ماہ ِرمضان میں گناہ اور شیطان کا بیڑیوں میں جکڑدیاجانا
عبدالعلیم بن
عبدالحفیظ سلفی (سعودی عرب )
خیروبرکت کے اس ماہ میں خاص طورسے گناہوں سے اجتناب ضروری عمل ہے اس کے بغیرنہ اللہ کی خوشنودی حاصل ہوسکتی ہے
اور نہ ہی روزہ کا مقصد حاصل ہوسکتاہے ،جیساکہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشادفرمایا:" مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ
وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ
وَشَرَابَهُ"۔"اگر کوئی شخص(روزے رکھ کر بھی) جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ
اپنا کھانا پینا چھوڑ دے"۔(صحیح البخاری /6057)۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالی نے نیکیوں کے
لئے خوب جدوجہد کے ساتھ ساتھ برائی اورمعصیت سے اجتناب پر بہت زیادہ ابھاراہے اور
ہر وہ آسانی فراہم کی ہے جس سے بندہ زیادہ
سے زیادہ معصیت وگناہ سے بچ سکے ، اپنے نفس کو حکم الہی کا تابع بناسکےاو ر اپنے اوقات کو زیادہ
سےزیادہ طاعت وعبادت میں صرف کرسکے ، چنانچہ روزےکا سب سے اہم مقصدبھی اللہ کی رضا وخوشنودی کے حصول کے ساتھ تقوی
شعاری ہےجوکہ بذات خود رب کائنات کی رضا کا سب سے اہم سبب ہے ، جیساکہ اللہ تعالی
نے ارشاد فرمایا: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ
الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى
الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ) (اےمومنو! جس
طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزہ فرض کیاگیاتھا اسی طرح تم پرفرض کیاگیاہےتاکہ تم تقوی اختیارکرو) (البقرہ/183)۔
انسان کے لئے گمراہی کا سب سے بڑا سبب شیطانی وساوس اور اس
کی چالیں ہیں ، لیکن رمضان المبارک میں
خاص طوراللہ تعالی اس کی تدبیروں اور چالوں اور ان کے اثرات کوختم کرنےکےلئے اسےبیڑیوں میں جکڑدیتاہے جس کا
بیان حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں واضح طورپر موجودہے۔ خاص طور سے بندوں کی
کثرت ِخیر اور نماز ، روزہ ، ذکرودعاء جیسی
عبادتوں میں انشغال اور اس کے عوض
اللہ تبارک وتعالی کی رضا اور اس کی بے شمار
مغفرت ومعافی کی وجہ سے ہوتاہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: "إِذَا
دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الجَنَّةِ ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ
جَهَنَّمَ ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ ""جب رمضان کا مہینہ آتاہے تو جنت کے دروازے کھول دئےجاتےہیں ، اور جہنم
کے دروازے بند کردئےجاتےہیں اور شیطان زنجیروں میں جکڑدیاجاتاہے "(صحیح بخاری
: 3277 ، صحیح مسلم :1079) مسلم کی روایت میں ہے: " وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ""شیطان بیڑیوں میں جکڑدیاجاتاہے"۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے : "إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ من شَهْرِ رَمَضَانَ
صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ ، الخ ...") الحديث "۔"جب رمضان کا پہلا دن ہوتاہے تو شیطان اور سرکش جنوں
کو بیڑیوں میں جکڑدیاجاتاہے اورجہنم کے دروازے بندکردئےجاتےہیں اورپھر اس کا کوئی
دروازہ نہیں کھولاجاتا، اور جنت کے دروازے
کھول دئے جاتے ہیں اورپھر اس کا کوئی دروازہ نہیں بندکیاجاتا۔۔۔۔" (سنن ترمذی
:682 ، سنن ابن ماجہ:1642۔ شیخ البانی نے اس روایت کوصحیح الجامع :759 کے اندر حسن
قراردیاہے)۔
اس حدیث کی مختلف روایتوں میں شیطان کے بیڑیوں میں جکڑے جانے سے متعلق مختلف الفاظ وارد ہیں جیسے:(صُفِّدَتِ الشياطينُ)، (سُلْسِلَتِ الشياطينُ )، (تُغَلُّ فيه الشياطينُ)،(تُغَلُّ فيه مَرَدَةُ الشياطين)،(صُفِّدَتِ الشياطينُ ومَرَدَةُ الجِنِّ) اور(يُصفَّد فيه مَرَدةُ الشياطين) ان سارے الفاظ کا معنی تقریبا ایک ہی ہے اور وہ ہے شیطان یا سرکش اور ضدی شیطانوں کا بیڑیوں میں جکڑدیاجانا۔
شیطان کی حیثیت :
شیطان جو انسان کی گمراہی کا بنیادی سبب ہوتاہے جسے وسوسہ اور برائی پرابھارنے پر قدرت
حاصل ہے، چنانچہ وہ ہر ساعت وہر لمحہ
اپنے عمل و وظیفہ میں لگارہتاہے، او رکوئی ایسا حیلہ یا ذریعہ نہیں چھوڑتاجس کی
وجہ سے آدمی گمراہ ہوسکتاہے ،ام المؤمنین
صفیہ بن حیی رضی اللہ عنہا سے مروی ہےکہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا:"
إن الشيطان يبلغ من الإنسان مبلغ الدم"۔ شیطان انسان کے
اندر اس طرح دوڑتا رہتا ہے جیسے جسم میں خون دوڑتا ہے" ( صحیح البخاری/7171 ، صحیح مسلم/2175)۔
اور صحیح مسلم کی روایت میں انس رضی اللہ
عنہ سے مروی ہے:" إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي
مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ"۔(صحیح مسلم/2174) ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے شیطان کو انسان کا بہت بڑادشمن قرردیاہے،فرماتاہے: ﴿ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ
عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ ﴾ (یاد رکھو شیطان تمہارادشمن ہے ، تم بھی اسے دشمن جانووہ تو
اپنے گروہ کو صرف اسی لئے بلاتاہے کہ وہ سب جہنم واصل ہوجائیں) (الفاطر/6) اور دشمن بھی کھلاہوا جس سے بچنے کی سخت تاکید کی گئی ہے ،اللہ تعالی ارشادفرماتاہے: ﴿ وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ
إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ * إِنَّمَا يَأْمُرُكُمْ بِالسُّوءِ
وَالْفَحْشَاءِ وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴾ (شیطانی راہ پر مت چلووہ تمہارا کھلا ہوادشمن ہے وہ تمہیں
صرف برائی اوربےحیائی کا حکم دیتاہے ، اور اللہ تعالی کے اوپر ایسی باتیں
کہنے کا حکم دیتاہے جن کا تمہیں علم نہیں)۔(البقرۃ/168-169)۔
شیطان
کے انہیں چالوں اور ہتھکنڈوں کی وجہ سے اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو اسے دشمن سمجھنے
کا حکم دیا ہے تاکہ آدمی اس کے شر سے محفوظ رہ سکے ، اور اس کے شرسے محفوظ رہنے کےلئے قرآن وسنت
میں مختلف وظائف وطرق کا بیان موجودہے ،
اور یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اللہ کے نیک بندوں کے لئے اس کی دسیسہ کاری عموما
غیرمؤثرہوتی ہےجیساکہ خود شیطان کے عزم کا جواب دیتےہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي
لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ * إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ * قَالَ هَٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ * إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلَّا
مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ ﴾ (شیطان نے کہا:
اے میرےرب ! چونکہ تونے مجھے گمراہ کیاہے تو مجھےبھی قسم ہے کہ میں بھی زمین میں
ان کے لئے معاصی کو مزیّن کروں گا
اوران سب کو بہکاؤں گابھی، سوائے تیرے ان بندوں کے جومخلص ہیں (اللہ تعالی کا)
ارشادہوا : ہاں یہی مجھ تک پہنچنے کی سیدھی راہ ہے۔ میرےبندوں پر تمہاراکوئی زور نہیں
چلےگا، ہاں جو گمراہ لوگ ہیں وہ تیری پیروی کریں گے)(الحجر/39-42) ۔
شیطان دن میں یا رات میں جکڑاجاتاہے؟ :
کیا شیطان صرف دن میں بیڑیوں میں جکڑاجاتاہے ؟ یا رات میں
بھی جکڑا جاتاہے ، اسی طرح کیا اس کا
جکڑاجانا کسی خاص زمانے سے متعلق ہے؟ حافظ
ابن حجر نے حلیمی سے نقل کیاہےکہ:" يَحْتَمِلُ أَن يكون المُرَاد من
الشَّيَاطِين مسترقوا السَّمْعِ مِنْهُمْ وَأَنَّ تَسَلْسُلَهُمْ يَقَعُ فِي
لَيَالِي رَمَضَانَ دُونَ أَيَّامِهِ لِأَنَّهُمْ كَانُوا مُنِعُوا فِي زَمَنِ
نُزُولِ الْقُرْآنِ مِنَ اسْتِرَاقِ السَّمْعِ فَزِيدُوا التَّسَلْسُلَ مُبَالَغَةً
فِي الْحِفْظِ وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ أَنَّ الشَّيَاطِينَ لَا
يَخْلُصُونَ مِنَ افْتِتَانِ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَا يَخْلُصُونَ إِلَيْهِ فِي
غَيْرِهِ لِاشْتِغَالِهِمْ بِالصِّيَامِ الَّذِي فِيهِ قَمْعُ الشَّهَوَاتِ
وَبِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَالذِّكْرِ"۔(فتح الباری:4/ 114 ، نیز دیکھئے:شعب الایمان للبیھقی :5/ 219)۔ " یہ
احتمال ہے کہ اس سے وہ شیطان مرادہیں جو آسمان میں کان لگا کر فرشتوں کے درمیان جو
باتیں ہوتی ہیں انہیں اچک لیتےہیں ، ان کا بیڑیوں میں جکڑاجانا دن کے بجائے راتوں
میں ہوتاہے کیونکہ نزول قرآن کے زمانہ میں انہیں
باتوں کو اچکنے سے روک دیاگیاتھا ،چنانچہ بہت زیادہ حفاظت کی غرض سے ان
کوجکڑنے میں اضافہ کردیاجاتاہے۔ او یہ احتمال
بھی ہے کہ رمضان میں شیطان لوگوں
کو گمراہ کرنےکی اتنی کوشش نہیں کرتا جتنی دیگر ایام میں کرتاہے ،کیونکہ لوگ روزہ
میں مشغول رہتےہیں جس کے اندر شہوتیں کم ہوتی ہیں نیز لوگ قرآن کی تلاوت اور ذکر ودعاء میں مشغول
ہوتےہیں"۔
حلیمی نے اپنے مذکورہ قول کے اندر کئی باتوں کا احتمام
ذکرکیاہے ،جیسے : شیطان کا بیڑیوں میں
جکڑا جانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کے دورمیں قرآن کے نزول کے زمانے کے ساتھ
خاص ہے ،
اور صرف وہ شیطان جکڑےجاتےہیں جو
آسمان سے باتیں اچک لیتےہیں ،نیزان کا
جکڑا جانا رات کے بجائے دن میں ہوتاہے ۔
لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اسے کسی خاص وقت یا خاص شیطان سے
مختص کردینے کےسلسلے میں قرآن وسنت سے کوئی دلیل نہیں ہے ، کیونکہ امت کے لئے بطور
بشارت اور رحمت گناہوں سے بچنے کےلئے جو
آسانی کی بات ہے اس سے اس کی نفی ہوتی ہے
، اور پھر اگر وقت وزمانہ کے ساتھ خاص کردیں تو پھر اس سلسلےمیں دیگر ایام کے مقابلے میں رمضان کے
ایام کی کوئی خصوصیت نہیں رہ جاتی ، اسی وجہ سے امام سیوطی اور امام ملا علی قاری نے ان کا
رد کیاہے ۔(دیکھئے: شرح سنن ابن ماجہ للسیوطی ص119 ، مرقاۃ المفاتیح:4/1364)۔
کیا سارے شیطان قید کرلئےجاتےہیں یا کوئی خاص :
علماء نے اس سلسلےمیں کئی باتیں لکھی ہیں ،مثلا:
- سارے شیطان قید نہیں کئے جاتےہیں بلکہ ان میں سے بعض جو
سرکش قسم کے ہیں ،جیساکہ ترمذی اورابن ماجہ وغیرہ کی روایتوں میں " مَرَدَةُ الشياطين" اور"
ومَرَدَةُ الجِنِّ" کا ذکرہے۔ (دیکھئے:فتح
الباری:4/114، حاشیۃ السیوطی علی سنن النسائی:4/129، شرح سنن ابن ماجۃ للسیوطی
ص119، عمدۃ القاری:7/193، شرح الزرقانی علی الموطا:2/299 و صحیح ابن حبان/780)۔
- شیطانوں کا
سردار ابلیس مراد ہے ۔
- جو لوگ مذکورہ
روایت کو مجازی معنی میں مرادلیتےہیں ان کے مطابق شیطان کو قیدکیا جانا حقیقت نہیں
بلکہ اس سے مراد ان کا لوگوں کو گمراہ کرنے میں کمزورپڑجانااور عاجزآناہے ۔ اس کے
علاوہ اس کے دیگر معانی بھی بیان کئے جاتےہیں
جن کا ذکر آرہاہے۔
شیطان کا جکڑاجانا حقیقی ہےیا مجازی ؟ :
مذکورہ روایت میں بلاغموض شیطان کے بیڑیوں میں قیدکئے
جانےکی بات آئی جسے زیادہ تر علماء سلف نے حقیقت پر محمول کیاہے،جن میں تقی الدین
ابراہیم بن مفلح (متوفی 884ھ) ابوحاتم بن حبان(متوفی354ھ) ، امام احمدبن حنبل اور ابن الملقن(متوفی 804ھ) وغیرہ ہیں ۔ زين بن المنیر کہتے
ہيں :" الفاظ کو ظاہری معنی میں نہ لینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت ہے" ۔ عبد اللہ بن امام
احمد کہتے ہیں:"میں نے اپنے والد سے کہا: مجنون شخص کو ماہ رمضان میں بھی دورہ کیوں پڑ
جاتا ہے؟!تو انہوں نے کہا: "حدیث میں ایسے ہی آیا ہے اس بارے میں مزید گفتگو مت
کرو"۔ (دیکھئے :التوضيح
لشرح الجامع الصحيح : 13/ 56, مصائب الإنسان من مكائد الشيطان:ص144 ، فتح
الباری:4/114)۔
علماء کا ایک دوسرا گروہ ہے جن کے مطابق شیطان کا بیڑیوں میں جکڑا جانا مجازی معنی میں ہے ۔ جیساکہ
مناوی رحمہ اللہ نے لکھاہے:"إن تصفيد الشياطين مجاز عن امتناع التسويل عليهم،
واستعصاء النفوس عن قبول وساوسهم، وحسم أطماعهم عن الإغواء"(فیض القدیر:1/ 422)۔"شیطان کا بیڑیوں میں جکڑاجانا مجازی ہے جس کا معنی ہے معصیت وگناہ کولوگوں کے
لئےمزین بنا کرپیش کرنے سے روکنا ، نفوس
کا ان کے وسوسوں کو قبول کرنے سے عاجزہونا
، اور ان کو گمراہ کرنے کی لالچ کو ختم کرنا"۔
ان کے علاوہ بہت
سارے علماء نےاس کی مختلف توضیحات پیش کی
ہیں جن میں سے چند کا مختصرا ذکر مناسب ہے
:
* - امام ابوالعباس القرطبی رقم طرازہیں :" اگر یہ کہاجائےکہ : ہم
رمضان میں بہت زیادہ گناہ ومعصیت کا وقوع
دیکھتےہیں ، جبکہ شیطان قیدمیں ہوتاہےلہذا
اس ماہ میں شرکا وقوع نہیں
ہوناچاہئے ؟ تو اس کا جواب کئی طرح سے دیاجاسکتاہے :
اول: روزہ دارکے اس روزہ سے شیطان جکڑاجاتاہے جس کے
اندرروزہ کے تمام شروط اور آداب کاخیال رکھاجاتاہے ، اور جن روزوں کے اندر ان کی
رعایت نہیں کی جاتی ان سے شیطان جکڑانہیں
جاتا۔
دوم : اگریہ مان بھی لیں کہ شیطان
ہر روزہ دار کے لئے جکڑدیاگیاہے ،اس کے باوجود تمام شیاطین کے جکڑے جانے سے
معاصی وگناہ کا عدم وقوع لازم نہیں آتاکیونکہ ان کے وقوع کےلئے شیطان کے علاوہ
دوسرے اسباب بھی ہیں جیسے : خبیث نفس ، بری عادتیں اور شیاطین الانس وغیرہ ۔
سوم : یہ عام طورپر سرکش
شیطانوں کے بارے میں ہے لیکن جو سرکش نہیں ہیں وہ جکڑے نہیں جاتے۔اس سے مرادتقلیل الشرور ہے کیونکہ دیگر
مہینوں کے مقابلے رمضان میں شراور فواحش
کم ہوتےہیں ۔چنانچہ اس کا مطلب برائیوں کا کم ہوجانا ہے ، جو ماہ رمضان واقعی دیگر مہینوں کے مقابلے بہت کم
ہوجاتےہیں "۔ (المفھم لماأشکل من تلخیص کتاب مسلم:3/136)۔
* - شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتےہیں : "یہ صرف اس لئے ہوتاہے کہ رمضان میں دل
خیراو رنیک اعمال کی طرف راغب ہوتاہے جس کی وجہ سے جنت کے دروازےکھلتے ہیں اور وہ برائیوں سے رک جاتاہے جس کی وجہ سے جہنم
کے دروازے کھلتےہیں اور شیطان قید
کردیاجاتاہے، چنانچہ جو کام غیرروزہ کی حالت میں کرتاہے وہ حالت روزہ میں نہیں
کرتا، کیونکہ شیطان بنی آدم پر شہوات اور(غلط)خواہشات کی بنا پرحاوی ہوتاہے لہذا
جب وہ شہوات سے بچتاہے تو شیطان کو اس سے
روک دیاجاتاہے "۔(مجموع فتاوی ابن تیمیہ:14/167-باختصار)۔
* - نیز فرماتےہیں :" خون جس میں شیطان دوڑتاہے تنگ پڑجاتاہے اور جب تنگ پڑجاتاہے تو دل نیکیوں کی طرف راغب ہوتاہے
جن کی وجہ سے جنت کے دروازے کھلتے ہیں۔ اور منکر ات وبرائیوں کے تر ک کی طرف راغب
ہوتاہے جن کی وجہ سے جہنم کا دروازہ بند ہوتاہے ۔ اور شیطان قیدکردیاجاتاہےتو اس
وجہ سے اس کی قوت کمزورپڑجاتی ہے لہذا جو کام وہ غیررمضان میں کرسکتاہے رمضان میں نہیں
کرسکتا"(مجموع فتاوی ابن تیمیہ:25/246-باختصار)۔
* - معصیت کے صدور کے لیے تحقق اور شیاطین کا وجود ضروری
نہیں، انسان گیارہ مہینے شیطان سے متاثر ہوتا رہتا ہے، اس کی اتباع کرتا رہتاہے یہاں تک کہ رمضان کا
مہینہ آجاتاہے اور اس میں بھی اس کا اثر
باقی رہتا ہے ۔
* - جیساکہ ترمذی وغیرہ کی مذکورہ روایت میں ہے کہ سرکش شیطان قید کرلئے جاتےہیں چنانچہ یہ عام
طورپر سرکش شیطانوں کے بارے میں ہے لیکن
جو سرکش نہیں ہیں وہ جکڑے نہیں جاتے۔
* - علامہ ابن العثیمین رحمہ اللہ فرماتےہیں :"
مسلمانوں کے ساتھ اللہ کی مددہے کہ اس نے ان کےدشمن کو قید کردیاہے جو اپنے گروہ کو جہنمی بننے کی
دعوت دیتاہے، اسی وجہ سے صالحین دیگر ایام
کے مقابلے اس مہینہ میں خیرکی طرف زیادہ راغب اور شر اور برائیو ں سے
زیادہ بچتے ہیں "۔ (مجالس
شھررمضان:ص8 - باختصار)۔
* - اسی طرح شیخ
ابن العثیمن سے پوچھاگیاکہ: اللہ کے رسول
صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بموجب شیطان رمضان کے دنوں میں قید کردیاجاتاہے،
اس کے باوجود ہم دیکھتےہیں کہ کچھ لوگوں کو رمضان کے دنوں میں
شیطانی دورے پڑتے ہیں ؟۔تو آپ نے فرمایا: " اس طرح کی روایتیں غیبی امور
سے تعلق رکھتی ہیں، جن پر تسلیم ورضا کے
ساتھ ہمارا ایمان ہوناچاہئے ، اس سے آگے
کوئی بات نہیں کرنی چاہئے ، یہی آدمی کے دین اورحسن عاقبت کے لئے اچھاہے ، چنانچہ
عبداللہ بن امام احمد بن حنبل نے اپنے والد سے
یہی سوال کیا تو انہوں نے جواب
دیاکہ :" حدیث میں اسی طرح آیاہے اس لئے ہم اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے"،
اور پھر بظاہر یہی معلوم ہوتاہے کہ رمضان میں بہت زیادہ نیکیاں اور اللہ کی طرف
زیادہ سے زیادہ رجوع کی وجہ سےشیطان کو
لوگوں کو گمراہ کرنے سے روک دیاجاتاہے
"۔ (مجموع فتاوی ابن عثیمین :20/75)۔
* - یہ بھی
کہاجاتاہے کہ جتنی شدت کے ساتھ شیطان دیگر ایام میں گمراہ کرتاہے اتنی شدت اس ماہ
میں نہیں پائی جاتی کیونکہ اس کے قوی کمزور پڑ جاتےہیں ایسا نہیں ہے کہ بالکلیہ اس
کے وسوسے ختم ہوجاتےہیں ۔
* - احادیث کے
ذریعہ یہ معلوم ہے کہ شیطان انسان کے جسم میں اس طرح دوڑتاہے جس طرح خون چنانچہ اس ماہ میں کم خوراکی کی وجہ سےخون کے ساتھ ساتھ
شیطان کا دوران بھی کم ہوجاتاہے جو ایک طرح سے ان کے لئے بیڑیوں میں جکڑے جانے کے
مانند ہے ۔
* - جو لوگ رمضان
کے اندر پوری تعظیم ، کمال ، اور اس کے شرائط ، لوازم اور آداب واخلاق کے ساتھ
روزہ رکھتے ہیں ان کے لئے شیطان بیڑیوں میں جکڑدیاجاتاہے ، اور جو لوگ صرف پیٹ
کاروزہ رکھتے ہیں جوارح کا نہیں مطلب روزے کے تمام شرائط کو پوری نہیں کرتے وہ ان
لوگوں میں شامل نہیں ہیں جن سے شیطان کو بیڑیوں میں جکڑادیاجاتاہے ۔
* - یہ بھی ہوسکتاہےکہ شیطان درحقیقت قیدمیں ہی ہوتاہے لہذا وہ روزہ داروں کو
بہکاتانہیں ہے ، لیکن پھربھی لوگ معصیت اور گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں وہ ان کے
نفس امارۃبالسوء کی وجہ سے ہے ، جو ہمیشہ انہیں گناہ پر آمادہ کرتارہتاہے ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں