا لی جاتی ہے"۔(صحیح بخاری/2087، صحیح مسلم/1606مسنداحمد/7206)۔ اورابو ذررضی الله عنہ سے مروی ہےکہ رسول اکرم صلى الله عليہ وسلم نے
فرمايا :" ثَلاثَةٌ لا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ ولا يَنْظُرُ إليهِم ولا
يُزَكِّيهِمْ ولَهُمْ عَذابٌ ألِيمٌ : المَنَّانُ الذي لا يُعْطِي شيئًا إلَّا
مَنَّهُ، والْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بالحَلِفِ الفاجِرِ، والْمُسْبِلُ إزارَهُ"۔"تین شخص ایسے ہیں، جن سے
قیامت کے دن اللہ تعالی نہ بات کرےگا، نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھےگا، اور نہ
انہیں گناہوں سے پاک کرےگا، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے: کسی کو کچھ دےکر اس پراحسان جتانے والا ،جھوٹی قسم سے اپنے سامانِ تجارت کو
فروغ دینے والا اورٹخنوں سے نیچے اپنا تہبند گھسیٹ کر
چلنے والا"۔) صحیح مسلم/106 )۔
چوتھا:مذا
ق وسخریہ کے مقصد سے جھوٹ بولنا : یہ بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے ، اللہ کے رسول
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" ويلٌ لِلَّذِي
يُحَدِّثُ بالحدِيثِ لِيُضْحِكَ بِهِ القوْمَ فيَكَذِبُ ويلٌ لَهُ ويلٌ لَهُ" ۔"تباہی ہے اس آدمی کے لئے جولوگوں کو ہنسانے کے لئے
جھوٹ بولتاہے ، تباہی ہے اس کے لئے ، تباہی ہے اس کے لئے "۔ (سنن
الترمذی/2315 ،سنن ابی داود/4990 ، علامہ البانی رحمہ اللہ نےاسےحسن قراردیاہے )۔
پانچواں : لوگوں کے درمیان بگاڑ وفساد پیداکرنے کے لئے جھوٹ بولنا:
لوگوں کے درمیان بگاڑ پیداکرنے کےلئے آدمی اگر کسی کی بات اگرچہ صحیح ہو نقل
کرتاہے تو اسے شریعت میں نمام یعنی چغل خورکہاجاتاہےجو سراسرحرام ہے ، اللہ کے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"لَايَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ"۔" چغل خورجنت میں نہیں جائے گا"۔(صحیح بخاری/6056 ، صحیح
مسلم/105)۔ چنانچہ اگرکوئی جھوٹی بات کے ذریعہ لوگوں کے درمیان فتنہ اور فساد پیدا
کرتاہے تو اس کا اس کا دوہرا گناہ ہوگا ،ایک جھوٹ کا اور دوسرے چغل خوری کا۔
(3) - عام لوگوں سے ان چیزوں میں جھوٹ بولنا جو ان کی
عزت ودولت سے متعلق نہ ہو: جھوٹ کی یہ قسم گرچہ پہلے والے سے اخف ہے لیکن
نہایت ہی مذموم ہے ، جیسے آدمی اپنی بڑائی جتانے کے لئے ایسی چیزکا دعوی کرے
جو اس کے اندرنہیں ہے ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
:"۔" مَنِ ادَّعَى مَالَيْسَ لَهُ فَلَيْسَ مِنَّاوَلْيَتَبَوَّأْ
مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"۔"جس کسی نے ایسی چیزکا دعوی کیا جو اس کی نہیں
ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے " ۔(سنن ابن
ماجہ/2319 ، علامہ البانی نے اسے صحیح کہاہے)۔
اسی میں سے جھوٹا نسب بیان کرنا ہے:چنانچہ بعض لوگ اپنی
قوم کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں اورسادات کی طرف اپنی
نسبت کرلیتے ہیں تاکہ عوام کی نگاہوں میں محترم ہوں ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشادفرمایا :"لَيْسَ
مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلَّا كَفَرَ وَمَنِ
ادَّعَى قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"۔"
جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ بنایا تو اس نے
کفر کیا اور جس شخص نے بھی اپنا نسب کسی ایسی قوم سے ملایا جس سے اس کا کوئی
(نسبی) تعلق نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے"۔(صحیح
بخاری/3508،صحیح مسلم/61)۔
نیز اسی میں سے
جھوٹا خواب بیان کرناہے: جھوٹے خواب بیان کرنےوالے کے بارے میں اللہ کے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
"مَن تحلَّم كُلِّف أنْ يعقِدَ بيْنَ شعيرتَيْنِ وليس بفاعلٍ"۔"جس نے ایساخواب بیان کیا جو اس نے نہیں دیکھاتو
اسےقیامت کے روز دو جو کے درمیان گانٹھ لگانے کے لئے کہاجائے گا جب کہ وہ
اسے ہرگز انجام نہیں دے سکتا"۔(صحیح بخاری/7042، صحیح مسلم/2110 ) ۔
جھوٹ کے نقصانات :
شرعی لحاظ سے اور اسی طرح شخص ومعاشرہ پرجھوٹ کے بےشمار نقصانات ہیں، جن
میں سےچنددرج ذیل ہیں:
* - جھوٹ کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے ۔
* - جھوٹ نفاق کی علامتوں میں سے ایک ہے ۔
* - جھوٹ انسان کی مروءت وکرامت کے خلاف ہے،چنانچہ جھوٹ
بولنے والے سے لوگوں کا بھروسہ اٹھ جاتاہے ،چنانچہ اگر کبھی وہ سچ بھی بولتاہے لوگ اس پر بھروسہ نہیں کرتے ۔
* - جھوٹ ذلت
ورسوائی کا سبب ہے ۔
* - جھوٹ کی وجہ سے انسان عذاب الہی کا مستحق بن
جاتاہے ، چنانچہ منافقین کے سلسلے میں اللہ تعالی فرماتاہے: ) وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ)۔(ان کے جھوٹ کی وجہ سے ان کے لئے دردناک
عذاب ہے )۔ (البقرہ/10)۔
* - جھوٹا اللہ کی لعنت کا مستحق
قرار پاتا ہے،لعان کے مسئلہ کو بیان کرتے ہوئےاللہ تعالی ارشادفرماتاہے:( وَالْخَامِسَةُ أَنَّ
لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ) ۔ (پانچویں بار
میں اس سے کہاجائےگا کہ اگروہ جھوٹوں میں سے ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہوگی )۔(النور/7)۔
* - جھوٹ ایک دوسرے پربھروسہ کو کمزورکردیتا ہے جس کی وجہ
لوگ ایک دوسرےکے خلاف کینہ ، بغض ، حسد،افتراء ،بہتان ، اورتجسس کے
شکارہوجاتے ہیں ۔
* - جھوٹ انسان کے اندر تعلی اور خودنمائی پیدا کرتاہے ۔
* - جھوٹ
بولنا قیمتی وقت کا ضیاع بھی ہے کیونکہ جھوٹا اپنے جھوٹ کی ترویج کے لئے مختلف قسم
کے حیلہ اور نئےنئے طریقہ کی جستجو میں وقت ضائع کرتا رہتاہے ۔
* - جھوٹا بداخلاقی اور دوسروں کی بے عزتی کرنے کا
ارتکاب کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھتا ۔
* - جھوٹ روح وجسم کی پاگیزگی کو ختم کردیتاہے ۔
* - جھوٹ معاشرے
میں فساد و بگاڑکا سبب ہے ۔
* - جھوٹ کی وجہ سے سچائی مسخ ہوجاتی ہے اور برائیاں عام
ہوجاتی ہیں ۔
* - حقائق مسخ ہونے اور بے ایمانی کے پھیلنے میں جھوٹ کا
بہت بڑا دخل ہوتا ہے ۔
* -جھوٹا اللہ کی ہدایت سےمحروم ہوتاہے:اللہ تعالی فرماتاہے: (إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ)۔(اللہ تعالی جھوٹے کافرکو ہدایت نہیں دیتا )۔(الزمر/3)۔
* - خریدوفروخت کے معاملات میں جھوٹ برکت کو ختم کردیتاہے
، چنانچہ خریدوفروخت کرنے والے سچائی اور حقیقت بیانی کے ساتھ لین دین
کرتےہیں توان کی تجارت میں برکت ہوتی ہے اور اگردھوکااور جھوٹ کے ساتھ کرتے ہیں
توان کی تجارت میں برکت ختم کردی جاتی ہے،حکیم بن حزام رضی اللہ سے روایت ہے کہ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ :" الْبَيِّعَانِ
بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ قَالَ حَتَّى يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ
صَدَقَا وَبَيَّنَا، بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا،
مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا"۔" خریدنےاوربیچنے والے دونوں فریقوں کو اختیار
ہے جب تک جدا نہ ہوں۔ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور حقیقت کو واضح کریں تو ان کی بیع
میں برکت ڈالی جاتی ہے، اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور (عیب وغیرہ) چھپائیں تو ان کی
بیع سے برکت مٹا دی جاتی ہے"۔(صحیح بخاری/2079، صحیح مسلم/1532)۔
* - جھوٹ سے لوگوں کے حقوق ضائع ہوتے ہیں ۔
* - جھوٹ کی وجہ سےصدق وسچائی کی ساری اعلی
وارفع خوبیاں ضائع ہوجاتی ہیں ۔
* - جھوٹ فسق وفجور کی جڑ اوربنیاد ہےچنانجہ وہ آدمی کےلئے فسق وفجور کے دروازے کھول دیتاہے ۔
* - بہت سارے گھراورخاندان کے انتشار کا سبب جھوٹ ہوتاہے ۔
* - جھوٹ انسان کے اندرسے اللہ کاخوف زائل کردیتا ہے اور
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت صرف دکھاوے کے لئے ہوتی ہے۔
* - جھوٹ
فرائض واجبات کی ادائگی سے محروم کردیتاہے۔
* - جھوٹ ضمیر کو مردہ کردیتاہےاورآدمی کے شعورواحساس کو
مضمحل کردیتاہے ۔
* - جھوٹ خواہش نفس کا پیروکاربنا دیتاہے ۔
* - جھوٹ کافروں کا شیوہ ہے ۔
* - اگلی امتیں اپنے کفر اور کذب کی وجہ سے ہلاک کردی
گئیں ۔
* - جھوٹ کے برخلاف
صدق وصفا ابنیاء وصالحین کاوطیرہ رہاہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کے مقرب ومحبوب بندے
قرار پائے ۔
جھوٹ اور مصلحتیں:
بعض دوررس مصلحتوں کے پیش نظر بعض حالات میں جھوٹ کو مباح قراردیاگیاہے جیسا
کہ صحیح سندوں سے مروی روایتوں میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ عیلہ وسلم
نے ارشادفرمایا:" لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي
يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِي خَيْرًا "، قَالَ
ابْنُ شِهَابٍ: وَلَمْ أَسْمَعْ يُرَخَّصُ فِي شَيْءٍ، مِمَّا يَقُولُ: النَّاسُ
كَذِبٌ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: الْحَرْبُ، وَالْإِصْلَاحُ بَيْنَ النَّاسِ، وَحَدِيثُ
الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ، وَحَدِيثُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا"۔ "وہ شخص
جھوٹا نہیں جو لوگوں میں صلح کرائے اور اچھی بات کہے اور اچھی بات پہنچائے"۔ ابن شہاب نے
کہا: لوگ جو جھوٹی باتیں کرتے ہیں، میں نے ان میں سے تین کے سوا کسی بات کے بارے
میں نہیں سنا کہ ان کی اجازت دی گئی ہے: جنگ اور جہاد میں، لوگوں کے درمیان صلح
کرانے کے لیے اور خاوند کا اپنی بیوی سے (اسے راضی کرنے کی) بات اور عورت کی اپنے
خاوند سے (اسے راضی کرنے کے لیے) بات۔(صحيح مسلم/2605)۔
اورام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کو کسی بات میں
جھوٹ بولنے کی اجازت دیتے نہیں سنا، سوائے تین باتوں کے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم فرماتے تھے:"
میں اسے جھوٹا شمار نہیں کرتا: ایک یہ کہ کوئی لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور کوئی
بات بنا کر کہے، اور اس کا مقصد اس سے صرف صلح کرانی ہو، دوسرے یہ کہ ایک شخص جنگ
میں کوئی بات بنا کر کہے، تیسرے یہ کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کوئی بات بنا کر کہے
اور بیوی اپنے شوہر سے کوئی بات بنا کر کہے"۔(سنن ابی داود/4921، علامہ البانی نے اسے صحیح کہاہے)۔
چنانچہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو آدمیوں یا دو گروہوں میں
سخت نزاع اور رنجش ہے،ہر فریق دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف
باتیں کرتا ہے،ان میں بعض باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں،جو باہمی اختلاف اور نزاع کو
ختم کرنے یا کم از کم،کم کرنے کا باعث بن سکتی ہیں،ایسی صورت میں اگر کوئی نیک نیت
اور مخلص انسان دونوں فریقوں میں صلح کرانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لیے ایک
فریق کی طرف سے دوسرے فریق کو خیر اندیشی کی باتیں پہنچاتا ہے،جن سے عداوت و
اختلاف کی آگ ٹھنڈی ہو سکے اور خوش گمانی اور مصالحت کی فضا پیدا ہو سکے اور ایک
دوسرے کی مخالفت و عداوت میں کہی گئی باتیں چھپا لے تو یہ اچھی اور بہتر بات
ہے،اسی طرح جنگ و جدال میں توریہ و تعریض سے کام لیا جا سکتا ہے اور میاں بیوی ایک
دوسرے کو خوش کرنے کے لیے ایک دوسرے سے محبت و پیار کے اظہار میں مبالغہ سے کام لے
سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے اچھے اچھے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں تو یہ جھوٹ
نہیں ہے۔
جھوٹ اور ہمارالمیہ:
ایک وقت تھا کہ دیگر
صفات حسنہ اور قوت ایمانی کے ساتھ ساتھ صدق وصفا نے ہمارے اسلاف کے
اندروہ عزم وحوصلہ پیداکردی تھی جنہوں نے نہایت ہی کم وقت میں دنیا کے
گوشے گوشےکو اسلام کی حقانیت سے روشناس کرادیاتھا۔ لیکن ہمارا یہ المیہ ہے کہ ہم نے
جھوٹ کو گُناہ سمجھنے کے بجائے ہنر سمجھ لیا ہے، جھوٹ بول کر سودا کرنا، جھوٹ بول
کر ووٹ لینا، جھوٹ بول کر حکومت کرنا اور جھوٹ کے ذریعے اپنی بددیانتی کو عین
دیانت داری ثابت کرنے کا عمل ہمارے اندر رچ بس گیا ہے ہم توقع یہ رکھنے لگتے ہیں
کہ جھوٹ سوچ کر ،جھوٹ بول کر ،جھوٹ پر عمل کرکے ہمیں وہ فائدے حاصل ہوں گے جو سچ
کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں۔لیکن یادرہے کہ جھوٹ کے بیج سے سچ کی فصل کاشت نہیں
کی جاسکتی ۔
آج کے پرآشوب دور میں جھوٹ کو رواج دینے کے بہت سارے وسائل
جدید ٹکنالوجی کی شکل میں موجود ہے الکٹرانک اور سوشل میڈیا نے جھوٹ کو پھیلانے کا
بہت بڑاکام کیاہے ۔ چشم زدن میں جھوٹ پورے معاشرے کو اپنی چپیٹ میں لے لیتا ہے
اورپورامعاشرہ اس کے بھیانک انجام سے دوچارہونے لگتاہے ۔ بسااوقات اس
کی وجہ ہےقتل وغارت گری جیسے جرائم کا ارتکاب ہونے لگتاہے ۔ ایسے وقت میں
سچائی کی اہمیت اور فوائد اورجھوٹ کے بھیانک انجام کو پوری طاقت اور
ہمت وحوصلہ کےساتھ بیان کرنے کی سخت ضرورت ہےتاکہ ہمارامعاشرہ امن وشانتی کاگہوارہ
بن سکے۔
اللہ
رب العزت سےدعاءہے کہ اللہ تعالی ہمیں صدق وسچائی کاپیکربنائےاورجھوٹ جیسے
عظیم گناہ سے بچنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین ، وصلی اللہ علی خیرخلقہ وسلم ۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ
وبرکاتہ ۔
*********
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں